بلوچستان کا نام لینا حرام ہے- کیوں؟ لاپتہ یا مسخ شدہ

رپورٹ: محمد حمزہ بن طارق

baloch2

جامعہ کراچی میں “Teachers Against War & Oppression” کی جانب سے “لاپتہ بلوچ افراد اور ریاست و معاشرے کے کرادر” کے حوالے سے آرٹس آڈیٹوریم میں ہونے والا سیمنار جامعہ کراچی کی انتظامیہ نے مبینہ طور پر ریاستی دباؤ کی وجہ سے منسوخ کردیا جسکے بعد سیمنار کے منتظم شعبہ الائیڈ کمیسٹری کے استاد ڈاکٹر ریاض احمد اور دیگر اساتذہ و طلباء بشمول مہمانوں (ماما قدیر، میر محمد تالپور اور فرزانہ مجید) نے آڈیٹوریم کے باہر آرٹس لابی میں ہی ڈیرہ ڈال دیا اور سیمنار ایک بھرپور احتجاج کی شکل اختیار کر گیا- لوگوں کی تعداد میں زبردست اضافے کے ساتھ منتظمین نے شرکاء سے خطاب کیا اور ساتھ ہی وائس چانسلر کے دفتر کے باہر احتجاج بھی کیا-
تقریب کو روکنے کے لئے جامعہ کراچی کے تین بڑے داخلی دروازے مسکن گیٹ، سلور جوبلی اور شیخ زید پر رینجرز کا سخت پہرا تھا اور کافی طلباء اور ابلاغ عامہ کے اداروں کے نمائندوں کو اندر آنے سے روک دیا گیا گو کہ مہمانوں کا پینل کسی طرح جامعہ کے حدود میں داخل ہونے میں کامیاب رہا-
تقریب کے اختتام پر چند شر پسند عناصر نے بدتمیزی کرنے اور تقریب خراب کرنے کی پوری کوشش کی مگر انکو ایسا کرنے میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا-
ہم یہاں ڈاکٹر ریاض، ماما قدیر، میر تالپور اور فرزانہ مجید کی تقاریر سے اخذ شدہ مواد نقل کر رہے رہیں امید ہے قارئین کی معلومات میں اضافہ ہوگا اور حقائق سے بھی باخبر ہونگے-

ریاض احمد:
ہمارا مقصد کسی کو نقصان پہنچانا یا کوئی شورش برپا کرنا نہیں تھا-
آخر ایسی کیا بات ہے جو بلوچستان کا نام لینا بھی اس ملک میں حرام قرار دے دیا گیا ہے؟
یہ کیسی جمہوریت ہے جس میں لاهور کی *LUMS* میں بلوچستان پر بات نہیں کرنے دیتے- کراچی میں ایک کیفے کی چار دیواری میں بند گفتگو کے بعد اسکی مالکن سبین کو بہیمانہ طریقے سے موت کے گھاٹ اتار دیا جاتا ہے؟
جامعہ کراچی جو اس ملک کے سب سے بڑے شہر کی پبلک سیکٹر یونیورسٹی ہے اور ہمارے ٹیکس سے چلتی ہے- اب یہاں بھی ہم کو بلوچستان پر بات کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی؟
یہ آرٹس آڈیٹوریم ہمارا ہے نہ کہ کسی کی ذاتی جاگیر ہے- ایکیڈیمک ڈسکشن اور آزادی اظہار رائے کے حق کو حاصل کرنے کے لئے ہم کسی بھی حد تک جائیں گے- ریاست کر کیا رہی ہے سوائے لارے دینے کے؟صرف بلوچ ہی نہیں بلکہ شیعہ ، احمدی اور ہزارہ بھی قتل ہوتے ہیں- انکی نوکر شاہی کو تقویت بخشنے کی مزدوری کرتے ہوئے پختون سندھی و پنجابی بھی قتل ہوتے ہیں- خود کراچی شہر میں اردو بولنے والوں کا استحصال ہوتا ہے اور ریاست کیا کرتی ہے؟ میں بتاتا ہوں-
ریاست یوٹیوب بند کرتی ہے-
ریاست زبان کاٹ دیتی ہے-
ریاست سائبر کرائم بل لانے میں مصروف ہے-
ریاست اپنا اختیار عسکری عدالتوں کی صورت میں اہل وقار کو بیچ دیتی ہے-
ریاست بلوچستان سے زندہ بلوچوں کو غائب کر کے انکی مسخ شدہ لاشوں کو صحرا میں پھینک دیتی ہے-
ریاست آپکو اور ہم کو بولنے سے روکتی ہے-
ہم کیوں نہ بولیں؟
ریاست ماضی میں خود بنائے ہوئے مذہبی دہشتگردوں کو تحفظ دیتی ہے مگر ماما قدیر اور فرزانہ مجید کے نام ای سی ایل میں ڈال دیتی ہے-
ماما قدیر اور میر تالپور اور فرزانہ کو سخت تپتی دھوپ میں گھنٹوں روکنے کی کوشش کرتی ہے تاکہ وہ جامعہ میں داخل نہ ہوں-
رینجرز کس کے دم پر ان سے بدتمیزی کرتی ہے؟
جامعہ کراچی کو چھاؤنی بنانے میں کامیاب ہوگئی رینجرز مگر ہم اساتذہ اور طلباء انکو اپنا حق آزادی اظہار رائے کسی صورت نہیں چھیننے دینگے-
جو سیمنار آرٹس آڈیٹوریم کے بند کمرے میں ہونا تھا وہ اب یہاں باہر آرٹس لابی میں ہوگا اور ہم یہاں اس دھوپ، سخت گرمی، اور فرشی نظام کے باوجود اس ہی مقام پر ڈیرہ ڈال کر بنا مائک کر چیخ چیخ کر اپنی آواز لوگوں تک پہنچائیں گے-
ریاست کے ماضی میں خود بنائے ہوئے درندوں نے پچاس ہزار انسان موت کے گھاٹ اتار دیئے- ارے ہم تو 1971 میں بھی تمہیں سمجھاتے تھے کے یہ مت کرو جو کر رہے ہو مگر تمہارے مظالم اور بدمعاشی کی وجہ سے پاکستانیوں کی اکثریت نے تمہیں لات مار دی. ہم آج بھی تمہیں سمجھا رہے ہیں کہ لاپتہ بلوچوں کو واپس کردو- اگر وہ واقعی مجرم ہیں تو عدالت میں پیش کرو-
ہم پاکستان نہیں توڑنا چاہتے بلکہ اپنی جھوٹی انا اور وقار بچانے کی کوششوں میں تم لوگ ایک بار پھر سے پاکستان توڑنا چاہتے ہو- ہم نہیں بلکہ خود تم پاکستان اور پاکستانیوں کے بدترین دشمن ہو- آج ہمارے اساتذہ، طلباء، بچے، بڑے اور سول سوسائٹی کے ارکان نے بھاری تعداد میں یہاں شرکت کر کے بتا دیا کہ کون اس ملک سے وفادار ہے اور سلامتی چاہتا ہے اور کون اس ملک کے امن و سلامتی کا دشمن ہے-
ابھی بھی بہت بڑی تعداد میں لوگوں کو شامل ہونے سے زبردستی روکا جارہا ہے اور میڈیا کو اندر نہیں آنے دیا جارہا- جامعہ کراچی کے تین بڑے دروازے مسکن گیٹ، سلور جبلی گیٹ اور شیخ زید گیٹ پر رینجر اور ایف سی کے اہلکاروں نے سخت پہرا دیا ہوا ہے اور کسی کو بھی اندر نہیں آنے دے رہے- بہر حال ہم لوگ اپنے مقاصد میں کامیاب ہوئے اور آپ سب کے یہاں آنے کا بہت شکریہ – یہاں کی باتیں اور تصاویر کو جنگل میں آگ کی طرح سوشل میڈیا پر پھیلا دیں بس یہی گزارش ہے- شکریہ بہادر دوستوں!

ماما قدیر: ہم لوگ کسی کا برا نہیں چاہتے- کسی سے دشمنی نہیں رکھتے- ہمارا مقصد پر امن جدوجہد ہے- ہم نے کوئٹہ سے اسلام آباد تک لانگ مارچ کیا مگر ہماری بات نہیں سنی گئی- ہم بھی انسان ہیں- لمز میں ہمکو بولنے نہیں دیا- ملک سے باہر نہیں جانے دیتے کیا ہم نے کسی کا خون بہا دیا؟ کراچی میں ہم زبان کھولتے ہیں تو ہماری بہن سبین کو مار دیا جاتا ہے- جامعہ کراچی میں بولنے آئے تو کہتے ہو مت بولو- خاموش ہوجاو- ایک جانب کہا جاتا ہے کہ بات کرو ہتھیار نہیں اٹھاو- جب ہم بات کرتے ہیں تو کہتے ہو بات بھی نہ کرو- یہ کیسی منافقانہ پالیسی اور ظلم ہے؟ ہمارے بچے اور لاپتہ افراد بے شک ہمارے حوالے نہ کرو مگر انکو میڈیا اور عدالت کے سامنے ہی پیش کردو- بتاو تو کے وہ لوگ زندہ ہیں یا انکی بھی مسخ شدہ لاشیں ملیں گی ہمکو؟
ہم کہاں جائیں ہم مظلوم ہیں ہم ظالم نہیں- ہمارا ایک ایک بچہ انقلابی ہے ہم قلم سے جنگ لڑنا چاہتے ہیں تم قلم بھی ہاتھ سے چھین لیتے ہو اور پھر کہتے ہو کہ ہمارے بچے ہتھیار اٹھا رہے ہیں- ہم اپنی بقاء کی جنگ لڑ رہے ہیں اور ہم اپنے جائز حقوق کے متلاشی ہیں- اسکے سوا ہمکو کچھ نہیں چاہیئے- بس ہمارے لوگ ہمارے حوالے کردو آنکھیں اندھی ہونے سے پہلے یہ بوڑھا اپنے بیٹے کو دیکھنا چاہتا ہے-

میر محمد تالپور:
یہ سلسلے جو لوگ غائب ہوجاتے ہیں یہ آج کے نہیں ہیں بلکہ 1960 کی دہائی سے یہ سلسلہ جاری ہے اور مشرف کے زمانے سے یہ سلسلہ زور پکڑتا گیا- اشرفیہ نے جان بوجھ کر بلوچستان کو پسماندہ کر کے رکھاہے اور اب آپ نے سنا ہی ہوگا کہ ڈاکٹر مالک نے بھی بول دیا کہ پاک چین راہداری معاہدے پر انہیں اعتماد میں نہیں لیا گیا- آپ کو اندازہ ہونا چاہیئے کہ کافی قوم کے غدار بلوچ سردار بھی ریاست کے ہاتھوں بکے ہوئے ہیں-  پاکستانی اشرافیہ نے جتنا بھیانک کیا ہے اس سر زمین بلوچستان کے ساتھ ہمارا دکھ اور درد بنگلہ دیش کے لوگ سمجھ سکتے ہیں کیونکہ ریاست نے ان پر بھی ایسے ہی مظالم ڈهائے- ابھی بھی وقت ہے ہمارے لاپتہ افراد ہمکو واپس کردیں اور اپنے اندر کے دہشتگردوں کو پکڑیں- ہمارا پیچھا چھوڑیں- ہمارے لوگ اور جائز حقوق ہمیں لوٹائیں- ہمکو غائب کردو مگر ہماری زبانیں بند نہیں کرواسکتے آپ لوگ-
فرزانہ مجید:
میں انتہائی مجبوری کے عالم میں جگہ جگہ جا کر اپنے بھائی اور دوسرے مظلوم بھائیوں کی خاطر آواز احتجاج بلند کرتی ہوں- میرے بھائی نے کبھی کسی معمولی چیز کے لئے بھی گھر سے باہر نہیں جانے دیا- کہتا تھا میری بہنا دھوپ میں گرمی تجھے باہر کیوں جانے دوں؟ ابھی تیرا بھائی ہے- جوان بھائیوں کی بہنیں ہر کام اپنے بھائیوں سے بولتی ہیں-
آج میں آپ سب کے سامنے ( روتے ہوئے) کہتی ہوں میرے بھائی اس ریاست نے جو ماں جیسی نہیں ہے- تمہیں مجھ سے چھین لیا ہے- تمہاری بہن جو کبھی پورا گاوں بھی نہیں گھومی تھی صرف تمہیں ڈهونڈنے کی خاطر گلی گلی شہر شہر کوئٹہ سے اسلام آباد تک پیدل چل کر گئی مگر تم نہیں ملے-
میں انسانیت کے لئے درد دل رکھنے والے تمام لوگوں سے اپیل کرتی ہوں کہ میرے بھائی اور دیگر لاپتہ افراد کی بازیابی کے لئے ہماری مدد کریں- ہم خاموش نہیں بیٹھیں گے-
طلباء کی جانب سے ان تمام مہمانوں کا استقبال گلاب کے پھول برسا کر کیا گیا تھا-
امید ہے کہ اے کاش کسی دن ہماری ریاست کو بھی عقل آئے اور ان محروم بلوچ پاکستانیوں کو انکے پیارے، انکے وسائل اور انکے جائز حقوق بھی دے دیئے جائیں- آخر ریاست کب انکی راہ میں کانٹوں کی جگہ پھول بچھائے گی؟

baloch5
baloch4
baloch6