ماڈل ٹاؤن سانحہ،شیر اور بھیڑیے میں سے بھیڑیے کا انتخاب

عبید اللہ خان

وزیرستان آپریشن شروع ہونے پر لگنے لگا تھا کہ ہماری فوج اور حکومت میں ہم آہنگی کا ایک اور اچھا موقع پیدا ہوگیا ہے۔ جو ملک کے لئے بہت سود مند ثابت ہوسکتا تھا ۔ قوم بھی متحد دکھائی دینے لگی تھی۔ لیکن یہ ماڈل ٹاؤن والا واقع بیچ میں آن ٹپکا۔ پہلے پہل سن کر میری طرح چند اور دوستوں کا خیال تھا، گو تھوڑے ہی تھے، کہ شریف برادران سے دوراندیشی کی توقع تو خیر نہیں کی جاسکتی مگر اس حد تک عقل سے پیدل اقدامات جو سیاسی خودکشی کے مترادف ہوں اسکی توقع بھی خیر ان لوگوں سے نہیں کی جاسکتی۔ لہٰذا یقیناً یہ کسی تیسرے ہاتھ کی سازش لگتی ہے جو غیر  محسوس طریق پر فریقین کو استعمال کرجاتا ہے اور دونوں کو معلوم نہیں ہوتا کہ وہ کس مقصد کے لئے استعمال ہورہے ہیں۔ جیسا کہ ابھی کچھ عرصہ قبل کی وکلاء تحریک اور اس وقت مشرف صاحب کی انتظامیہ کے ساتھ ہوا تھا۔  دونوں ہی  کسی تیسرے کے فائدے کےلئے استعمال ہوئے اور نقصان بھی دونوں کا ہوا۔ فائدہ تیسرا فریق اٹھا گیا۔ زرداری صاحب کو خوب اندازا تھا کہ یہ نام نہاد عدلیہ بحالی کی تحریک کس کے اشاروں پر چل رہی ہے اور اسکا حتمی فائدہ کسے ہونا ہے۔ اسی لئے زرداری صاحب افتخار چوہدری صاحب کو بحال کرنے کے لئے کسی طرح تیار نہ تھے۔  وہ جانتے تھے کہ افتخار چوہدری کے تانے بانے کہاں ملتے ہیں۔

نواز شریف صاحب نے جب افتخار چوہدری کی بحالی کے لئے لانگ مارچ کا حربہ کامیابی سے استعمال کیا تو شاید انکے ذہن کے کسی گوشے میں بھی نہیں تھا کہ مٹھی بھر لوگوں کو اکٹھا کرکے وہ جس طرح اس وقت کی حکومت کو  بلیک میل کرکے اپنےسیاسی مفادات حاصل کرنے جارہےہیں ، اس سے  ملک میں ایک خطرناک نظیر قائم ہوگی جو آئندہ کسی بھی جمہوری حکومت  کو گرانے کا ایک خطرناک مگر موثر ذریعہ بن سکتی ہے۔ انہوں نے یہ بھی نہ سوچا کہ کل اگر انکی حکومت آئی اور کسی نے یہی چال چلی تو وہ کیا کریں گے۔ مگر وہ بڑوں نے کہا ہے نا جو گڑھا کسی کےلئے کھودا  جاتا ہے اس میں کھودنے والا خود بھی ایک نہ ایک دن گرتا ہے۔

آخر وہ کیا محرک تھا جس نے اس وقت کے فوج کے سربراہ اشفاق پرویز کیانی صاحب کو مجبور کیا کہ وہ لانگ مارچ کے اسلام آباد پہنچنے سے پہلے ہی رات گئے حکومت کےسربراہ کو فون کریں کہ افتخار چوہدری کو بحال کیا جائے؟  وجہ یہ تھی کہ یہ لانگ مارچ سیاسی تھا اور عوام کے نام پر مٹھی بھر لوگوں کو ساتھ لے کر  ایک بلیک میلنگ  تھی۔ ہمارے سویلین اداروں میں ایسے معاملات سے نبٹنے کی صلاحیت ہے نہ ہی اہلیت۔ لہٰذا کیانی صاحب کا خیال تھا کہ اگر اسلام آباد میں کوئی مسئلہ ہوا تو فوج ایک سیاسی جم غفیر کے خلاف کسی قسم کی کوئی کارروائی نہیں کرے گی۔ اس  اشارے میں بہت سے مضمرات تھے جسے اس وقت پیپلز پارٹی کی قیادت نے سمجھ لیا تھا۔ اسکے نتیجے میں پیپلز پارٹی نے پانچ سال تو پورے کیے مگر ملک کا کباڑا ہوگیا ۔ جسکا خیال نہ پیپلز پارٹی کو تھا جسے اپنی حکومت بچانی تھی اور نہ ہی اس حکومت کے سر پر افتخار چوہدری کی صورت میں مستقل تلوار لٹکانے والے نواز شریف کو۔

اب  وزیرستان آپریشن کے تناظر میں طاہرالقادری کے مجوزہ لانگ مارچ کا جائزہ لیں کہ  وزیرستان آپریشن کی وجہ سے بڑے شہروں خصوصاً اسلام آباد کی سیکورٹی فوج کے ذمہ ہے۔ ہر اوسط درجے کی سمجھ رکھنے والا سمجھ سکتا ہے کہ جب کوئی ملک حالت جنگ میں ہو تو یہ صورتحال معمولی نہیں ہوتی۔ ایسے میں کسی کو اس قسم کے لانگ مارچ کرنے یا احتجاج کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔  ایسے حالات میں شدید سے شدید مخالفین بھی ملک کی سلامتی کی خاطر اپنے وقتی اور سیاسی مفادات سے دستبردار ہوجایا کرتےہیں۔ عمران خان صاحب سے ہزار اختلاف سہی مگر انہوں نے فوجی آپریشن کی حمایت کرکے ایک اچھی مثال قائم کی ۔ ایسے میں طاہر القادری صاحب کا جمہوریت کے نام پر کسی بھی قسم کے جلسے جلوس کا انعقاد  کی دو ہی وجوہات ہوسکتی ہیں ۔ یا تو ملک سے غداری جسکی ان سے توقع نہیں کی جاسکتی ، یا پھر حالات کی  نزاکت کا احساس کرتے ہوئے اپنے مفادات کا  لچ تلنا اور نواز شریف صاحب کی حکومت کوگرانے کی کوشش  کرنا۔

نواز شریف صاحب جنہوں نے لانگ مارچ کرکے اور حکومت کی گردن پر پاؤں رکھ کر اپنے سیاسی مطالبات منوانےکی روائیت قائم کی تھی ان سے بہتر کون سمجھ سکتا ہے کہ جب دارالحکومت کا انتظام فوج کے حوالے ہو  اور جبکہ فوج حالت جنگ میں بھی ہو ا اور اسے عوام کی بھر پور تائید کی ضرورت ہو ،ایسے میں فوج کو کسی سیاسی تنازعے میں الجھانا انکی حکومت کے لئے سمّ قاتل سے کم نہیں ہے۔ ہمارے نام نہاد دانشوروں جن کے یہاں جمہوریت کےراگ الاپنا مہذب  ہونے  علامت ہے  انکی بھی اکثریت قادری صاحب کو انکا جمہوری حق دلوانے کے حق میں بولتی نظر آتی ہے۔ حالانکہ اس قسم کے کھیل تماشے معمول کے حالات میں جمہوری کہلا سکتے ہیں لیکن جب ملک حالت جنگ میں ہو تو پھرجمہوریت کے نام پر ان کھیل تماشوں کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ یہ ایک نہائیت مدلل موقف تھا جس کی بناء پر طاہر القادری صاحب کے ہر قسم کےطفل تماشے پرپابندی لگائی جاسکتی تھی۔ لیکن شریف برادران کی سب سے بڑی خامی جس نے ملک کی سلامتی داؤ پر لگا رکھی ہے وہ ہے انکا قوت فیصلہ سے عاری ہونا اور اگر کوئی قدم اٹھانا بھی تو وہ جس سے اپنے ہی پاؤں پر کلہاڑا پڑتاہو۔ لہٰذا طاہر القادری کو روکنے اور اسکے خلاف جو کارروائی کی گئی اس کے بارے میں کہا جاسکتا ہے کہ ایک حکومت نے سمجھا کہ ایک طرف خونخوار شیرہے تو دوسری طرف بھیڑیا ہے۔ حکومت نے کسی بھی عقل مند کی طر ح  ماڈل ٹاؤن والے وقوعے کا انتخاب کرکے  دراصل بھیڑیے کا انتخاب کیا ہے لیکن وہ بھی نہائیت بھونڈے انداز میں۔لیکن شریف برادران کی حکومت اپنی نااہلی کی بنا ء پر  اس راستے کو نہ دیکھ سکی  جو سامنے کی طرف تھا اور اگر اس پر چلا جاتا توشیر اور بھیڑیا دونوں سےہی بچا جاسکتا تھا ۔ لیکن ایسے راستے کو دیکھنے کے لئے ایک سیاسی راہنما کی آنکھ چاہئے تھی نہ کہ سیاسی عقل سے عاری اور کاروباری دنیا کے بادشاہ کی آنکھ۔

مصنف کو ٹویٹر پر فالو کریں @Obaidullahkhan

Comments are closed.