مذہبی رواداری

تحریر: محمد شعیب عادل

religious-tolerance

پیرس میں چارلی ایبڈو( ایک طنزیہ میگزین) کے دفتر میں دہشت گردی اور بارہ افراد کے بہیمانہ قتل کے بعد مسلمان حلقوں میں ایک بار پھر عدم برداشت اور عدم رواداری کے موضوع پر بحث شروع ہو گئی ہے۔ مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد نے اس واقعے کی مذمت کی ہے اور سوال اٹھایا ہے کہ آزادی اظہار رائے کی کوئی تو حد ہونی چاہیے؟ کیا آزادی اظہار رائے کے پردے میں کسی بھی مذہب سے تعلق رکھنے والی مقدس شخصیات(انبیاء اور ان کے ساتھیوں) کو طنز یا مذاق کا نشانہ بنانا چاہیے؟ ان کا کہنا ہے کہ ہولو کوسٹ کی حمایت کرنے پر آپ کو مجرم سمجھا جاتا ہے۔ کالوں کے خلاف لکھا جائے تو اسے نسل پرست ہونے کا طعنہ ملتا ہے مگر دنیا کے 1.7 بلین مسلمانوں کے نبی کا مذاق اڑایا جائے تووہ آزادی اظہار رائے میں آجاتا ہے۔

مزید پڑھیے: کیا یہی میری ‘صبح پاکستان’ ہے؟ ایک پاکستانی احمدی کا سوال

المیہ یہ ہے کہ اس وقت مسلمان پوری دنیا میں دہشت گردی میں ملوث ہیں اور وہ اپنی ان کاروائیوں کے جواز میں قرآن وحدیث سے حوالے پیش کرتے ہیں۔ قارئین کو طالبان کی وہ ویڈیوز دیکھنے کا اتفاق ہوا ہوگا جس میں طالبان یا القاعدہ کے رہنما اپنے مخالفین کے سر قلم کرنے سے پہلے قرآن و سنت سے حوالے دے کر اس عمل کو عین شریعت کے مطابق قرار دیتے ہیں۔ لہذا دہشت گردی کی کاروائی کے بعد اس کے ردعمل کے لیے بھی تیار رہنا چاہیے۔ یہ ردعمل پر تشدد بھی ہو سکتا ہے اور طنزو مزاح یا مذاق کی صورت میں بھی۔
یہ علیحدہ بات ہے کہ کچھ مسلمان قرآن و سنت کی اس تشریح سے اتفاق نہیں کرتے جو طالبان کرتے ہیں مگر اس کا فیصلہ کون کرے گا؟ کیا قرآن کی کوئی ایسی تشریح ممکن ہے جس پر تمام فرقے یا گروہ متفق ہو جائیں؟ اس بحث سے قطع نظرسوال یہ ہے کہ کیا دہشت گردی سے آپ اپنی بات منوا سکتے ہیں؟ حالیہ دہشت گردی کی کاروائی سے اب پوری دنیا وہ خاکے دیکھ رہی ہے جو پہلے شاید ہی کسی نے دیکھے ہوں۔ اے ایف پی کے مطابق چارلی ایبڈو کی ہفتہ وار اشاعت ساٹھ ہزار تھی مگر بمشکل تیس ہزار فروخت ہوتے تھے۔ اور اس کی مالی حالت دن بدن خراب ہوتی جارہی تھی اور یہ توقع کی جارہی تھی کہ شاید یہ میگزین بند ہوجائے۔ مگر حملے نے اس مردے میں نئی جان ڈال دی ہے۔ اسے فرانسیسی حکومت کے علاوہ مختلف اداروں سے فنڈز بھی ملے ہیں۔ اب اس کا تازہ ایڈیشن مختلف زبانوں میں تیس لاکھ کی تعداد میں شائع ہورہا ہے اور اس میں اسلام سے متعلق نئے اور پرانے تمام کارٹون شامل ہونگے۔

مزید پڑھیے: آئیے اسلام مال چلیں
یاد رہے کہ سلمان رشدی کو بھی ہیرو مسلمانوں نے ہی بنایا ہے ۔ اگرایرانی حکمران خمینی اس کے قتل کا فتویٰ جاری نہ کرتے تو شاید ہی کسی کو علم تھا کہ وہ کون ہے اور اس نے کیا لکھا ہے۔ مگر ایک فتوے نے نہ صرف اسے دنیا کا امیر ترین فرد بلکہ اس کے ناول کو دنیا کے کونے کونے میں پہنچا دیا۔ یہ درست ہے کہ کسی بھی مذہب سے تعلق رکھنے والا کوئی بھی شخص اپنی مقدس شخصیات کی بے حرمتی یا مذاق برداشت نہیں کر سکتا لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ جس طرح کے ردعمل کا مظاہرہ مسلمان کرتے ہیں وہ کسی اور مذہب کا فرد نہیں کرتا۔
نائن الیون کے بعد مسلمانوں نے پوری دنیا میں اپنی پہچان ایک دہشت گرد قوم کے طور پر کرائی ہے اور یورپ اور امریکہ کے سیکولر سماج میں بسنے والے مسلمانوں نے بزور شمشیر اسلامی شریعت نافذ کرنے کا جو بیڑا اٹھایا ہوا ہے ،اس کے خلاف ان معاشروں میں پہلے ہی نفرت کے جذبات پروان چڑھ رہے ہیں۔ برطانیہ، جرمنی ، سویڈن اور فرانس میں اس عمل کے خلاف احتجاج کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کی مسجدوں پر حملے بھی ہو رہے ہیں۔ آسٹریلیا کی حکومت دہشت گردی کی ترغیب دینے والوں کے لیے سخت قانون سازی کر رہی ہے جس پر مسلمان علماء نے سوال اٹھایا ہے کہ اس کے تحت کسی بھی مسلمان کو قرآن کی آیات پڑھنے پر دہشت گردی کے الزام میں پکڑا جا سکتا ہے۔ علماء کے مطابق جن آیات میں مخالفین کے قتل کا حکم دیا گیا ہے وہ اپنے جائز حقوق کی جدوجہد کے زمرے میں آتی ہیں۔ یاد رہے کہ مغربی ممالک میں کئی علماء نے قرآن و سنت کے حوالوں سے شام میں جاری جہاد میں شرکت کے لیے دعوت دی تھی۔ لیکن فرانس کے واقعے کے بعد مغربی ممالک میں بسنے والوں کے خلاف مزید پابندیاں لگنے کا عمل شرو ع ہو جائے گا۔

مزید پڑھیے: توہین مذہب کی مختلف اقسام اور ہمارا رد عمل
مغربی سماج آج جس سطح پر پہنچا ہے وہاں کے عوام نے اس کی بھاری قیمت ادا کی ہے۔ مغربی ممالک نے تو تین چار سو سال کی خانہ جنگی کے بعد آپس میں مل جل کر رہنے کا طریقہ سیکھ لیا ہے اگر کسی نے نہیں سیکھا تو وہ مسلمان ہیں۔ مغرب نے جمہوریت کی صورت میں ایک نظام اپنایا ہے جس میں تمام افراد چاہے وہ کسی مذہب رنگ و نسل سے تعلق رکھتے ہوں کو اپنی اپنی مذہبی آزادیوں کے ساتھ ساتھ تما م شہری حقوق بھی حاصل ہیں۔ ان ممالک میں رہنے والے مسلمان ایک طرف تو اس آزادی اور نظام سے فائدہ اٹھاتے ہیں اورپھر انہیں برا بھلا بھی کہتے ہیں ۔ انسانی حقوق تو دور کی بات مسلمان تو ابھی تک اس سطح پر ہی نہیں پہنچے کہ وہ اپنے علاوہ کسی دوسرے مذہب حتیٰ کہ مخالف فرقے سے تعلق رکھنے والے کو برابری کا درجہ دے دیں۔ یہ جمہوریت کو کفر کا نظام سمجھتے ہیں اور خلافت نافذ کرنا چاہتے ہیں جوصریحاً ڈکٹیٹر شپ ہے۔ مل جل کر رہنا تو ایک طرف مسلمان کسی دوسرے فرقے کے نقطہ نظر کو برداشت کرنے کوتیار نہیں اور یہ حالت اس وقت تک برقرار رہے گی جب تک ہم اپنے آپ کو دنیا کا اعلیٰ ترین فرد سمجھتے رہیں گے۔
مسلمانوں میں عدم برداشت کی تاریخی وجوہات ہیں۔ برصغیر میں ہماری تاریخ محمد بن قاسم کے حملے سے شروع ہوتی ہے۔ ہمارے خطے میں جب کوئی بچہ ہوش سنبھالتا ہے تو اسے دوسرے مذاہب سے نفرت کا اظہار دیکھنے اور سننے کو ملتا ہے۔ اپنے آپ کو اعلیٰ ترین اور دوسروں کو کمتر سمجھنا ہمارے مزاج کا حصہ ہے۔ سکول اور کالج میں جو نصاب پڑھایا جاتا ہے اس میں بھی دوسری قوموں (خاص کر ہندوؤں) کو کمتر اور اپنے آپ کو اعلیٰ بتایا جاتا ہے۔ قتل و غارت ہمارے ایمان کا لازمی جزو ہے۔ ہم آج بھی اس نشے سے باہر نہیں نکلے کہ ہم نے روس کو شکست دی۔جنگجوؤں کو ہیرو اور انسان دوست اور محبت کرنے والوں کو بزدل سمجھا جاتا ہے۔ کسی بھی مذہبی جماعت کے لٹریچر میں نفرت کے پرچار کے علاوہ کچھ نہیں ملتا۔ ہم ابھی تک ماضی میں رہنا پسند کرتے ہیں جبکہ اب طاقتور ہونے کے معیار بدل گئے ہیں۔ اب شریعت کے نام پر چودہ سو سال پہلے کے رسوم ورواج عوام پر ٹھونسے نہیں جا سکتے۔
ہندوستان میں کوئی ڈیڑھ سو سال پہلے 1857 کی ناکام بغاوت کے بعد سرسید احمد خان نے کہا تھا کہ اگر آپ نے طاقت حاصل کرنی ہے تو آپ کو پہلے جدید علوم اور سائنس و ٹیکنالوجی میں مہارت حاصل کرنی ہوگی اور اس مقصد کے لیے انہوں نے نئے دور کے مطابق قرآن کی نئی تفسیر کی مگر ان پر کفر کا فتویٰ لگا کر دھتکار دیا گیا ۔ آج بھی اگر کوئی اس قسم کی بات کرتا ہے تو اس کا حشر بھی ان سے مختلف نہیں ہوتا۔ یہ درست ہے کہ مسلمان قوم نے کئی سو سال دنیا پر حکومت کی لیکن آج کے دور میں انہیں دوسری قوموں کے ساتھ مل جل کر رہنا سیکھنا ہوگا وگرنہ تباہی و بربادی تو ہمارا مقدر بن ہی چکی ہے۔