The fault in our Spices

تحریر: عندیل علی

masala

کچھ ماہ پہلے کی بات ہے، ایک دوست نے مجھ سے پوچھا کہ ہم سائوتھ ایشینز اتنے ہائپر کیوں ہوتے ہیں۔ مطلب یہ کہ ہر معاملے میں بھاگ دوڑ کرنا، چیخنا چلانا، اکھاڑ پچھاڑ، بات بات پر غصہ، ہماری ہر معاملے میں انتہاء پسندی نظر آتی ہے۔ اب اس کی بہت سی سائنسی توجیہات ہوسکتی ہیں، اس سوال کا بہتر جواب تو کوئی تاریخ دان یا ماہرِ عمرانیات ہی دے سکتا ہے۔ میں ان میں سے کوئی بھی نہیں ہوں، اور میرا اتنی تحقیق کرنے کا کوئی موڈ بھی نہیں ہے۔ اسی لیے میں ایک نئی توجیہہ لے کر آیا ہوں۔ وہ یہ کہ مسئلہ ہمارے خطے، تاریخ یا خون میں نہیں! مسئلہ ہمارے مصالحوں میں ہے۔ یہ جو من حیث الخطہ ہم مرچیں کھاتے ہیں یہ ہمارے رویوں اور برتائو میں نظر آتی ہیں۔
اب آپ ذرا غور کریں جن خطوں میں مرچیں کھائی جاتی ہیں، وہاں لوگ تیز مزاج کے ہوتے ہیں، ہر وقت دانت پیستے رہتے ہیں، اس کے برعکس، جن خطوں میں سادہ خوراک کھائی جاتی ہیں، وہ لوگ ٹھنڈے مزاج کے ہوتے ہیں۔ پاکستانی مرچ خور، ہندوستانی مرچ خور، بنگالی مرچ  خور، میکسیکن مرچ خور! سارے تپؔو! اور پھڈے باز! اس کے برعکس، انگریز، امریکی، روسی، جرمن، سارے سادہ کھانے کھاتے ہیں اور ٹھنڈے رہتے ہیں۔ لہٰذا ہمیں اپنی خوراک پر نظرِ ثانی کرنی چاہیئے۔ اگر مسئلہ مرچیں ترک کرنے سے حل ہوجائے تو بلے بلے ورنہ پلان بی پر عمل کرنا ہوگا۔
پلان بی سے میری مراد، اپنے رویؔوں، اقدار، اعمال، ردِ اعمال سب پر نظر ڈالنا ہوگی۔ ہم کہتے ہیں ہمارا خون گرم ہے، بکواس، سائنس میں ایسی کوئی گنجائش نہیں۔ ہم کہتے ہیں ہماری رگوں میں جنگجوئوں کا خون دوڑ رہا ہے، تو کیا شاعروں، ادیبوں اور مصوروں کی رگوں میں روح افزأ دوڑ رہا ہے؟ کیا ان کوغصہ نہیں آسکتا ہے؟ ہم کہتے ہیں غصہ مردانگی کی نشانی ہے، لیکن سائنس تو کہتی ہے کہ غصہ بلند فشارِ خون اور امراضِ قلب کی نشانی ہے۔ دو تین بار ذرا اپنا مخاصما کریں، خود بخود سمجھ آجائے گا۔ مسئلہ نہ مصالحوں میں ہے، نہ خون میں، نہ زمین میں نہ آب و ہوا میں۔ مسئلہ ہماری سوچ میں ہے۔
خود کو برتر سمجھنا، دوسروں کو کمتر سمجھنا، خود کو عقلِ کُل، حرفِ آخر سجمھنا، اگلے کو باولا سمجھنا، ہمارے اصل مسائل ہیں۔ ہمارے رویے نازی جرمنی سے بڑے ملتے جلتے ہیں، بلکہ لوگوں نے تو ہٹلر سے منسوب اقوال کو فیس بک پر شیئر کرنا اپنا شوق بنا لیا ہے، یہ سوچے سمجھے بغیر کہ آخر ہٹلر نے کیا کیا کباڑے کیئے تھے۔ ہم آج خود کو ایک ماسٹر ریس سمجھتے ہیں، تندرست توانا، تیز طرار، چالاک، عیار۔ اسی لیئے لاشوعری طور پر ہم دوسری اقوام کو خود سے ہلکا تصور کرتے ہیں۔
حالانکہ ہم میں مندرجہ بالا اقدار میں میں سے کوئی بھی قدر موجود نہیں ہے۔ پولیو ہمارے یہاں پھیل رہا ہے، بیٹیوں کو ہم بوجھ سمجھ رہے ہیں، جہیز ہم مانگتے ہیں، جعلی ڈگریاں ہم بنواتے ہیں، لڑکیاں ہم چھیڑتے ہیں، بجلی ہم چوری کرتے ہیں، بھتہ خوری ہمارے یہاں رائج ہے، ملاوٹ ہم کرتے ہیں، زمینوں پر ہم قبضے کرتے ہیں۔ ناجائز منافع خوری ہم کرتے ہیں، سگنل ہم توڑتے ہیں۔ اور پھر کہتے ہیں کہ دنیا کی بہترین قوم ہم ہیں!
شاید ہماری سب سے بڑی خوبی ’خود فریبی‘ ہے۔ ہم نے کمال طریقے سے خود کو اس فریب میں مبتلا کردیا یے کہ یہ تمام دنیا ہماری مرہونِ منت ترقی کر رہی ہے۔ اور یہ سب ہمارے ملک میں چھپے ہوئے خزانوں کے ہیچھے پڑے ہوئے ہیں، ہم تو دیارِ غیر میں کمانے جانے والے کو بھی ’برین ڈرین‘ سے تشبیہ دے ڈالتے ہیں، جیسے یہاں وہ بڑا محقق تھا۔
اگر ہمیں واقعی ترقی کرنی ہے، تو ترقی کے اصل اور عالمی اصولوں کو اپنانا ہوگا۔ ترقی ماپی جاتی ہے انسانی ترقیاتی عشاریہ کے ذریعہ، (جو کے ایک پاکستانی نے ہی ایجاد کیا تھا)۔ یہ عشاریہ ملک کی شرحِ خواندگی، شرحِ پیدائش و اموات اور شرحِ آمدنی سے ماپا جاتا۔ ترقی کرنی ہے تو تعلیم کو عام کرنا ہوگا۔ بہترین قسم کی تعلیم کو! اگر ترقی کرنی ہے تو نومولودوں کی اموات کو روکنا ہوگا! ایسا، عالمی معیار کی سہولیاتِ صحت کو عام آدمی کی دسترس تک پہنچا کر ہی ممکن ہوگا۔ تعلیم ہوگی تو شعور آئے گا، شعور ہوگا تو انسانی حقوق بھی رائج ہو جائینگے، قانون کی عملداری بھی ہوگی، خواتین کو انکے حقوق بھی مل جائیں گے اور نوجوانوں کو روز گار بھی۔
تعلیم یافتگی، خواندگی، خود شناسی، یکدلی و ہمدردی، صداقت، امانت، دانشمدی ان اقدار کو اپنانا ہوگا اور ہو سکے تو ان سے بھی بہتر اقدار کو ایجاد کرنا ہوگا۔ تبھی ہم دنیا کی بہترین قوم بن سکیں گے، اور جب ہم ایسا کرلیں گے تو نہ اس بات پر اترائیں گے نہ ہی غرور کریں گے کیونکہ یہ دونوں انا پرستی کی نشانیاں ہیں، اور عظیم قومیں انا پرست نہیں ہونی چاہیئں۔