آئیے اسلام مال چلیں!

تحریر: نضیرا اعظم

Islamic Reformation4

ہم مسلمان ایک عجیب دور سے گذر رہے ہیں، کیا افراد کیا اقوام سب غلامی کے دلداہ اور آزادی سے نالاں نظر آتے ہیں، ایک ایسی آزادی جو ذہنوں کو جلا بخشتی ہے، جو رواداری، برداشت اور تنظیم کا سبق سکھلاتی ہے، جو افراد کو ذمہ دار اقوام کا روپ دیتی ہے ہم من حیث الجماعت اس سے قطعی بے بہرہ ہیں کیونکہ ابھی تک ہمارے پاس وہ لیڈرشپ نہیں جسکا زمانہ صدیوں سے منتظر ہے، یہ لیڈرشپ وہ فرد واحد ہےجو اچانک کہیں سے نمودار ہو تی اور آن کی آن میں سب کچھ بدل کر رکھ دیتی اور یہ وہی راہنمائی ہے جو قوموں کے وجود سے، انکی دن رات کی مخلصانہ کو ششوں سے ایک ٹھنڈے میٹھے چشمے کی  طرح پھوٹتی ہے اور دھیرے دھیرے آس پاس کی زمینوں اور افراد کو سیراب کرتی چلی جاتی ہے۔

”عجائب الاسفار”  عربی زبان کا سفرنامہ جسکا اردو ترجمہ 1913 میں ریٹائرڈ سیشن جج خان بہادر مولوی محمد حسین نے ”سفرنامہ ابن بطوطہ” کے نام سے کیا۔کتاب کے پیش لفظ میں  وہ مسلمانوں کے زوال کا بڑا سبب انکی تجارت سے دوری کو قرار دیتے ہیں، انکا کہنا ہے کہ اسلام اور اسمیں شامل ہونیوالی تہذیبیں، علم کا شوق اور مسابقت و ایجادات  اسی تجارت کی وجہ سے فروغ پائے، وہ تجارت کو تہذیب کی کنجی  اور اسلامی دنیا کے باہمی آمد و رفت اور ربط قرار دیتے ہیں۔ اور اس امر پر نوحہ کناں ہیں کہ مسلم دنیا اپنے زوال  کی وجوہات نہ جان سکی کہ اسکا علاج کرتی اور انکے نزدیک مسلمانوں کی تجارت سے دوری ہی انکے زوال کا سب سے بڑا سبب ہے۔

کون کہتا ہے کہ مسلمان تجارت سے دور ہوگئے ہیں؟  وہ اب بھی خوب تجارت کررہے ہیں مگر فرق صرف یہ ہے کہ اب انکی تجارت اشیائ کی محتاج نہیں بلکہ  اب تو وہ پورے کے پورے اسلام کو حصے بخروں میں کاٹ کر تجارت کر رہے ہیں، سبکا اپنا اپنا علاقہ ہے اپنی اپنی پروڈکٹس ہیں، کوئی دیوبندی کا تاجر ہے تو کوئی بریلوی کی تجارت کررہا ہے، کوئی اسلام میں غیرت و حیا کا تاجر ہے تو کوئی وہابی مسلک کو مسلط کرنیکی تجارت کر رہا ہے، کوئی غیر مسلموں کے لہو کا سوداگر ہےکسی کو خلافت میں امت مسلمہ کی نجات نظر آرہی ہے اور داعش  سوق میں مسلم لہو کی تجارت کر رہا ہے اس نجات کے لئے اپنے ہی ہم مذہبوں  کے خون سے طاقت بخش رہے ہیں، ہے تو کہیں طالبان تحویلخانہ ﷲ کا نام دھماکوں میں لپیٹ کر بیچ رہے ہیں۔

پچھلی دو ڈھائی دہائیوں سے پاکستان میں بہت سے شاپنگ مال کھلے اور عوام میں انکی خاصی پذیرائی بھی ہوئی لیکن سب سے زیادہ سحر انگیز ہے وہ بازار  ہےجسے میں نے ”دی گریٹ اسلام مال’’ کا نام دیا ہے اس مال کی بنیاد اسلام آباد میں پڑی  مگر اسکا احاطہ پورا ملک ہے، ذرا ”دی گریٹ اسلام مال” میں داخل ہوں دلکش اور مذہبی جذبوں سے پُر نعرے جنکے سحر میں ڈوبی  مسلم خواتین اور مرد ہر اس دکان سے کوئی نہ کوئی ایسا مال خریدنے پر تیار ہوجاتے ہیں جو انہیں جنت کے باغوں کی سیر  کی ضمانت دے رہا ہو، مگر یہ بھول جاتے ہیں کہ وہ اعمال صالحہ جو بروز حشر ایک انسان کے جنتی ہونے کا فیصلہ کرینگے، کہیں دور رہ جاتے ہیں۔ بلکہ ابتو بیرون ملک بھی لوگ اس مال کی چیزیں بیچ رہے ہیں اور خوب خوب منافع کما رہے ہیں، وہ تمام ”نو اسلامیے” امریکہ آتے ہیں  اور  ڈالروں سے نہال ہو کر چلے جاتے ہیں۔ ایک صاحب جنید جمشید کا واقعہ سنا رہے تھے جو انہیں کے گھر ٹھہرے تھے۔ وہ بتانے لگے کہ  جنید جمشید نے آتے ہی کوئی آدھ گھنٹے میں شکاگو، ہیوسٹن، نیویارک وغیرہ فون گھمائے اور منٹوں میں ایک لاکھ ڈالر پکے کر لئیے اب آپ ہی کہیئے کہ وایٹل سائنز میں ہوتے تو کتنی محنت کرنا پڑتی تب کہیں جا کر یہ رقم ہاتھ آتی۔ جی ہاں یہ وہی جنید جمشید ہیں جو ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ  کی شان میں گستاخی کی وجہ سے مزید”نام” کما رہے ہیں۔ پہلی بات تو یہ کہ کم سے کم امہات المومنین کے بارے میں ایسی کوئی بات نہیں کرنا چا ہیئے تھی جو انکے منصب کے خلاف ہو، میں نہیں جانتی کہ انہوں نے پوری اداکاری کے ساتھ بی بی عائشہ صدیقہ رضی ﷲ کو عام عورتوں سے اسطرح ملایا گویا  کوئی چشم دید واقعہ بیان کر رہے ہوں، دوئم یہ کہ اگر ایسا کچھ تھا بھی تو اسکا کوئی مستند حوالہ تو ہونا چاہیئے تھا ، اور دلچسپ صورت حال یہ ہے کہ باجود ثبوت ہونیکے موصوف کی حمایت میں تبلیغی جماعت والے ایڑی چوٹی کا زور لگائیے ہوئے ہیں کہ انکی کم علمی اور نا واقفیت کی وجہ سے ایسا ہوا ہے،  اور وہ سب سے معافی مانگ چکے ہیں ایسا کیسے ممکن ہے کہ ایک شخص جو تبلیغ کا کام کر رہا ہو وہ اسلام کی بنیادی چیزوں  ہی سے بے خبر ہو؟ اور وہ غیر مسلم پاکستانی  نا واقف اور کم علم ہونے کے ساتھ ساتھ بے گناہ بھی تھے اور جن پر توہین مذہب کے جھوٹے الزام کی وجہ سے ایک موت کے انتظار میں ہے اور دو کو بھٹے میں جلا کر خاک کردیا گیا ، جوزف کا لونی، گوجرہ اور رمشا مسیح انہیں تو کسی نے معاف نہیں کیا، یہ کہاں کا انصاف ہے؟؟؟؟

پاکستان کا اصل مسئلہ ایک شناخت کی تلاش ہے، اسلامی ملک آئینی طور پر تو ہوگیا مگر اب کہاں سے وہ اسلامی لبادہ لائیں جو انکی شناخت بن سکے، سو اسکے لئے سب سے بہتر جگہ سعودی عرب ہی نظر آئی صوفیوں کی روایات جنہیں مقامی ماحول سے کشید کیا گیا، جنمیں حسن تھا نرمی تھی، رواداری اور برداشت تھی اسکی جگہ سعودی عرب ( مجھے بالکل حیرت نہ ہو گی اگر کل پاکستان کا نام اسلامی ریاست نواز شریف کر دیا جائے، ہم لگتا ہے اسی طرف جارہے ہیں) کی جابر تہذیب کو اسلامی ثقافت کا نام دیکر لوگوں پر  مسلط کیا جا رہا ہے۔ سب سے تکلیف دہ امر یہ ہے کہ  معاشرے میں وہ تمام قبیح رسوم  آج بھی موجود ہیں جن سے لوگوں کو سوائے نقصان کے کچھ حاصل نہیں ہو رہا، اور کوئی بھی مذہبی جماعت یا رہنما اسکے خلاف کام کرنے کو تیار نہیں بلکہ  الٹاصوفیوں کی روایات کے درپے ہیں۔سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان اپنی جنوب ایشیائی ثقافت کے ساتھ ایک مسلم ملک نہیں رہ سکتا؟ اسلامی  تشخص کی جگہ عربی لبادہ پہنانے کی کوشش میں ہم پتہ نہیں کیا کیا بنتے جارہے ہیں۔ویسے بھی تشخص لباس سے نہیں اعمال سے تعمیر ہوتا ہے، بہتر عمل ہی ہمیں دنیا کی کمیونٹی میں سر اٹھانے کے قابل بنا سکتا ہے، اور اسی طرح  ہمیں اپنے تشخص کی درآمد کی ضرورت نہیں رہے گی۔

Comments are closed.