Zinda Baad Murda Baad

زندہ باد مردہ باد
ڈی اصغر

اس مردہ قوم کو ہر ٢٧ دسمبر کو کچھ جوشیلے لوگ اپنی دھواں دارتقا ریر سے جانے کیوں بیدار کرنے کی ناکام کوششیں کرتے ہیں.
زندہ ہے زندہ ہے کہ دینے سے کیا جو لوگ اس دنیا میں اب نہیں ہیں کبھی زندہھوئے ہیں. ہمیں تو صرف زندہ باد مردہ باد کےنعرے لگانے آتے ہیں.
مَثَلاً اسلام ہمیشہ زندہ باد اور بھارت ہمیشہ مردہ باد ہی ہوا کرتا ہے. جانے کیوں کچھ من چلے گڑھی خدا بخش نامی جگہ پر کس بھٹو کے زندہ ہونے کا نعرہ
لگاتے ہیں. وہ جس کو ہم نے پھانسی کے پھندے پر جھلا ڈالا یا وہ جس پر ہم سورماؤں نے ایک عورت ہوتے ہے بھی پشت سے گولیوں کی بوچھاڑ کر دی.

جب ہم نے ایک کو گڑھی خدا بخش میں خاموشی سے چند افراد کی موجودگی میں سپردے خاک کیا، غالباً ہم یہ سمجھے کہ کہانی یہیں ختم ہو جیے گی. مگر نہ جانیا کیوں
ایک سر پھری لڑکی نے اسلامی جمہوریہ میں اپنے اس مرے ہوے باپ کے مشن کو پورا کرنے کا بیڑہ اٹھایا . نہایت ہی بیوقوف لڑکی تھی، کہتی تھی کہ طاقت کا سر چشمہ
عوام ہیں. بھلا جس ملک میں ایمان افروز اور جیّد سپاہ سالاروں نے اپنی بہادری کے جھنڈےگاڑ دیے ہں، وہاں پر ایک عورت جس کا کام چولہا جھونکنا اور بچےپالنا ہے کیسے سر انجام دے سکتی ہے. اسی لئے ہم نے فورن اسلام کے اس مضبوط اور آہنی قلے کے محافظین، صراط مستقیم پر گامزن علما سے رابطہ کیا اوران کے فتوات کے این مطابق اپنی اس گمراہ قوم کو اس حقیقت سے آہگہ کیا که ایک عورت کی حمکمرانی گویا کفر کی تقلید ہے. جذبات میں اندھی قوم نہ جانے کیوں کافر ہونے پر تلی تھی اور اس سر پھیری لڑکی کو اپنا وزیرعزم منتخب کر بیٹھی. خدا بھلا کرے ایک مردے ایمان کا جس نے ٢٠ ماہ کے طویل عرصے کے بعد اس سے ہم اہلے ایمان کو نجات دلوائی.

عجیب پگلی تھی وہ، اموماً عقلمند کے لئے اشارہ ہی کافی ہوتا ہے . مگر کچھ عرصے کے بعد ہم سب پر خود کوپھر سے مسلّط کر بیٹھی. جانے اس نگوڑ ماری قوم کی عقل پر کیا پتھر پڑے تھے کہ ایک بار پھر اس کافر ادا کے سحر میں مبتلا ہوبیٹھی.الله اس مردے مومن کوکروٹ کروٹ جنّت نصیب کرے جس نے ایک بار پھر جوش ا ایمان سے مغلوب ہو کر ہم مسلمانوں کو ایک عورت کےاقتدار سے محفوظ فرمایا . اگر کچھ دیر کو اور وہ بر سر اقتدار رہ جاتی تو نہ جانے کیا ہوتا. ہم اپنی ١٤٠٠ برس کی روشن تاریخ
کو اندھیروں میں ڈھکیل دیتے. خدا اور بھلا کرے ایک مردے مجاہد کا جس نے سری لنکا سے واپسی پر اس مملکت خدادادپر مہربانی فرمایی اور اپنے عزم اور جوانمردی سے
ایک بار پھر اسلام کے اس نہ تسخیر قلے کو اپنے دست شفقت سےآبروبخشی .

آٹھ برس کے اس کم عرصے میں ہمارا وطن ترقی کی جن منازل کی طرف گامزن ہوا، غالباً ہمارے بد ترین رقیبوں کو اس سے کچھ زیادہ جھ حسد ہونے لگا. انہوں نے مل کر سازش کا ایک اور نیا جال بنا اور اس عورت کو ہم پر پھر سے مسلّط کرنے کی افواہیں گرم کرنی شرو کر دین. بھلا ہم جیسے غیرت مند اوربہادر یہ سب کیسے ہونے دیتے.
ہم میں سے ایک سر فروش سینے پر کفن باندھ کر راولپنڈی جا پوھنچا اور پھر ایک اور بھتو سے ہمیں نجات دلوائی. ہم بھی تہرے اتنے احسان فراموش کہ آج تلک اپنے اس محسن کا نام بھی نہ جان سکے. رہنے دیتے ہیں نام میں کیا رکھا ہے اصل بات تو جذبہ ا ایمانی کی ہے.

اب ان ہی صاحبہ کے ٢٥ سالہ صاحبزادے اس مملکت خداداد پر حکمرانی کے خواب لئے ایک بار پھر ہمارے ایمان اور صبر کو آزمانے کی کوشش میں مبتلا ہیں. یہ جو ٹھیک سے اپنی اسلامی زبان اردو بھی ادا نہیں کر سکتے، یہ ہم کو شہادت کے سبق پڑھانے کی ناکام کوششوں میں مبتلا ہیں. لیجیے احمقوں کی دنیا میں ایک اور نہیں یہ صاحبزادے تین اور کا اضافہ کرنے چلے ہیں. کیا کہا اپنی دو اور بہنوں کے ہمراہ موصوف ہم پرپھر سے کچھ اور بھتو نازل کرنے کے خواب دیکھ رہے ہیں. کیا فرمایا، ریاست کے چند اہم ستونوں یعنی ہمارے طالبان بھائیوں کے خلاف اعلان ا جنگ فرما رہے ہیں- کسی نے سہی کہا ہے، جوانی دیوانی ہوتی ہے . ایے میرے الله ہم کو بس زندہ باد کہنے کا موقع دیتے رہنا اور ہمیں ان شہزادوں اور شہزادیوں سے محفوظ رکھنا. ہمارے دین میں موروثیت کا تصوّر نہیں ہے. کس ناہنجار نے کہا کہ سعودی عرب میں بادشاہت ہے یقینن کوئی دشمن ہو گا. کبھی خادمین بھی بادشاہ ہوا کرتے ہیں؟

dasghar

D. Asghar is a Pakistani American. A Mortgage Banker by profession who loves to write as well. He blogs frequently at popular South Asian websites. A repository of some of his scribbles is http://dasghar.blogspot.com/. He can be reached at dasghar@aol.com.