شہر کا شہر مسلمان ہوا پھرتا ہے

ملک عمید

معاملہ مسلمانوں کے گلاس میں پانی پینے سے بڑھا اور مخالف کو مزہ چکھانے کی دھن میں توہین رسالت کے الزام تک جا پہنچا۔ آسیہ بی بی کی کہانی اپنے آغاز سے لے کر اب تک اکثریت کے اقلیتوں پر بہیمانہ سلوک سے لبریز ہے۔ آسیہ بی بی کا قصہ اور بہت سے لوگوں کی طرح وقت کی دھول میں کھو جاتا مگر سابق گورنر سلمان تاثیر نے دلیری سے اس مظلوم کے لئے آواز اٹھائی۔ ایسے آواز اٹھائی کہ سب مخالف ہوگئے ، وہ مگر پیچھے نہیں ہٹے یہاں تک کہ آپ کو شہید کر دیا گیا۔ آپ کے ذاتی گارڈ نے جزا سزا کو اپنے ہاتھ میں لے کر خود ہی مدعی خود ہی منصف والا معاملہ کرتے ہوئے ان کو شہید کردیا۔
کس سے گلہ کریں کہ ہم یہاں تک کیسے پہنچے، ریاست کا کام کب مشتعل ہجوم نے سنبھالا اور کب یہ کام اب ”پر امن‘‘  شہریوں کے حوالے کر دیا گیا۔ بات برٹش انڈیا کے نفرت کے پرچار کے خلاف بنائے قوانین سے شروع ہو کر ضیاء الحق کے مذہبی قوانین تک پہنچتی ہے۔ مگر سارا قصور ضیاء الحق پر ڈال دینا انصاف نہیں، بات ریاست کو مسلمان کرنے اور مذہبی جذبات کو سیاسی مقاصد کے لئے استعمال تک جاتی ہے۔ یہ سوال بے کار ہے کہ آخر کون کون سی آوازیں تھیں جنہوں نے اس قانون کے بنانے میں کردار ادا کیا ۔ کون کون تھا جو اس وقت خاموش رہ کر وقت گزارتا رہا اور کون سی آوازیں تھیں جو اس سناٹے میں آوازیں بلند کر کے اس قانون کی مخالفت کر رہی تھیں!!
چلیں اس بات کو بھی چھوڑیں کہ ہم ماضی کا رونا کب تک روئیں۔ 2010 تک آ جائیں۔ مطالبہ کیا تھا؟ مطالبہ قانون کے اطلاق کے طریقہ کار میں ترمیم کا تھا۔ مطالبہ یہ تھا کہ کسی بھی فرد پر اس قانون کے تحت چارج لگانے کے طریقہ کار کو سخت کیا جا سکے۔
عجیب بات یہ ہے کہ مسلمانوں پر سب سے زیادہ استعمال ہونے والا قانون مسلمانوں کے رسول کی توہین کو روکنے کے لئے بنائے گئے تھے۔ 1986 سے لے کر اب تک 1274 لوگ اس قانون کا نشانہ بنے، حیرت انگیز طور پر مسلمانوں کی کثیر تعداد پر توہین رسالت کے الزام لگے۔ اب کسی نے موٹر سائیکل کی قسطیں معاف کروانی ہوں، رشتہ سے انکار نہ سننا ہو یا غیر قانونی قبضہ برقرار رکھنا ہو، ان سب امور پر سب سے کارگر ہتھیار توہین رسالت کا قانون بن گیا ہے۔ ایک دفعہ الزام لگ جائے تو آپ کا مخالف کہیں بھی چین نہیں پائے گا۔ پھر وہ چاہے پولیس سٹیشن ہو، کورٹ ہو یا جیل۔ کہیں نہ کہیں عشق رسول کا متوالا شاتم رسول کو مار کر اپنے گناہوں کے بوجھ سے چھٹکارا پانے کا آسان نسخہ ضرور اپنائے گا۔ یہ کوئی خیالی نقشہ نہیں ہے اب تک 55 لوگوں کی قسمت کا فیصلہ ایسے ہی ہوچکا ہے۔
ہر قانون کے بنانے کے بعد اس کے طریقہ کار میں تبدیلی کی جاتی ہے، یہ دیکھا جاتا ہے کہ مجوزہ قانون کا کہیں غلط استعمال تو نہیں ہورہا۔ اگر کیا جارہا ہے تو اس کی روک تھام کے لئے کیا طریقہ کار ہونا چاہیے۔مگر اس الہی قانون کے متوالوں سے یہ سادہ اور عام فہم معاملہ بھی برداشت نہیں ہورہا۔ اس سے یہ سوچا جانا لازم ہے کہ کہیں اس قانون کی آڑ میں مقاصد اور تو نہیں۔ بات دراصل یہ ہے کہ پاکستان کی ”بھاری اکثریت‘‘  جزا سزا کا اختیار اپنے ہاتھ سے کھسک کر کسی مجسٹریٹ یا جج کے ہاتھ میں جاتا نہیں دیکھنا چاہتی۔ برٹش انڈیا کے قوانین جو اقلیت کو اکثریت کی جانب نفرت آمیز پرچار سے روکتے تھے، ضیاء نے انہیں قوانین کو بدل کر اقلیت کے استحصال کے لئے اکثریت کے ہاتھ میں اکسیری نسخہ تھما دیا۔
ایسے میں سلمان تاثیر کا اس قانون کے بہیمانہ استعمال پر آواز اٹھانا بڑی دلیری کا کام تھا۔ ایک لحاظ سے یہ ٹیسٹ کیس تھا۔ مگر ایسی دلیری پی پی کی قیادت کے وہم و گمان میں نہیں تھی۔ جب آسیہ بی بی کے لئے آواز اٹھائی گئی تو ملک میں ہر طرف طوفان بدتمیزی شروع ہوگیا۔ پارٹی پہلے صدارتی معافی دینے سے پیچھے ہٹی پھر سلمان تاثیر کے قتل کے بعد تو جیسے پیپلز پارٹی پر مردنی سی چھا گئی۔ پارٹی نے سلمان تاثیر کی شہادت پر جو کردار ادا کیا اس نے آسیہ بی بی اور توہین رسالات قانون کے طریقہ کار میں تبدیلی کے کاز کو زبردست ہزیمت پہنچائی۔
سلمان تاثیر کے جنازے میں پارٹی قیادت کی عدم شرکت۔ شیری رحمان کی طرف سے قوانین میں اصلاح سے متعلق بل اسمبلی سے واپس لینا اور اقلیتی امور کے وزیر شہباز بھٹی کی شہادت پر پارٹی کی خاموشی نے ہمیں تیس سال پیچھے دھکیل دیا ہے۔ اتنا پیچھے جہاں یہ قوانین رسائی سے پرے اور ان پر بات کرنا ممکن ہوگیا ہے۔
سلمان تاثیر کا اپنے گارڈ کے ہاتھوں شہید ہونا کوئی معمولی واقعہ نہیں تھا۔ یہ اس بات کی جانب اشارہ کرتا تھا کہ مذہبی جذبات کو اشتعال دلانے کا ہتھیار کس حد تک زود اثر اور اس کی رسائی کس قدر گہری ہے۔ اس دن کے بعد ہر طرف خوف کے سائے ہیں۔ ہر طرف ہیولے ہیں جن سے ڈر کر اب کوئی اس موضوع پر بات کرنے کو تیار نہیں ہے۔ آپ انسان کے چہرے کی داڑھی تو دیکھ سکتے ہیں مگر اس کے پیٹ کی داڑھی کو ناپا نہیں جا سکتا۔ پس اس دن مباحثہ کی موت ہوئی تھی۔ اختلاف پر آواز اٹھانے کے حق کا خون ہوا۔ یہ ایک پورے معاشرے کا قتل تھا۔ یہ مذہبی سوداگری کی معراج کا دن تھا۔
اب لوگوں کو مشتعل ہجوم سے ڈر نہیں لگتا بلکہ ”پر امن‘‘  شہریوں سے خوف آتا ہے۔
جانے کون کسے مار دے کافر کہہ کر
شہر کا شہر مسلمان ہوا پھرتا ہے
نوٹ: یہ مضمون سلمان تاثیر کی شہادت کے دن کے لئے لکھا گیا تھا مگر افسوس کہ پاکستان میں ہمارے مسائل کبھی پرانے نہیں ہوتے۔ حالیہ دنوں میں تجزیہ نگار رضا رومی پر حملہ اور پھر وکیل راشد رحمٰن کا قتل اس بات کا شاہد ہے کہ کس درندگی سے ریاست کا کام افراد اور مخصوص گروہوں نے اپنے ہاتھ میں لے لیا ہے۔ رضا رومی نے اس مسئلہ کو اپنے ٹی وی پروگرام میں مسلسل اجاگر کیا یہاں تک کہ اپنے آخری پروگرام میں بھی انہوں نے اس مسئلہ کا ذکر کیا اور ان پر قاتلانہ حملہ کر دیا گیا۔ راشد رحمٰن کا قصور یہ تھا کہ انھوں نے ایک توہین رسالت کے ملزم کی وکالت کی جس پر انھیں شہید کر دیا گیا۔ آج ہم نہ اپنے خیالات کی مخالفت میں کچھ سننے کو تیار ہیں اور نہ ہی کسی مظلوم کو اس بات کا حق دینے کے لئے کہ وہ عدالت میں جا کر داد رسی لے سکے!