فطرت کا میوزیم ،تھر پار کر

راشد احمد بلوچ

مملکت خدادادپاکستان کو قدرت نے بڑی فیاضی سے حسن جہاں سوز سے مالا مال کیا ہے ۔حسن کی ان نیرنگیوں میں لہراتی بل کھاتی ندیاں بھی ہیں جو دھرتی کے سینے کو سیراب کرتی ہیں ۔بادلوں سے سرگوشیاں کرتے بلندو بالا پہاڑ بھی ہیں تو صدیوں سے کسی آبلہ پا کے انتظار میں آنکھیں فرش راہ کئے صحرا بھی ،جہاں باوجود صدہا مشکلات کے زندگی اپنے پورے آب و تاب کے ساتھ جلوہ گر ہے،جہاں باوجود ہزارہا قسم کی مشکلات کے زندگی کا پہیہ رواں دواں ہے اور جہاں سال کے بیشتر حصے میں بھوک افلاس اور قحط سالی نے اپنے پنجے گاڑے ہوتے ہیں۔

Tharparker

دنیا کے مشہور ریگستانوں میں جہاں صحارا، صحرائے سینا، گوبی جیسے مشہور ریگستانوں کا ذکر ملتا ہے ہمارے ملک میں آباد دو ریگستان بھی اپنی خوبیوں ،رعنائیوں اور حسن کے باعث اپنی مثال آپ ہیں۔ان میں سے ایک چولستان اور دوسرا تھر پار کرہے جو فطرت کی گود کہلاتے ہیں۔ صحرائے تھر کے لیے سندھ کے مشہور شاعر شیخ ایاز نے کیا ہی خوب کہا تھا کہ تھر ’’فطرت کا میوزیم ہے‘‘۔اور اک نظر تھر کی رعنائیوں پر ڈال کر یہ اندازہ کرنا چنداں مشکل نہیں کہ شیخ ایازکی یہ بات نہایت راست اور حقیقت حال پر مبنی ہے۔

میرپورخاص سے جنوب مشرق کی طرف ایک سڑک بل کھاتی صحرائے تھر کو جاتی ہے ۔تقریبا 70کلومیٹر سفر کے بعد ایک چھوٹا قصبہ آتا ہے جسے نوکوٹ کہتے ہیں ۔یہیں مشہور تاریخی قلعہ ،قلعہ نوکوٹ اپنے سینے میں صدیوں کی تاریخ چھپائے بڑی تمکنت کے ساتھ ایستادہ ہے۔اوریہیں سے پاکستان کے سب سے بڑے صحرا تھر کا آغاز بھی ہو جاتا ہے۔

Tharparker2

فطرت کا یہ میوزیم یعنی تھر پارکر پاکستان کے صوبہ سندھ میں واقع ہے اور مٹھی اس کا مرکز ہے جو کہ ایک نہایت خوبصورت شہر ہے۔تھر کا مطلب ہے صحرا ،ریگستان اور پارکر اپنے اندر دوسری جانب یادوسری طرف جانے کا مفہوم رکھتا ہے۔اس ریگستان میں انسان ہوں یا حیوان ، مور جیسے حسین پرندے ہوں یا ریت کے ٹیلے جن کو سندھی میں بھٹ کہا جاتا ہے سب کے سب حسن و خوبصورتی کے استعارے ہیں۔ مگربارشوں کے نہ ہونے کے سبب تھر کا حسن ماند پڑ جاتا ہے۔ بھوک، افلاس، پیاس، سوز و گداز کے منظر دیکھ کر دل دہل جاتا ہے۔ قحط پڑ جانے سے لوگوں کی حالت قابل رحم ہو جاتی ہے اور تھر کے کچھ غریب قبیلے روز گار کے لئے نقل مکانی کر کے میلوں پیدل سفر کر کے سندھ کے نہری علاقوں تک پہنچ جاتے ہیں۔ جہاں کھیتوں پر مزدوری کر کے روزی کماتے ہیں۔ لیکن ہمیشہ قحط نہیں پڑتاجب گھٹائیں امڈ امڈ کے آتی ہیں تو یہاں کے لوگوں کی خوشی دیدنی ہوتی ہے۔دیکھتے ہی دیکھتے ہر طرف جل تھل ہو جاتا ہے اور ٹنڈ منڈ درختوں پر نئی کونپلیں پھوٹتی ہیں ۔صحرا سبزہ کی چادر اوڑھ لیتا ہے ۔مور اپنے حسین پر بکھرائے آنے والوں کو خوش آمدید کہتا ہے اور زندگی اپنی تمام تر رعنائیوں کے ساتھ یہاں جلوہ گر ہوتی ہے۔ تھر پار کر پاکستان کے دوسرے علاقوں کے مقابلے میں پسماندہ ہے یہاں ترقی کی رفتار سست ہے۔ضلع تھر پار کر 21000 ہزار مربع میل پر محیط ہے۔ ایک تھر جو کہ ریت اور ریت کے ٹیلوں پر مشتمل ہے اور دوسرا پارکر جو کہ پہاڑی علاقہ ہے اور تھر سے کچھ مختلف ہے ۔تھر پار کر کا پہلا حصہ طبعی اور ثقافتی لحاظ سے 7حصوں میں منقسم ہے۔

مہرانوں (Muhranoo) ،ونگو (Wango) ، سامروٹی (Samroti)، وٹ (Wat)، ڈھٹ (Dhat)، کنٹھو (Kantho)، کھائڑ (Khaur) ضلع تھر پارکر چار تحصیلوں پر مشتمل ضلع ہے۔ مٹھی، ڈیپلو، چھاچھرو اور نگر پار کر۔ تھر پار کر کی کل آبادی تقریباً گیارہ لاکھ ہے۔ موجودہ تھر پار کرکو 1990 ؁ ء میں ضلع کا درجہ دیا گیا اور مٹھی کو اس کا ہیڈ کوارٹر قرار دیا گیا اس سے پہلے تھر پار کر ایک بڑا ضلع تھا جس میں عمر کوٹ اور میر پور خاص اضلاع بھی شامل تھے جس کا ہیڈ کوارٹر میر پور خاص تھا۔
روایتوں کے مطابق کسی زمانے میں موجودہ تھر پار کر سمندر کا حصہ تھا جہاں پر کئی بندر گاہیں اور شہر بھی موجود تھے جو تہذیب و تمدن کے مراکز تھے مگر سمندر کے پیچھے ہٹ جانے اور قدرتی آفات کی سبب وجہ سے اس علاقے کی جغرافیائی و طبعی حالتیں تغیر پذیر ہوتی چلی گئیں یہاں تک کہ اس کو موجودہ صحرائی صورت مل گئی۔
اس علاقے تھر پار کر پر مختلف قوموں خاندانوں اور نسلوں نے حکومتیں کی ہیں۔ جس میں راء برہمن، پر مار، مکوانہ، رانو، سوڈھو، راٹھور، سماں، کلھوڑا، تالپور اور انگریز شامل ہیں۔تھر پار کر میں خاص طور پر سندھی، ڈھاٹکی اور پارکری زبانیں بولی جاتی ہیں اور گجراتی اور مارواڑی کا بھی وجود ہے مگر سندھی رسم الخط میں پڑھی اور تحریر کی جاتی ہیں۔
تھر پارکر کے صحرا میں مختلف تاریخی مقامات و عمارتیں بھی آنے والوں کو دعوت نظارہ دیتی ہیں۔انہی تاریخی اور دلچسپ مقامات میں سے ایک ’’گوڑی کا مندر‘‘ ہے یہ جین مت کا قدیم اور مشہور مندر ہے ۔اسکی تعمیر 1376ء میں ہوئی۔ یہ مندر ویرا واہ اور دانو داندل کے قریب واقع ہے اور اس مندر سے کئی کہانیاں اور داستانیں بھی منسوب ہیں۔

Tharparker3

اس کے علاوہ نگر پارکر شہر سے تھوڑے سے فاصلے پر واقع ایک تاریخی تالاب بھی ہے جس کے بارے میں ایک روایت یہ بھی ہے کہ محمود غزنوی نے یہ صحرا عبور کرتے ہوئے یہاں سے پانی پیا تھا ۔اس تالاب کے کنارے بھوڈے سر کی تاریخی مسجد آج تک قائم ہے جسے محمود شاہ بیگڑو نے 1505 ؁ء میں تعمیر کروایا تھا یہ تاریخی مسجد آج بھی بھوڈ ے سر کے تالاب کے نزدیک موجود ہے۔ یہیں پہ جین مت کا ایک اور مندر بھی ہے۔ یہ مندر 1375ء میں بنا۔اس کے علاوہ تحصیل نگر پارکر میں واقع بھا لوا گاؤں عمر ماروی کے داستان کی وجہ سے مشہور و معروف ہے۔ اس علاقے کو ملیربھی کہا جاتا ہے۔
اس کے علاوہ یہاں واقع گرینائٹ کے پہاڑ جنہیں کارونجھر پہاڑ کے نام سے پکارا جاتا ہے،بہت مشہور ہے۔یہ پہاڑ نگر پار کر کے شہر کے بالکل نزدیک واقع ہے اس پہاڑ کے دامن میں سندھ کی تاریخ کا ایک ہیرو روہلو کولہی رہا کرتا تھا۔ جسے انگریزوں نے سیاسی بنیادوں پر پھانسی دے دی تھی۔ہر سال اس کی یاد میں یہاں ایک میلہ بھی منعقد کیا جاتا ہے۔
کارونجھر پہاڑ جو 28مربع میل پر مشتمل ہے بارشوں کے بعد کئی دن تک اس سے بارہ ندیاں نالے بہتے ہیں جن میں کچھ بہہ کر ان کے مکینوں تک پہنچتے ہیں۔ اس پہاڑ کی ایک چوٹی پر تروٹ کا ایک ٹیلہ ہے جہاں انگریز عملدار تروٹ بیٹھ کر نگر پار کر اور آس پاس کے نظاروں سے لطف اندور ہوا کرتے تھے۔ اکثر سیاحوں کی یہ خواہش اور کوشش ہوتی ہے کہ وہ بھی وہاں تک پہنچ جائیں۔ یہاں اکثر بارشوں کے بعد سیاحوں کا رش بڑھ جاتا ہے۔

Tharparker4

حقیقت یہ ہے کہ تھر پار کر تب انگڑائی لیتا ہے بلکہ زندہ ہوتا ہے جب بارشیں پڑتی ہیں ۔کالی گھٹائیں جب امڈ امڈ آتی ہیں تو تھر پارکر کا حسن جہاں سوز چشم بینا کو اپنے سحر میں جکڑ لیتا ہے ۔ہر سو ہریالی اور سبزہ کا سیلاب نظر آتا ہے۔کھیت کھلیانوں سے آنے والے لوک گیتوں کی سریلی گونج، بانسری کے مدھر سر،مور کا حسین رقص، مال مویشی کے گلوں میں بندھی ہوئی گھنٹیوں کی مدہوش کر دینے والی آوازیں آپ کو اپنی طرف کھینچنے لگتی ہیں۔

Tharparker5

حسن وشاعری کے سارے استعارے اپنی جوبن کے ساتھ یہاں سمجھ آتے ہیں اور خدا کی اک عجب قدرت کا احساس ہوتا ہے اور یہ بات بھی سمجھ آتی ہے کہ غالب نے کیوں کہا تھا کہ ہوتا ہے نہاں گرد میں صحرا میرے ہوتے اور اس کے ساتھ ایک اہل دل جس نے غالب کی شاعری بھی پڑھ رکھی ہو غالب کے اس مصرعہ کہ ’’ ہم بیاباں میں ہیں اور گھر میں بہار آئی ہے‘‘ میں تبدیلی کرنے پر مجبور ہوجا تا ہے کہ

؂ ہم گھر میں ہیں اور بیاباں میں بہار آئی ہے