مفتا

تحریر: عندیل علی

marriage

شادی کا کھانا کھانے کا دل سب کا کرتا ہے لیکن، کھلانا بہت مشکل ہوتا ہے۔ ہم من حیث القوم ایک دوسرے کو ذلیل خوار کیئے رکھتے ہیں، پتہ نہیں کس بات کا بدلہ لیتے ہیں۔ جانتے سب ہیں کہ یہ ایک رات کا کھانا تین سال کی تنخواہوں کے برابر ہوتا ہے، لیکن پتہ نہیں کیوں لوگ یہ سزا ایک دوسرے کو دینا اور دلوانا چاہتے ہیں۔ سلامی کے نام پر چند سو روپے دے کر بڑے خوش ہوتے ہیں لیکن شاید یہ نہیں جانتے ہیں کہ ہم ہزار روپے پرَ پلیٹ پھونک چکے ہوتے ہیں۔ جی ہاں ہزار روپے! اور یہ پلیٹ ہم پوری کھا بھی نہیں پاتے ہیں، ضائع کر دیتے ہیں، اور اگر بریانی ویسی نہ بنے جیسی ہمیں پسند ہے تو منہ بناتے ہیں، میٹھے میں ربڑی کی جگہ اگر صرف کھیر ہو تو افسردہ ہوجاتے ہیں۔ چائے اگر نہ ملے تو اگلے کی ساری مہمان نوازی کو فالتو قرار دے ڈالتے ہیں۔ سلاد چاہے سارا سال نہ کھائیں لیکن شادی میں ہمیں رشین سلاد ہی چاہیئے ہوتا ہے۔ پان ہمیں کھانا ہوتا، چاہے سارا سال نہ کھایا ہو! آئسکریم کی بھی چاہ رکھتے ہیں، چاہے گلا خراب ہو۔ آدھے لوگ چاہتے ہیں، اوپن ایئر انتظام ہو، آدھے بین کئوٹ کے خواہاں ہوتے ہیں۔ اور کچھ کا دلی ارمان ہوٹل میں عشائیہ تناول کرنے کا ہوتا ہے۔ بزرگ چاہتے ہیں تقریب گھر کے سامنے ہی منعقد کی جائے، تاکہ خاندانی ماحول رکھا جا سکے۔ لیکن کوئی یہ نہیں سوچتا اتنا پیسہ آئے گا کہاں سے۔
کئی لڑکیوں کا باپ کتنے عشائیے منعقد کروائے گا! ایک لڑکا کتنے نفوس کو اپنے ولیمے پر بلائے گا۔ نجانے ہم کیوں نہیں سمجھتے ہیں، یہ سینکڑوں لوگوں کا کھانا، انتہائی مہنگا ہوتا ہے، ہماری اس ظالمانہ رسم کا میزبانوں کی معاشی حالت ہر کیا اثر پڑتا ہوگا۔ ہمیں یہ خیال کیوں نہیں آتا ہے کہ آج جو فرمائشیں ہم کر رہے ہیں، کل ہمیں بھی پوری کرنی پڑیں گی۔ آخر ہم کیوں شادی جیسے مقدس فریضہ کو ایک ڈرائونہ خواب بنا دیتے ہیں! آخر ہم کیوں سادہ سی تقریب پر اکتفأ نہیں کرتے ہیں؟ ہاں ہیں ایسے جدی پشتی امرأ ہمارے درمیاں جو کرسکتے ہیں یہ سارا تام جھام، نہیں پڑتا ان کی جیب پر کوئی اثر، لیکن کرائے کے مکاں میں رہنے والے کا حشر ہم کیوں خراب کر ڈالتے ہیں؟ ایک ۸۰ یا ۱۲۰ گز کے مکان میں رہنے والے کو ہم سالوں تک مقروض کیوں بناڈالتے ہیں؟
یا تو ہم جلتے ہیں ایک دوسرے کی خوشیوں سے! کہ بیٹا کر شادی، اور پھر دیکھ کسیے ہم تجھے سڑک پر لاتے ہیں! یا پھر ہم سب احساسِ کمتری کے شکار ہیں! ’ہائے فلاں کیا سوچے گا؟ صرف ۳۰ لوگوں کو شادی میں بلایا؟‘ اور ’ہمارا کیا ’امیج‘ بنے گا جب لوگوں کو پتہ چلے گا صرف دو پکوان چنے گئے تھے ولیمے میں۔‘ جیسے سوالات ہمارے اذہان میں اٹھتے رہتے ہیں۔
کاش حکومت قانون بنادے! ون ڈش دوبارہ نافذ کردے! ایک ساتھ کم از کم دو شادیوں کا اصول رکھدے! کھانے پر ہی پابندی لگا دے! ۱۲ بجے سے گھٹا کر وقت گیارہ تک کردے! شادی ہالوں میں بجلی کے استعمال کی بھی حد لاگو کردی جائے! مہمانوں کی گنتی بھی محدود کردی جائے۔ بجلی بھی بچے گی، لوگ وقت سے گھر بھی پہنچیں گے۔ خوشی میں شریک ہونے کے لیئے نیک نیت درکار ہوتی ہے، ۸-۱۰ پکوان نہیں۔ نو بیاہتا جوڑے کو آپ کی دعائیں درکار ہوتی ہیں۔ کئی سال تک چلنے والا قرض نہیں۔ ہم سب کو چاہیئے کہ ہم ذمہ دار شہری بنیں! مفتے نہ بنیں!