بلوچستان میں نیشنل ازم اور اشتراکیت کے الجهے معاملات

تحریر: محمد حمزہ بن طارق

lums

بلوچستان کی سرزمین تین ممالک افغانستان، پاکستان اور ایران میں منقسم ہے اور 1947 ء میں قیام پاکستان سے ایک سال قبل خان آف قلات نے انگریزوں کو نیپال کی مثال دیتے ہوئے افغان و ایران کے سستان بلوچستان سے بچے ہوئے علاقے جہاں قبائلی نظام پر مبنی ریاستیں تهیں یعنی موجودہ پاکستانی بلوچستان کے لیے ایک آزاد ریاست کا مطالبہ کیا تها. جبکہ قلات کی قومی پارٹی کے ممبران بهی اس رائے سے متفق تهے. 1947 ء میں قیام پاکستان کے 24 گهنٹے بعد خان آف قلات نے قلات کی آزاد ریاست کا اعلان کردیا تها لیکن ایک سال بعد یعنی 1948 ء میں پاکستانی فوج نے خان آف قلات کو پاکستان کے ساتھ شمولیت کے معاہدے پر مجبور کردیا۔
پاکستانی تاریخ کے ہر لمحے میں بلوچوں نے پاکستانی ریاست کے فوجی افسر شاہانہ نظام کی مخالفت کی ہے. یہی سبب ہے کہ 1948ء سے ون یونٹ کے لاگو رہنے تک بلوچستان میں مارشل لاء لگا رہا۔
جب مغربی پاکستان میں بنگال کی جمہوری جدوجہد کے خلاف ون یونٹ تشکیل دیا گیا تو بلوچوں نے اس عمل کے خلاف شدید احتجاج کیا لیکن انکے احتجاج کی گونج اسلام آباد کے ایوانوں کو نہیں سنائی دی اور مجبوراً 1959 ء میں نوروز خان کی قیادت میں بلوچوں نے مسلح جدوجہد کا آغاز کیا۔ اس بغاوت کو فوجی آمروں نے دهوکے سے ناکام بنا دیا اور بہت سے گوریلا جنگجوؤں کو جیلوں میں ڈال دیا گیا۔
ون یونٹ کے دور کے خلاف بلوچستان میں موجود نفرت نے 1970 ء کی دہائی میں “نیشنل عوامی پارٹی” (نیپ) کی شکل میں اپنا اظہار کیا اور 1970 ء کے انتخابات میں بلوچوں کی بهاری اکثریت نے نیپ کو ووٹ دے کر کامیاب بنایا اور نیپ بلوچوں کی نمائندہ حکمراں جماعت بن کر ابهری.
1971 ء میں ہونے والی پاک بهارت جنگ کے نتیجے میں بنگلہ دیش نے پاکستان سے آزادی حاصل کرلی اور اسکے بعد پاکستان پیپلزپارٹی پاکستان میں اور بلوچستان میں حکومت قائم کرنے میں کامیاب رہی، دراصل ذوالفقار علی بهٹو نے بہت ہی چالاکی سے نیپ اور بلوچوں کو فوجی نوکر شاہی کے سامنے گهٹنے ٹیکنے پر مجبور کیا اور مختلف سرداروں کو مراعات دے کر اپنے مفادات کو محفوظ کرنے کی کوشش کی۔
اس ہی دوران بلوچستان میں سوشلسٹ تحریک بہت تیزی سے بڑھ رہی تهی اور سرداروں کو مجبور کر رہی تهی کہ وہ ایک آزاد ریاست بلوچستان کا قیام عمل میں لائیں واضح رہے کہ 1967 ء میں قائم ہونے والی “بلوچ اسٹوڈنٹ آرگنائزیشن” (BSO) کا بلوچستان میں مارکسزم کے پهیلاو میں انتہائی اہم کردار رہا ہے اسکے بعد ذوالفقار علی بهٹو کی جمہوری حکومت میں 1973 ء میں بلوچستان میں بدترین فوجی آپریشن کیا گیا اس ہی دور میں گوریلا تنظیم “بلوچستان پیپلز لبریشن فرنٹ” کا قیام عمل میں آیا جسکے جنگجو فکری طور پر لاطینی امریکہ کے انقلابی رہنما چی گویرا سے متاثر تهے مگر اس گوریلا جدوجہد کو بهی بلوچ سرداروں نے بری طرح ناکام بنانے میں کوئی کسر نہیں چهوڑی اور یہ تحریک خود کو محنت کش عوام کے ساتھ بهی نہیں جوڑ سکی اس وجہ سے بهی ناکام ہوئی۔
اس میں کوئی اختلاف نہیں کے موجودہ دور میں بلوچستان کے ذرائع اور وسائل کی لوٹ کھسوٹ میں پاکستان کے اندر بلوچوں کی کمزور سیاسی صورتحال نے ناگزیر طور پر بلوچوں کو مسلح ہونے پر مجبور کردیا۔
بلوچستان کے وسائل میں گیس اور معدنیات کی لوٹ مار اور بلوچوں کی اس سے محرومی، بلوچستان بهر میں فوجی چهاونیوں کا قیام اور گوادر پورٹ کا غیر ملکیوں کے سپرد کرنا اور دوسری قوموں کو بلوچستان میں آباد کرنا اور بلوچوں کو روزگار نہیں دینا اور یہ کوشش کرنا کے بلوچ اپنی زمین میں ایک اقلیت بن جائیں، پاکستانی ریاست کے یہ وہ بهیانک اقدام میں جن سے بلوچستان فکری طور پر پاکستان سے مزید دور ہوتا جارہا ہے۔
پاکستانی ریاست کی جانب سے بلوچ نوجوانوں کو اغواء کرنا اور پهر لاپتہ ظاہر کر کے انکی مسخ شدہ لاشیں پهینک دینا صرف بلوچ علیحدگی پسند تحریک کی راہیں ہموار کر رہی ہیں اور بلوچ نشنل ازم کی جڑیں مضبوط کر رہی ہیں۔
نیشنل ازم کے حوالے سے مشہور تاریخ دان ڈاکٹر مبارک علی بہت دلچسپ بات کہتے ہیں “نیشنل ازم کا ہمیشہ سے تاریخ میں ایک اہم کردار رہا ہے اور نیشنل ازم کی بنیاد پر ہی قومیں بنتی اور تقسیم ہوتی ہیں، متحدہ ہندوستان میں مزہبی حوالے سے مسلم نیشنل ازم کی بدولت پاکستانی ریاست وجود میں آئی تو کچھ ہی عرصے بعد بنگالی نیشنل ازم کی شدت کے نتیجے میں پاکستانی ریاست ٹوٹ گئی اور بنگلہ دیش وجود میں آیا، تیسری دنیا کا نیشنل ازم کیونکہ کولونیل دور سے آزادی کے بعد وجود میں آیا اور ارتقائی مراحل سے بهی نہیں گزرا اور کوئی روشن خیالی یا سائنسی ترقی بهی نہیں دیکهی اس وجہ سے بهی اسکو اکثر مفکرین نے پس ماندہ اور کمزور کہا ہے، اس میں تقسیم در تقسیم ہے اور کوئی مثبت پیش رفت نظر نہیں آتی، پاکستانی ریاست کے نیشنل ازم کے مقابلے میں (جسکو پنجاب کی اکثریتی نمائندگی حاصل ہے) سندھ اور بلوچستان کے صوبائی نیشنل ازم کلچر کی بنیاد پر ابهرے۔
نیشنل ازم جب فاشزم کی صورت اختیار کرتا ہے تو انسانیت سے اپنا تعلق ختم کردیتا ہے پهر یہ جرمنی کے ہٹلر اور اٹلی مسولینی کی شکل میں ظاہر ہوتا ہے پهر یہ غریبوں اور محنت کشوں کا استحصال بهی کرتا ہے،
نیشنل ازم کے منفی پہلو بتاتے ہیں کہ یہ قوم پرستوں کو انسانیت سے کاٹ کر علیحدہ علیحدہ خانوں میں تقسیم کردیتا ہے اور دوسری قوموں اور تہذیبوں سے نفرت دل و دماغ میں سما جاتی ہے جو دوسروں سے سیکهنے کے عمل کو بهی روک دیتی ہے.”
بلوچستان کے مسائل کا حل کیسے ممکن؟
بلوچستان ہو یا سندھ و خیبر پختون خواہ ان سب کے مسائل کا حل محنت کشوں کی جدوجہد ہے اور سیاسی طور پر محنت کش طبقے کا متحرک و متحد ہونا ہی انکے مسائل کو حل کرسکتا ہے، بلوچستان جو سب سے زیادہ پسماندہ ہے وہاں سب سے زیادہ سیاسی عمل کو تیز کرنے کی ضرورت ہے، عوامی قوت کی عدم موجودگی سے کوئی تحریک کامیاب نہیں ہوتی، بلوچستان کے مسائل بهی جب ہی حل ہونگے جب دوسری قوموں بشمول پنجاب سے بهی محنت کشوں کو اپنے ساتھ ملایا جائے گا۔
اگر پاکستانی ریاست سے مسلح جدوجہد کی خواہش بهی نیشنل ازم سے فاشزم میں تبدیل ہوئی اور بلوچ قوم پرستوں نے بهی پاکستانی ریاست کی طرح انسانیت سے اپنا رشتہ ختم کرلیا اور محنت کشوں کو قتل کرنا شروع کردیا وہ بهی صرف اس وجہ سے کہ وہ لوگ بلوچستان میں ریاست کی جانب سے موجود ہیں تو پهر اس سوال کا کیا جواب ہوگا کہ لاکهوں بلوچ جو سندھ و جنوبی پنجاب میں آباد ہیں انکا کیا مستقبل ہوگا اور کوئی یہ بهی بتائے کہ اگر رد عمل میں پاکستانی ریاست جو ابهی تک صرف بلوچستان میں ہی بلوچوں کو غائب کرنے میں مہارت رکهتی ہے اگر اپنا دائرہ کار بڑها کر کراچی، لاهور، پشاور و اسلام آباد کے شہروں اور انکے کاروباری مراکز و جامعات میں جوابی کاروائی کرنا شروی کردے تو پهر میرے جیسے لاکهوں بلوچوں کا کیا مستقبل ہوگا جو بلوچستان سے دور دوسرے پاکستانی شہروں میں مقیم ہیں؟
بلوچستان کے مسائل صرف اور صرف اشتراکی جدوجہد سے ہی ممکن ہیں جس میں تمام محنت کش قوموں کو ساتھ ملایا جائے تب ہی کامیابی ہاتھ آئے گی ورنہ صرف انسانی جانیں ہی ضائع ہوتی رہیں گی۔

محمد حمزہ بن طارق ، جامعہ کراچی سے بین الاقوامی تعلقات میں گریجویٹ ، پبلک اسپیکر ، محقق ، بلاگر، سماجی کارکن۔