ایل ایل ایف اور لاہور

تحریر: ملک عمید

LLF2

لاہور شہر دراصل کئی شہروں کا مجموعہ ہے، یہاں ہر بڑے شہر کی طرح کئی دنیائیں بستیں ہیں۔ ایک دوسرے سے کٹی ہوئیں اور بلکل جدا جدا۔ ان دنیاؤں کا رہن سہن معیار زندگی، ثقافت اور زبان تک بھی مختلف ہے۔ یہ ایک دوسرے کے ساتھ محض شہر کا نام ہی بانٹتے ہیں مگر دراصل ان میں کوئی ٹاون شیپیا ہے کوئی باگڑیاں کا کوئی شاہدریا تو کوئی اندرونیا۔ یہ لوگ جن شہروں میں رہتے ہیں ان کی نشانیاں گٹروں کا کھلا ہونا، سڑکوں کا بنتے ساتھ ہی سیوریج یا پانی و ٹیلی فون کے پائپ یا تاریں ڈالنے کے بہانے ٹوٹ جانا۔ انہی ٹوٹی ہوئی سڑکوں پر کوڑے کی بہتات، گلیوں میں بازاروں کی یلغار اور اس یلغار میں تجازوات کا تڑکہ۔ آسمان پر تارے اور تاروں کا جال اور کھمبوں پر ایک زمانے میں ڈوروں اور گڈیوں کا سنگھار۔ غرض لاہور شہر کے اکثر ذیلی شہروں کا نقشہ ایسے ہی علاقوں سے بھرا پڑا ہے۔
یہاں کے لوگ بھی تقریبا ایک سے ہیں۔ دھوتی کرتے سے لے کر بنیان کرتے تک، کاٹن شلوار کمیز سے واش اینڈ ویر تک، لنڈے کے سوٹ بوٹ سے انارکلی کے سلے کپڑوں والے اور ململ کے پھیکے پرنٹوں سے لان کے شوخ و شنگ پرنٹوں تک یہاں ہر ورائٹی ملتی ہے۔ ان میں غریب بھی ہیں متوسط بھی اور امیر بھی مگر یہ سب کسی لوکل ہوٹل کے باہر دس روپے میں ملنے والے سلاد کی طرح “رلے ملے” ہوئے ہیں۔ مگر جو بات ان کو ایک سا کرتی ہے وہ ہے ان کی زبان، ٹھیٹھ پنجابی سے شروع ہوکر پنجابی کی جاگ لگی ہوئی اردو جس میں انگریزی کی ناکام کوششیں بھی شامل ہیں۔ ان کی ایک اور نشانی ہے کہ ملک کے سارے مسائل کی جڑ یہی لوگ گردانے جاتے ہیں۔ ناکام بھی یہی ہیں، دقیانوسی بھی یہی، انتہاء پسند بھی یہی، جاہل بھی یہی اور دہشت گرد بھی یہی۔
مگر اسی لاہور شہر میں کچھ علاقے بلکل دیو مالائی سے لگتے ہیں۔ یہاں کے لوگ بھی “چٹے” ہیں ان کی زبان بھی انگریزی اور ان کے کپڑے بھی غیر ملکی۔ ان میں کچھ ڈیفنسیے ہیں تو کچھ پرانے گلبرگیے ہیں، کوئی ماڈل ٹاؤنیے ہیں تو کوئی ملک کے اصلی حکمرانوں کے علاقے کینٹ والے۔ یہ لوگ روشن خیال، پڑھے لکھے واقعہ ہوئے ہیں۔
بڑے بڑے بنگلوں کے یہ رہائشی بڑی بڑی گاڑیوں میں بڑی بڑی سر سبز سڑکوں پر پچھلے ہفتے ایل ایل ایف پر آئے، یہ انگریزی زبان کا ایک “فیسٹیول” تھا جس کا اسی زبان کے ادب سے تعلق تھا مقامی لوگوں کو اس کا زیادہ علم نہیں تھا نہ ہی وہ شرکت کر سکے، بڑی بڑی گاڑیوں کا رعب ہی کچھ ایسا ہوتا ہے کہ لوگ شرکت کرنے سے گریز کرتے ہیں نیز یہ بابوؤں اور میموں کی سیکورٹی ہی کچھ ایسی تھی کہ ہر سمن آبادیے کو ایسے گھور گھور کے چیک کرتے کہ وہ بے چارہ اندر جانے سے باہر رہنے کو ترجیح دے۔
ہمارے ملک میں آج کل بیانیے کی بڑی دھوم ہے، ہر کوئی انگریزی کے کالموں میں آج کل لکھ رہا ہے کہ جناب یہ انتہاء پسند بیانیہ جسے انگریزی میں “Narrative” کہتے ہیں اسے “کاؤنٹر” کرنا ہے یعنی جوابی بیانیہ تشکیل دینا ہے مگر جب یہ جوابی بیانیہ تشکیل کرنے کی باری آتی ہے تو ہم اسے انگریزی میں تشکیل دیتے ہیں اور جب اس بیانیہ کی لوگوں میں تشہیر اور مباحثہ و مذاکرہ کا موقعہ آتا ہے تب بھی ہم ڈھیر ساری فنڈنگ لے کر انگریزی میں ہی یہ عمل ٹہراتے ہیں۔
بات دراصل یہ ہے کہ ہمارے ملک کی اشرافیہ عامیوں سے نہ میل جول پسند کرتے ہیں نہ مباحثہ و مذاکرہ۔ ساتھ بیٹھنا بھی گوارہ نہیں کہ یہ تو “ڈیوڈرنٹ” تک نہیں لگاتے۔ کہاں یہ ناکام و نامراد، انتہاء پسند و دقیانوسی روایات کے مارے ہوئے اور کہاں “سیلف میڈ” صاف ستھرے، آزادی و انسانیت کے جذبوں سے لبریز لوگ۔ سو ملک کے پہلے سے روشن خیال لوگوں نے اپنی زبان میں “کاؤنٹر نیریٹو” تشکیل دیا، اس پر مذاکرہ کروایا اور اپنی زبان میں ادب میں گفت و شنید کا بند و بست بھی کیا۔ اسی وجہ سے سوائے اکا دکا واقعات کے پورے فیسٹیول کے دوران کہیں اختلافِ رائے کا عنصر نظر نہیں آیا، نہ ہال کے اندر نہ باہر۔ اسی کو ایل ایل ایف یا لاہور لٹریچر فیسٹیول کہتے ہیں۔
اس لٹریچر فیسٹیول کی تاریخیں مادری زبان کے عالمی دن کے “ارد گرد” واقعہ ہوئی تھیں یعنی 20, 21 اور 22 فروری۔

LLF

مگر اس ساری بات سے میرا کہیں یہ مقصد نہیں ہے کہ لٹریچر فیسٹیول بلکل ہی بے کار تھا یا اس میں کوئی نئی بات نہیں کی گئی، یا کاؤنٹر نیریٹیو نہیں دیا گیا، مگر یہ سب بے سود تھا۔ عائشہ جلال اور رومیلا تھاپڑ کے لیکچروں اور آج کل کے سیاسی حالات پر “ٹاک شو” (جی ہاں اس طرز کی بھی نشستیں ہوئیں) نیز انگریزی ادب کی مختلف بن الاقوامی تصانیف جن میں تاریخی و سیاسی حالات پر کتابیں شامل تھیں اور کچھ انگریزی تراجم پر مشتمل تصانیف بھی “لاؤنچ” ہوئیں اور ان پر سیر حاصل گفتگو بھی ہوئی۔موسیقی اور رقص کی محفلیں بھی ہوئیں۔ یہ سب مگر مقام و مادری زبان میں نہیں کیا گیا اسی لیے لٹریچر فیسٹیول میں ادب کی تنگی محسوس ہوئی اور ہونی بھی تھی جب مقامی ادب کو نظر انداز کیا جائے گا تو ایسا تو ہوگا۔ اگر کسی کا یہ خیال ہے کہ مقامی ادب میں ایسا کچھ تصنیف نہیں ہورہا جو ایسے “فنکشنوں” کی زینت بنے تو اسے نیٹ پر مقامی ناشروں کی ویب سائٹس دیکھ لینی چاہیے نیز دیگر مقامی زبانوں میں بھی کافی کام ہورہا ہے جسے ایسے مواقع پر اجاگر کرنے کا بہترین موقعہ تھا۔
اس ساری گفتگو کا ماحاصل یہ ہے کہ اگر آپکی کاوش اچھی بھی ہے مگر کسی ایسی زبان میں ہے جس کا عوام سے کوئی تعلق نہیں تو بادی النظر میں ایسے لٹریچر فیسٹول سوائے اشرافیہ کی ٹی پارٹی سے زیادہ کی حیثیت نہیں رکھتے۔ غم تو یہ ہے کہ کروڑوں کی فنڈنگ کر کے صفر بٹہ صفر نتیجہ حاصل کیا گیا۔

Comments are closed.