Articles Comments

Pak Tea House » poetry, Urdu » ظفر اقبال کی غزل Zafar Iqbal's new ghazal

ظفر اقبال کی غزل Zafar Iqbal's new ghazal

We are posting a fresh ghazal composed by the eminent Urdu poet, Zafar Iqbal’s courtesy Tahir Aslam Gora -
یہاں سب سے الگ سب سے جدا ہونا تھا مجھ کو
مگر کیا ہو گیا ہوں، اور، کیا ہونا تھا مجھ کو

ابھی اک لہر تھی جس کو گزرنا تھا سروں سے
 ابھی اک لفظ تھا میں، اور، ادا ہونا تھا مجھ کو

پھر اس کو ڈھونڈنے میں عمر ساری بیت جاتی
کوئی اپنی ہی گم گشتہ صدا ہونا تھا مجھ کو

پسند آیا کسی کو میرا آندھی بن کے اٹھنا
کسی کی رائے میں بادِ صبا ہونا تھا مجھ کو

وہاں سے بھی گزر آیا ہوں خاموشی سے اب کے
جہاں اک شور کی صورت بپا ہونا تھا مجھ کو

در و دیوار سے اتنی محبت کس لیے تھی
اگر اس قید خانے سے رہا ہونا تھا مجھ کو

میں اپنی راکھ سے بے شک دوبارہ سر اٹھاتا
مگر اک بار تو جل کر فنا ہونا تھا مجھ کو

میں اندر سے کہیں تبدیل ہونا چاہتا تھا
پرانی کینچلی میں ہی نیا ہونا تھا مجھ کو

ظفر، میں ہو گیا کچھ اور، ورنہ، اصل میں تو
برا ہونا تھا مجھ کو، یا بھلا ہونا تھا مجھ کو

Written by

Filed under: poetry, Urdu

One Response to "ظفر اقبال کی غزل Zafar Iqbal's new ghazal"

  1. saba India Unknow Browser Unknow Os says:

    waah! bohot khoob.

Leave a Reply

*

You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <strike> <strong>