ہبڑ دبڑ

تحریر: عندیل علی

بم پھٹا، دہشت گرد پکڑو! ٹیمیں بنائو! موم بتیاں جلائو! کمیٹیاں بنائو! ہبڑ دبڑ! ہبڑ دبڑ! ہبڑ دبڑ!
فائرنگ ہوگئی! سی سی ٹی وی فوٹیج لائو! ٹیمیں بنائو! موم بتیاں جلائو! کمیٹیاں بنائو! ہبڑ دبڑ! ہبڑ دبڑ! ہبڑ دبڑ!
تھر میں لوگ بھوک سے جاں بحق ہو رہے ہیں! بیپر بنائو! ٹیمیں بنائو! کمیٹیاں بنائو! موم بتیاں جلائو! ہبڑ دبڑ! ہبڑ دبڑ! ہبڑ دبڑ!
سیلاب آگیا! ٹکر چلائو! موم بتیاں جلائو! ٹیمیں بنائو! کمیٹیاں بنائو! ہبڑ دبڑ! ہبڑ دبڑ! ہبڑ دبڑ!
بجلی چلی گئی! پھر سے موم بتیاں جلائو! ٹیمیں بنائو! کمیٹیاں بنائو! ہبڑ دبڑ! ہبڑ دبڑ! ہبڑ دبڑ!
سیاسی کارکن کی ویڈیو منظرِ عام پر آگئی! موم بتیاں (نہیں) جلائو! ٹیمیں (نہ) بنائو! کمیٹیاں (ضرور) بنائو! ہبڑ دبڑ! ہبڑ دبڑ! ہبڑ دبڑ!
طوفان کا خدشہ ہے! موم بتیاں (نہیں، نہیں) اگر بتیاں جلائو! ٹیمیں بنائو! کمیٹیاں بنائو! ہبڑ دبڑ! ہبڑ دبڑ! ہبڑ دبڑ!
نجانے کیوں ایسا لگتا ہے کہ جیسے ہی کوئی سانحہ پیش آتا ہے پوری قوم اس کے پیچھے پڑ جاتی ہے لیکن کچھ ہی دنوں میں اس مسئلے کو بھول بھال کر پھر سے مست ہوجاتی ہے۔ اردو کی اصلاح میں اس کیفیت کو ’آنکھ اوجھل، پہاڑ اوجھل!‘ کہا جاتا ہے۔ اور جیسے ہی کوئی نیا سانحہ پیش آتا ہے، سب اس کے پیچھے لٹھ لے کر پڑ جاتے ہیں۔ معاملہ منطقی انجام تک پہنچا ہے کہ نہیں، پہنچانا کس کی ذمہ داری تھا اور اب یہ کس کی ذمہ داری ہے۔ اس امر کی تصدیق کرنا کوئی گوارہ نہیں کرتا ہے۔ نتیجتاً یہ سب معاملے، فیس بک کی چیٹ، اسٹیٹس پر آنے کمنٹس اور اخبارات کی آرکائیوز کی نظر ہوجاتے ہیں۔
ہم حال میں جیتے ہیں۔ نہ ماضی پر نظرِ ثانی کرتے ہیں اور نہ ہی مستقبل کی پیش بندی کرتے ہیں۔ اور جیسے ہی ایک سے زائد مسائل ہم پر آن پڑتے ہیں، ہم بجائے اس کے کہ انہیں یکے بعد دیگرے یا پھر ساتھ ساتھ سلجھائیں۔ اس بحث میں پڑ جاتے ہیں کہ پہلے کیا کریں؟ اور اسی تکرار میں یا تو مسئلہ پرانا ہوجاتا ہے اور ہم اسے بھول جاتے ہیں۔ یا پھر ایک نیا مسئلہ آن پڑتا ہے۔ اور نئے ہیش ٹیگ، نئے نعرے، نئی موم بتیاں، نئی کمیٹیاں بنانے میں جت جاتے ہیں۔
اس کیفیت کو کسی بھی قسم کی تیاری نہ ہونا کہتے ہیں، نہ ہمارے پاس اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پراسیجر یعنی کہ معياری طریقہ کار برائے انتظامی امور ہیں، نہ ٹرمز آف ریفرنس یعنی کہ مروجہ شرائط، نہ ہی کوئی پرائے آرٹیز یعنی کہ ترجیحات اور نہ ہی بیک اپ پلین یعنی کہ ہنگامی تدابیرہیں۔ بس ہبڑ دبڑ، ہبڑ دبڑ، ہبڑ دبڑ! اس طرح کے کام حکومتوں کے پلاننگ اینڈ دویلپمنٹ ڈویژن کرتے ہیں۔ یہ کام سول سوسائٹی بھی بہترین طریقے سے کرسکتی ہے اگر وہ اپنی توانائیاں سڑک پر کھڑے ہونے پر استعمال کرنا چھوڑدے تو! اور یہ کام تھن ٹینک بھی بہترین طریقے سے کرسکتے ہیں۔ ایسا بھی ممکن ہے کہ یہ تینوں الگ الگ، ایک ہی مسئلے کا حل دریافت کرنے میں لگے ہوں، تب بھی ایک مشکل موجود رہے گی، بجائے اس کے کہ کام بانٹ لیا جائے سب ایک ہی کام پکڑ لیں گے، اور نتیجتاً تین ایک جیسے آدھے ادھورے حل دریافت کر کے بیٹھ جائیں گے!
یہاں میں اقوامِ متحدہ کی مثال پیش کرنا چاہوں گا۔ اقوامِ متحدہ ہر سال کو ایک خاص کام، یا کسی مسئلے کے حل سے منسوب کردیتی ہے۔ جیسے ۲۰۰۹ انسانی حقوق کی تعلیمات کا سال کہلایا، ۲۰۱۰ نوجوانوں کا، ۲۰۱۱ جنگلات کا، ۲۰۱۲ کوآپریٹوز کا، ۲۰۱۳ پانی کی شراکت داری کا، ۲۰۱۴ فلسطینیوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کا اور ۲۰۱۵ روشنی کا سال کہلایا ہے نیز سال ۲۰۱۶ دالوں سے منسوب ہے۔ پورا سال وہ اس ایک کام کے حصول پر ہر فورم پر زور دیتے رہتے ہیں۔ نیز اقوامِ متحدہ نے سنہ۲۰۰۰ میں ۸ میلینیم ڈویلپمنٹ گولز یا ہزاریہ ترقیاتی اہداف کا اعلان کیا تھا جن کی تکمیل ۱۵ سال میں کرنا مقصود تھی۔ ایک طرف ایک ادارہ ۱۵ سال کی پلاننگ کر ڈالتا ہے اور دوسرے طرف ہم، جو ایک مہینے کی پلاننگ تک نہیں کر پاتے ہیں۔ ہمارے ادارے اور ہر شہری کی جان کو خطرہ لاحق ہے لیکن مجال ہے جو ہم نے اس بارے میں کوئی لائحہ عمل طے کیا ہو!
ہاں ایک ان دیکھا اصول ضرور ہے اور وہ ہے اپنی جان و مال کا تحفظ اور یہاں اپنی جان سے مراد سیاستدانوں کی جان ہے۔ سب سے محفوظ گھر سیاستدان کا، سب سے محفوظ دفتر سیاسی جماعت کا اور سب سے محفوظ راستہ سیاستدان کے قافلے کا۔ سوائے اس ایک کام کی پلاننگ کے ہمارے یہاں اور کسی کام کی پلاننگ نہیں ہوتی ہے۔
ہمارا سب سے بڑا مسئلہ دہشت گردی و انتہا پسندی ہے (میرے خیال میں) اور دوسرا بڑا مسئلہ غربت و افلاس ہے (یہ بھی میرے مطابق)، تیسرا تعلیم کی دگرگوں صورتِ حال، چوتھا بجلی و توانائی کا بحران، پانچواں مواصلات و آمد و رفت کا برباد نظام اور چھٹا صحت کی سہولیات کا عنقا ہونا ہے۔ میں غلط ہوں اس بات کے سو فیصد امکانات موجود ہیں لیکن یہ بھی ممکن ہے کہ میں سو فیصدی صحیح بھی ہوں! کم از کم میرے پاس ایک فہرست تو ہے! اب ان مسائل کے سدِ باب کے لیئے میں، انفرادی، اجتماعی، فوراً، نصف مدتی اور دیرپا نتائج پر مبنی ۶ مختلف حل دریافت کر سکتا ہوں۔
لیکن کیا ہماری مقننہ ایسا کرتی ہے؟ کیا ہماری سول سوسائٹی سڑک پر آنے سے پہلے کچھ سوچتی ہے۔ اسی پلاننگ کے نہ ہونے کی وجہ سے ہماری پالیسیاں غلط طریقوں سے استعمال ہوجاتی ہیں اور ہمارے ’احتجاج‘ فائدہ حاصل کرنے کے بجائے دو چار مریضوں کی جان لے لیتے ہیں۔
ڈویلپمنٹ پلان سے قریب ترین چیز ہمارے پاس سیاسی جماعتوں کے منشور ہوتے ہیں۔ لیکن پتہ نہیں کیوں وہ اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ عمل پذیر ہی نہیں ہوپاتے ہیں۔ اور اگر خوش قسمتی سے کوئی سیاسی جماعت اپنے منشور پر عمل کرنے میں کامیاب بھی ہوجائے تو مخالف پارٹیاں اس کام کے خلاف زبردست پراپیگنڈا کر ڈالتی ہیں۔
ہمیں ایڈہاک ازم سے بچنے کی اشد ضرورت ہے! یہ ایڈہاک ازم ہی ہے کہ ہم ضرورت پڑنے پر جگاڑ کے ذریعے کام نکالنے کے چکر میں مسائل کو مزید پے چیدہ بنا ڈالتے ہیں۔