قرارداد استحکام پاکستان 23 مارچ 2015

تحریر: احمد اعوان

pakistan

آج سے پون صدی قبل ، 23 مارچ 1940 کو ایک قرارداد پیش کی گئ جس کی وجہ سے پاکستان کا قیام ممکن ہوا، جسے قرارداد پاکستان کہا جاتا ہے, اور اسی کے حوالے اس دن کو ہر سال یوم پاکستان کے طور پر منایاجاتاہے۔
اس وقت کی قرارداد پاکستان سے پاکستان بنا لیکن آج پاکستان جن حالات سے گزر رہاہے اس پر ہر شخص یہ کہہ رہاہے کہ یہ بن تو گیا اب چلے گا کیسے اور بچے گا کیسے؟
آج پاکستان کو بچانے اور چلانے کیلئے ایک قرارداد استحکام پاکستان کی ضرورت ہے۔
اگر آج 23 مارچ 2015 کو واضح الفاظ میں پاکستان کو ایک کامیاب ریاست کی طرح چلانے کا اعلان کردیاجاتاہے، تو اس کا نتیجہ سات سال بعد نہیں نکلے گا، بلکہ سات سیکنڈ میں آپ کے سامنے ہوگا۔
یہ واقعی دیوانے کی بڑ لگتی ہے، لیکن ملکوں میں تبدیلیاں ایسے ہی آتی ہیں۔
آج انگریزوں سے مطالبات منظور نہیں کروانے بلکہ اپنوں سے اپنوں کیلئے ہی کچھ کروانا ہے
آج جو بنیادی عوامل پاکستان کو عدم استحکام کی طرف دھکیل رہے ہیں انہیں سامنے رکھ کر ہی اسکے استحکام کی کچھ تدبیر ممکن ہو سکتی ہے
آئیں پاکستان چلانے اور اسے بچانے کی قرارداد پر کچھ نظر ڈالیں۔
اس قرارداد استحکام پاکستان کے مطابق:
سب پاکستانیوں کو برابر کا شہری سمجھا جائے۔
پاکستان میں جو حقوق مسلمانوں کو حاصل ہیں وہی غیر مسلموں کو بھی حاصل ہوں۔
پاکستان میں ریاست کو مذہب سے الگ کیا جائے اور ایسے قوانین نہ بنائیں جائیں جو ایک مذہب کی تعلیمات پر مبنی ہوں بلکہ دنیا کے باقی کامیاب ممالک کی طرح عقل پر مبنی اصولوں پر آئین کی بنیاد ہو۔
ریاست کو یہ حق نہ ہو کہ وہ کسی کے مذہب کا تعین کرے، بلکہ ہر شخص کوئ بھی عقیدہ یا مذہب اختیار کرنےمیں آزاد ہو۔
کسی کیخلاف نفرت انگیز کلام پر سخت سزا دی جائے اور کسی کو سرعام کافر کہنے کی اجازت نہ ہو۔
دنیا کے باقی ممالک کی طرح نظام تعلیم کو یکساں بنایا جائے، اور مذہبی مدارس کی بے تحاشہ تعمیر کو روکا جائے۔
موجودہ مذہبی مدارس کی کڑی نگرانی کی جائے اور جہاد کے نام پر قانون ہاتھ میں لیکر قتال کی اجازت نہ دی جائے اور ایسے لوگوں کو قرار واقعی سزا دی جائے جو معاشرے میں قتال کےکلچر کو فروغ دینا چاہتے ہیں۔
مسجدوں کی رجسٹریشن کا نظام ہو اور حکومت کے پاس مسجدوں اور امام مسجد کے مکمل کوائف ہوں۔
مسجد کے امام کیلئے ایک ظابطۂ اخلاق تیار کیا جائے تاکہ اسے دوسروں کی نسبت نفرت انگیز بیانوں سے روکا جا سکے۔
ان سب سیاستدانوں اور مذہبی رہنماؤں کو بلا تفریق گرفتا کیا جائے جو کسی بھی قسم کی قانون کی خلاف ورزی کریں۔
حکومت واضح اعلان کرے کہ آج کے بعد نہ آئین اور نہ ہی کوئ شہری کسی کو غیر مسلم قرار دےگا۔
ریاست تمام ایسے قوانین ختم کرنے کا اعلان کرے جو ناانصافی پر مبنی ہوں۔
یہ اور اس طرح کی اور بہت سی باتیں ہر شخص سوچتاہے اور اکثر تبادلۂ خیال میں یہ باتیں سامنے آتی رہتی ہیں
لیکن مسئلہ یہ ہے کہ جہاں ان میں سے ہر بات نہایت معقول اور آسانی سے سمجھ میں آنے والی ہے وہیں اس پر عمل کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ بھیا یہ سب کچھ ہوگا کیسے؟ آج تک تو ہو نہ سکا، اور پھر جو اسکا رد عمل ہوگا وہ کون بھگتے گا؟
ہر اچھی تجویز کی بنیاد بہتری کی امید اور حسن ظن ہی پر ہوتی ہے۔
یہ سب کچھ اس بات کو ذہن میں رکھ کر کہا گیا ہے کہ اگر کوئ مخلص قیادت اچھی نیت سے کچھ کرنا چاہے تو یہ سب ممکن ہے۔
اگر ایک دن فیصلہ کرکے بے شمار لوگوں کو پھانسی پہ لٹکایا جاسکتاہے، کسی نہایت مضبوط سیاسی تنظیم کے مرکز پر چھاپہ مار کر لوگوں کو گرفتار کیا جاسکتاہے اور دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر حملے کئےجاسکتےہیں تو یہ کیوں ممکن نہیں؟
یہاں کونسی کانگریس ہے جو مسلم لیگ کی قرارداد پاکستان پر عمل کو روکنے کیلئے انگریزوں پر دباؤ ڈالے گی۔
یہاں تو سب وہ ہیں جنہوں نے 23 مارچ 1940 کو اس خطے کے لوگوں کے حقوق کیلئے قرارداد پیش کی تھی جس کی بنا پر یہ خطۂ زمیں انہیں ملا۔
اب کیا اس خطے میں ایسا ممکن نہیں کہ ریاست ابھی اعلان کرے کہ سرخ بتی پر سب ٹریفک رکےگی اور ٹریفک رک جائے؟
اگر سرخ بتی پر ریاست کے حکم سے ٹریفک رک سکتی ہے تو مندرجہ بالا سب چیزیں بھی اسی طرح ممکن ہیں۔
اسے ہی ریاست کی بالا دستی کہاجاتاہے۔
یوم پاکستان پر ایسےملی نغمے گانے سے کہ “ہم زندہ قوم ہیں پائندہ قوم ہیں”، اور پریڈ دیکھ کر جذبات میں آنے سے زندہ قوم نہیں بن جاتے۔
ہاں زندہ قوم آپ کو جب مانا جائے گا کہ جب ایک عام شخص اٹھ کر کہےکہ:
اب یہاں کوئ بم دھماکہ نہیں ہوتا
یہاں کوئ کسی کو کافر نہیں کہتا
یہاں سیاسی یا مذہبی لیڈر اپنی اوقات میں رہتے ہیں، اور کوئ قانون سے بالا نہیں
یہاں سب شہری برابر ہیں
یہاں کو کوئ بھی شہری مسلم یا غیر مسلم، اس ملک کے اعلی ترین عہدے پر فائز ہو سکتا ہے
یہاں میڈیا پر ہر شہری کو بلا امتیاز مکتبۂ فکر، اپنا مؤقف پیش کرنے کی اجازت ہے
یہاں قانون سب کیلئےبرابرہے
یہاں کا آئین کسی کو غیر مسلم قرار نہیں دیتا اور سب کو مذہبی آزادی حاصل ہے
یا مختصر لفظوں میں دنیا پاکستان کی طرف نگاہ ڈالے گی اور کہے گی کہ پاکستان ایک سیکولر، منصفانہ اور کامیاب ریاست ہے!
کاش اس ملک کی قیادت کو یہ توفیق ملے کہ وہ پاکستان کے بچانے اور چلانے کیلئے آج 23 مارچ 2015 کو قرارداد استحکام پاکستان پیش کرنے کیساتھ ہی آئندہ چند لمحوں میں اس پر عمل کرکے دکھا سکے!
کیا آئندہ آنیوالے سات دنوں میں قرارداد استحکام پاکستان پر مکمل نہیں تو کچھ عمل کی امید رکھی جاسکتی ہے
اور کیا اگلے ہفتے تک یہ سوچا جا سکتا ہےکہ:
1- ملک کی دیواروں پر سے “شیعہ کافر” “مرزائی کو پھانسی دو ” کے نعرے مٹانے کی سرکاری مہم کا آغاز ہوچکا ہوگا
2- جیسے نائن زیرو پر چھاپہ مار کر لوگ گرفتار کئے گئے ایسے ہی لال مسجد پر چھاپہ مار کر ملزم عبدالعزیز کو گرفتار کیا جا چکا ہوگا
3- وہ سب مذہبی رہنما گرفتار کئےجاچکے ہوں گےجن کے دوسرے مکتبۂ فکر کے متعلق نفرت انگیز اور قتل کے فتوے موجود ہیں
4- گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے قاتل ممتاز قادری کو باقی پھانسی کے مجرموں کی طرح پھانسی ہو چکی ہوگی
ان چار اقدامات کیلئے بہت سرمائے اور اضافی وسائل کی ضرورت نہیں بلکہ متعلقہ اداروں سے ایک حکم کی ضرورت ہے
اب دیکھنا یہ ہے کہ اس استحکام پاکستان کےحکم کی کب اور کسے توفیق ملتی ہے؟
قرارداد پاکستان سے قیام پاکستان تک جو رُوحِ قائد کار فرما رہی اسی رُوح قائد سے یہ سب ممکن ہے
کاش یہ قوم اور اس ملک کی قیادت رُوحِ قائد سے کئے گئے اس وعدہ کو پورا کرکے دکھائےجو محشر بدایونی نے دل مول لینے والےلفظوں میں ڈھالا ہے اور اکثر قومی دنوں کے موقعوں پر اسے دہرایا بھی جاتا ہے:
اے روح ِ قائد آج کے دن ہم تجھ سے وعدہ کرتے ہیں
مٹی سے سچا پیار ہمیں ، اب پیار کے رنگ ابھاریں گے
اب خون رگِ جاں بھی دے کر ، موسم کا قرض اتاریں گے
ڈھالیں گے فضا میں وہ جذبے
کاغذ پے جو لکھا کرتے ہیں
ہم تجھ سے وعدہ کرتے ہیں
دریاؤں کی تہ میں اتریں گے، رخشندہ گوہر لائیں گے
اَفلاک کی حد کو چھو لیں گے ، تارے بھی زمیں پر لائیں گے
کردیں گے عمل سے بھی ثابت
باتیں تو ہمیشہ کرتے ہیں
ہم تجھ سے وعدہ کرتے ہیں
دست و بازو کی کھا کہ قسم، پھر آج چلے ہیں اہل ہنر
ہم تازہ دم ، ہم روشن دل ، ہم محنت کش ، ہم دانشور
خامے سے دھنک لہراتے ہیں
تیشے سے اجالا کرتے ہیں
ہم تجھ سے وعدہ کرتے ہیں
موسم بھی نظر ڈالے گا تو اب چونکے گا ہماری محنت پر
سورج بھی ہمیں اب دیکھے گا تو رشک کرے گا ہمت پر
اب یہ نہ کہیں گے ارض و سما
ہم دن ہی منایا کرتے ہیں
ہم تجھ سے وعدہ کرتے ہیں
ہم تجھ سے وعدہ کرتے ہیں
پاکستان زندہ باد!