ایک دن پاک فوج کے ساتھ

تحریر: عائشہ کنول، عثمان شاہد

Image via Dawn
Image via Dawn

فوجی مائنڈ سیٹ میں واضح تبدیلی محسوس کرنے کےلئے کسی کتاب، تجزیہ نگار یا تحقیقی مقالہ کی ضرورت نہیں ۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ سے آرمی پبلک سکول پشاور پر دہشت گردوں کے حملہ تک بہت کچھ بدل چکا ہے اور تبدیلی کا یہ سلسلہ جاری ہے۔ تاہم ایک بات واضح ہے کہ فوج کسی طرح بھی اپنی طاقت، رتبے اور عزت میں کمی کےلئے تیار نہیں ۔ سیاست دانوں کی جانب سے چند کاوشوں کے باوجود ریاستی طاقت کا محور و مرکز آج بھی پارلیمان نہیں ہے۔ جنرل راحیل شریف کے بطور آرمی چیف عہدہ سنبھالنے کے بعد ان کی ایماء پر عوامی رابطہ کےلئے ایک نیا اقدام کیا گیا۔ اب فوج نے سکول، کالجوں ا ور یونیورسٹی کے طلباء سے براہ راست رابطہ قائم کیا ہے۔ اس کا مقصد نوجوان نسل کو فوج کے پیشہ ورانہ معمول اور کسی بھی مشکل گھڑی میں اس کے کردار سے واقف کرنا ہے۔ اس حوالہ سے ‘نوجوانوں کا پاک فوج کے ساتھ ایک دن’ کے نام سے ایک پروگرام مرتب کیا گیا ہے جس میں طلباء مختلف شہروں میں افواج پاکستان کے مختلف کوارٹرز اور ڈویژنز کا دورہ کرتے ہیں جہاں انہیں فوج کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور دیگر امور کے حوالے سے آگاہ کیا جاتا ہے۔ لاہور کی ایک نجی یونیورسٹی کی نمائندگی کرتے ہوئے 11ڈویژن کا دورہ کرنے کا اتفاق ہوا ۔
13 مارچ 2015 کی صبح تقریباََ آٹھ بجے پاک فوج کے ساتھ ایک غیر رسمی نشست کے لیے روانہ ہوئے۔ پاکستانی ہونے کے ناطے پاک فوج سے قربت فطری عمل ہے۔ لیکن فوج کی سیاسی مداخلت اور دہشتگردی کے خلاف جنگ کے حوالے سے ذہن تذبذب کا شکار تھا۔ اسی کیفیت کے ساتھ ایک روزہ دورہ کا آغاز کیا۔
یادگار شہداء
4 کور کے آپریشن المیزان کے دوران شہید ہونے والے فوجیوں کی یادگار پر سلامی پیش کی گئی اور پھول رکھے گئے۔ یہ ایک بہت ہی رسمی تقریب تھی جس کا صرف ایک ہی مقصد سمجھ میں آتا ہے کہ عام لوگوں کو فوج کی قربانیوں کا احساس دلایا جائے۔ کیونکہ صرف ایک بریگیڈیئر وہاں موجود تھے جنھوں نے سلامی کے دوران پریڈ کا مشاہدہ کیا۔ ان کی دلچسپی تقریب سے زیادہ یونیورسٹی کے طلباء سے گفتگو میں تھی۔ یہاں حیران کن اور خوشگوار امر یہ تھا کہ فوج کا بہت ہی لچک دار اور مروت بھرا رویہ دیکھنے میں آیا۔
دہشتگردوں کے خلاف عملی مظاہرہ
تقریباََ 11 بجے ٹریننگ سینٹر پہنچے جہاں دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کا مظاہرہ کیا گیا۔ اسے ایک فرضی کہانی کی طرح پیش کیا گیا کہ کچھ دہشت گرد ایک فوجی عمارت پر حملہ کرتے ہیں اور پہلے سے ہی کچھ معصوم لوگ ان کی قید میں ہیں جنہیں وہ ڈھال کے طور پر استعمال کرتے ہیں لیکن ایک سنائپر کا نشانہ بننے کے بعد ایس ایس جی کمانڈوز کا آپریشن شروع ہو جاتا ہے جواپنی پیشہ وارانہ صلاحیتوں کے بل بوتے پر جلد ہی اس صورتحال پر قابو پا لیتے ہیں ۔ طلباء کے لئے یہ دلچسپ مشق تھی جس کے بعد انہوں نے فوج کے حق میں پرجوش نعرے بازی کی۔ کچھ فاصلہ پر اسلحہ کی نمائش کی گئی۔ طلباء کو مختصراََ ہر ہتھیار کی خصوصیات کے بارے میں مطلع کیا گیا۔ سب سے دلچسپ اور ولولہ خیز حصہ طلباء کو فوجیوں کی نگرانی میں 9ایم ایم اور اے کے 47 چلانے کی تربیت اور عملی مظاہرہ کی اجازت تھا۔ بہت سے طلباء کے لیے فائر کرنے کا پہلا تجربہ یادگار رہا۔
ہیڈ کوارٹر 11 ڈویژن
یہاں کرنل کامران نے جنوبی وزیرستان،فاٹا اور قبائلی علاقہ جات کے زمینی اور سماجی حقائق سے متعلق ابتدائی معلومات فراہم کیں ۔ اس کے بعد آپریشن ضرب عضب اور پاک فوج کی کامیابیوں سے متعلق بریفنگ دی گئی۔ اس بریفنگ کے بعد یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں تھا کہ پاک فوج اپنے دشمن سے بخوبی واقف ہے۔ پوری بریفنگ کے دوران دہشت گردوں سے ان کی مراد طالبان، القائدہ اورایسی ہی دیگر تنظیمیں تھیں ۔ ایک گھنٹہ جاری بریفنگ میں کہیں بھی بھارت کا ذکر نہیں تھا۔ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اب فوجی مائنڈ سیٹ میں اولین و روایتی حریف بھارت نہیں بلکہ وہ ملکی و غیر ملکی عناصر ہیں جو پاکستان میں دہشت گردی پھیلا رہے ہیں ۔ ان کا نشانہ نہ صرف عام عوام بلکہ دفاعی ادارے بھی ہیں ۔
11ڈویژن آرمرڈ ۔بیٹل فیلڈ
یہاں مختلف قسم کے مواصلاتی اوزار اور نظام نصب تھے۔ ائیر کرافٹ گن جس کی مار 8 کلومیٹر ہے۔ اس کے علاوہ ٹینک اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا اسلحہ دستیاب تھا۔ اس جگہ کی سب سے اچھی بات یہ تھی کہ ہر چیز چالو تھی اور ہم خود اس میں بیٹھ کر تجربہ کر سکتے تھے۔ ہر مشین کے پاس اس کا ماہر کھڑا تھا جو مکمل معلومات فراہم کر رہا تھا۔ یہاں میوزیم بھی تھا جس میں پرانی اور نایاب اشیاء کی نمائش کی گئی لیکن سب سے قابل ذکر یہاں موجود تصویری مجموعہ تھا جو تقسیم ہند سے قبل آرمرڈ ڈویژن کے قیام سے تا حال تمام یادگاروں کو سموئے ہوئے ہے۔
گنڈا سنگھ بارڈر قصور
قصور میں گنڈا سنگھ حسینی والا بارڈر پر پرچم کشائی کی تقریب سے قبل طلباء نے 11ڈویژن انفینٹری کا دورہ کیا جہاں مختلف ہتھیاروں اور اوزاروں کی نمائش کے بعد ظہرانہ دیا گیا۔ اس کے بعد قافلہ پریڈ دیکھنے کےلئے روانہ ہوا۔
جامع تلاشی کے بعد سب گنڈا سنگھ بارڈر پر وی آئی پی نشستوں پر بیٹھ گئے۔ دونوں طرف پریڈ کے نام پر “طاقت” کا عجیب وغریب مظاہرہ دیکھنے میں آیا۔ نوجوانوں کے پر جوش نعروں میں ان کی پاک فوج سے الفت اور ریاست کی جانب سے حب الوطنی کے وضع کردہ تقاضوں کی جھلک واضح تھی۔ سرحد پر نوجوان نسل کی نظریاتی سرحدوں پر قابض عناصر کا اندازہ ان کے نعروں سے ہی لگایا جا سکتا تھا۔ پریڈ ختم ہوتے ہی شام کی چائے اور میزبانوں کے تشکر کے بعد لاہور واپسی ہوئی۔
یہ دن مختلف حوالوں سے بہت اہم اور زبردست رہا۔ متعددگتھیاں سلجھیں اور بہت کچھ سیکھنے کو بھی ملا ۔فوج کی روایتی مہمان نوازی نے بہت متاثر کیا۔ فوج کے موجودہ مائنڈ سیٹ کو سمجھنے کےلئے یہ دورہ بہت اہم ہے ۔ ذاتی رائے میں یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ اب فوج نوجوان نسل سے رابطہ قائم کرتے ہوئے اپنا بہتر امیج بنانے میں کامیاب نظر آ رہی ہے۔ اس کا اندازہ اس بات سے ہی لگایا جا سکتا ہے کہ ملک بھر سے سکولوں اور کالجوں کے طلبا ء کی اتنی درخواستیں موصول ہوئی ہیں کہ انہیں یک روزہ دورہ کےلئے ایک سال پہلے ہی بکنگ کرانا پڑ رہی ہے۔

  • Dear sir shahid good to see you working on articles

  • Mansoor Ahmad

    AoA,
    A very interesting & informative article on Pak Army. Thanks for this share, Hope for the more like this in coming days.
    Best wishes for Team Pak Tea House & Blogger.
    Regards
    Mansoor

  • Hamail Khan

    Good Job.