President FPCCI Chairs D-8 FCCI meeting in Tehran

D-8 to emerge as one of world’s most promising trade blocs: Zubair Ahmed Malik

Dated: Nov 05

The President FPCCI and President D-8 Federation of Chambers of Commerce and Industry (D-8 FCCI), Zubair Ahmed Malik chaired the first committee meeting on finalization of D-8 FCCI Statute and 8th D-8 FCCI presidents meeting held in Tehran.

The meeting was attended by the presidents of chambers of commerce of five member countries including Pakistan, Iran, Turkey, Egypt and Nigeria.

The meeting discussed each and every Article of D-8 FCCI, prepared by FPCCI and proposed various inputs and suggestions to be incorporated in the Statute, which will be finalized in two weeks by Turkey in consultation with its legal experts.

As President of the D-8 FCCI, Zubair Ahmed Malik emphasized that with a combined population of around one billion and a market size of more than $1 trillion, D-8 is set to emerge as one of the world’s most promising trade blocs.

We are looking forward to achieve target of $500 billion for intra-bloc trade which has been set by our respective governments for 2018m he said.

He pointed out that it is essential for D-8 FCCI to undertake goal-oriented activities for rendering the need assessed services to the private sector of its member countries in order to implement the vision presented in the D-8 roadmap 2008-18.

He informed the member countries that FPCCI has drawn up a comprehensive action plan of activities for D-8 under which FPCCI will be sending delegations to the member countries for development of agriculture, industrial and manufacturing sectors.

Moreover, he said, we will be forging business linkages, holding D-8 Business Forum and exhibition, organise seminar on SMEs for developing strategies to strengthen D-8 SMEs, launching of a website and creation of data bank, etc.

The participants stressed that D-8 FCCI is a very powerful forum that can play a vital role in activating the business community and at the same time pushing governments for resolution of the current impediments to trade.

They appreciated the efforts and measures taken by FPCCI to help achieve the true objectives of this forum.

FPCCI Capital Office

Dy. Secretary Faisal Akhtar

0321-5558255

زبیر احمد ملک

ایک ارب آبادی، ایک کھرب کی منڈی والے ڈی ایٹ ممالک نئے اقتصادی سفر کا آغازکریں۔

دنیا کے چالیس فیصد قدرتی وسائل ہمارے تصرف میں، دنیا کا موثر ترین اقتصادی بلاک بنایا جا سکتا ہے
ممبر ممالک مشترکہ ایجنڈا پر کام ، تجارتی رکاوٹیں ختم کریں تو خطہ کی صورتحال میں ڈرامائی تبدیلی آ سکتی ہے

( نومبر 05)

وفاق ہائے ایوان صنعت و تجارت کے صدر زبیر احمد ملک نے کہا ہے کہ قدرتی اور انسانی وسائل سے مالا مال ڈی ایٹ دنیا کا موثر ترین تجارتی بلاک بن کر ممبر ممالک کوترقی کی راہ پر گامزن کر سکتا ہے جس کے لئے موثر اقدامات کی ضرورت ہے۔ایک ارب کی آبادی اور ایک کھرب ڈالر کی مارکیٹ پر مشتمل اس بلاک کے ممبران کو محصولاتی اور غیر محصولاتی رکاوٹیں ختم کرنا ہونگی، اپنی منڈیوں تک رسائی دینا ہو گی اور خدمات، سرمایہ کاری کے شعبوں میں تعاون جبکہ تکنیکی مسائل پر قابو پانا ہو گا جس سے 2018تک باہمی تجارتی حجم پانچ سو ارب ڈالر تک بڑھانے کے منصوبہ کو شرمندہ تعبیر کیا جا سکتا ہے۔ زبیر احمد ملک جو ڈی ایٹ فیڈریشن آف چیمبر آف کامرس کے صدر بھی ہیں نے یہ بات تہران میں ڈی ایٹ چیمبرز کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔انھوں نے کہا کہ ہم دنیا کے بیس فیصد افراد کی نمائندگی کر رہے ہیں جو چالیس فیصدسے زائدقدرتی وسائل کے مالک ہیں جنکے لئے غربت کا خاتمہ اور اقتصادی ترقی مشکل نہیں۔اگر ممبر ممالک مشترکہ ایجنڈا پر کام کریں تو خطہ کی صورتحال میں ڈرامائی تبدیلی آ سکتی ہے جسکے لئے تعاون اولین شرط ہے۔زبیر احمد ملک نے کہا کہ ممبر ممالک کے نجی شعبہ پر بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے اور انھیں تجارتی سرگرمیاں بڑھانے کے لئے ہر ممکن کوشش کرنا ہو گی۔ایف پی سی سی آئی اس سلسلہ میں رکن ممالک میں زراعت، صنعت اور تجارت کے فروغ کے لئے اعلیٰ اختیاراتی وفود بھیجنے کا ارادہ رکھتا ہے اور اس سلسلہ میں جلد ہی ایک جامع منصوبہ کا اعلان کیا جائے گا۔اسکے علاوہ ایک ویب سائیٹ، ڈیٹا بینک، اور چھوٹے اور درمیانے کاروبار کو ترقی دینے کی حکمت عملی بھی بنائی جا رہی ہے۔اس ضمن میں بزنس فورم ، نمائشیں اور سیمینار منعقد کئے جائیں گے۔انھوں نے کہا کہ ہم ڈی ایٹ فورم کے حقیقی مقاصد کے حصول کی جدوجہد جاری رکھیں گے۔ قبل ازیں پاکستان، ایران، ترکی، مصر اور نائیجیریا کے مرکزی چیمبروں کے صدور کی موجودگی میں ڈی ایٹ چیمبر کے بعض قوانین کو حتمی شکل دینے کے لئے اجلاس ہواجس میں ایف پی سی سی آئی کی جانب سے مجوزہ نکات پر بھی غور ہوااور ترکی کو دو ہفتے کے اسے حتمی شکل دینے کی ہدایت کی گئی۔unnamed