رضا رومی پر حملے کا ایک سال

تحریر علی ارقم

Raza Rumi11

ڈیڈھ سال قبل کی بات ہے کہ بلوچستان کے ضلع لسبیلہ کے قصبے اُتھل میں ہندو عبادت گاہ میں کچھ شرپسندوں نے رات گئے گُھس کے توڑ پوڑ کی اور مذہبی عبادت گاہ کے تقدّس کو پامال کیا، یہ خبر انتہائی افسوس ناک ہونے کے ساتھ ساتھ باعث تشویش بھی تھی کیوں کہ بلوچستان کے ان علاقوں میں ایک قابلِ ذکر تعداد ہندو برادری کے افراد کی ہے جو کہ وہاں چھوٹے کاروباروں سے بھی مُنسلک ہیں اور کھیتی باڑی اور باغات کے کام میں مزدوروں کے طور پر بھی کام کرتے ہیں ، لیکن وہاں اکّا دُکّا چھوٹے موٹےواقعات کے علاوہ کوئی ایسا واقعہ سننے میں نہیں آیا تھا بلکہ چند برس قبل سفر کے دوران میں نے تحصیل ویندر میں ایک دکان کے بورڈ پر نوٹ کیا کہ اس کانام “اوم کولڈاسپاٹ اینڈ جنرل اسٹور بھی لکھا ہے تو بورڈ کے دائیں بائیں ‘یا حیّ یا قیّوم بھی تحریر ہے۔
شہری علاقوں میں رہنے والے کسی شخص کے لئے یہ بڑے اچنبھے کی بات تھی لیکن وہاں کے کسی مقامی کے لئے یہ بات ایک عام سا معمول ہے کیوں کہ یہاں مذہبی پیشوائی کو سیاسی پیشوائی میں بدلنے یا خداؤں کو سیاسی بنیادوں پر تقسیم کی روایت ابھی اس طرح سے پختہ بھی نہیں ہوئی۔
اسی لئے جب ضلع لسبیلہ کے سیاسی میدان میں نووارد اہل سنت والجماعت یعنی سپاہ صحابہ پاکستان نےانتخابی سیاست کے حوالے سے پہلے سے موجود دوسری دیوبندی سیاسی جماعت جمعیت علماء اسلام (ف) کے متوازی کام کرنے کی ٹھانی تو اس نے لسبیلہ کے جام کمال اور ان کے صوبائی امیدوار شیعہ مکتب فکراور ایک مذہبی خانوادے سے تعلق رکھنے والے پپّو شاہ کی حمایت کی۔
اب انتخابی سیاست کے میدان میں سپاہ صحابہ کی موجودگی اعدادوشمار کی حد تک تو قابل ذکر نہ ہو لیکن حب سے ویندر اور پھر اتھل تک سڑکوں پر ان کے جھنڈے شاید وہاں لگے ہوئے پاکستانی جھنڈوں کے بعد دوسرے نمبر پر ہیں جو وہاں بدلتے ہوئے ماحول کی نشاندہی کرتے ہیں۔
بلوچستان کے حوالے سے خبر اور وہ بھی مذہبی بنیادوں پراقلیت قرار دیئے جانے والی برادریوں کی خبر مین اسٹریم میڈیا پر خاص جگہ حاصل نہیں کرپاتی، البتہ بلوچستان کے مقامی اخبارات روزنامہ انتخاب، توار وغیرہ میں ایسے واقعات کی تفصیلی کوریج ہوتی ہے، لیکن جب اُتھل میں مذہبی عبادت گاہ کی بے حُرمتی کے واقعے کا میں نے ٹویٹر پر تذکرہ کیا تو صحافی دوست رضارومی نے بھی اسے ہائی لائٹ کیا پھر مجھے کال کی چوں کہ اُن دنوں وہ ایکسپریس ٹی وی پر پروگرام کررہے تھےاسی حوالے سےمجھے ہدایت کی کہ رات کو پروگرام کے ٹائم میں ٹیلیفون کال پر میں اس واقعے پر بات کروں۔ اگرچہ میں اس ہدایت پر تو عمل نہ کرسکا لیکن اتنا ضرور ہوا کہ اس ایشو پر مین اسٹریم پروگرام میں تذکرہ ضرور آگیا۔
رضارومی کا ٹی وی پروگرام اس لحاظ سے مُختلف تھا کہ وہ ٹی وی اسپیس پر آنے سے پہلے ہی سوشل نیٹ ورکس اور بلاگز کے حوالے سے اچھی خاصی فالوونگ رکھتے تھے جو کہ ایک لحاظ سے مُنفرد بات تھی اس لئے وہ سوشل میڈیا تبصروں کا حصّہ بھی رہتے تھے اور رسپانڈ بھی کررے تھے۔ اسی لئے ایسے موضوعات جیسے کہ پاکستان میں مذہبی اقلیتوں کے ساتھ برتاؤ اور ان کے خلاف تشدد، شیعہ اور احمدی مسلک کے حامل افرادکی ٹارگٹ کلنگ ، عبادت گاہوں پر حملے وغیرہ جیسے موضوعات شاذونادر ہی مین اسٹریم میں جگہ پاتے تھے انھیں سوشل نیٹ ورک سے مین اسٹریم میں لے جانے میں اگر چند گنے چنے لکھاریوں ، سوشل میڈیا ایکٹویسٹس کا کردار نمایاں ہے تو رضارومی بھی اس رجحان کو پروان چڑھانے میں کردار ادا کرتے رہے ہیں۔ اگر چہ بہت سے موضوعات پر اس میدان کی تنگنائیاں ان کے بھی آڑے آتی رہی ہیں۔
یہی وجہ تھی کہ ان کے پروگرام کی بندش ان پر قاتلانہ حملے اور ڈرائیور کے جاں بحق ہونے کی صورت میں عمل میں آئی۔ اگرچہ پچھلے چند ماہ میں نئے بیانیئے اور اظہاریئے کو پروان چڑھانے کی کوششوں میں کچھ تیزی تو آئی ہے لیکن ابھی بھی مین اسٹریم میڈیا میں اس رجحان کی آئینہ دار آوازوں کی شدید کمی ہے ایسے میں قبول عام پانے والے معتدل اور روشن فکر افراد کی ضرورت پہلے سے بھی زیادہ بڑھ گئی ہے۔

(رضارومی پر قاتلانہ حملے اور پروگرام کی بندش کے ایک سال پورے ہونے کے موقع پر لکھاگیا)