انتہا پسندی روکنے میں ادب کا کردار

ملک عمید

یہ بات بارہا کہی اور لکھی جا چکی ہے کہ جس طریقے سے انتہاء پسندی اور جہادی لٹریچر اور نصاب کے ذریعے افغان جنگ کے دوران پاکستانی بیانیہ کو بدل کر رکھ دیا گیا اسی زور دار طریقے اور لگن سے ہمیں دہشت گردی کے جوابی بیانیہ پر کام کرنا ہوگا۔ ادب اور اردو صحافت کا کردار اس سلسلے میں بہت اہم ہے جس پر ماضی میں بہت کم توجہ دی گئی۔ آج بھی اگر کسی بھی اردو کے اخبار کو اٹھا لیجیۓ ہمارا قومی بیانیہ دہشت گردوں کی کاروائیوں پر معذرت خواہانہ اور انکی طرف جھکا ہی نظر آئے گا۔ اسی سلسلے میں وائس آف امریکہ کے پروگرام میں ملک کے سینئر تجزیہ نگاروں وسعت اللہ خان، عائشہ صدیقہ اور رضا رومی نے اظہار خیال کیا جو یہاں شیئر کیا جا رہا ہے۔


انتہا پسندی روکنے میں ادب کا کردار- VOA by razarumi1

Comments are closed.