جانے کب کون کسے مار دے کافر کہہ کر

ارسلان قمر

Ahmadis killed in Pakistan

پاکستان کے چھوٹے شہروں کی شامیں اکتوبر کے وسط سےہوا میں بڑھتی خنکی کے سبب خاموش ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔یہ خاموشی ہمیشہ پراسرار ہوا کرتی ہے جو کسی کے لئے تو پُر ہیبت ہوتی ہے اورکسی کے لئے پُرسکون ۔ سوچتا ہوں ایسے میں گولی کی آواز توخوب گونجتی ہوگی لیکن اس گولی کے نشانہ بننے والا خاموش رہ جاتا ہے۔ میں پھر سوچتا ہوں کہ پاکستان میں موت بھی اس شام کی طرح پراسرارہے۔ میں آج تک اس کا فلسفہ نہیں سمجھ سکا۔ نیوٹن کا تیسرا قانون بھی یہاں کام نہیں کرتا۔ بعض اوقات 14 لاشیں نام نہادانقلاب کابہانہ بنا دی جاتی ہیں اور کہیں اسی جگہ مرنے والے بیسیوں افراد کی موت خاموش رہ جاتی ہے۔ کہیں کسی وڈیرے یا منسٹر کے بیٹے کے ہاتھ سے قتل ہونے والے شاہزیب اور طاہر کی موت ہزاروں کو آواز اٹھانے پر مجبور کردیتا ہے لیکن کہیں امتیاز،حرا اور کائنات کی موت چند انسانی حقوق کے لئے بولنے والے افراد کے رسمی بیانوں کے گرد گھومتی رہ جاتی ہے۔ 15اکتوبر کی شام دفتر کے ٹیبل پر بیٹھا یہی سوچتا رہاکہ لوگ کہتے ہیں میرے اس وطن میں زندگی صرف وڈیروں ، جاگیرداروں اور منسٹروں کی ہے۔ مگر میں نےسوچاکہ نہیں یہاں موت بھی وڈیروں ، جاگیرداروں اور منسٹروں کے بچوں کے ہاتھوں مرنے والوں کی ہے۔ آج ایک اور شخص کی جان گئی تھی۔ لاشوں پر سیاست کرنے والے خاموش تھے۔ اپنی اپنی جماعتوں کے لئے چوبیس گھنٹے سرگرم رہنے والے انقلابی، نوجوان، جیالے اور شیر خاموش تھے کیونکہ یہ ایک احمدی تھااور احمدی کا تو ووٹ بھی نہیں۔ اس کے بارے میں بول کر کیا لینا دینا۔

 

مزید پڑھیے: Photo of the day: Can you Spot the Difference?

 

لطیف عالم بٹ اپنی عمر کے اواخر میں تھے۔ 62 سال اس شخص نے اس وطن میں رہ کر گزار لئے جہاں اس کے حقوق کی محافظ ریاست بھی نہیں۔ اس وطن کی فضائیہ میں خدمت کرنے والا یہ شخص زمین میں گرا دیا گیا۔ یہ وہی فضائیہ ہے جس کا پہلا چیف ایک احمدی ظفر احمد چوہدری تھا اور یہ وہی فضائیہ ہےجہاں غدار کہہ کر آج ایک احمدی کو بھرتی نہیں کیا جاتا۔ ریٹائرمنٹ کے بعدسٹیشنری کا چھوٹا سا کاروبار کرنے والا یہ احمدی اس ملک کے حفاظتی اداروں کے لئے ایک بہت بڑا سوال بن چکا تھا ۔ اسلام کے لئے تو یہ ایک چلتا پھرتا خطرہ تھا۔ لوگوں کے ایمان اس کو دیکھ کر زائل ہو جاتے تھے ۔ جب یہ السلام علیکم کہا کرتا تھا تو ایک محب رسول ﷺ کا دل پھٹ جاتا تھا۔ نماز روزہ کی حالت دیکھ کر محافظان ختم نبوت کا خون کھولتا تھا۔ اس گستاخ بزرگ کی سزا سر تن سے جدا ہی تھی۔ اس لئے آج کی شام خاموش رہی کیونکہ یہ جان کسی وڈیرے کے لخت جگر کے ہاتھوں نہیں گئی تھی۔ بلکہ یہ جان ان علماء و فقہاء کے فتووں پر فدا ہونے والے سرکاری مسلمانوں کے ہاتھ ہوئی تھی جو شراب کے نشے میں دھت ٹی وی پر قرآن و سنت کی باتیں کرتے ہیں اور اس وقت ہم میں سے کسی مسلمان کا خون نہیں کھولتا اورکسی کی غیرت نہیں جاگتی کیونکہ ٹھیکیدارانِ اسلام کا ہر عمل مسنون سمجھا جاتا ہے۔ ہاں ایک پنجوقتہ نمازی احمدی کی خاموش عبادت ہمارے لئے حمیت و غیرت کا مسئلہ بن جاتی ہے اور توہین رسالت کے فتوے جاری کئے جاتے ہیں کہ کیوں ہمارے کاپی رائٹ اسلام کو اپناتے ہو۔ میں کبھی کبھی سوچتا ہوں کہ نجران کے عیسائیوں کو حضور اکرم ﷺ نے مسجد نبوی میں نماز کیوں پڑھنے دی؟ ہمارے سنت رسول کی پیروی کے دعویدار مولانا تو ایک کلمہ گو کو اپنے گھر میں نماز پڑھتے نہیں دیکھ سکتے۔

احمدیوں سے متعلق تحریر: گوجرانوالہ سانحے کا ایک نوحہ

Kainaat

شام رات میں تحلیل ہو گئی اور میں یہ سوچتے گھر کو روانہ ہواکہ اس سال احمدیوں کے 13 لوگ مارے گئے اورمعلوم نہیں کتنے ویٹنگ لسٹ پر ہیں۔ ا س قتل پر یہ خاموشی اس شام کی پر ہیبت خاموشی سے بھی پر اسرار تھی۔ اس میں ذمہ داروں کے احساسات کی خنکی بھی شامل تھی مگران کا سکہ تو چل رہا تھا اور اس کا خطرہ تب ہوتا جب لطیف کسی وڈیرے کے ہاتھوں مارا جاتا اور مخالف پارٹی ہلہ بو دیتی۔ ریاست خاموش ہے کیونکہ ضمام ایمان ان ملاؤں کے ہاتھ میں نہایت خوش اسلوبی سے سنبھلی ہوئی ہے جو رندانہ جوش و جزبہ سے محبت رسول ﷺ میں کلمہ گو احمدیوں کے قتل کے فتوے دے کر اپنا فرض پورا کرتے ہیں۔ میں سوچتا رہا اورجوب نہ ڈھونڈ پانے پر آج کی رات اور بھی خاموش ہو گئی۔

 

احمدیوں سے متعلق تحریر: اسلامی جمہوریہ پاکستان کو درپیش خطرات سے ایک ملا قات

Comments are closed.