!یہ ہم نہیں” کہنے والے سن لیں! یہ ہم ہی ہیں”

By Andeel Ali

Terrorism

 غالباً یہ سنہ ۲۰۰۸ کی بات ہے جب میں نے کراچی شہر میں جا بجا، بڑے بڑے ہورڈنگز پر ایک گرنیڈ اور اس پر لگا ہوا بڑا سا کاٹی کا نشان دیکھا۔ ہر گرنیڈ کے ساتھ لکھا ہوتا تھا کہ یہ ہم نہیں، یہ ہم نہیں! کالے پیلے اس بورڈ کو دیکھ کر مجھے بڑا غصہ آتا تھا۔ اسی طرح آج بھی جب کوئی دہشت گردی کا جواب دہشت گردی یا کم از کم نظامِ زندگی کو مفلوج کرکے دیتا ہے تو مجھے پھر بڑا غصہ آتا ہے۔ اسی طرح ہر بندہ چاہے اسے لبرل ازم کی تعریف و تشریح معلوم ہو یا نہ ہو، سوشل ازم کا پتہ چاہے کچھ نہ ہو لیکن، پڑا وہ ہر وقت نسیم حجازی کے ناولوں کے پیچھے رہتا ہے۔ بلکہ صرف نسیم حجازی نہیں، یہ افراد، بانو قدسیہ، اشفاق احمد، عمیرہ احمد اور ممتاز مفتی کے بھی دشمن ہوگئے ہیں، مجھے ان پر بھی بڑا غصہ آتا ہے۔

اب آپ سوچ رہے ہونگے کہ اتنا غصہ کرے گا تو شاید بلند فشارِ خون کا ہی مریض ہوجائے گا۔ لیکن ایسا کوئی سین نہیں ہے۔ مجھے صرف ایک بات پر غصہ آتا ہے اور وہ ہے ہمارا، سطحی ہونا اور تنقیدی جائزہ نہ لینا۔ ہم مذمت کرکے، فیس بک پر اسٹیٹس ڈال کر، ٹئوٹر پر چہچہا کر ٹرینڈ سیٹر بن کر خود کو بہلا لیتے ہیں لیکن ہوتا کچھ نہیں ہے! نہ امن قائم ہوتا ہے اور نہ ہی آشتی کا بول بالا ہوتا ہے، کیونکہ ہمارے دعوے کھوکھلے ہوتے ہیں، ہمارے نعرے تُک بندی کا نتیجہ ہوتے ہیں اور ہمارے احتجاج صرف فوٹو سیشن کے بہانے ہوتے ہیں۔

اب ذرا غور سے سنیئے! اگر ہمیں کسی دلیل کو رد کرنا ہے تو ہمیں صرف اس کے بوگس، جعلی یا غلط ہونے کا ڈھنڈورا نہیں پیٹنا ہوگا، بلکہ ہمیں اس کے مقابلے میں اس سے زیادہ طاقتور، زیادہ جامع اور زیادہ مفصل دلیل دینی ہوگی۔ ہمیں حقائق، رائے اور آفاقی سچائیوں میں بھی موجود فرق پہچاننا ہوگا۔ اور انہی کی بنیاد پر اپنا مقدمہ لڑنا ہوگا۔ آدھا ادھورا نعرہ بذاتِ خود، انتشار کی نشانی ہے۔

ہم کہتے ہیں کہ ہم بمبار، قاتل، جابر اور ظالم افراد نہیں ہیں، ہم کہتے ہیں کہ فلاں ظلم کرنے والے بھی ہم میں سے نہیں ہیں اور فلاں حرکت کرنے والے بھی ہم نہیں ہیں۔ یہ دلیل آدھی ادھوری اور غیرجانبدار ہے۔ اور یہیں ہم بھنڈ کر دیتے ہیں۔ ہم اپنی شناخت کراتے ہی نہیں! ہم، عالم ہیں، معلم ہیں، مدرس ہیں، محقق ہیں، مبلغ ہیں، صادق ہیں، صدیق ہیں، امین ہیں، پر امن ہیں، آزاد ہیں، انسان ہیں، مسلمان ہیں، پاکستانی ہیں۔ یہ ہماری بہت سی شانختوں میں سے چند شناختیں ہیں۔ اب اگر پچھلے جملے کو اگلے جملے کے ساتھ پڑھیں تو کچھ سمجھ آتی ہے! کہ ہم کیا ہیں اور کیا نہیں!

اسی طرح، آپ سوچ رہے ہونگے کہ چلو یہ بات تو نعروں اور ہورڈنگز کی ہوگئی یہ بندہ احتجاج کا دشمن کیوں ہے؟ تو سنیئے۔ ایک تخریب کار کا مقصد کیا ہوتا ہے؟ انتشار پھلانا، تباہی پیلانا! نقصان کرنا، معمولِ زندگی کو مفلوج کرنا، خوف و ہراس پھیلانا! جلائو گھیرائو کرنا، انارکی پھلانا! جان و مال کا ضیاع یقینی بنانا! لوٹ مار کرنا، وغیرہ، وغیرہ! اب ذرا اپنے طریقہِ احتجاج پر نظر ڈالیں! جیسی ہی ہم ایک عدد سڑک جام کرتے ہیں ہم، خوف کی علامت بھی بن جاتے ہیں، ڈراتے بھی ہیں، دھمکاتے بھی ہیں، بھگاتے بھی ہیں۔ اور اس افراتفری سے ٹچے اور اٹھائی گیر فائدہ اٹھاتے ہیں، لوٹ مار بھی شروع کردیتے ہیں، اور غیر ارادی طور پر، نادانستاً، لاشعوری طور پر ہم وہی کچھ کرڈالتے ہیں جو ہمارے دشمن چاہتے ہیں، لہٰذا میرا مفروضہ تقریباً درست ثابت ہوا! جی ہاں یہ ہم ہی ہیں! فساد پھیلادیتے ہیں! یہ ہم ہی ہیں جنہوں نے من حیث القوم سوچنا ہی چھوڑ دیا ہے! بھیڑ چال چلتے ہیں! بیانیہ ان کا بھی پر تشدد ہے اور ہمارا بھی! نہ وہ مختلف زاویوں سے سوچتے ہیں نہ ہم! وہ ہمارا نقصان کرتے ہیں، اور ہم اپنا ہی نقصان کرڈالتے ہیں۔ کیا خاک تبدیلی آئے گی اس طرح!

اب ذرا بات کرلیتے ہیں، بیانیے کی، لوگ منرجہ بالا مصنفین کے پیچھے پڑے ہوئے کہ انھوں نے چین ہمارا چھینا ہے، تو بھائی یہ کیوں نہیں بتاتے یہ چین لوَٹے گا کیسے؟ ڈھنڈورہ ہم انہی کا پیٹتے رہتے ہیں اور پھر کہتے ہیں کہ متبادل بیانیہ کہاں ہے۔ تو سنیئے متبادل بیانیہ وہ سب کچھ ہے جو انکے علاوہ ہے، اس کی آسان ترین مثال تو منٹو کے افسانے ہیں، دوسری مثال جون ایلیا کی فرنود ہے، ایک اور بہترین حل ابنِ صفی کے ناول ہیں، اور اگر یہ مہنگا لگے تو وکی پیڈیا پڑھ لیں! بہت سے لوگ کہتے ہیں ہائے اقبال کو نہ پڑھنا رائٹسٹ ہوجائو گے، کوئی کہتا ہے، مارکس کو نہ پڑھنا دہریئے ہوجائوگے! میں نے دونوں کو پڑہا ہے اور اپنے دین پر قائم ہوں! یہ نہ پڑھنا، کم پڑھنا، اور کسی کسی کو پڑھنا ہی ہمارا المیہ ہے۔

جس طرح بچے آملیٹ میں سے پیاز اور ٹماٹر الگ کردیتے ہیں، برگر و بن کباب میں سے کھیرا الگ کردیتے ہیں اسی طرح ہم بھی آدھی ادھوری حقیقت، رائے اور تاریخ پڑھ کر باولے ہوجاتے ہیں۔ اگر آپ کو اب بھی لگتا ہے کہ میری ان باتوں میں دم نہیں ہے تو پھر ایک انگریز کی بات مان لیں، کین بلینچرڈ صاحب کا قول ہے کہ، انسانی دماغ، ’نہیں‘ یا ’نہ‘ کو پڑہتا یا سنتا ہی نہیں ہے مثلاً جب ہم کہتے ہیں کہ: یہ کام نہ کرو تو، ہمارا دماغ اس بات کو کچھ ایسے سمجھے گا کہ: یہ کام کرو۔ متبادل عمل ہم بتاتے نہیں ہیں۔ اور نتیجہ ہمارے سامنے ہے۔

ویسے ایک اور مثال بھی دینا چاہوں گا کہ ہم نے یہ وطن بحث و مباحثہ اور مذاکرات کے بعد حاصل کیا تھا، نہ ہم دھرنے دیئے تھے نہ سڑکیں بلاک کی تھیں۔ اگر ہم چاہتے ہیں، کہ قانون ساز اسمبلیاں ہماری بات سنیں تو پھر ہمیں اپنے منتخب شدہ نمائندوں کو پکڑنا ہوگا، تحریکِ عدم اعتماد وہی لاسکتے ہیں، ان کو سمجھائیں، ان کے ساتھ مل کر قانون سازی کریں۔ اگر دہشت گردی اور شدت پسندی کو روکنا ہے تو، جمہوری روایات اور جمہوری طرزِ عمل کو عام کرنا ہوگا۔ اندرونی و بیرونی، منفی و مثبت امن پر بات کرنا ہوگی، انسانی حقوق پر تعلیم دینی ہوگی، انسانیت، جمہوریت، یکدلی، ہمدردی پر فکری نشستیں منعقد کرنا ہونگی اور دائیں اور بائیں بازو کے درمیان دوبارہ مباحثے منعقد کروانا ہونگے۔

آخری بات یہ ہے کہ منٹو کے پاس یہ منفرد سوچ کہاں سے آئی، فیض و جالب کے دل میں عوام درد کیوں کر پیدا ہوا، ابنِ صفی نے کیسے آنے والے مسائل کی پیشن گوئی اور حل دونوں کیسے ڈھونڈ لیئے یہ سمجھنا ہوگا! یہ سمجھ کر ہی ہم آج قوم، ملک، سلطنت کو درپیش مسائل کا صحیح حل ڈھونڈ سکتے ہیں۔ ایک بات اور! راشی ہم ہیں، مرتشی بھی ہم ہیں، گھر میں مائوں، بہنوں، بیٹیوں پر تشدد ہم کرتے ہیں، لڑکیوں کو ہم پڑہاتے نہیں، لڑکے ہمارے جاہل ہیں، جہیز نہ لانے پر گیس سلینڈر پھاڑ کر ’ٹارگٹ کلنگ‘ ہم کرتے ہیں، نومولود بیٹیوں کو ہم تلف کردیتے ہیں، رحمِ مادر میں بیٹی سے زندگی کا حق ہم چھین لیتے ہیں اور پھر ہم بڑی شان سے، کہتے ہیں یہ ہم نہیں!

ملازم کو کھانا الگ طشتری میں دیتے ہیں، ہمارا پانی کا گلاس الگ ان کا الگ، یہ ہم ہی ہیں جو اردلی سے زمین پر گرا ہوا قلم اٹھواتے ہیں، خود نہیں جھکتے ہیں اس کو جھکواتے ہیں! خود ہم ہزاروں روپے کا پیزہ اور کڑہائی کھاجاتے ہیں اور غریب کے گھر میں ایک ہفتے کا راشن نہیں ڈلواتے ہیں۔ اور پھر ہم بڑی معصومیت سے کہتے ہیں یہ ہم نہیں! یہ ہم ہی ہیں!

جو ہم نے انفرادی طور پر کیا اور کر رہے ہیں، آج ہمارے سامنے اجتماعی طور پر آ رہا ہے! من حیث القوم ہم رجعت پسند، بد تمیز، ہڈ ھرم اور ذرا ذرا سی بات پر گندی اور ننگی گالیاں دینے والے، دوسرے کو جان سے مارنے کی دھمکی دینے والے ہیں۔ ان علتوں کا علاج کیئے بغیر ہم امن حاصل نہیں کرسکتے ہیں۔ دہشت گردی کو صرف داخلی نقطہِ نظر سے نہ دیکھیں یہ ایک گھمبیر سماجی مسئلہ ہے اور اس کا حل بھی انتہائی جامع اور وسیع ہوگا۔

عندیل علی کو ٹویٹر پر فالو کریں @thinktank1987

Comments are closed.