بلوچستان میں مزدوروں کا قتل

تحریر: محمد شعیب عادل

Turbat

تربت بلوچستان میں بلوچ انتہا پسندوں نے بیس مزدوروں کو صرف اس لیے قتل کر دیا کہ ان کا تعلق پنجاب (کچھ کا سندھ) سے تھاکیونکہ پنجابی اسٹیبلشمنٹ، یعنی پاک فوج، بلوچوں کے قتل و غارت میں ملوث ہے۔اس لیے بلوچ انتہا پسندوں کا نشانہ سیکیورٹی فورسز کے لوگ بنتے ہیں یا پھر ان کے پاس کام کرنے والے دیہاڑی دار غریب لوگ۔ اس حملے کی ذمہ داری بلوچ علیحدگی پسند تنظیم، بلوچ لبریشن فرنٹ نے قبول کی ہے۔ اسی دورن سیکیورٹی فورسز نے فوری ایکشن کیا اور بتایا گیا کہ تیرہ مشتبہ بلوچ عسکریت پسندوں ،جو کہ مزدوروں کے قتل میں ملوث تھے، کو ہلاک کردیا گیا ہے۔ معصوم افراد کا قتل چاہے ریاست کی طرف سے ہو یا کسی تنظیم کی طرف سے، انتہا ئی قبل مذمت فعل ہے۔
چند دن بعد آرمی چیف نے کوئٹہ میں بیس مزدوروں کی ہلاکت کی مذمت کرتے ہوئے غیر ملکی ایجنسیوں کو خبردار کیا کہ وہ بلوچستان میں مداخلت بند کردیں۔پاک فوج نے بلوچ عسکریت پسندوں کے خلاف آپریشن کرنے کا عندیہ دیا ہے اور ذرائع کے مطابق آپریشن ضرب عضب جو کہ جون 2014 میں تحریک طالبان پاکستان کے خلاف شروع کیا تھا اب اس کا دائرہ کار بلوچستان تک بڑھایا جائے گا ۔ عسکری ذرائع نے یہ نہیں بتایا کہ کیا یہ آپریشن بلوچ عسکریت پسندوں کے علاوہ ان طالبان کے خلاف بھی کیا جائے گا جو بلوچستان کے مختلف پشتون علاقوں میں پناہ گزین ہیں۔
بلوچ لبریشن فرنٹ کے سربراہ ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ کا کہنا ہے کہ ہمارا ٹارگٹ پاکستان آرمی یا ان کے منصوبوں پر کام کرنے والے افراد ہیں۔ مرنے والے افراد فرنٹئیر ورکس آرگنائزیشن کے ساتھ کام کر رہے تھے اور اگر یہ ان کا کام نہیں کررہے تھے تو ایف ڈبلیو او ان کی حفاظت کیوں کر رہی تھی۔بلوچستان میں پچھلے دس بارہ سالوں سے علیحدگی پسندی کی تحریک ایک بار پھر زور پکڑ چکی ہے۔ سیکیورٹی فورسز کی جانب سے بلوچ نوجوانوں کی ایک بڑی تعدادکو، جن کے بارے میں ذرا سا بھی شک ہو کہ وہ علیحدگی پسندوں کے ساتھ ہمدردی رکھتا ہے، اغوا کرلیا جاتا ہے۔بغیر کوئی مقدمہ چلائے انہیں حراست میں رکھا جاتا ہے اور دوران حراست ان پر بے ہیمانہ تشدد کیا جاتا ہے اور کچھ عرصے بعدان میں سے کچھ کی تو تشدد زدہ لاشیں ملتی ہیں ۔ باقیوں کا کوئی علم نہیں کہ وہ کس حال میں ہیں۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل امریکہ کے ڈائرکٹر ایڈو کیسی ٹی کمار نے پاکستان کی حکومت پر الزام لگایا ہے کہ وہ بلوچ عوام کے اغوا، تشدد اور قتل میں ملوث ہے اور عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ اس کا نوٹس لیا جائے۔ وائس آف بلوچ مسنگ پرسنز جو لاپتہ جوانوں کی رہائی کے لیے پرامن احتجاج کرر ہی ہے کے مطابق بیس ہزار بلوچ لاپتہ ہیں۔

Turbat2 وائس آف بلوچ مسنگ پرسنز پچھلے کئی سالوں سے کراچی پریس کلب سمیت پورے ملک میں پرامن احتجاج کررہی ہے مگر افسوس کے کوئی حکومتی ادارہ یا ’’آزاد عدلیہ‘‘ ان کی بات سننے کو تیار نہیں۔ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان نے بارہا ان ذیادتیوں پر آوا ز اٹھائی ہے مگر ریاست، آزاد عدلیہ اور میڈیا ان مظالم پر خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔ ریاستی ادارے اور میڈیا صرف اس وقت بولتے ہیں جب پنجابیوں کو نشانہ بنایا جائے۔
بلوچستان میں اس وقت کوئی چھ یا سات علیحدگی پسند گروپ ریاست کے خلاف برسر پیکار ہیں۔ڈاکٹر اللہ نذر( جو پیشے کے اعتبار سے فزیشن ہیں)کے مطابق اپریل میں پاک آرمی نے مشکے کے علاقے میں دو سو مکانات کو جلا دیا جس میں پچیس معصوم افراد مارے گئے۔اللہ نذر نے کہا کہ پاکستان آرمی نے مزدورں کے قتل میں ملوث بی ایل ایف کے جن تیر ہ افراد کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے وہ غلط ہے۔ پانچ لاشیں دکھائی گئی تھیں جس میں سے ایک حیات بلوچ کی لاش تھی جسے بی ایل ایف  کا کمانڈر بتایا گیا۔ حیات بلوچ دو سال پہلے کمر میں گولی لگنے کی وجہ سے معذور ہو چکا تھا اور گھر میں مقیم تھا جبکہ چار افراد کا تعلق لاپتہ افراد سے ہے ۔
2002میں بلوچستان یونیورسٹی کوئٹہ میں میری ملاقات ایک دبلے پتلے شخص، ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ سے ہوئی تھی۔ اس نے بلوچ عوام کے ساتھ ہونے والی ذیادتیوں کی ایک لمبی تفصیل بتائی۔ چند ماہ بعد پتہ چلا کہ ڈاکٹر اللہ نذر کو ایجنسیوں نے اغوا کر لیا ہے ۔ سال ڈیڑھ بعد اللہ نذر اس وقت دوبارہ منظر عام پر آئے جب اسے شدید زخمی حالت میں پھینک دیا گیا تھا ۔اللہ نذر کا کیا قصور تھا؟ اسے اغوا کیوں کیا گیا؟ دوران حراست اس پر بے ہیمانہ تشدد کیوں ہوا؟ کسی عدالت یا ریاستی ادارے نے اس کی تحقیق کرنا ضروری نہیں سمجھا اور یہ سلوک ہر اس بلوچ کے ساتھ ہو رہا ہے جو بلوچ عوام کے ساتھ ہونے والی ذیادتیوں پر احتجاج کرتا ہے۔ رہائی کے بعد اللہ نذر بلوچ نے مسلح جدوجہد کا رستہ اپنا لیا۔
بلوچستان میں پچھلے پندرہ سالوں میں ایک اور اہم تبدیلی بھی آئی ہے۔ باقی صوبوں کی نسبت بلوچستان کے لوگ مجموعی طور پر سیکولر مزاج رکھتے ہیں مگرسیکیورٹی ایجنسیوں نے علیحدگی پسندوں کا مقابلہ کرنے کے لیے مذہبی انتہا پسند تنظیموں کی سرگرمیوں کو فروغ دیا ہے اور بلوچستان میں جا بجا مدرسے قائم کیے گئے ہیں۔ اس وقت طالبان کی ایک بڑی تعداد انہی مدرسوں میں طالب علموں یا امدادی تنظیموں کے روپ میں بیٹھی ہے۔یہ تنظیمیں بلوچستان میں فرقہ وارانہ قتل و غارت میں بھی ملوث ہیں۔ لشکر جھنگوی کی طرف سے ہزارہ کمیونٹی کے قتل عام کی ذمہ داری قبول کرنے کے بعد بھی ان کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کی جاتی۔
2013 میں جب آواران میں زلزلہ آیا تو لشکر طیبہ (فلاح انسانیت فاؤنڈیشن) یا چند دوسری مذہبی تنظیموں کے علاوہ کسی ملکی یا غیر ملکی امدادی تنظیم کوزلزلہ زدہ علاقوں میں جانے نہیں دیا گیا۔ 2012میں دالبندین سے نیا زمانہ کے نمائندے نے مذہبی تنظیموں کی سرگرمیوں کی تفصیلی رپورٹ بھیجی تھی کہ کیسے وہاں موجود مدرسے سیکیورٹی فورسز کے تعاون سے ان طالب علموں کی مسلح تربیت کر رہے ہیں۔ نیا زمانہ میں اس رپورٹ کے شائع ہونے کے بعد اسے اپنی جان بچانے کے لیے اپنا علاقہ چھوڑنا پڑا۔
بلوچستان میں علیحدگی پسندی کی تحریک کا آغاز 1948 میں اسی وقت ہو گیا تھا جب حکومت پاکستان نے ریاست قلات پر فوج کشی کرکے زبردستی پاکستان میں ضم کر لیا تھا۔ پاکستان آرمی پچھلے 67 سالوں سے بلوچوں سے برسرِ پیکار چلی آرہی ہے کبھی اس میں شدت آجاتی ہے اور کبھی کمی۔ملک پر فوجی حکمرانوں کی بدولت بلوچ مسئلے کا پرامن حل ممکن نہیں ہوسکا۔ جب بھی کوئی سیاسی حکومت کسی سیاسی حل کی کوششوں کا آغاز کرتی ہے تو پاک فوج کی طرف سے ایسی کاروائیاں کی جاتی ہیں کہ اعتماد سازی کا عمل صفر ہوجاتا ہے( یہی حال پاک بھارت تعلقات کابھی ہے)۔
اب بلوچستان کی صورتحال اتنی خراب ہو چکی ہے کہ بلوچ علیحدگی پسند ریاست کے کسی بھی حکومتی وعدے پر اعتبار کرنے کے لیے تیار نہیں اور مکمل آزادی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔بلوچوں کا کہنا ہے کہ حکومت پاکستان اگر مقبوضہ کشمیر میں استصواب رائے کا مطالبہ کرتی ہے تو یہ حق مقبوضہ بلوچستان کے عوام کو کیوں نہیں دیا جاتا؟
پاکستانی ریاست کا نظام پچھلے سرسٹھ سالوں سے ایڈہاک ازم پر چل رہا ہے ۔ اس کی بنیادی وجہ جرنیلوں کا اقتدار پر باربار شب خون مارنا ہے ۔ملک کے وسائل عوام کی فلاح و بہبود پر خرچ کرنے کی بجائے ہتھیاروں کے حصول پر ضائع کیے جارہے ہیں۔ہمسایوں سے دوستی کی بجائے انہیں زیر کرنے کی حکمت عملیاں بنائی جاتی ہیں۔ اگر درمیان میں کوئی سیاسی حکومت اقتدار میں آجاتی ہے تو اس کو مختلف طریقوں سے لولا لنگڑا بنادیا جاتا ہے اور اہم فیصلے خود ہی کرتی ہے۔ جس کا نتیجہ یہ ہے کہ پاکستانی عوام کی جان و مال آزادی کے سرسٹھ سالوں بعد بھی محفوظ نہیں۔

  • kaalchakra

    This is a moment that can transform the destiny of Pakistan. The huge infusion of funds by the Chinese, particularly in Balochistan and Pakhtoonkhwa, can change ground conditions in a positive way that nothing internally could. The ruling establishment has only to adopt a fair dispensation toward Balochistan for peace to finally come. Nationalists are different from religionists. You can work with them.

  • RHR

    Kaal

    when did you learn urdu!

    Very brilliant jee 😀

  • kaalchakra

    Thank you. Barely enough to get by 🙂

  • RHR

    Keep it up bro!
    We are already overawed….

    Majumdar Dada

    See Kaal is operating on a different level!

  • Majumdar

    Septic tank mian,
    .
    Kaal bhai is a hard core Lakhnavi. I suspect he knows Urdu better than you do.
    .
    Regards

  • RHR

    Dada

    It makes him even more potent!

  • romain

    Dada
    It makes him even more potent!

    … and no wonder Tejinder and Rexie have full belief in him 🙂

  • kaalchakra

    Sabeen Mahmud is gone. Please take precautions.

  • RHR

    Na Raha Junoon-E-Rukh-E-Wafa, Ye Rasan Ye Daar Karoge Kiya,
    Jinhe Jurm-E-IshQ Pe Naaz Tha Wo Gunahgaar Chale Gaye…

  • Mohan

    Whenever there is any natural calamity some people start singing ‘Mauka Mauka’

    http://pbs.twimg.com/media/CDdebcHWgAAgyLH.png:large

  • tajender

    kaal uare right,she was both mother and anarchist.

  • Mohan

    Extramarital sex ’causes more earthquakes’, Iranian cleric claims
    Women who dress “inappropriately” incite extramarital sex that in turn cause more earthquakes, a senior Iranian hard-line cleric has claimed.

  • silkroute

    to majumdar


    QUOTE: “Kaal bhai is a hard core Lakhnavi.”

    Kaal bhai is a hard core Lakhvi.

    You can translate urdu in google too.

    The arabic script is not suited for non-arabic languages. But arabic fascism and islamic fascism have imposed it on the non-arabic languages. Consequently all muslims end up becoming bootlickers of arabs and forget or denigrate their non-arabic past.

    In future non-arab and pseudo-arab nations and peoples will get rid of islam and rise back to a life of self-respect, independence and dignity.
    The baloch must lead in this. They have no other choice.

  • RHR

    Masadi Bandar ke bachey
    Good that you have started to entertain us again
    Shorooh ho ja ab nachna beghairat

  • RHR

    Masadi ghatia insaan
    Bandar tamasha start kar

  • kaalchakra

    Masadi, that is a very valid fear. Other unsettling aspects of the deal also deserve attention: the project is entirely part of an exclusively Chinese initiative. The Chinese have bargained for themselves substantial guaranteed economic returns. They have farmed out protections and security to Pakistani agencies, and will now use Pakistan to further control and suppress Xinxiang. They are also dealing exclusively with Pakistani military. Pakistan’s political leadership (Nawaz Sharif in this case) and Pakistani people are incidental to the deal. So the fear that the benefits could be limited to the military (and the leaders who serve the military) as well is not unfounded.

    But the hope is that most Pakistani people – those who have any time and resources to express themselves beyond the issues of their daily bread – see a great fit between the global, strategic vision of China and their own goals. The latter love and trust the Chinese, and are comfortable ‘selling out’ to the Chinese just as their leaders earlier sold out to the Americans and to Saudi princes. They believe that when billions of dollars do pour into Pakistan, some of the benefits will trickle down to ordinary Pakistanis as well. That is a hope and Pakistani establishment would be wise to not frustrate that hope.

    Thanks to the shenanigans of its ‘establishment’ and its ‘nationalists’ Pakistan had been boxed into a rather difficult spot. It had no escape. The Chinese, to serve their own larger purposes, have thrown Pakistan a lifeline. From what one can tell sitting far away, a great many Pakistanis are genuinely excited at their prospects and are grateful to the Chinese. How much Pakistan actually benefits will depend upon Pakistanis themselves – which means, in practice, upon the same old Pakistani military establishment and its nationalists who serve the military. These latter have not changed in any way at all. Their worldview remains today what it has been. The hope is that the environment around them has changed sufficiently so they won’t be able to harm Pakistani people as much they have in the past.

  • Mohan

    If u want to stay alive in Pak,stop criticising its powerful religious terrorist grps &their patrons in govt&military http://t.co/YyaFxIcFD4

    “To be liberal and outspoken in the Pakistan of today is tantamount to painting a target in the middle of your forehead,” said one newspaper in Pakistan, about the killing of Sabeen Mahmud, activist and owner of a Karachi coffee-house, who was gunned down at a traffic light as she drove home. Ms. Mahmud’s killing didn’t come without warning, however. Each time a journalist or activist is killed in Pakistan it is a warning to others to hold off speaking on issues that are inconvenient to its religious and extremist establishment inside and outside power. The attack by gunmen on Geo TV anchor Hamid Mir in Karachi a year ago came after threats were issued over his reports on extrajudicial killings in Balochistan. The killing of journalist Saleem Shahzad in 2011 followed his article about radicalisation within the military, and the killing of journalist Raza Rumi’s driver in an attack where he himself escaped came after Mr. Rumi’s TV programmes against the killing of religious minorities over blasphemy charges were aired. Ms. Sabeen, who had crossed swords with these groups, had been sent a threat letter just a week prior to her killing for her decision to hold a discussion on human rights violations in Balochistan at her coffee-house. The message is as brutal as the bullets pumped into the two: if you want to remain alive in Pakistan, stay away from criticising its powerful religious terrorist groups and their patrons within the government and the military. Ms. Mahmud may not have been a journalist in the traditional sense of the term, but her widely acclaimed efforts for free speech and online popularity made her as dangerous to those groups as any of the others targeted. In 2012, UNESCO named Pakistan the second most dangerous place for journalists, and the Committee to Protect Journalists has criticised the government for lack of progress in handling attacks against the media.

    What makes Ms. Mahmud’s killing truly ironic is that it comes at a time when Pakistan has launched a National Action Plan to counter terrorism and extremism, and weeks after the Army launched operations to counter crime and violence in Karachi. Both efforts seem to ring hollow when an unarmed woman and her mother can be surrounded at a busy traffic intersection and shot multiple times in cold blood. As the outcry against Pakistan’s establishment over the killing mounted, the services, ISPR, put out an unusual statement condemning the killing and promising a full inquiry. As journalists and activists who gathered to mourn yet another member of their tribe said, this is fitting, as even if they weren’t responsible for the killing, it is hard to believe “the all powerful intelligence can’t find out who is.”

  • romain

    Kaal Mian,

    Good Analysis. read the article by Misbah U Azam. He explains the largesse of the chinese. Having dealt with them for the last few years, I can say with definite authority that the chinese do not do anything without a reason. There are two. They want to eliminate the bottleneck, as far as possible, of Malacca straits. With US pivot and Indian tie-up to patrol malacca straits with the co-operation of the local countries, Chinese need an alternate route. The second reason is that they want to stabilize their route thru Pakiland. This means that the Pakis will need to behave as the Chinese will want them to behave.
    No country does anything that is not its interest. All work is to be done by Chinese companies – I do not see much benefit for Pakis here. Chinese tend to bring their own labor as well. That is how they keep their labor costs down and get the work done. Of Course the Pakis will bear the cost – that is the Chinese model of doing business.
    =
    A cynic would say that Paki Military is now replacing the US paymasters with Chinese paymasters.

  • romain

    … The question that naturally arises is why the Chinese did not choose Iran. Primarily because the Iranians would have never accepted the terms and conditions, and the Chinese know that fear of India will always keep Pakis in line 🙂

  • Pingback: جبران ناصر کا دورہ امریکہ | Pak Tea House United States WordPress Unknow Os ()