ریاست دہشت گردوں کے ساتھ کھڑی ہے

تحریر: محمد شعیب عادل

zaki-ur-rehman lakhvi

نو مارچ کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے ممتاز قادری کی سزائے موت کے خلاف اپیل کا فیصلہ کر دیا۔ تیرہ مارچ کو اسی عدالت نے ممبئی حملوں کے مرکزی ملزم لشکر طیبہ کے مرکزی رہنما ذکی الرحمن لکھوی کی نظر بندی کو بھی غیر قانونی قرار دے کر اسے رہا کرنے کا حکم دیا ہے۔
اس سے پہلے لاہور ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ حافظ سعید، جو کہ اپنے عوامی جلسوں میں کھلم کھلا نوجوانوں کو جہاد کی بھرتی کے لیے اکساتے ہیں ،کو بھی تمام الزامات سے بری کر چکی ہے۔لاہور ہائی کورٹ نے آسیہ بی بی کو بھی توہین رسالت کے جرم میں موت کی سزا سنا رکھی ہے ۔ ملتان میں راشد رحمان کو جنید حفیظ کے مقدمہ کی پیروی کرنے پر کمرہ عدالت میں مخالف پارٹی قتل کی دھمکیاں دیتی ہے اور بعد میں انہیں قتل کر دیاجاتا ہے مگر قاتلوں کا پتہ نہیں چلتا۔ عدالت دھمکیاں دینے والے کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کرسکی۔ راشد رحمان کے قتل کے بعد کوئی وکیل اس کا مقدمہ لڑنے کوتیار نہیں۔ کوٹ رادھا کشن میں مسیحی جوڑے کو زندہ جلا دیا گیا لیکن مجرموں کے خلاف کوئی کاروائی نہ ہوسکی ۔ ٹوبہ ٹیک سنگھ یا لاہور میں مسیحی کالونیوں کو جلانے کے جرم میں مقدمہ عدالت میں جا ہی نہیں سکا۔ خوبصورت ہندو لڑکیوں کو مسلمان( یعنی اغوا) کر لیا جاتا ہے اور عدالت انہیں اغوا کاروں کے ساتھ بھیج دیتی ہے۔ ان فیصلوں اور واقعات سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ عدلیہ سمیت ریاست کے تمام ادارے انتہا پسندوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔
ممتاز قادری کیس کے فیصلے کے مطابق عدالت نے موت کی سزا کو تو بحال رکھا ہے مگر اس میں سے دہشت گردی کی دفعہ نکال دی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ یہ قتل دہشت گردی نہیں بلکہ کسی ذاتی دشمنی کی بنا پر کیا گیا ہے اور یہی ان کے وکلاء کی جانب سے کہا گیا تھا اور شاید ریاست مزید اس کیس کی پیروی نہ کرے۔ جب ریاست انتہا پسندوں کے ساتھ کھڑی ہو توممتاز قادری کے خلاف سلمان تاثیر کی فیملی کیسے کھڑی ہو سکتی ہے۔ جیسا کہ خدشہ ظاہرکیا جارہا تھا کہ ممتاز قادری کی سزا کو عمر قید میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ مذکورہ فیصلہ اسی سلسلے کا پہلا قدم ہے۔ یہ بھی کہا جارہا ہے کہ دہشت گردی کی دفعہ نکالنے سے یہ کیس دوبارہ سیشن کورٹ میں سنا جا سکتا ہے یا سپریم کورٹ میں اپیل کے ذریعے موت کی سزا کو عمر قید میں تبدیل کر دیا جائے گا۔ ممتاز قادری نے کوئی چار ساڑھے چار سال تو قید کاٹ لی ہے اور عمر قید کی صورت میں پانچ ایک سال اور کاٹ کر باہر آجائے گا۔
نسیم حجازی کے ناول پڑھنے والے صحافیوں اور اردو میڈیا نے چار سال پہلے اسے ہیرو تو بنا ہی دیا تھا ۔ جیل میں وہ مذہبی رہنما بھی بن گیا ہے اور باقاعدہ درس دیتا ہے( جس سے متاثر ہو کر ایک گارڈ نے جیل میں ہی قید توہین رسالت کے ایک ملزم کو گولی مار دی تھی)۔ قادری جب رہا ہوا توکسی بھی حلقے سے انتخاب لڑ کر پارلیمنٹ کا معزز رکن بھی بن سکتا ہے ۔ یہ بھی اطلاعات ہیں کہ مذہبی جماعتیں سلمان تاثیر کے خاندان کوبھاری رقم بطور دیت دے کر اس کو رہا کروا لیں اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ دیت سلمان تاثیر کے اغوا شدہ بیٹے کی رہائی کے عوض بھی ہو؟
ممتاز قادری کی وکالت کرنے والوں میں سابق چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ خواجہ شریف اور سابق جج نذیر اختر ہیں۔ دوران سماعت کوئی 300وکلاء کمرہ عدالت میں موجود ہوتے تھے۔اور جب وکلاء کی جانب سے احاطہ عدالت حتیٰ کہ کمرہ عدالت میں یہ نعرے لگتے ہوں کہ’’ گستاخ رسول کی سزا سر تن سے جدا‘‘توان حالات میں کوئی وکیل ممتاز قادری کے خلاف دلائل دے سکتا ہے؟
دوران سماعت ہی اس بات کا اندازہ ہو گیا تھا کہ ریاست کو اس کیس سے کوئی دلچسپی نہیں۔ ممتاز قادری کے وکلاء کو پنجابی حکمرانوں کی خاموش حمایت حاصل ہے۔ جب شہباز شریف طالبان کے ساتھ دوستی کا ہاتھ بڑھا رہے ہوں اور انتہا پسند جج ان کے استاد ہوں اور اٹارنی یا ڈپٹی اٹارنی جنرل ، ان کے فیملی وکیل رہے ہوں تو انتہا پسندی کے خلاف کیسے لڑاجا سکتا ہے۔
پنجاب کے گورنر سلمان تاثیر کا دن دیہاڑے قتل ایک انتہائی سوچا سمجھا منصوبہ تھا اور سراسر ایک دہشت گردی کی کاروائی تھی جس کا اقرار خود ممتاز قادری نے اپنے اقبالی بیان میں کیا تھا کہ ’’گستاخ رسول‘‘ آسیہ بی بی کی حمایت کرنے پر سلمان تاثیر مرتد ہو گیا تھا اور مرتد کی سزا قتل ہے۔ جبکہ اعلیٰ عدلیہ اسے دہشت گردی کی کاروائی قرار دینے سے انکاری ہے۔
ڈیلی ڈان نے اس فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے لکھا ہے کہ سلمان تاثیر کے قتل سے پوری ریاست اور سماج کو پیغام دیا گیا تھا کہ جو کوئی بھی مذہب کے ایک خاص فرقے سے روگردانی کرے گا اس کا انجام قتل ہی ہو گا۔ اور بعد میں جس طرح سے ان کے نماز جنازہ پڑھانے والوں کے خلاف فتویٰ دیا گیا تھا، کیا وہ دہشت گردی نہیں تھا۔ اپنے نظریا ت کو بزور شمشیر منوانا دہشت گردی نہیں تو کیا ہے؟ اگر قادری کا اقدام قتل مذہبی دہشت گردی نہیں تو پھر شیعوں، احمدیوں، مسیحوں اور ہندوؤں کا قتل عام بھی دہشت گردی کے زمرے میں نہیں آئے گا؟
سولہ دسمبر کو آرمی پبلک سکول کو دہشت گردی کا نشانہ بنانے پر جس طرح پاکستانی ریاست دہشت گردوں کے خلاف سخت ایکشن لینے کے لیے متحرک ہوئی تھی وہ سارا جوش و خروش جھاگ کی طرح بیٹھ چکا ہے۔ نام نہاد ایکشن پلان صرف اجلاسوں تک محدود ہے۔ ممتاز قادری ہو یا ذکی الرحمن لکھوی یا ان کی تنظیمیں نفرت انگیز پراپیگنڈا کرنے میں آزاد ہیں۔ سیاسی پارٹیاں خاموش ہیں کیونکہ انہیں یہ باور کرادیا گیا ہے کہ اگر کسی نے کوئی آواز اٹھائی تو اس کا انجام بھی ایسا ہی ہوگا اور ہوا بھی۔ جبکہ سول سوسائٹی، اگر اس کا کوئی وجود ہے، جو یہ دعویٰ کرتی ہے کہ وہ انتہا پسندوں کے خلاف ہے، اسے صرف مرنے والوں کی یاد میں موم بتیاں روشن کرنے میں دلچسپی ہے یا اگر کوئی تیر مار لیا تو مُلا عبدالعزیز کو گرفتار کرنے کا مطالبہ کیا جاتا ہے۔ کیا سول سوسائٹی میں سے کوئی ’’وکیل‘‘ آگے بڑھ کر سلمان تاثیر کا کیس لڑے گا؟