سیمور ہرش کے انکشافات

تحریر: محمد شعیب عادل

osama4

نیویارکر میگزین کے رپورٹر سیمور ہرش نے لندن ریویو آف بکس LRB پر اپنے ایک حالیہ مضمون میں اسامہ بن لادن کو پکڑنے کے لیے امریکی آپریشن کے حوالے سے ایک مضمون لکھا ہے جس پر پوری دنیا میں بحث ہو رہی ہے۔ امریکی کالم نگاروں کے مطابق ہرش کی کہانی کمزور ہے اور اس کہانی کا ذریعہ ایک ریٹائرڈ پاکستانی فوجی افسر ہے جس کی ٹپ پر امریکہ نے اسامہ بن لادن کے خلا ف آپریشن کیا۔
سیمور ہرش نے جو انکشافات کیے ہیں وہ پاکستانی سیاست کے کسی بھی طالب علم کے لیے نئے نہیں ہیں سوائے اس کے کہ سعودی عرب بھی اسامہ بن لادن کی موجودگی سے آگاہ تھا اور پاکستانی فوج سعودی عرب سے اس کو قابو کرنے کے نام پر پیسے لے رہی تھی۔
سیمورہرش کا یہ کہنا کہ پاک فوج کی ہائی کمان کو اسامہ کی موجودگی کا علم تھا بلکہ پاک فوج نے اسے ایک قیدی بنا کر رکھا ہوا تھا تو یہ بات بالکل درست ہے۔ کیونکہ پاکستانی سیاست کا ایک عام طالب علم بھی یہ جانتا ہے کہ یہ ناممکن ہے کہ القاعدہ کا سربراہ ابیٹ آباد میں رہ رہا ہو اور اس کی ہائی کمان یعنی جنرل کیانی (سابقہ آئی ایس آئی چیف) اور جنرل شجاع پاشا( آئی ایس آئی چیف) کو اس بات کا علم نہ ہو۔ ہمارے ہاں مذہبی رہنماؤں کے متعلق اکثر یہ خبریں شائع ہوتی ہیں کہ فلاں کو نقص امن کے خدشے کے زمرے میں حفاظتی حراست میں لے لیاگیا ہے وغیرہ وغیرہ اور اسامہ بن لادن بھی مبینہ طور پر پاک فوج کی حفاظتی حراست میں تھے جہاں سے وہ القاعدہ کے باقی ارکان سے مسلسل رابطے میں تھے۔
سیمورہرش کا یہ کہنا کہ ایک سابقہ پاکستانی فوجی افسر نے اسلام آباد میں سی آئی اے کے سٹیشن چیف کو اسامہ کی موجودگی کی ٹپ دی ( امریکی حکومت نے اسامہ کے متعلق اطلاع دینے والے کو 25 ملین امریکی ڈالر کا انعام رکھا تھا) تو یہ خبر انہی دنوں پاکستانی حلقوں میں گردش کرتی رہی تھی(اب پاکستانی حکومت نے اسے تسلیم بھی کر لیا ہے)۔ مخبری کے بعد سی آئی اے نے اسامہ کی موجودگی کی تصدیق کے لیے اپنا ایک نیٹ ورک تشکیل دیا، تاکہ اس بات کا اندازہ لگایا جا سکے کہ مخبر کی اطلاع میں کتنی صداقتہے، اور ابیٹ آباد میں اسامہ کے گھر کے سامنے ہی مکان لے کر اس کی نگرانی شروع کر دی ۔ اس کے ساتھ ساتھ سی آئی اے نے سٹیلائٹ کے ذریعے بھی اس مکان کی نگرانی شروع کر دی۔
یاد رہے کہ سی آئی اے پاکستان میں کسی کے خلاف آزادانہ ایکشن نہیں لے سکتی۔ اس کے لیے وہ پاکستانی اداروں کو اطلاع دینے کی پابند ہے اور پاکستان کی سیکیورٹی ایجنسیاں اس کے خلاف کاروائی کرتی ہیں۔ اس کی کئی مثالیں موجود ہیں۔ نائن الیون کے بعد دہشت گردی کے خلاف پاکستان نے امریکہ کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا تھا ۔یہ علیحدہ بات ہے کہ پاکستان نے اس سلسلے میں اپنا دوغلا کردار اداکیا۔ اس نے ایک طرف دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پر امریکہ سے امداد بھی لی تو دوسری طرف طالبان کی امداد بھی کی ۔
اس دوران یعنی جنرل مشرف کے دور میں بہت سے طالبان رہنما پکڑ کر امریکہ کے حوالے کیے گئے ۔ 2002 میں اسامہ بن لادن کے دست راست ابو زبیدہ کو پاکستان سے پکڑا گیا۔ 2003 میں اسلام آباد سے جماعت اسلامی کی ایک خاتون رہنما کے گھر سے خالد شیخ محمد پکڑا گیا (جس کی ٹپ پر بعد میں عافیہ صدیقی کو بھی گرفتار کیا گیا) ۔2005 میں ابو فراج اللبی کو اس کے کئی ساتھیوں سمیت گجرات سے پکڑا گیا۔ اسی طرح 2011 میں کوئٹہ سے القاعدہ کا اہم رہنما یونس المرطینی کو دو ساتھیوں سمیت گرفتار کیا گیا تھا۔ ان رہنماؤں کی موجودگی کی اطلاع سی آئی اے نے دی تھی اور انہیں پکڑنا آئی ایس آئی کی مجبوری تھی۔اگر پاکستانی خفیہ ایجنسی ان کو غائب کرتی تو دہشت گردی کے نام پر ملنے والے فنڈز بند ہونے کا خدشہ تھا۔
لہذا جب سی آئی اے نے اسامہ کے گھر کی نگرانی شروع کر دی تو آئی ایس آئی کے پاس کوئی چارہ نہیں رہا تھا کہ وہ انکار کرے لہذا اس نے بادلِ نخواستہ سی آئی اے کے ساتھ تعاون کیا۔ سی آئی اے نے اسامہ کی شناخت کرنے کے لیے ڈاکٹر شکیل آفریدی کی خدمات بھی حاصل کیں اور پاکستانی فوج کے ڈاکٹر عامر عزیز نے بھی اپنا کردار ادا کیا اور جب یہ کنفرم ہو گیا کہ وہ اسامہ موجود ہے تو پھر آپریشن کا فیصلہ ہوا۔ قربانی کا بکرا میجر ڈاکٹر عامر عزیز کی بجائے ڈاکٹر شکیل آفریدی بن گیا۔
پاکستانی سیاست کا طالب علم یہ بھی بخوبی جانتا ہے کہ امریکی ہیلی کاپٹر افغانستان سے پاکستانی حدود میں داخل ہوں اور کئی سو کلومیٹر کا فاصلہ طے کرکے آپریشن کرکے چلے جائیں اور اسلامی دنیا کی واحد ایٹمی طاقت کو اس کا علم نہ ہوسکے ایک اچھنبے کی بات تھی لیکن سیمور ہرش نے معاملہ صاف کر دیا ہے۔ پاکستانی فوج کی قیادت نے القاعدہ اور طالبان کے سامنے شرمندگی سے بچنے کے لیے یہ کہہ دیا کہ ہمیں تو اس کا کوئی علم نہیں اور امریکہ نے بھی پاکستان کی بات مان لی کیونکہ ہم دیکھتے ہیں کہ اس سے پہلے بھی پاکستانی فوج اور امریکہ کے درمیان ڈرون حملوں کے متعلق یہ مفاہمت موجود تھی اور پاک آرمی نے ڈرون حملوں کے لیے شمسی ائیر بیس سی آئی اے کو دے رکھا تھا جہاں سے القاعدہ کے خلاف ڈرون حملے ہوتے رہے ہیں اور پاکستانی حکومت اورامریکی حکومت دونوں ہی اس کو ماننے سے انکاری رہے۔
سیمور ہرش کی کہانی نے پاکستان کی ملٹری ایسٹیبلشمنٹ کا پول کھول دیا ہے کہ کیسے وہ دہشت گردوں کو پالتی ہے اور اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرتی ہے اور عوام کے سامنے روشن خیالی ( اورسب سے پہلے پاکستان )کے نعرے لگاتی ہے اور پاکستان کا روشن خیال طبقہ جرنیلوں کو نجات دہندہ سمجھنا شروع ہو جاتا ہے ۔ آج بھی میڈیا غیر محسوس طور پر جنرل راحیل شریف کو نجات دہندہ کے طور پرپیش کر رہا ہے۔
آپریشن کے بعد حکومت پاکستان کو تنقید کا نشانہ بنایا جارہا تھا جس پر گیلانی حکومت نے ذمہ داروں کا تعین کرنے کے لیے ابیٹ آباد کمیشن تشکیل دیا جس کی رپورٹ دبا دی گئی بلکہ الٹا آپریشن کے بعد اپنی شرمندگی مٹانے کے لیے جنرل کیانی اور جنرل پاشا نے اس کا بدلہ سویلین حکومت سے لینے چاہا اور اس کے خلاف نام نہاد میمو سیکنڈل کھڑا کیا گیا۔چونکہ جرنیل سیاست سے پیدل ہوتے ہیں،لہذا میمو سیکنڈل پر انہیں منہ کی کھانی پڑی۔
میمو سکینڈل کے دوران ایبٹ آباد کمیشن کی کارگردگی پر وزیر اعظم گیلانی نے کہاتھا کہ یہ کمیشن اس لیے بنایا گیا کہ وہ معلوم کرے کہ اسامہ بن لادن پاکستان میں کیسے آیا؟وہ کس کی اجازت سے یہاں رہ رہا تھا،؟ اس کی حفاظت کون کررہا تھا ، اور اس کی موت کیسے ہوئی ؟ کیسے امریکی سیلز ابیٹ آباد پہنچے اور کیا ملک کی سیکیورٹی ایجنسیاں واقعی لا علم رہیں؟ ان سوالوں کا جواب تلاش کرنے کی بجائے  اس کمیشن میں سویلین حکومت کی کردار کشی شروع کردی اور حکومت کو ذمہ دار ٹھہرانا شروع ہو گیا ہے۔