جبران ناصر کا دورہ امریکہ اور چند مودبانہ گزارشات

“نوٹ: پاک ٹی ہاؤس انٹرنیٹ پر فکری تبادلۂ کی ایک کھلی اسپیس ہے اور ہم آزادی اظہار پر مکمل یقین رکھتے ہیں نیز ادارے کا کسی بھی لکھاری کے نظریات سے مکمل متفق ہونا ضروری نہیں۔ ہم اپنے قارئین کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ کسی بھی تحریر سے متفق نہیں ہیں تو حقائق اور دلائل پر مبنی جواب ہمیں بھیجیں ہم اسے جگه دیں گے۔”

محمد شعیب عادل

jibran nasir

کچھ ماہ پہلے اسلام آباد میں مولانا عبدالعزیز کی گرفتاری کا مطالبہ کرنے اور ان پر دہشت گردی کی عدالت میں مقدمہ چلانے کے مطالبے سے شہرت حاصل کرنے والے جبران ناصر آج کل امریکہ کے دورے پر ہیں اور مختلف امریکی یونیورسٹیوں میں پاکستانی طالب علموں کو مذہبی انتہا پسندی کے خلاف مختلف سلائیڈوں کی مدد سے ایک بھرپور اور متاثر کن لیکچر دے رہے ہیں۔ ان کے یہ لیکچر یو ٹیوب پر سنے جا سکتے ہیں۔
جبران ناصر پاکستان کو ایک روشن خیال ریاست بنانے کے لیے مختلف منصوبوں کا ذکر کرتے ہیں جن میں انٹر نیٹ ٹی وی ، آواز اٹھاؤ اور Reclaim our Mosques وغیرہ شامل ہیں۔ جبران ناصر کا ٹارگٹ پڑھے لکھے روشن خیال نوجوان طالب علم ہیں جوواقعی پاکستان کو ایک مذہبی ریاست کی بجائے ایک تعلیم یافتہ اور روشن خیال پاکستان دیکھنا چاہتے ہیں ۔
جبران ناصر اپنی تقریروں میں سیاسی جماعتوں کو بھی سخت تنقید کا نشانہ بنارہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ تقریباً ہر سیاسی جماعت کے مذہبی انتہا پسندوں جیسے اہل سنت والجماعت کے مولانا لدھیانوی ، ملک اسحاق ، اورنگزیب فاروقی اور مولانا سمیع الحق کے ساتھ تعلقات ہیں۔ لہذا یہ سیاستدان مذہبی انتہا پسندی کا خاتمہ کیسے کرسکتے ہیں جو اپنے اقتدار میں آنے کے لیے ان سے ووٹوں کی بھیک مانگتے ہیں وغیرہ۔انہوں نے جماعت الدعوۃ کے سربراہ حافظ سعید کو بھی تنقید کا نشانہ بنایااور کہا کہ ممبئی حملوں والے (فلاح انسانیت فاؤنڈیشن) کے نام پرعوام میں فلاح و بہبود کے کاموں میں مصروف ہیں۔ جبران ناصر اقلیتوں خاص کر احمدیوں کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں پر بھی آواز اٹھاتے ہیں۔
جبران ناصر کی مذہبی انتہا پسندی کے خلاف جدوجہد قابل تعریف ہے مگر سیاستدانوں اور پارلیمنٹ کو انتہا پسندی کے فروغ کا ذمہ دار قراردینا درست نہیں۔ پاکستان کی نئی نسل کو جمہوری عمل سے بیزار کرنا  خطرناک عمل ہے ۔وہ اپنی تقریروں میں سیاستدانوں اور پارلیمنٹ کی تضحیک کرتے ہیں جبکہ پاکستان آرمی کی انتہا پسندوں کے خلاف جدوجہد کو نمایاں کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ریاست مذہبی انتہا پسندوں کی پشت پناہی کرتی ہے لیکن ساتھ ہی یہ وضاحت کردی کہ ریاست کا مطلب فوجی اسٹیبلشمنٹ نہیں بلکہ نواز حکومت ہے۔  انہوں نے پاک آرمی کے اس کرنل کو بھی خراجِ تحسین پیش کیا جو لال مسجد میں آپریشن کے دوران عسکریت پسندوں کی گولی کا نشانہ بنے۔انہوں نے سبین محمود کی جدوجہد کو خراج تحسین پیش کیا جو مذہبی انتہا پسندی کے خلاف جدوجہد کرتے ہوئے اپنی جان قربان کرگئی۔
مگر انہیں وہ سیاستدان یاد نہ رہے جو انتہا پسندی کا مقابلہ کرتے ہوئے ان مذہبی انتہا پسندوں کی گولی کا نشانہ بنے جن میں اے این پی کے کئی ارکان اسمبلی ہیں جبکہ سرفہرست تو بے نظیر بھٹو کی شہادت ہے جو اس ملک میں انتہا پسندی کے خلاف لڑتے ہوئے طالبان کی گولیوں کا نشانہ بنی اور یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں کہ ان کی پشت پناہی پاکستانی اسٹیبلشمنٹ ہی کر رہی تھی۔
جبران ناصر جب مختلف سیاستدانوں کی احمد لدھیانوی اینڈ کمپنی کے ساتھ تصاویر یا ملاقاتوں کا ذکر کرتے ہیں تو انہیں یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ یہ وہ لوگ ہیں جنہیں سیکیورٹی ایجنسیوں نے سیاسی جماعتوں کے مقابلے کے لیے تیار کیا اور ان کو پورے ملک میں کھل کر مجرمانہ سرگرمیاں جاری رکھنے کی نہ صرف اجازت دی بلکہ انہیں سیاسی عمل میں حصہ لینے کی راہ بھی ہموار کی۔ سیاست دان جب سیاست کرے گا تو وہ اپنے حلقہ انتخاب میں سب سے ملاقاتیں حتیٰ کہ اپنے مخالف سے بھی مسکرا کر ملے گاکیونکہ وہ بندوق کی بجائے مذاکرات اور مسائل کو گفتگو کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔جمہوریت ایسا نظام ہے جہاں ایک مذہبی رہنما بھی مسائل حل کرنے کے نام پر ووٹ مانگتا ہے۔
سیاست دانوں کا مذہبی رہنماؤں سے ملاقاتیں کرنا تو جرم ہو گیا مگر ان کو سماج میں مسلط کرنے والوں کے خلاف خاموشی معنی خیز ہے۔جبران ناصر (دبے لفظوں میں) سیاسی عمل سے نالاں نظر آتے ہیں ۔ انہیں کوئی بھی سیاسی جماعت پسند نہیں یہی وجہ تھی کہ انہوں نے آزاد امیدوار کے طور پر انتخاب لڑنے کی کوشش کی مگر ناکام رہے۔
ریاست نے اپنے قیام کے ساتھ ہی مذہبی بیانیے کو فروغ دیا ہے جس میں سیاسی عمل کی کوئی گنجائش نہیں۔ لہذاسیاست کو گالی دینا اور سیاستدانوں کو برا ثابت کرنا پاکستانی ریاست کا بیانیہ بن چکا ہے۔اس ماحول میں پلنے والی نسل جمہوریت کو ایک فضول عمل سمجھتی ہے اس لیے ملک میں جب بھی سیاسی عمل شروع ہو تا ہے توسیاسی جماعتوں، سیاسی عمل اور سیاستدانوں کے خلاف پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا میں ایک منظم مہم شروع ہو جاتی ہے۔پچھلے ستاسٹھ برسوں میں سیاسی عمل یا جمہوریت کے خلاف ایک منظم پراپیگنڈہ کیا گیا ہے۔ سب سے پہلے تو یہ الزام لگایا جاتا ہے کہ سیاسی جماعتیں جمہوریت کی بات تو کرتیں ہیں مگر اپنی جماعتوں میں یہ جمہوریت نہیں لاتیں۔ پھرسیاستدانوں کی کرپشن ان کا اہم موضوع ہے۔ یہ جاگیر دار اور سرمایہ دارہیں جو سیاست کے ذریعے اپنے کاروبار میں اضافہ کرتے ہیں ۔
مگر پچھلے ستاسٹھ برسوں سے اس ملک کے وسائل کو جس منظم طریقے سے لوٹا گیا ہے اس کی طرف کسی کی توجہ نہیں جاتی۔ غریب عوام کو صحت و تعلیم کی سہولیتں مہیا کرنے کی بجائے انہیں ایٹم بم، میزائل اور جنگی طیاروں کے کرتب دکھا کر خوش کیا جاتا ہے ،اس کے خلاف کوئی بات نہیں کرتا جو ریاست کی پسماندگی اور پاکستانی عوام کی غربت کے اصل ذمہ دار ہیں۔
دنیا میں کہیں بھی بٹن دبانے سے تبدیلی نہیں آتی۔ یہ ایک بتدریج سیاسی عمل کے ذریعے ممکن ہے۔پوری دنیا میں وہی ممالک ترقی کی منازل طے کررہے ہیں جہاں جمہوری عمل ایک تسلسل کے ساتھ چل رہا ہے۔ سیاسی عمل ہی سیاستدانوں کا احتساب کرتا ہے۔سیاسی جماعتیں عوام کو جوابدہ ہوتی ہیں اور جو عوام کے مسائل کو حل کرنے کی طرف توجہ نہیں دیتیں تو عوام اسے اقتدار سے بھی باہر کر دیتے ہیں ۔
المیہ یہی ہے کہ پاکستان میں سیاسی عمل مسلسل جاری نہیں رہتا۔ اگر یہ شروع ہو جائے تو اسے سبو تارژ کرنے کی کوششیں شروع کردی جاتی ہیں۔ سیاسی عمل کی غیر موجودگی میں غیر جمہوری قوتوں کو پروان چڑھایا گیا اور ملکی وسائل میں انہیں حصہ دار بنا دیا گیا۔ لہذا جب بھی کوئی سیاسی عمل شروع ہوتا ہے تو پھر اس کی مخالفت میں یہی قوتیں اس کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرتی ہیں۔ وہ سیاسی حکومت کو آزادانہ طور پر خارجہ اور داخلہ پالیسیاں بھی نہیں بنانے دیتی۔
جب بھی ملک میں سیاسی عمل شروع ہوا تو سویلین حکومتیں ہمسایوں سے دوستانہ تعلقات استوار کرنے کی کوشش کرتی ہیں جو ملک کی خوشحالی میں ایک انتہا ئی اہم قدم ہے مگرغیر جمہوری قوتیں اپنے وسائل کے بل بوتے پر اس عمل کو سبوتارژ کردیتی ہیں اور میڈیا کے ذریعے دوستی کی بجائے ایک جنگی ماحول کو پروان چڑھانے کی کوششیں کی جاتی ہیں۔
جبران ناصر سیکولر ازم کا ذکر نہیں کرتے ۔وہ صحیح اسلام (یعنی اسلام کی وہ تشریح جو امن کا پرچار کرتی ہے)کی ضرورت پر زور دیتے ہیں۔ نہ ہی وہ نفرت پر مبنی نصاب تعلیم کو تبدیل کرنے کی بات کرتے ہیں۔Reclaim our Mosques کی آڑ میں مذہب کی درست تشریح بھی ایک متنازعہ عمل ہے۔ ہر گروہ اپنی تشریح کو درست قرار دیتا ہے لہذا جبران ناصر سے درخواست ہے کہ وہ Reclaim Mosques کی بجائے مذہب اور سیاست کو علیحدہ کرنے کی مہم چلائیں۔نصاب تعلیم کو مذہبی کی بجائے سیکولر بنانے کی تحریک چلائیں۔ہمسایہ ممالک خاص کر افغانستان اور بھارت میں مداخلت کی بجائے ان سے تجارتی تعلقات قائم کرنے کی مہم چلائیں۔یہ توقع کرنا کہ  صرف عسکری حلقے انتہا پسندی کو ختم  کریں گے خام خیالی ہے ان کا  تو اپنا وجود  ہی جہاد فی سبیل اللہ کے نعرے پر قائم ہے۔

محمد شعیب عادل کی مزید تحریرات کے لیے یہاں کلک کیجیے
بلوچستان میں مزدوروں کا قتل
کرائے کی ریاست کا کردار بند ہونا چاہیے
ملک ، قانون اور جمہوریت کی تضحیک ہو رہی ہے۔ چوہدری نثار

محمد شعیب عادل ماہنامہ نیا زمانہ کے ایڈیٹر ہیں اور سر دست واشنگٹن ڈی سی میں رہائش پذیر ہیں۔

  • Faizan

    Reclaim Your Mosque
    مہم کا مقصد کسی خاص فرقہ یا سوچ کی ترویج نہیں تھی بلکہ اسکا مقصد مساجد کو طالبان کے ہمدردوں سے پاک کروانا تھا تاکہ جو مساجد جو چاہے حکومت کی سرپرستی میں ہوں یا عوام کی اس میں طالبانی فکر کی ترویج کرنے والوں کو مساجد سے الگ کیا جائے
    آپ دہشتگردوں کو اجازت نہیں دے سکتے کے وہ پاکستان کی مساجد میں اپنے حمایتی بٹھا کر پاکستان کے خلاف بات کریں

  • Raza Ali

    very good analysis please see his video in which he is propagating against politician

  • Fawzia Naqvi

    Again you make a fool of yourself. I am so sorry that you are a conspiracy and misinformation spreading tout. Please let us know who you work for. I am proud to work where I do and am proud and privileged to support Jibran Nasir. But your affiliations need some transparency. This said you are not worth a further debate given your ideological narrow minded extremist views.

  • Amar Ihsan

    Has he ‘recalaimed mosques’ in Pakistan or put Abdul Aziz behind bar’s that he is on round trip to the US talking about his ‘achievements’?

    There is no end to self projection and pseudo-revolutionaries in Pakistan. Pity!

  • Ranger99

    Haha, this intra-Paki fight is funny 🙂

  • Pingback: ہمیں خود ہی کچھ کرنا ہوگا: جبران ناصر | Pak Tea House United States WordPress Unknow Os ()

  • Dr. Bilal Fazal Shaikh

    It must not be forget that political parties like PTI and JI not only publicly and openly supported TTP but also offered them offices and demanded religious ministry for them. In punjab CM Shahbaz has reiterated on many occasions that their narrative is same like TTP. They were also in accord with TTP that no terrorism will be done in punjab (hence they should only target rest of country). There are several evidenced available where politicians have shown their love for TTP. One should not forget that it is not easy to earn the title of Taliban Khan. It was TTP which didn’t allow any political party to run their campaign in KPK 2013 elections except PTI and JI. PMLN leaders are also frequently seen with terrorists like Ludhaynvi specially Rana sahab and these meetings are more than just friendly talk.

  • tajender
  • Tahir Muhammadi

    جبران ناصر صاحب یہ بتائیں کہ اگر جماعۃ الدعوۃ فلاح انسانیت فائونڈیشن کے نام سے لوگوں کی فلاح کا کام کر رہی ہے تو اس میں آخر کیا غلط بات ہے؟
    مخالف مکاتب فکر کی ہر مثبت بات پر اعتراض کوئی اچھی سوچ کا عکاس نہیں بلکہ اپنے مخصوص مذہبی خیالات کی کے مطابق عدم برداشت شدت پسندی اور نفرت کا حامل فلسفہ ہے جسکا جبران ناصر جیسے لوگ پرچار کر رہے ہیں اور مرگ بر امریکا کے نعرے لگا کر مسلم دنیا کو بے وقوف بنانے والے رافضیوں کا اصل چہرہ بھی اس سے بے نقاب ہوتا ہے کہ جو امریکا جاکر مسلمانوں پر بوگس اور جھوٹے الزامات لگاتے ہیں ۔ وہ بھلا کیسے اہل پاکستان و حاملین اسلام کے دوست ہوسکتے ہیں ۔