گوجرانوالہ سانحے کا ایک نوحہ

Pak Tea House is not affiliated with the views of this Article.

Ahmadis

آج صبح بھی کم و بیش ویسی ہی ہے جیسا کہ روز ہوتی ہے۔ مگر مجھے کیوں اتنی گھٹن محسوس ہورہی ہے۔ علی الصبح کی خاموشی تو ایک معمول کی بات ہے مگر مجھے یہ ماتم کناں کیوں لگ رہی ہے۔ پرندے روز ہی چہچہاتے ہیں مگر مجھے کیوں آج انکی چہچہاہٹ میں بین  کا تاثر مل رہا ہے۔ شاید یہ سب میرے اندر کے احساسات جو مجھے باہر کی ہر شے میں نظر آرہے ہیں۔ آج رات میرے اپنوں کے ساتھ کچھ ایسا ہوا ہے جو نیا تو نہیں مگر ایسا بھی نہیں کہ اسے انسانیت کہا جائے۔ مگر اسے تو حیوانیت بھی نہیں کہا جاسکتا۔ کیا کبھی کسی خونخوار سے  خونخوار درندے کو بھی دیکھا ہے کہ اپنی خوراک کے علاوہ بھی محض شغل میلے کے لئے خون بہائے۔ کسی کو آگ لگائے یا مذہب کا نام لے کر معصوم بچوں کو زندہ جلا دے۔ ہمارا قصور کیا ہے؟ نہ ہم قاتل ہیں ، نہ چور اچکے، نہ کسی کے ساتھ زیادتی کی اور نہ ہی کسی کو برا بھلا کہا۔ ہاں مگر سب سے بڑا قصور یہ کہ ہم احمدی ہیں۔ آج رات گوجرانوالہ میں ہمارے گھروں پر جس انداز سے دھاوا بولا گیا  اور معصوم بچوں اور عورتوں کو زندہ جلادیا گیا کیا وہ خدا کو راضی کرنے کےلئے تھا؟ یا اس رسول ﷺ کے نام پر جس نے ساری زندگی خود اپنے پیاروں کے ساتھ اسی سلوک کو ہوتے دیکھا تھا۔  پھر میں سوچتا ہوں کہ  آیا یہ ظلم زیادہ تھا کہ اس معصوم سمیؓہ پر ہونے والا ظلم زیادہ سخت تھا جسے آج سے چودہ سو سال پہلے محض اسلا م لانے کے جرم میں دونوں ٹانگوں سے پکڑ کر چیر دیا گیا تھا۔   یا شاید وہ بلال حبشی ؓ جسے ایک بار تو نہیں جلایا گیا تھا مگراسے روز تپتی ریت پر جلایا جاتا تھا۔ یا پھر شاید خبابؓ پر ہونے والا ظلم اس سے بھی بہت زیادہ بھیانک تھا جسے جلتے کوئلوں پر لٹا دیا جاتاتھا اور ان کوئلوں کی آگ اسکی چربی کے پگھلنے سے بجھتی تھی۔ قصور ان سب کا صرف اتنا تھا کہ یہ لوگ اسلام لے آئے تھے جو اس معاشرے کا سب سے بڑا جرم تھا۔ اور جس معاشرے میں میں رہ رہا ہوں اسکا سب سے بڑا جرم آج احمدی ہونا ہے۔  کیونکہ مجھے ریاست کے قانون نے کافر قرار دیا ہے۔ مگر کیا یہ قانون آسمان سے اترا ہوا کوئی آسمانی صحیفہ ہے؟ ایسے کچھ قانون تو فرعون نے بھی بنائے ہوئے تھے۔ اسی لئے تو اس وقت موسیٰؑ پر ایمان لانا سب سے بڑا جرم ٹھہرا تھا۔ اتنا سنگین کے اسکی پاداش میں مردوں کو قتل کردیا جائے اور انکی عورتوں کو باندیاں بنا لیا جائے۔ یقیناً ہمارا جرم تو شاید اتنا ہی بڑا ہے ۔مگرآخر ہوا کیا۔ وہ فرعون اپنے ان قانونوں اور دستوروں کے ساتھ ہی غرق ہوگیا۔ مکہ کے وہ سردار جنکا کہا قانون اور جنکا کیا ہر عمل جائز قرار پاتاتھا وہ بدر کے میدان میں اپنے غروروں سمیت دفن کئے گئے۔ شاید ہمارے مخالفین میں وہ فرعون اور قریش مکہ کی سی سختی ابھی نہیں آئی۔ اسی لئے شاید انکی رسی ابھی دراز ہے۔ مگر کیا قریش مکہ بھی خباب کو آگ پر لٹاکر ناچا کرتے تھے؟ یا فرعون کے چیلے بھی  بنی اسرائیل کو قتل کرکے جشن منایا کرتے تھے۔ شاید ہاں کیونکہ آج ہمارے مخالفین بھی تو یہی کچھ کر رہے ہیں اور تاریخ اپنے آپ کو ضرور دہراتی ہے۔  لیکن کیا یہ محض اتفاق ہے کہ آج دنیا میں دو ہی قومیں ظلم کی انتہا کرکے پھر اس پر جشن منارہی ہیں۔ ایک وہ جو اپنے تئیں موسیٰ کے پیروکار کہ رہے ہیں اور دوسرے وہ جو  محمد عربی ﷺ (فداہ امی و ابی) کے امتی ہونے کےمحض دعویدار ہیں۔  مگر کس نے موسیٰ ؑ اور محمد مصطفیٰ ﷺ کا ورثہ پایا ہے اور کس نے فرعون اور کفار مکہ کا ورثہ پایا ہے یہ دیکھنا  صرف آنکھیں رکھنے والوں کو ہی نصیب  ہے۔

کہتے ہیں زندگی موت خدا کے ہاتھ میں ہے۔ تو کیا جو لوگ موت اپنے ہاتھ میں لینےکی کوشش کرتےہیں اور وہ بھی اسی خدا کے نام پہ کیا خدا انہیں اسی طرح چھوڑ دے گا؟  کیا انکی موت خدا کے ہاتھ میں نہیں ہے؟  ہے اور بالکل ہے اور خدا ہی جانتا ہے کہ انکی رسی کس قدر درازہے۔  یہ لوگ ہجوم کی شکل میں ظلم کرکے اس ریاست کے قانون سے تو بچ سکتے ہیں مگر انہیں اس خدا کی پکڑ سے کون بچائے گا جو انکے سینوں تک کے راز جانتا ہے۔  اور وہی جانتا ہے کہ میں زیادہ مسلمان ہوں کہ یہ نام نہاد اسلام کے ٹھیکیدار زیادہ مسلمان ہیں جو آج صرف ایک آمر کے دیے ہوئے آئین کی رو سے مسلمان ہیں اور مجھے کافر کہتے ہیں۔

میرے چند دوست کہنے لگے ہیں کہ پاکستان شاید ہمارے لئے نہیں ہے۔ مگر  یہ ہمارا ہی گھر ہے۔ اسکی بنیادوں میں ہمارا خون پسینہ شامل ہے۔ اسکے لئے جب بھی قربانی کی ضرورت پڑی سب سے پہلے ہماری ہی گردن کٹی ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ میرے گھر میں ایک سوتیلی ماں آگئی ہے جو دراصل جادوگرنی ہے۔ وہ مجھے میرے گھر سے نکال کر میرے گھر پر قبضہ کرنا چاہتی ہے ۔ مگر میرا عزم بھی بھرپورہے کہ یہ گھر میرا ہے اور میرا ہی رہے گا۔ یہ ملک کسی کے باپ کی جاگیر نہیں ہے کہ جو چاہے ظلم کرتا پھرے۔ ایک نہ ایک دن میری دعائیں اور عبادتیں اس جادوگرنی کے سحر کو توڑ کررکھ دیں گی۔ اور میری اصل دھرتی ماں اس ظالم جادوگرنی کی قید سے آزاد ہوجائے گی۔ اور پھر ہم  ہمیشہ ہنسی خوشی رہیں گے۔

فقط

ایک پاکستانی احمدی

Comments are closed.