ہمیں خود ہی کچھ کرنا ہوگا: جبران ناصر

ملک عمید

jibran nasir2

حالیہ دنوں میں جبران ناصر کے نام سے کون واقف نہیں ہے۔ ان کا نام طالبان کی جانب سے آرمی پبلک اسکول پر 16 دسمبر کو ہوئے حملے کے بعد تب سے سوشل میڈیا اور مین اسٹریم میڈیا میں لیا جانے لگا جب وہ لال مسجد کے خطیب مولوی عبدالعزیز کے طالبان کی مذمت سے انکار کرنے کے خلاف لال مسجد کے سامنے اکیلے ہی احتجاج کرنے کے لیے کھڑے ہوگئے۔ دیکھتے ہی دیکھتے اور بھی بہت سے انسانی حقوق کے علمبرداروں نے ان کا ساتھ دیا اور یہ تحریک Reclaim our mosques کے نام سے معروف ہوگئی۔ جبران ناصر اسوقت امریکہ کے دورے پر ہیں جہاں ان کے مخاطب امریکی یونیورسٹیوں میں زیر تعلیم پاکستانی نوجوان نسل ہے۔ حال ہی میں پاک ٹی ہاؤس میں لکھے گئے ایک کالم میں جبران ناصر کے نظریات و خیالات پر خدشات کا اظہار کیا گیا جس پر ان خدشات پر جبران ناصر کا موقف لیا گیا ہے۔

پاک ٹی ہاؤس: حالیہ دنوں میں آپ کی تحریک کو جہاں ستائش مل رہی ہے وہیں کچھ حلقوں کو اس پر خدشات بھی ہیں اور وہ آپکی تحریک کو شبہات کی نظر سے دیکھ رہے ہیں۔ آپ کے ناقدوں کا خیال ہے کہ آپ کی تنقید کا بیشتر رخ سیاستدانوں کی جانب ہوتا ہے کیا آپ کو لگتا ہے کہ سیاستداں اسقدر طاقتور ہیں کہ عسکری گروہوں کو قابو میں لا سکیں۔

جبران ناصر: میں جب بھی اپنی پریزنٹیشن کا آغاز کرتا ہوں تو میں جو جن کے ہاتھ میں ڈوریں ہیں ان کا بھی ذکر کرتا ہوں۔ میرا ماننا ہے کہ عسکری حلقوں نے ان شدت پسند گروہوں کو اپنی وقتی ضرورتوں کے تحت بنایا ضرور مگر ان کو گلے سیاستدانوں نے لگایا۔ اگر عمران خان کا آزاد کشمیر میں امیدوار سلطان محمود اہل سنت والجماعت کے ساتھ انتخابی اتحاد کرتا ہے تو وہ انھیں گلے لگاتا ہے، اگر نواز لیگ اہل سنت والجماعت کے ساتھ کچھ حلقوں میں انتحابی اتحاد بناتی ہے تو انھیں گلے لگاتی ہے، اگر ایم کیو ایم کا وفد اورنگزیب فاروقی کو ملتا ہے تو وہ انہیں گلے لگاتے ہیں، ایسے ہی جھنگ میں خورشید شاہ اگر احمد لدھیانوی سے ملتے ہیں تو وہ ان عناصر کو گلے لگا رہے ہیں۔ دراصل یہ سیاسی قیادت ان عناصر کو اپنے اس طرز عمل سے جمہوری دور میں تنہا کرنے کی بجائے ان کو مین اسٹریم کر رہی ہے۔

پاک ٹی ہاؤس: آپکے خیال میں قومی سلامتی کے اداروں کا انتہا پسندی اور عسکری تنظیموں کے پھیلنے میں کیا کردار رہا ہے؟

جبران ناصر: دراصل ہمارے افغانستان اور ہندوستان کے عشق نے ہمیں یہ دن دکھائے ہیں۔ افغان اور کشمیر جہاد میں بھرتیوں کے لیے مجاہدین کی کھیپ تیار کرنے کے لیے ان کی پیداواری فیکٹریاں اس وقت فوج نے لگوائیں جن میں سپاہ صحابہ اور لشکر طیبہ بھی شامل ہیں۔ ہم نے اپنی پراکسی جنگوں کے لیے جو نرسریاں ملک میں لگائیں آج وہ ہی تنآور درخت بن کر یہ دن ہمیں دکھا رہی ہیں۔ یہ عسکری گروہ انہی دنوں کی پیداوار ہیں بلکہ میں تو کہوں گا کہ یحییٰ خان کے شیر خان پٹودی کے بوئے ہوئے بیج ہیں جن کا ہم آج خمیازہ بھگت رہے ہیں۔ حال ہی میں ملٹری نے بلوچ عسکری گروہوں کے خلاف کاروائی کی ہے اور یہاں میں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ میں بلوچوں کے ساتھ ہوئی نا انصافیوں پر آواز اٹھاتا ہوں مگر بی ایل اے جیسی تنظیموں کی بھی مذمت کرتا ہوں جو ہتھیار اٹھا کر بلا امتیاز معصوم جانوں کو قتل کرتیں ہیں۔ تو جہاں آرمی نے بلوچ عسکریت پسندوں کے خلاف کاروائی کی ہے وہاں کیا انھیں اسلام آباد میں بیٹھا ملّا عبدلعزیز نہیں نظر آتا؟ کیا انھیں دیگر عسکری گروہ اور ان کے راہنما نظر نہیں آتے؟؟ جب ریاست کا جی چاہتا ہے راتوں رات بھٹو کو یا بے نظیر کو یا نواز شریف کو اٹھا کر حراست میں لے لیتی ہے یہاں تک کہ بھٹو کو پھانسی تک چڑھا دیتی ہے وہی ریاست ایسے مواقع پر خاموش تماشائی بنی رہتی ہے! یہی ڈی جی آئی ایس پی آر عمران خان اور نواز شریف کی سیاسی دھینگا مشتی پر فوراً میدان میں اتر کر ٹویٹ کر دیتا ہے مگر وہی ادارہ ملّا عبدالعزیز کی دفعہ جب وہ کھلے عام اسلام آباد میں بیٹھ کر داعش کو دعوت دے رہا ہوتا ہے کوئی ٹویٹ نہیں کرتا اور خاموش رہتا ہے۔ تو کیا جب داعش ملک میں آجائے گی تب یہ کچھ کریں گے؟

پاک ٹی ہاؤس: آپ کو امریکہ کی یونیورسٹیوں کے دورہ کے دوران کیسا ردعمل اور شرکاء کے کیسے تاثرات دیکھنے کو مل رہے ہیں؟

جبران ناصر: دیکھیں یہ پاکستانی طلباء باشعور اور با علم لوگ ہیں اور ان کی طرف سے غیر معمولی ردعمل دیکھنے میں آیا ہے۔ میں نے انکے سامنے پاکستانی حالات کی مکمل تصویر رکھی ہے اور حل تجویز کیے ہیں۔ میں یہاں پر پاکستان کی مشکلات پر بات کرنے آیا ہوں مگر ساتھ ہی مسائل کے حل پر بھی مجھے بات کرنی ہے۔ میں یہاں پر پاکستان کو ایک ناکام ریاست قرار دینے نہیں آیا میں نے اور کچھ دنوں میں اپنے وطن ہی جانا ہے۔ میں نے انہیں بتایا کہ کیسے حق نواز اپنی کتاب میں کہتا ہے کہ جب اس نے جھنگ میں جا کر اپنی تنظیم کا کام شروع کیا اور اہل تشیع کے خلاف فتوے دیے تو لوگوں نے اسے فسادی کہا اور کیسے اسے وہاں مشکلات آئیں تو پاکستانی لوگ اپنی اصل میں برداشت اور بھائی چارہ پر عمل کرنے والے تھے۔ مگر ان لوگوں کو جب ریاستی سرپرستی دی گئی تو انہوں نے مسلسل اپنے نظریات ٹھونس ٹھونس کر حالات یہاں تک پہنچا دیے ہیں۔
میں یہاں پر واضح کر دوں کہ میرا پاکستان سے امریکہ کا جو سفر ہیں اس کا انتظام  پاکستانی نژاد ڈاکٹرز کی امریکی ایسوسی ایشن ہے APPNE کے نام سے جو نیو انگلینڈ میں ہوتی ہے اور جن کی تقریب میں مَیںKeynote speaker ہوں انہوں نے کیا ہے۔ میں مزید پندھراں شہروں میں جا رہا ہوں اور جہاں جہاں میں جن یونی ورسٹیوں میں جا رہا ہوں وہاں کی جو لوکل پاکستانی اسٹوڈنٹ ایسوسی ایشنز ہیں وہ میرے ٹہہرنے کا انتظام کر رہی ہے یا وہ متعدد پاکستانی جن کا میرے سے آن لائن رابطہ تھا اور میں ان سے پہلی پہلی دفعہ مل رہا ہوں وہ میرے ٹہہرنے کا انتظام کر رہے ہیں۔ جیسے بوسٹن میں علی زیدی ہیں، نیو یارک میں فوزیہ ہیں، پرنسٹن میں عاطف تھے اسی طرح دیگر شہروں میں مختلف پاکستانی تنظیمیں اور افراد ہیں جو میری رہائش یا آنے جانے کا بخوشی انتظام کر رہے ہیں۔ مجھے اگر کسی ادارے سے فنڈنگ لینی ہوتی تو اتنے لوگوں کو زحمت دینے سے بچ جاتا۔ یہ بھی دیکھیں کہ میں پاکستان میں پچھلے چھے مہینے سے مستقل رہائش سے محروم ہوں اور خطرات کی بدولت مسلسل نقل مکانی کی اذیت سے گزر رہا ہوں اور اپنے گھر والوں کی رفاقت سے بھی محروم ہوں۔ سو اگر میں مارا جاؤں تو شہید بن جاؤں گا یا گولی لگ کے بھی بچ گیا تو ایجنٹ اور گولی نہ لگی تو ابھی بھی کچھ لوگوں کا میرے بارے میں یہی خیال ہے۔
میں نے یہاں امریکہ کے کسی بھی سرکاری ادارے کی جانب سے کسی تقریب کی دعوت قبول نہیں کی اور سوائے ایک تھنک ٹینک کے کسی بھی جگہ میں نہیں جارہا ہوں۔

پاک ٹی ہاؤس: آپ کے خیال میں سیاسی و عسکری قیادت کو مستقبل میں کیا اقدامات لینے چاہیے جو ملک کو بہتری کی جانب لے جائیں گے؟

جبران ناصر: عسکری قیادت کو تو سیاسی عمل سے مکمل طور پر دور رہنا چاہیے اور سیاستدنوں کو اپنا قبلہ درست کرنا ہوگا۔ مگر یہ جمہوری عمل کے تسلسل اور عوامی آگاہی اور عوام کی جمہوری عمل میں گہری شمولیت کے ذریعے ہی ہوگا۔ ابھی کچھ عرصے پہلے سوشل میڈیا پر ایک پیج ناز گل بلوچ کے نام سے انسانی حقوق کے کارکنوں کی کردار کشی میں مصروف تھا مگر اس پیج کو لائیک کرنے والے اور اس کی سپورٹ کرنے والے بھی تو عوام ہی تھے۔ ہمیں غدار کہنے والے بھی تو عوام ہی ہیں۔ تو سوال یہ ہے کہ یہ ایسا کیوں کرتے ہیں، اس لیے کہ جہالت اور لاعلمی کی بدولت بہت سے ایسا کرنا حق بجانب سمجھتے ہیں۔ تو ہمیں مکمل آگاہی پر کام کرنا ہوگا۔ جب ضرب عضب شروع ہوا تب بھی اس پر بحث ہورہی تھی مگر لوگوں نے جب پشاور میں اسکول کا واقعہ دیکھا تو انہوں نے اچھے اور برے سمیت تمام قسم کے طالبان کی مخالفت شروع کردی سو کیا ہم آگاہی پر تب ہی کام کریں گے جب ہمیں بچوں کی لاشیں نظر آئیں گیں۔ میں یہاں واضح کردوں کہ میں سیاست میں حصہ نہیں لینے جارہا بلکہ میرا کام عوامی شعور پر کام کرنا ہے۔ انتخابی شعور اور عوامی رابطوں کا کام کرنا ہے۔ تاکہ جو ووٹ پڑے وہ شعوری ہو۔

پاک ٹی ہاؤس: یہ جو خیال ہے کہ ریاست اور مذہب کو الگ ہونا چاہیے اور پاکستان کا سیکیولر آئین و نصاب ہو اس پر آپ کے کیا خیالات ہیں؟

جبران ناصر: اس میں تو دو رائے نہیں ہے کہ مذہب اور ریاست کو الگ ہونا چاہیے مگر یہ جو یوٹوپیا ہے کہ یہ دونوں الگ ہوں یہ De-radicalization کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ جب تک عوام اسے قبول نہیں کر لیتے سیاست دان بھی ایسا نہیں کرسکتے۔ کیا اگر آج متشددانہ مذہبی تشریحات پر مبنی قوانین ختم کردیے جائیں تو کیا عوام لوگوں قانون ہاتھ میں لے کر مذہبی اشتعال کی بدولت مارنا ختم کردیں گے؟ میں نے جو بعض اسلامی شخصیات کا حوالہ دیا تھا تو اس کی وجہ یہ تھی کہ ہمارا آئین کہتا ہے کہ ملک میں کوئی قانون قرآن اور سنت کے خلاف نہیں بنے گا مگر میں نے کہا کہ ابھی بھی جو قوانین ہیں جنھیں ہم اسلامی کہتے ہیں وہ مختلف معروف مکتبہ فکر کے لحاظ سے بھی اسلامی نہیں ہیں۔ اسی طرح ہمارا نصاب ہے اس میں سے جو نفرت پر مبنی تعلیم ہے اسے ہٹانا ہوگا۔ ہمارے نصاب میں ایک تحقیق کے مطابق 242 نفرت پر مبنی سطریں ہیں مگر ابھی جب خیبر پختونخوا میں نصاب بدلا گیا تو وہ پہلے سے بھی گیا گزرا تھا سو یہ سیاستدان کیوں نصاب کو بدلیں گے اس میں ان کا کیا مفاد ہے جب تک لوگوں کو شعور و آگاہی نہیں ہوگی اور وہ ان سے مانگ نہیں کریں گے۔ سو ہمیں حکومت کی طرف نظر لگانے کی بجائے خود سے کچھ کرنا ہوگا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ہم امید کرتے ہیں کہ قارئین جبران ناصر کے خیالات پر اٹھے خدشات پر انکے موقف پر اپنی رائے کا اظہار کریں گے۔

  • Khawar

    i wish if Jibran could speak only this much, though still not enough, of his views about role of military in his presentations …

  • yasserlatifhamdani

    Jibran Nasir is an extraordinary young man and I am proud to call him my friend.

  • Ahmed

    I totally agree with his views. We need more people like him. However, people with this mentality are not only rare but they also have a social gap with the masses and hence cant transmit their views convincingly across to them, if they are willing, that is. This is a real dilemma. If the broadminded Pakistanis are to spread awareness amongst the masses, they have to group together, remove the barriers, step out of comfort zones and face the elements. We will have to sacrifice our TV times, and air-conditioned rooms and mix with common people if we really want to de-radicalise, de-Islamise Pakistan.