دہشت گردکامیاب ہورہے ہیں، دس کھلی کھلی نشانیاں!

ملک عمید

peshawar2

آپریشن ضرب عضب جاری ہے اور پشاور حملوں کے بعد ہم روز وزیرستان کے دور دراز علاقوں میں بے نام دہشت گردوں کے مرنے کی خبریں سنتے ہیں، ساتھ ہی ساتھ یہ بھی معلوم پڑتا ہے کہ کیسے ہم ان دہشت گردوں کے خلاف کامیابیاں سمیٹ رہے ہیں، مگر یقین جانیے اس آپریشن میں تو ہم کامیابی پا ہی رہے ہوں گے مگر دہشت گردی کی روک تھام میں نہیں بلکہ اس معاملے میں تو دہشت گرد اپنے تمام اہداف ایک ایک کر کے حاصل کیے جا رہے ہیں۔۔۔ چند سو دہشت گردوں کو مار کر ہم شاید کوئی وقتی نفسیاتی کامیابی تو پا لیں گے، مگر یقین جانیے جب تک ہم بحیثیت ریاست اور معاشرہ اس ناسور کے خلاف ڈٹ نہیں جاتے ہم حقیقتاً دہشت گردوں کا شکار ہوتے جارہے ہیں۔
آج دہشت گرد ہم سے جیت رہے ہیں، ان کی جیت کی چند کھلی کھلی نشانیاں درج ذیل ہیں، ان پر غور فرمائیں اور دیکھیں کہ ہم کس قدر عمیق غلطیاں کر رہے ہیں جو ہماری بقا پر ہی سوالیہ نشان چھوڑ رہی ہیں:

۔ پراپگنڈا کی جنگ میں جیتنے کا اصول یہ ہے کہ اپنی آبادی کے حوصلے بلند رکھنا اور دشمن کی آبادی کے حوصلے پست کرنا، ہمارے ہاں اس کے الٹ ہوتا ہے۔ ہر واقعہ کے بعد جس اندوہناک اور بھیانک انداز میں کوریج کی جاتی ہے، اس سے یوں معلوم ہوتا ہے کہ قیامت آگئی ہے، نیز جس بہیمانہ انداز سے رپورٹنگ ہوتی ہے اور خونی و وحشتناک مناظر سکرینوں پر دکھائے جاتے ہیں، وہ کسی بھی قوم کے حوصلے پست کرنے کے لیے کافی ہیں۔ نہ صرف یہ بلکہ میڈیا ہمیں تفصیلاً یہ بھی بتاتا ہے کہ کہاں کہاں تھریٹ آئی ہے اور حکومت نے اس کے دبدبہ میں آکر کیسے جوابی اقدامات میں اہلکاروں کی فوج خاص مقامات پر لگا دی ہے۔ یہ تو صاف صاف پیغام ہیں کہ خطرہ اس قدر زیادہ ہے کہ حکومت اس کے دبدبہ میں ہے۔

۔ دہشت گرد تعلیمی اداروں پر حملہ کرتے ہیں کہ یہ بند ہوجائیں اور یہ ملک تعلیم کے زیور سے محروم ہوجائے، یہاں کی نوجوان نسل جدید تعلیم حاصل کرنے کی بجائے ان کی دہشت میں آئے اور ان کے نظریات اپنائے۔ حکومت اس کے جواب میں تعلیمی اداروں کو دہشت گردی کے خطرے کے سبب جلد بند کر دیتی ہے اور نہ صرف بند کرتی ہے، میڈیا اس کا اعلان بھی ساری دنیا میں کرتا ہے۔ پس جو ہدف حاصل کرنے کے لیے دہشت گردوں نے معصوم بچوں پر حملہ کیا اور انھیں شدید بربریت کا نشانہ بنایا ہماری ریاست ان کے دباؤ میں آکر اس ہدف کو اپنے ہاتھ سے پورا کر دیتی ہے۔

۔ جب ریاست ادارے بند کرتی ہے تو لوگ خود بخود دہشت زدہ ہوجاتے ہیں، اپنے بچوں کی جانب دیکھتے ہیں کہ انہیں بھی اسکول بھیجا جائے کہ نہ! یہ دوسری طرف کا ہدف ہے، جو کہ زیادہ عمیق اثر رکھتا ہے۔ یہ یاد رکھنا چاہیے کہ ریاست تو اپنی پالیسی ایک فون کال پر بدل سکتی ہے مگر جو باتیں لوگوں کے ذہنوں میں تیس سال سے بٹھائی گئی ہیں وہ جاتے جاتے نہ صرف بہت وقت لگتا ہے بلکہ اس کے لیے فولادی ہمت بھی چاہیے ہوتی ہے۔ پس ایک دفعہ جب لوگوں کے دلوں میں تعلیمی اداروں میں بچے بھیجنے سے خوف پیدا ہوگیا تو یہ پھر ختم ہوتے ہوتے ہی ہوگا۔

۔ سیر و تفریح، سیاحت، کھیل اور میدان سب دہشت کے سایوں میں قید ہیں۔ کسی بھی مقام پر جانے سے پہلے یہ سوچنا پڑتا ہے کہ کہیں ایسی جگہ جہاں لوگوں کی بھیڑ ہو وہاں دہشت گردی کا واقعہ نہ ہو جائے۔ ابھی رات کا ہی واقعہ ہے تفریح کے لیے ایک سینما میں جاتے ہوئے کافی دیر سوچا کہ افواہیں گردش کر رہی ہیں کہیں کوئی واقعہ نہ ہوجائے۔ پھر یہ سوچ کر چلے گئے کہ اب افغانستان میں بیٹھا ملّا فضل اللہ یہ فیصلہ کرے گا کہ میں سنیما جاؤں یا نہ! پس یہ نفسیاتی کیفیت بھی ایک جیت ہی ہے، ایک بڑے ہدف کا حصول اور یہ دہشت گردوں نے مسلسل کاروائیوں میں کامیابی اور ان میں بڑھتی بربریت کے ذریعے حاصل کیا ہے جن کی روک تھام میں ریاست عشروں سے ناکام رہی ہے نیز جب ریاست ہی دبدبہ میں آئے گی تو لوگ تو پھر دہشت زدہ ہوں گے ہی۔

۔ آج دہشت گرد ہمارے دماغوں میں سوار ہوگئے ہیں، بات کہیں سے نکلے ہمیشہ دہشت گردوں پر جا پہنچتی ہے۔ یہ ہدف زیادہ خطرناک اثرات کا حامل ہے۔ باہر غیر ضروری نکلنا تو دہشت زدہ کرتا ہی ہے مگر یہ لوگ ہماری بیٹھکوں، دسترخوانوں، آرام کمروں حتیٰ کہ غسل خانوں میں بھی گھس گئے ہیں (یہ صورتحال مضحکہ خیز تو لگے گی مگر یقین جانئے انتہائی وحشت ناک ہے) خیالات کی رو جہاں سے بھی شروع ہو اس ناسور پر جا کر ختم ہوتی ہے۔ یہیں سے پھر وہ وحشت ناک جذبے جنم لیتے ہیں جن سے معاشرہ تہذیب کے درجے سے گر کر خود دہشت گردوں کی طرح سوچنا و عمل کرنا شروع کر دیتا۔ اس کی تفصیل آگے آئے گی۔

۔ ہم دیکھتے ہیں کہ ریاستی ادارے طالبان کے حامیوں پر ہاتھ اٹھانا تو درکنار ان کی جانب اشارہ بھی نہیں کرنا چاہتے، یہ ہمارے میڈیا پر آتے ہیں ہمارے بچوں کے قتل کی توجیہات بیان کرتے ہیں اور ہم بے بسی سے دیکھتے رہ جاتے ہیں۔ کسی کی مجال نہیں ہوتی کہ ان کو پکڑے تو درکنار ان کے خلاف کوئی بیان ہی دے جائے۔ آخر سول سوسائیٹی کے چند ارکان تنگ آکر لال مسجد جیسے خوف کے مینار کے آگے مظاہرہ کرتی ہے اور کافی پس و پیش کے بعد بغیر دانتوں کے ایک ایف آئی آر ملتی ہے۔ آہ بے بسی! آہ لاچاری! اس کی ہزار توجیہات دیجیے، ریاستی اداروں سے اس کے تانے بانے ملائیے مگر یہ ایک بڑی کامیابی ہے جس پر لگ بھگ ڈیڑھ سو بچوں کی ہلاکت سے بھی حرف نہیں آیا۔

۔ دہشت گردوں نے اپنے حامیوں اور اپنے سے ڈرنے والوں کی مدد سے لوگوں کو مسلسل ابہام میں ڈال رکھا ہے اور یہ عشروں بعد بھی دہشت گردوں کی بڑی کامیابی ہے۔ 70,000 ہزار لوگ ایک جنگ کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں اور حیرت ہے کہ نہ مرنے والوں کو پتہ کہ کس نے مارا، نہ بچنے والوں کو پتہ کہ لڑنا کس کے خلاف ہے۔ جو حامی ہیں وہ تو ابہام پھیلانے میں مصروف ہیں ہی مگر جو خوف زدہ ہیں وہ مسلسل نفی و انکار یا خاموشی کی کیفیت میں ہیں۔ ناگا ساکی میں گرے ایٹم بم جتنے لوگ ہم مروا چکے ہیں مگر آج تک قطعی طور پر یہ نہیں جان سکے کہ آخر دشمن ہے کون۔
حیف ہے ناصح پر، حیف ہے چارہ گر پر!!!

خاک ہوجائیں گے ہم، تم کو خبر ہونے تک

۔ یہ لوگ ہم میں سے ہی اپنے خود کش بمبار لیتے ہیں، ہم میں سے ہی سارا سٹاف لیتے ہیں، چندہ بھی ہم ہی دیتے ہیں، ان کے لیے ہمدردی بھی ہم ہی اکٹھی کرتے ہیں اور یہ سب ساری حکمت عملی اور پلاننگ کر کے ہمیں ہی مارتے ہیں۔ یہ سپلائی لائن، یہ فنڈنگ آج تک اگر بحال ہے اور عشروں سے اس کو روکنے کی ہمت تو کجا خیال بھی کسی کو نہیں آتا تو اور اس کے پیچھے بھلے لاتعداد عوامل ہوں یہ دہشت گردوں کی کامیابی ہے۔

۔ سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ انہوں نے آج تک عشروں سے سات سمندر پار کی طاقت سے لے کر پاکستان، اور پاکستان کے دشمنوں (الزامات کی رو سے اگر کہا جائے) سے لے کر خلیجی و دیگر عربی ممالک تک کو یہ یقین دلا رکھا ہے کہ ان میں بعض، بعض کے اثاثے ہیں تو اس سے بڑی کیا کامیابی ہوگی۔ یہ بحث فضول ہے کہ پاکستان میں اس کی کیا توجیہات ہیں، کیسے ان کا بیانیہ ریاستی سرپرستی میں پروان چڑھا، آج تک کیوں فیصلہ ساز ادارے ان کو اپنے استعمال میں لاتے ہیں یہ سب لاحاصل بحثیں ہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ یہ آج بھی چھل کپھٹ میں کامیاب ہیں۔ سوچئے گا ضرور!

See More: محض مذمت چھوڑئیے اور کچھ کیجیے!


۔ چلیے یہ امور تو سمجھ آتے ہیں مگر ان ساری کامیابیوں سے جو بھیانک حقیقت جنم لیتی ہے وہ ریاست و عوام کا ان کی نقالی کرنا ہے۔ کیا اخلاقی جواز باقی رہ جاتا ہے اگر ریاست وحشیانہ جذبات کو تسکین دینے کے لیے انہی ہتھکنڈوں میں اتر آئے جو بھیانک دہشت گرد استعمال کرتے ہیں؟ جو امر میرے لیے کافی حیرت خیز تھا وہ ریاست کا اور میڈیا کا پھانسی لگی ہوئی لاشوں کی تشہیر اور نیز ایک خبر کے مطابق فاٹا میں مارے گئے دہشت گردوں کی لاشوں کی پشاور میں نمائش کرنا۔ یہ دراصل ریاست کا دائش کی ہئیت میں تبدیل ہونے کی نشانی ہے۔ ریاست کی رٹ اور دبدبہ اخلاقی و قانونی جواز سے ہوتا ہے، مگر یہاں ریاست دہشت گردوں کی طرح رویہ رکھ رہی ہے، یعنی دہشت پھیلا کر رٹ قائم کرنا، نیز عوام کا بھی اس اقدام کو سراہنا اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ جیسا دہشت گرد ہمیں بنانا چاہ رہے ہیں ہم ویسے ہی غیر مہذب اور وحشیانہ جذبات کی تسکین کرتے ہوئے بنتے جا رہے ہیں۔
اب اس کے بعد اور کیا کسر باقی ہے!

Comments are closed.