انصاف کے بیس سال

تحریر: ابن اظہر

yogoslavia

نوے کی دہائی میں جب روس معاشی زوال کا شکار ہو کرکئی حصوں میں بٹ گیا تو یوگوسلاویہ میں بھی علیحدگی پسند رحجانات نے جنم لیا. پہلے سلووینیا کی مشرقی ریاست نے اور پھر کروشیا نےآزادی کا اعلان کر دیا. فروری 1992 میں تیسری ریاست بوسنیا نے بھی ایک ریفرنڈم کے بعد آزادی کا اعلان کر دیا.مسلمانوں کی اکثریت ہونے کےباوجود یہاں پر دوسری بڑی اکثریت سربوں کو یہ بات پسند نہ آئی. لہذا انہوں نے ہمسایہ ملک سربیا میں اپنے ہم نسل سربوں کے ساتھ مل کر بوسنیا کے مسلمانوں پر وہ ظلم توڑے کےجس کی مثال انسانی تاریخ میں کم ملتی ہے.ظلم کا یہ سلسلہ تین سال تک جاری رہا اور بلاآ خرعالمی طاقتوں کی مداخلت پر تمام ہوا.جب ظلم کا یہ سلسلہ جاری تھا تو سربوں کے جنگی جرائم کی تحقیق کے لئے 1993 میں اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل نے ہالینڈ کے شہر دی ہیگ میں انٹرنیشنل کریمنل ٹریبونل آف یوگو سلاویہ کے نام سےایک ادارہ قائم کیا. یہ ادارہ گزشتہ بیس سال سے بوسنیا اورملحقہ علاقوں میں ہونے والے انسانیت سوز مظالم کے مقدمات نمٹا رہا ہے.تقریباً آٹھ سو افراد کے عملے پر مشتمل اس ادارے کا سالانہ بجٹ تقریباً پچیس ۲۵ ارب روپے ہے۔ اس بین الاقوامی عدالت میں ایک وقت میں سولہ معزز جج اپنے فرائض سرانجام دیتے ہیں. پاکستان سے جناب جسٹس علی نواز چوہان اس عدالت میں خدمات انجام دیتے رہے ہیں.اس بیس سالہ طویل مقدمے میں اب تک تقریباً ساڑھے چار ہزار گواہ پیش ہو چکے ہیں اور مقدمے سے متعلق دستاویزات کی تعداد سولہ لاکھ تک جا پہنچی ہے. ساڑھے سات ہزار دن سے جاری اس تاریخ ساز مقدمے کا قابلِ غور پہلو یہ ہے اربوں خرچ اکرنے کے بعد اس مقدمے میں نامزد ملزمان کی تعداد صرف 161 ہے.انہی ملزموں میں سربیا کا سابق صدر سلوبان میلادوویچ بھی شامل تھا جو مقدمے کے دوران ہارٹ اٹیک سے مر گیا.
بیس جولائ 2011 اس مقدمے سے وابستہ لوگوں کے لئے اک یادگار دن تھا.اس دن اس تاریخی مقدمے سے جڑے آخری ملزم کو سات سال کی طویل جدوجہد کے بعدگرفتار کر لیا گیا . ماہرین کے اندازے کے مطابق 2016تک یہ مقدمہ بھی نمٹا دیا جائے گا.
انٹرنیشنل کریمنل ٹریبونل آف یوگو سلاویہ اپنے مینڈیٹ کو پورا کرنے کے بعدایک اور ادارے میں ضم ہو جائے گا لیکن اس طویل مقدمے میں سیکھنے کے لئےکچھ باتیں ہیں.پہلی بات کہ یہ دوسری جنگ عظیم کے بعد جنگی جرائم کے حوالے سے نازیوں کے خلاف ہونے والے نیورمبرگ ٹرائل اور جاپانیوں کے خلاف ہونے والے ٹوکیو ٹرائل کے بعد یہ اپنی نوعیت کاپہلا مقدمہ ہے.دوسرا اس ٹرائل میں پہلی دفعہ کسی اقتدار میں بیٹھے ہوۓسربراہ مملکت کو نامزد کیا گیا.تیسری اور اہم بات اس مقدمے کی طوالت ہے. بیس سال سے بھی زیادہ عرصے تک اس مقدمے کا جاری رہنا، اوراپنے ملے ہوۓ مینڈیٹ کو پورا کرنا بلاشبہ ایک شاندار کارنامہ ہے.
انٹرنیشنل کریمنل ٹریبونل آف یوگو سلاویہ کی کہانی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کے انصاف چاہیے دیر سے ملے اور اس کے لئے خواہ کتنی ہی بڑی قیمت کیوں نہ اداکرنی پڑےوہ کم ہے.یہ مقدمہ اقوام متحدہ جیسے ادارے کے لئے قابل فخر ہے اور اختلافات ا ور جنگوں سے لبریز اس کرہ ارض پر روشنی اور امید کاایک روشن استعارہ ہے .

مصنف کے بارے میں: موصوف اچھے بھلے کمپیوٹر انجنیئر تھے پھر یکدم جانے کیا سوجھی کے لکھنا شروع کر دیا . اب کوئی اور پڑھے یا نہ پڑھے یہ خود اپنی تحریریں بڑے شوق سے پڑھتے ہیں اور ان کا فرمانا ہے پڑھتا جا- شرماتا جا۔