مُلا کا اِسلام اور۔۔۔ میرے مولا کا اِسلام اور۔۔۔!!!

تحریر: عدیل اورنگزیب

Islamic Reformation4

شمال مشرقی لندن کی اِس وسیع وعریض مسجد میں حسب معمول جمعہ کی نماز کے وقت تِل دھرنے کی جگہ نہ تھی۔ مجھے جس صف میں جگہ ملی، عین اسکے پیچھے پیلے رنگ کی بالٹیوں کی ایک قطار تھی، جن پر “چندہ برائے تعمیر مسجد” ، “صدقہ” ، “زکوٰۃ” جیسے سٹکر چسپاں تھے۔
سفید عربی عمامہ میں پاکستانی امام نے انگریزی میں اپنے خطاب کا آغاز کیا۔ امام صاحب نے اپنی تقریر کی ابتدا، پاکستان سے تشریف لائے اپنے خصوصی مہمان کے تعارف سے کی، جو وہاں مدارس اور مساجد کا ایک وسیع نیٹ ورک چلاتے ہیں۔ انہوں نے اپنے معزز مہمان کی طرف سے ان تمام لوگوں کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے ماضی میں دل کھول کرانکی مالی مدّد کی جس کی بدّولت ہزاروں طلبا فیض یاب ہوئے اور ہو رہے ہیں۔ جب امام صاحب نے بتایا کہ کیسے فرشتے اللّہ کی راہ میں دینے والے کی مغرفت کی دُعا کرتے ہیں اور نہ دینے والوں کی کنجوسی کو کوستے ہوئے بددُعا دیتے ہیں تو مسجد کا ہال اللّہ اکبّر اور سبحان اللّہ کی آوازوں سے جیسے گونج اُٹھا۔ اپنے پہلو میں پُرجوش بلند آواز سن کر نظراٹھائی تو دیکھتا ہوں کہ میرے ایک جاننے والے چوہدری صاحب آنکھیں بند کیے اللّہ اکبّر کی صدا بلند کر رہے ہیں۔ چوہدری صاحب شراب بیچنے کا بزنس کرتے ہیں۔ یقین ہے کہ وہ بند آنکھوں سے فرشتوں کو اپنی نیکیاں لکھتے دیکھ رہے ہوں گے۔
مولانا صاحب کی تقریر کا موضوع اعتدال، میانہ روی اور توازن تھا۔ قرآن پاک کی آیات اور احادیث مبارکہ سے انہوں نے ثابت کیا کہ اسلام میں جو میانہ روی اختیار کرنے کا حکم ہے وہ کسی دوسرے دین میں نہیں۔ اس موقع پر انہوں نے “کافروں” کے تعصب اور کچھ “گمراہ” مسلمانوں کی “بلاوجہ” کی تنقید کی بھی سخت مذّمت کی۔ تقریرختم کرنے سے پہلے انہوں نے مسّجد کی مدد کی زوردار اپیل کی اور حاضرین کو بتایا کہ مسجد کے واجب الادا قرضے کا دس لاکھ پاؤنڈ ابھی بھی باقی ہے جس پر ایک بھاری رقم ہمیں سود کی مدّ میں بینک کو ادا کرنا پڑرہی ہے۔ تقریر کے اختتام پر انہوں نے ایک ایسے مسلمان بھائی کی اخلاقی، مالی اور عملی مدد کی درخواست کی جس کو دہشت گردی میں ملوث ہونے پر ملنے والی جیل کی سزا چند ہفتوں میں ختم ہونے والی ہے اوراس کے بعد عدالتی حکم پراسے واپس پاکستان بھیج دیا جائے گا۔
کچھ لوگ اپنے الفاظ سے کوشش کرتے ہیں کہ آپ کی آنکھوں پر اپنی پسند کی پٹی باندھ کر آپ کو صرف وہ دیکھنے پر مجبور کر دیں جو وہ دِکھانا چاہتے ہیں۔ اور میری اس موقع پر پانی سے نکلی مچھلی سی حالت ہوتی جاتی ہے کہ نہیں میں تمہیں یہ پٹی باندھنے کی اجازت نہیں دے سکتا، اور آنکھیں ہیں کہ بند ہونے کے بجائے اور کھلتی ہی جاتی ہیں۔ کیونکہ میرا ربّ بڑا کریم ہے جس نے سکھایا انسان کو قلّم سے۔ پھر میرا دل کرتا ہےکہ میں ان اسلام کے نام نہاد ٹھیکیداروں سے ، جو بّزعم خود علامہ، مولانا، شیخ الاسلام، مفتی، آیت اللّہ، پیرومرشد، قبلہ وکعبہ اور جانے کیا کچھ بنے پھرتے ہیں، اپنے ربّ کے دیے اُس محدود علم کے مطابق پوچھوں کہ حضّور آپ نے اپنے تضّادات سے اِس دین کی کیا حالت کردی ہے جو کبھی نکلا تھا بڑی شان سے۔
جی ہاں انہی تضادات کی وجہ سے آج کا ہمارا سب سے بڑا مسّلہ اخلاقیات بن چکا ہے، نہ کہ قیادت، معیشت یا تجارت۔ آج حج اور عمرہ کے لیے جانے والوں کے علاوہ آپ کو کروڑوں لوگ تبلیغی محفلوں، سنتوں بھرے اجتماع ، میلّاد، تعّزیہ،عّرس بمعہ دیگر شعائر اسلام کی پابندی کرتے نظر آتے ہیں مگر پھر بھی ہمارے معاشرے میں جھوٹ،دھوکا، بے ایمانی اتنے حلّول ہو چکے ہیں کہ الاماں و الحفیظ۔۔ اب اس خطبے کے متعلق ہی عرض کریں کہ اس میں کہاں توازنّ تھا اور کہاں اعتدال۔۔۔۔۔ محترم مولانا صاحب ، محض کافروں کی مزمت اسلام کے مصائب کوکم نہیں کر سکتی اور اپنوں کی تنقید کا جواب دینے کے بجائے انہیں گمراہ کہنے سے معاملات حل نہیں ہوتے۔
مانا کہ فتویٰ آپ کا ایسا ہتھیار ہے جو آپ کسی بھی وقت اپنی دستار سے نکال کرکسی کو بھی کافر قرار دے اسے واجب القتل ٹھرا سکتے ہیں۔ آپ کے یہ فتوے جیسے آپ نے انگریزی کو کافروں کی زبان ٹھرا کر حرام قرار دے رکھی تھی، اور آج بھی بہت سے لوگ اس بات پر اصرار کرتے ہیں، وہ آج آپکے ہم مزہبوں و ہم مسلکّوں کے لیے کیسے جائز ٹھری جو آج ساری دنیا میں امامت کے فرائض سرانجام دیتے ہیں۔ جس دین کے متعلق ہمارا اصرار ہے کہ یہ رہتی دینا تک کے لیے آیا ہے اس کے احکام، جن کی تشریح آپ بحیثیت شعائراللّہ کرنے پر مُصّر ہیں، وہ محض ایک علاقے یا ایک محدود وقت کے لیے کیوں ہیں اور انکا اطلاق آپ پر کیوں نہیں ہوتا؟ امریکہ و برطانیہ کے نومسلموں کے متعلق آپ کے کیا خیالات ہیں، کیا انگریزی بولنے اور انگریز لباس پہننے کی بنیاد پر ان نومسلموں کا ایمان ناقص نہ قرار دے دیا جائے یا انہیں جنت کے کسی نچلے درجے کی بشارت سنائی جاوے۔
کبھی تو عورت کی حکمرانی کو حرام قرار دے کر پھر اس کو لیڈر مان کر اسکے ہاتھ مضبوط کرنے چل پڑتے ہیں اور کبھی امریکہ اور یورپ کے سپیس پروگرام کا مزاق اڑاتے ہوئے ان لوگوں کو دوبارہ نکاح اور تجدید ایمان کا حکم جاری کرتے ہیں جنہوں نے امریکیوں کے چاند پر پہنچنے کے دعویٰ کو سچ ماننے کی جسارت کی۔ تصویر کشی کو حرام اور عورت کو شیطان کا ہتھیار قرار دینے والے خود ٹی وی اور اخبار کے لیے نامحرم عورتوں کے ساتھ بیٹھ کر انٹرویو دیتے پھرتے ہیں۔
ہمارے مدرسوں کے اس صدیوں پرانے نظام نے مستقبل شناسی سے محروم اور محدود عقل کے حامل ایسے فنکار پیدا کیے جنہوں نے آج جابجا فتویٰ سازی کی وہ انڈسٹری لگا رکھی ہے جس میں ماسوائے دوسروں کے کفّر کے فتویٰ دینے، اپنے حقّ پر ہونے کے جھوٹے سچ دلائل گھڑنے اور وہ فتویٰ دینے کے کچھ نہ کیا جو زمانی اور مکانی طور پر انتہائی کم عمر اور محدود ثابت ہوئے اور جیسے میں نے اوپر کی سطور میں مثال دی،اب تو اپنے دام میں صیاد آگیا ہے۔
آپ اس سود کی مثال لے لیں۔ سود کوپاکستان میں تقریباً سب نے بلااتفاق حرام قراردے رکھا ہے۔ مگر پاکستان میں کون ہے جو اپنے آپ کو اس سودی نظام سے علیحدہ قرار دے سکتا ہے۔ آپ اگر براہ راست سودی نظام مثلاً بینک کا سود نہیں بھی لے رہے تو پھر بھی آپ اس سے مستعفید ہونے والے ضرور ہیں کہ یہ تھوڑی بہت ملکی خوشحالی ان سودی قرضوں کی وجہ سے ہے جو ہماری حکومت مختلف اداروں اور حکومتوں سے وقتاً فوقتاً لیتی ہے۔ دوسرا یہ کہ یہ جو بیرونِی ممالک مساجِد کا ایک بڑا نظام قائم ہے، ان میں سے بےشمار بینک سے حاصل کردہ سودی رقوم پر قائم کی گئی ہیں اور انکی توسیع بھی بینک کے پیسوں سے ہی کی جاتی ہے۔ کیا جب آپ یہاں سے چندہ اکھٹا کرتے ہیں (اور پاکستان کے ہر مسّلک کے علما فنڈ ریزنگ کے لیے آتے ہیں) توآیا آپکے یہ ہم مسلک سود کی حرمت سے ناواقف ہیں یا آپ پاؤنڈ، یورو اور ڈالر کی چمک دیکھ کر خاموش رہنا ہی بہتر سمجھتے ہیں۔ ایک عام پاکستانی مسلمان کے لیے سود حرام قرار دے کر تو انہیں آپ نے مسلسل ذہنی خلفشار کا شکار کر رکھا ہے تو سمجھا دیں کہ یہی حُکّم آپ پر کیوں ساقط ہو جاتا ہے۔۔۔؟
پچھلے سال عیدالاضحیٰ پر ایک بہت بڑی اسلامی تنظیم (جوہرسال لاکھوں مشترکہ قربانیاں اداکرنےکا دعویٰ کرتی ہے) کے فیس بک،ٹویٹر اور ویب سائٹ پر ایک فتویٰ دیکھ رہا تھا کہ اگر آپ قربانی میں حصہ ڈالتے ہیں تو تسّلی کر لیں کہ باقی حصہ داروں نے جائز کمائی سےحصہ ڈالا ہے۔ کسی ایک کی کمائی جائز نہ ہونے کی وجہ سے سبّ کی قربانی قبول نہ ہو گی۔ یہ پڑھ کر تو یقین مانیں میں دھک سے رہ گیا، کہ اب قربانیوں کی قبولیت کے لیے پلِ صراط کے اِس پار کھڑے ہونے کا انتظار نہیں کرنا پڑھے گا۔ گویا کہ یہ ایک عام مسلمان کو اپنا کردار سنوارنے کے بجائے اسے دوسروں کے عیب تلاش کرنے کی ترغیب دے رہے ہیں۔ میں نے جب ان سے دریافت کیا کہ کیا آپ بھی ان لوگوں سے، جو مشترکہ قربانی کے نام پر بھاری رقم بھیجتے ہیں، حلال کمائی کی بابت دریافت کرتے تو جواب ندارد۔
آج کم وبیش تمام اسلامی تنظیمیں کسی ڈاکٹر، پروفیسر یا دنیاوی تعلیم یافتہ فرد کو اپنی تنظیم سے منسلک ہونے کا جشن مناتی پھرتی ہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ یہ خود اپنے مدرسوں کا نظام ایسے کیوں نہیں ڈھالتیں کہ وہاں ایسے مردِ میدان نکلیں جو بیک وقت دین و دنیا کی خدمت کریں نہ کہ آنکھوں پر کھوپے چڑھائے وہ مولوی جو اس موجودہ نظام سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد اپنی بقیہ زندگی مسجد میں آنے والے نمازیوں کی تعداد اور چندے گننے میں ہی گزار دیں۔ ایسے علما سے توہمارے معاشرے کا جمود ٹوٹنے سے رہا!!! اور معاشرے کا جو جمود نہ ٹوٹا تو نہ صرف ہم سب خجل و خوار ہوتے رہیں گے بلکہ آپ کے اس دینی نظام کو یہ سودی کمائی اور شراب و دیگر ناجائز زرائع سے حاصل پیسے ہی برقرار رکھیں گے۔ اِس لیے بہتر ہے کہ مان لیں کہ آپ کا نصاب نہ صرف مترّوک ہو چکا ہے کیونکہ اس میں مستقبل کے چیلنج کا مقابلہ کرنے کی استطاعت ہے نہ یہ حال کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہے۔
نتیجتاً آپ اپنے “مسلمان بھائیوں” کی ان حرکتوں کو جسٹی فائی کرتے رہیں گے جو ہماری قوم کی کھسیانی بلی بنے ،کھمبا نوچنے پر تُل چکے ہیں۔ مان لیں کہ ہم ان کافروں سے زہنی، عقلی اور علمی کے علاوہ اخلاقی طور بھی ہار چکے ہیں۔ یہ آپکے مدرسے، مکتب، درگاہیں و خانقاہیں آپ کی بادشاہی تو چلا رہیں ہیں مگر کروڑوں مسلمانوں کو بھی دنیا و آخرت میں جو رسوا کریں گے اس کے لیے بھی آپ براہ راست زمہ دار ہیں۔
آپ اور آپ کے آل وعیال کی دنیاوی جنت کے لیے کتنے غریبوں کے بچوں نے افغانستان اور کشمیر کے پہاڑوں میں جان دے دی۔ انکی جان کے بدلے آپ نے دام خوب کھرے کیے۔ یہ بچے جنہیں بہتر تعلیم دے کر ایک بہتر انسان بنایا جا سکتا تھا انہیں آپ نے پلیٹ میں رکھ کر اپنے ملک کے طالع آزماؤں اور غیروں کو ڈالروں میں بیچ دیا۔ آج آپ کی بیٹیاں،بیٹے اور بھائی تجارت و سیاست کے مزے لے رہے ہیں تو کیا جہاد صرف غریب پر فرض ہے؟ کیا آپ نے ان لوگوں کے ورثا کا حال کبھی دریافت کیا جنہوں نے آپ کے کہنے پر جان دی؟ البتہ کشمیر اور افغانستان سے تو انہوں نے اتنا کما لیا ہے کہ اب انکے بچے اور پھر انکے بچے بھی کئی نسل تک عیاشی کر سکیں گے
کینیڈین انقلاب لا کر موروثی سیاست کا خاتمہ کرنے کے دعویداراور اپنے کارکنوں سے جانی ومالی قربانی کا مطالبہ کرنے والے بتا سکتے ہیں کہ کیا اپنی جماعت میں موروثی نظام کے خلاف پہلی مثال قائم کرنے کے لیے وہ کوئی متبادل قیادت تیار کر رکھی ہے؟
حال یہ ہے کہ ہم کافروں کو تو دل اور مُنہ کھول کر بُرا تو کہ لیتے ہیں مگر جب خود پر توہین رسالت کا الزام لگتا ہے تو پناہ لینے کے لیے برطانیہ جیسے کافر ملک ہی کا رُخ کرتے ہیں۔ بھائی یہ برطانیہ نامی ملک اتنا ہی اچھا ہے تو پھر پاکستان کو بھی برطانیہ بنانے کی کوشش کرو۔ یہ کیسی منافقت ہے کہ دوسروں کے لیے ایک اسلامی ملک کی کوشش مگر اپنے بزنس اور رہائش کے لیے کافر ملک!!!
اب اُن پیروں فقیروں کی سن لیں جو اپنے مریدوں کی ہڈیوں کا شورہ بھی نکال کر کھا لیں، جن کے مرید اپنے بچوں کو تعلیم و صحت تو درکنار، ان کے منہ سے نوالہ چھین کر بھی اپنی عقیدت کے نام پر قربان کر دیتے ہیں۔ تاکہ یہ پیر پاکستان میں لندن امریکہ کا مزہ لیں اور مرنے کے لیے بھی یہ پیر لندن ائیر ایمبولینس میں لائے جاتے ہیں، جبکہ انکے مرید بیماری تو کیا بھوک کے ہاتھ مر جائیں تو یہ مخدوم وپیر حضرات اسے اللّہ کی رضا قرار دے کر صبر کی تلقین کرتا ہے۔
یقین رکھیں کہ جن علما کو آپ بڑا پھنّے خان سمجھتے ہیں انکی طاقت اسلام کی تبلیغ کے لیے نہیں، یہ تو کسی غیر مسلم کو دعوت اسلام کیا دیں گے، کبھی تو یہ کہتے ہیں کہ غیر مسلم کو سلام نہ کرو اور کبھی ہیلو بولنے کو ممنوع ٹھراتے ہیں۔ جب کہ قرآن پاک آپ کواہل کتاب عورت سے شادی کی اجازت تک دیتا ہے اب ان تنگ نظر لوگوں سے پوچھیں کہ ایسے شادی شدہ جوڑے ملتے وقت اگر ایک دوسرے کو سلام کریں نہ ہیلو بولیں تو کیا دُر فٹے منہ بولیں؟
ہیپی کرسمس کہنا حرام ہے مگر مسلمان کے لیے عید کی سرکاری چھٹیاں منظور کروانے کی کوشش کرنا فرض ہے۔ اور یہ عیدین جس پر بشمول ہمارے برطانیہ میں مقیم علما کے سب اپنا اپنا چاند لیکر نکل آتے ہیں کہ چاند کی رویت کے لئے سائنس کا استعمال منع ہے۔ یوں تو لاؤڈسپیکر، بجلی،گاڑی، اسلحہ،کمپیوٹر اور فون کا استعمال ٹھیک مگرایک اللہ،ایک رسولﷺ، ایک کتاب،ایک قبلہ رکھنے کی دعویدار اس قوم کی بچی کھچی عزت پر چاند ماری کرنے کے لیے بے شمار اپنے اپنے چاند نکال لاتے ہیں۔
اگر عام مسلمان اس خوش فہمی کا شکار ہے کہ ہمارے علما حق کی آواز ہیں تو وہ یہ بات دل سے نکال دے۔ یہ اُس ظلم کے خلاف ہی آواز بلند کرتے ہیں، جو انکی روٹی روزی کا بندوبست رکھے اور جس سے (سول و فوجی) پاکستانی مقتدرحلقے ناراض نہ ہوں۔ مثلاً کشمیر و افغانستان کے لیے جلسے اور چندے اکھٹے آپ سب نے دیکھے ہوں گے مگر کبھی آپ نے سنا کہ چین کے صوبے سنکیانگ میں ظلم و ستم پر مبنی پالیسی پر کوئی احتجاج ہوا ہو؟ بھارت کے مسلمان تو اِن سے سو گُنا اچھے حال میں ہیں۔ چین نے داڑھی، حجاب کے ساتھ روزہ رکھنے اور سولہ سال سے کم عمر افراد کے مسجد جانے پر پابندیاں لگا رکھی ہیں۔
مگر یہ جو ہمیشہ اقبال کا شعر اپنے جلسوں میں پڑھتے ہیں
ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لیے
نیل کے ساحل سے لیکر تابخاک کاشغر
کیا یہ اس بات سے لاعلم ہیں کہ کاشغر اسی سنکیانگ کا تاریخی شہر ہے ۔ چند دن پہلے جب چائنہ کے صدر نے پاکستان کا دورہ کیا تو آپ سب نے ضرور نوٹ کیا ہو گا کہ کیسے یہ طالبان کے بانی اور فکری استاد بچھ بچھ جا رہے تھے۔
اس جمعہ کے خطبے سے تو گویا میں ماضی اور مستقبل کی جیسے صدیاں گھوم آیا، اورواپسی پر کچھ سوال لایا جن کا جواب دینے کی صلاحیت میرے یہ ممدوح حضرات تو یقینناً نہیں رکھتے۔ کیونکہ ان کا جواب دلیل، مکالمہ نہیں بلکہ اپنے اُن معتقدین، جو کبھی انکے آگے سربسجود ہوتے ہیں یا بندوق بردار بن کر مرتے مارتے ہیں، کی طاقت ہے جس سے وہ ہمیں اپنی پسند کا منظر دِکھانے پر مجبور کر رہے ہیں۔ فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہے کیا آپ میری طرح مزاحمت کریں گے، اپنی آنکھوں سے اپنے مزہب و معاشرے کو جاننے کی کوشش کریں گے یا انکی پسند کا منظر دیکھتے رہیں گے؟
اگر آپ اپنی آنکھوں سے جاننا چاہتے ہیں تو پڑھیں کہ یہ اللہ کا پہلا حکم تھا، پڑھ اپنے رب کے نام سے۔۔۔۔۔ آپ کے پاس پڑھنے کے لیے اپنے ربّ کی کتاب ہے، کہ اللہ نے آپ کو دماغ دیا، شعور دیا اور سب سے بڑھ کر اپنی کتاب دی۔ یہ سب اِس لیے نہیں عطا کیا گیا کہ آپ اپنی اندھی عقیدت کے بہانے اپنا سر کِسی کی چوکھٹ پررکھ دیں جو آپکا استحصال اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرتا رہے۔

Twitter handle @AAJ140

  • Aur Universities jo Dr. Abdul Qadeer peda kar rahi hein wo bhi hamay pata hay, Clerical staff kay ilawa ap kay pas hay hi kia?? University ki taleem ko jadeed aur aur roshan khiyal taleem say tabeer karnay walay yeh to btaaein keh aaj tk aap nay konsa maarkah mara hay?? aik needle (SUI) tk to ap bana na sakay aur china say import kartay hein, Al Hamd u lillah, Madaris siraf islam hi nahi sub-continent ki tehzeeb aur culture kay bhi waris hein.

  • Shuaib Asghar

    یہ مضمون پڑھنے کے لائق ہے ۔ بہت ہی عمدہ تحریر اور اعلیٰ اندازِ بیاں ََََََ