کس سے منصفی چاھیں !!!

مقصود عاصی

پچھلے دنوں ملتان میں ہیومن رائٹس پاکستان کے ایک ایڈووکیٹ راشد رحمان کو جان سے ہاتھ دھونے پڑے تو کچھ خبر کُھلی کہ امریکہ کے پڑھے گولڈ میڈیلسٹ اور بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی میں انگلش کے لیکچرار جنید حفیظ توہینِ رسالت کے مرتکب ہوئے ہیں ( یاد رہے کہ یہ ابھی الزام ہے،جُرم نہیں) اور ملتان بھر میں کوئی بھی وکیل ان کا کیس لینے کو تیار نہیں تھا اور ایسے میں راشد رحمان نے ایک بولڈ قدم اٹھایا کہ سچ کیا ہے اور الزام کی حقیقت کیا ہے،سب واضح ہو اور یہی ان کا “جُرم” ٹھہرا اور انھیں اسلام کے نام پہ قتل کر دیا گیا ..juanid
جنید حفیظ کی کلاس فیلو اور بعد میں انہی کی اسٹوڈنٹ “صائمہ ملک” نے فیس بک پہ لکھا جس کا خلاصہ یہ ہے کہ جنید نے کوئی اسلام یا نبی پاک ص کے خلاف کچھ نہیں کہا .. ہاں انھوں نے بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی کے فیس بک پیج سے انگلش ڈپارٹمنٹ کے کچھ اسٹوڈنٹس کو “ڈیلیٹ” ضرور کیا تھا کیونکہ یہ فیس بک پیج کتابوں اور سلیبس کے متعلق ہے نہ کہ اپنے نظریات اور آئیڈیالوجی کی تشہیر کے لیے .. اسی بات پہ وہ اسٹوڈنٹ جنید حفیظ کو مسلسل اُکساتے رہے اور پھر ان کے خلاف کیس رجسٹر کرا دیا گیا .. اور ہمیشہ کی طرح جذباتی اور ہوا کے گھوڑے پہ سوار عوام اپنے ازلی اندھے پن میں جنید کے خلاف احتجاج کو نکلنے لگی ..
جنید حفیظ کے کچھ اور بھی جاننے والے ان کے متعلق تقریباً صائمہ ملک سے ملتے جلتے خیالات رکھتے ہیں ..
جنید اب جیل میں ہے، اسلامی جمہوریہ پاکستان میں اسے بمشکل ایک وکیل ملا جسے اسلام کے دیوانوں نے مار دیا .. اسلام جس کی بنیاد ہی انصاف ہے اور نبی پاک ص اور خلفائے راشدین نے عدالتی نظام اور انصاف کی فراہمی کی مثالیں ہمیں قدم قدم پہ دیں اسی اسلام کے نام لیوا ایک “ملزم” کو انصاف تک رسائی دئیے بِنا “مجرم” سمجھ چکے ہیں .. اور قتل/موت کا فیصلہ اب قاضی نہیں بلکہ ہر کوئی اٹھ کے کر رہا ہے ..
صاحبو،آنکھیں کھولو.. کسی کی بات سُنے بغیر کیسے انصاف ہو گا؟الزام ثابت کیے بنا کوئی کیسے مجرم ہو سکتا ہے ؟؟ گواہ بھی خود قاضی بھی خود …غیرت کے نام پہ قتل آج تک پاکستان میں ہو رہے ہیں،اب توہینِ رسالت کے قانون کی آڑ میں ہر کوئی قاضی بنا بیٹھا ہے ..
کس سے منصفی چاھیں !!!

Comments are closed.