پروفیسر اجمل خان صاحب کے طالبان کے متعلق انکشافات پر ایک تبصرہ

تحریر: ملک عمید

Professor Ajmal Khan

چار سال کا عرصہ اعصاب کو تباہ کرنے اور بندے کو مجنوں بنانے کے لئے کافی ہوتا ہے،مگر یہ پروفیسر صاحب کے مضبوط اعصاب اور اپنے فرض سے دیانتداری کی انتہا ہے کہ جہاں بھی گئے علم کی شمعیں روشن کیں۔ وہ بھیڑیے جو لوگوں کو اندھا کرنا چاہتے ہیں، وہ بھی اپنے بچوں کے لئے روشنی چاہتے ہیں۔وہ لوگ جو ملالہ جیسی ہونہار بچی کو علم کی بات کرنے سے روکنے کے لیے جان سے مارنے کی بھرپور کوشش سے بھی نہیں چوکتے ان میں سے بھی بہت سے ایسے ہیں جو اپنے گھروں میں چراغ جلتے دیکھنا چاہتے ہیں۔ سمجھدار لوگوں کے لئے اس میں نشان ہیں۔
ایک انکشاف جو پروفیسر صاحب نے کیا وہ یہ ہےکہ وہ طالبان سے مکالمہ بھی کرتے رہے اور یہ کہ وہ انھیں دہشتگردی سے روکتے رہے۔۔۔افسوس کا مقام ہے کہ آج کا “سی ڈی” تبلیغی ملّا پاپ سنگرز، کرکٹرز اور بیوپاریوں کو تو مشرف به اسلام کرنے پر پھولے نہیں سماتا، مگر وہ فتنہ جو قوم پر بجلی بن کر عرصوں سے گر رہا ہے اس کا علاج کرتے سب کی جان چلی جاتی ہے۔۔ کتنے طالبان کمانڈر مولانا طارق جمیل صاحب کے”کریڈٹ” میں ہیں۔۔۔ کتنے طالبان سپاہی مشرف به “امن” کیے گئے؟؟
افسوس صد افسوس کہ تاریخ کے ایسے نازک موڑ پر ہمیں عالم کوئی نہ ملا سب فنکار ہی ملے، پرفارمنس تو لاجواب ہے مگر عمل کوئی نہیں۔۔۔
اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ ان ملاؤں کے یا تو دل طالبان برانڈ کے دہشتگردانہ مذہب کو مانتے ہیں یا یہ اتنے بزدل ہیں کہ اصل “جہاد” ان کے بس کی بات ہی نہیں ہے۔

 

Ajmal Khan

This Column was originally published here

More on Terrorism:

Oath of the scented ones

Lest We Forge

Malala book launch halted by PTI’s Government

Comments are closed.