متحدہ نامہ

تحریر: تنویر آرائیں

BBC1

بی بی سی کی متحدہ قومی موومنٹ کے بھارتی خفیہ ایجنسی “را” سے فنڈنگ کے حوالے سے نشر کی گئی ڈاکیومنٹری نے جہاں پاکستانی حکومت اور اداروں کو پریشان کر دیا ہے وہیں پاکستانی عوام کے ذہنوں میں بھی کافی سوال پیدا کر دیے ہیں. پاکستان میں بسنے والا ایک طبقہ اسے متحدہ کے خلاف سازش سمجھ رہا ہے جبکے دوسرا طبقہ اسے حقیقت تصور کر رہا ہے. حقیقت تصور کرنے کی اہم وجہ بی بی سی کی ساکھ ہے جو کسی سے ڈھکی چھپی نہیں اور اس کے بعد متحدہ قومی موومنٹ کے اہم رہنما طارق میر کا اعترافی بیان ہے.
پاکستان میں متحدہ قومی موومنٹ کے بارے میں اکثریت کی یہ رائے رہی ہے کہ یہ ایک پرتشدد سیاسی جماعت ہے اور اپنی عسکری ونگ کے زریعے اپنے مخالفین کو راستے سے ہٹا دیتی ہے. جبکے بھتہ خوری سمیت دیگر جرائم میں ملوث ہے. ان افواہوں کو تقویت سپریم کورٹ کے کراچی میں امن و امن کے حوالے سے لئے گئے سو موٹو ایکشن کی سنوائی کے دوران ایسے انکشافات سامنے آنے سے ملی جن میں سیاسی جماعتوں کے عسکری ونگز کی نشاندہی کی گئی تھی اور جرائم میں ملوث ہونے کے شواہد بھی سامنے آنے سے ملی. لیکن اس میں متحدہ قومی موومنٹ واحد جماعت نہیں تھی دیگر جماعتیں بھی ملوث تھیں.
بی بی سی کی متحدہ قومی موومنٹ کے بھارتی خفیہ ایجنسی سے رقم لینے کے حوالے سے جب خبر سامنے آئی تھی اس پر متحدہ قومی موومنٹ کی جانب سے ردعمل میں اس خبر کو مسترد کیا گیا تھا لیکن تہلکہ اس وقت مچا جب متحدہ قومی موومنٹ کے ایک اہم رہنما طارق میر کا 30 مئی 2012 کو کو لندن پولیس کو دیا ہوا بیان سامنے آیا جس میں انہوں نے اقرار کیا کہ؛
انہیں بھارت سے فنڈنگ ہوتی رہی ہے جس کا علم متحدہ قومی موومنٹ کے سربراہ الطاف حسین، مقتول رہنما عمران فاروق، متحدہ قومی موومنٹ میں انتہائی اثر رسوخ رکھنے والے رہنما محمّد انور اور مجھے تھا. طارق میر نے اعترافی بیان میں بتایا کے ابتدا میں بھارت سے سالانہ آٹھ لاکھ پونڈز رقم ملتی تھی. جبکے رقم کورئیر کے ذریعے ملتی تھی. طارق میر نے بتایا کے بھارتیوں سے پہلی ملاقات روم میں ہوئی جس میں محمّد انور بھی موجود تھے. جبکہ زیورچ، پراگ اور آسٹریلیا کے شہر سالٹس برگ میں بھی ملاقاتیں ہوئی ہیں.
لندن پولیس کو دے گئے بیان میں طارق میر کا کہنا ہے کے ملنے والے بھارتیوں کا تعلق بھارت کی خفیہ ایجنسی “را” سے تھا اور ان میں سے ایک بھارتی افسر کی پہنچ بھارتی وزیراعظم تک تھی. اپنے بیان میں انہوں نے کارکنوں کو تربیت کے لئے بھارت بھیجنے کا اعتراف بھی کیا. ان کا کہنا ہے کہ یہ رقم 1994 سے انہیں مل رہی ہے پہلے ادائیگی ڈالرز اور بعد میں پونڈز میں ہوتی تھی کیوں کے ڈالرز کو پونڈز میں منتقل کرنے میں دیر لگتی تھی.
1994 سے ادائیگی کا مطلب الطاف حسین کے برطانیہ میں مقیم ہونے کے دو سال بعد سے ہی یہ سلسلہ شروع ہو گیا تھا. ایم کیو ایم کے انتہائی ذمہ دار ذرائع کا کہنا ہے کے الطاف حسین کے لندن پہنچنے کے بعد طارق میر اور محمّد انور نے الطاف حسین کی مدد کی تھی کیوں کے وہ برطانوی شہری تھے اور اسی وجہ سے دونوں الطاف حسین کے قریبی ترین لوگوں میں سے ہیں. دونوں رہنماؤں میں رشتہ داری بھی ہے.
طارق میر ایک چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ ہیں اور اسی وجہ سے کچھ عرصہ بعد ایم کیو ایم کی مالی ذمہ داریاں طارق میر کے حوالے کر دیں گئیں. جبکہ طارق میر امریکہ سمیت دیگر ممالک سے رابطوں کا آرگنائزر تھا اور محمّد انور برطانیہ سے تعلقات کو دیکھتا تھا.
متحدہ ذرائع کے مطابق بھارت سے متحدہ کے تعلقات بھی محمّد انور کے ذریعے ہی شروع ہوۓ. محمد انور بہاری قوم سے تعلق رکھتا ہے اور مشرقی پاکستان (بنگلادیش) میں مقیم تھا. 1971 میں علیحدگی کے بعد کچھ وقت مہاجر کیمپ میں رہا اور اس کے بعد برطانیہ چلا گیا جبکے محمد انور نے ایک پاکستانی لڑکی “بیدا” سے شادی کی جو کے ایک مسلم لیگی بیرسٹر محمّد اشرف کی بیٹی ہے.
ذرائع کے مطابق محمّد انور کا بھائی “چنو” پاکستان میں لینڈ گرابنگ میں ملوث رہا ہے جو کے ڈی اے، ایم ڈی اے اور کے ایم سی کے پروجیکٹس کو دیکھتا تھا اور ان تمام معاملات میں ان کی اجازت کے سوا کچھ نہیں ہوتا تھا.
محمّد انور کا داماد عمبثات ملک کو کراچی میں پارک کے لئے زمین متحدہ رہنما عادل صدیقی نے دی تھی جس کا افتتاح پاکستانی اداکارہ میرا سے کروایا گیا تھا.
ذرائع کا کہنا ہے کے محمّد انور ایم کیو ایم میں اہم ترین مقام رکھتا ہے اور الطاف حسین ان کی مشاورت کے سوا کم ہی فیصلے کرتے ہیں جب کے اس کی مرضی کے سوا کوئی بھی متحدہ پارلیمینٹرین، کارکن یا عہدیدار الطاف حسین سے نہیں مل سکتا. کراچی تنظیمی کمیٹی کے انچارج حمّاد صدیقی اور ڈپٹی کنوینر انیس قائمخانی طارق میر اور محمّد انور کے قریبی گردانے جاتے تھے. کئی بار جب ایم کیو ایم کے کچھ لوگوں نے الطاف حسین سے ان دونوں کی شکایات کرنی چاہی تو ان کی الطاف حسین سے ملاقات نہ ہونے کا سبب بھی محمّد انور اور طارق میر تھے.
طارق میر ان دونوں کے ذریعے اپنے پاکستان میں مقاصد حاصل کرتا تھا اور حمّاد صدیقی کی اہمیت متحدہ کے ایم پی اے، ایم این اے، سینیٹر یا وزیر سے بھی زیادہ تھی. کراچی کے تمام تر معاملات کو حمّاد صدیقی ہی دیکھتا تھا، تمام یونٹ و سیکٹر انچارجز کو ہدایت بھی اسی کی طرف سے جاتی تھی.
محمّد انور کے خاندانی ذرائع کا کہنا ہے کے وہ کئی بار نجی محفلوں میں کہہ چکا ہے کہ میرا پاکستان سے کوئی تعلق نہیں ہے.
ذرائع نے انکشاف کیا کے متحدہ قومی موومنٹ نے ساؤتھ افریقہ میں بھارت کی مدد سے تربیتی کیمپ قائم کیے جہاں کارکنوں کو تربیت دی جاتی ہے.
بی بی سی کی جانب سے متحدہ کے بھارتی خفیہ ایجنسی سے مالی مدد لینے کے انکشاف سے قبل ایس ایس پی ملیر راؤ انوار نے متحدہ قومی موومنٹ کے کارکنوں کی بھارت میں تربیت کا ذکر کیا تھا، جس پر متحدہ کی جانب سے شور و غوغہ کیا گیا تھا لیکن متحدہ کے اہم رہنما طارق میر نے بھی لندن پولیس کو دے گئے بیان میں یہ اعتراف کیا ہے کہ ایم کیو ایم کے کارکنوں کو تربیت کے لئے بھارت بھیجا جاتا رہا ہے.
طارق میر کے بیان کے مطابق بھارت سے رقم لینے کا اس سمیت صرف چار لوگوں کا پتا ہے جبکہ پارٹی کے دیگر لوگ اس سے واقف نہیں. یقینا اس بیان سے جہاں دیگر پاکستانیوں کو تشویش ہورہی ہے وہیں متحدہ قومی موومنٹ سے تعلق رکھنے والے محب وطن افراد بھی شش پنج میں مبتلا ہوں گے. کیوں کا یہ ملکی سالمیت کا معاملہ ہے.
اس وقت حکومت کو اس سارے معاملے پر سنجیدگی سے نوٹس اور برطانوی حکومت سے اس حوالے سے مکمل تفصیلات مانگنی چاہیے، جب کے ملک کے دفاعی اداروں پر بھی یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کے وہ بھی اس معاملے کی مکمل غیرجانبدارانہ تحقیقات کریں.
______________________________________________
لکھاری اینکر پرسن اور تجزیہ کار کے طور پر فرائض سرانجام دیتے رہے ہیں، اور ان دنوں فری لانس جرنلسٹ کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ وہ ٹوئٹر پرtanvirarain@کے نام سے لکھتے ہیں۔

  • kaalchakra

    Tanvir, the scariest part for Pakistan is that all this continued under the nose of, and one dares say, in fully knowledge of General Musharraf. Pakistan’s institutions have been compromised at the highest levels by RAW.

  • BJK

    Kaal, I would love to counter your point (whatever it be), unfortunately, I cannot because of an inability to read the wiggly script like you seem to be able to do. 🙂

  • timely

    what is surprising about it?


    RAW = Rabb Allah Wahid


    That explains.

    Everything good or bad in the islamic paradise of Pakistan is made by RAW.