عبداللہ حسین، ادھوری کہانی اور ایک عام آدمی کا خواب

تحریر: راجہ قیصر احمد

abdullah hussain

“نعیم کا کیا بنا ؟ نعیم کا کیا بنا؟ شاید فسادات میں مارا گیا۔ کچھ ٹھیک پتا بھی نہیں ایک طرف میری خواہشیں ہیں اور دوسری طرف میری زندگی ہے۔ اِن کے درمیان۔۔۔۔۔تم اسے نہیں سمجھ سکتیں کیوں کہ تم تیسری نسل ہو۔”
میں نے ادیبوں سے متاثر ہونا چھوڑ دیا ہے۔ شاید اس لئے بھی کہ یہ ویسے نہیں ہوتے جیسے نظر آتے ہیں۔ اپنے ہیولے اور شخصیت کے بُت پنا کر ان کی پوجا کرتے ہیں۔ ادب کو ادیب سے الگ کر کے پڑھا جانا چاہئے۔ دلیپ کمار نے کہا تھا “Kill your hallow before it kills you”.
میں لکھنا نہیں چاہتا کہ لکھنے میں اذیت ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیوں لکھا جائے اور کس لئے لکھا جائے۔ جو کچھ کہا، لکھا اور سنا سب کارِ دشت کی سیاہی ہے۔ عبداللہ حسین بڑا لکھاری تھا یا کہ “اداس نسلیں” بڑا ناول تھا اِس سوال کا جواب میں بھی دینے سے قاصر ہوں مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ اداس نسلیں کی چھاپ نے عبداللہ حسین کو کبھی اپنی ذات کے خول سے باہر نہیں نکلنے دیا۔
میں نے مستنصر سے پوچھا کی آپ اپنے عہد کے کس لکھاری سے متاثر ہیں۔ خمار آلود لہجے میں جواب تھا “عبداللہ حسین”۔ “خس و خاشاک زمانے” اور “اے غزالِ شب” کے مصنف سے یہ اعتراف میرے لئے حیران کن تھا۔ “اور وہی ایک میرا دوست بھی ہے” مستنصر نے سگریٹ جلانے کیلئے لائٹر ڈھونڈتے ہوئے کہا. اسلام آباد کا ادبی میلہ بھی یادوں کی گرد میں گم ہونے کو ہے اور کرداروں کے اوپر ناخوشگوار بحث بھی۔
“آپ اتنا تلخ کیوں لکھتے ہیں ؟ مجھے آپ کی تحریروں سے الجھن ہوتی ہے۔ اس قدر مایوسی اور یاسیت۔ آپ کو زندگی سے محبت کوئی نہیں کیا؟ لگتا ہے اداسی آپ کی رگوں میں سرایت کر گئی ہے”۔ خاتون کا سوال بالکل بجا تھا اور میرا جواب تھا “جون ایلیا کو پڑھتا ہوں، مظہرالاسلام مجھ پہ بیت گیا ہے اور میں نے اداس نسلیں چھ دفعہ پڑھا ہے۔ میں کسی کے لئے نہیں لکھتا۔ مجھے چپھوانے کا کوئی شوق نہیں ہے۔”
زاہد امروز نے گلگت سے واپسی پر کہا کہ عبداللہ حسین پہ کچھ لکھو۔ رضا رومی کا پیغام آیا ہے پاک ٹی ہاوٗس کے لئے تحریر بھیجو۔ اور سچ یہ ہے کہ میرے پاس لکھنے کو کچھ بھی نہیں ہے کیوں کہ میں سوچنے کی حالت میں نہیں ہوں۔ چار سو سناٹا ہے اور ایک مہیب خاموشی اور اس میں گھلی ہوئی نمناک ادسی ہے اور میں بے کیفی میں سانس لے رہا ہوں۔ اس کی ایک وجہ خرابیِ صحت ہے اور دوسرا بے معنویت کا ایک دکھ۔ زاہد امروز ہی کی بات یاد آئی سب سے بڑا دکھ یہ ہے کہ کائنات انسان کی دسترس میں نہیں۔
ایک بات تو بہرحال طے ہے کہ عبداللہ حسین خود اداس نہیں تھے اور نہ اداس نسلیں اداس ناول تھا۔ نعیم بیگ بھی کوئی اداس کردار نہیں تھا نہ عذرا نہ روشن آغا نہ مسعود اور نہ نجمی۔ پھر اداس نسلیں کو کیوں کہا جاتا ہے کہ اس نے نسلیں اداس کر دیں۔ شاید اس لئے کہ اس نے تین نسلوں کی نئی جہتوں سے قاری کو روشناس کیا۔ شاید یہ اردو ادب کا سب سے بڑا ناول ہے اور رہے گا۔ اگر آپ زیادہ سوالوں اور کم جوابوں سے خوش ہیں تو اس ناول کو ضرور پڑھیں۔
“پروفیسر میں نے زندگی کا راز پا لیا ہے”۔ ایک دن ڈاکٹر مجیب افضل نے جب یہ کہا تو میں چونک اٹھا۔ اسی راز کی جستجو ہی تو انسان کو حیران کئے رکھتی ہے۔ میں نے بڑے اشتیاق سے پوچھا تو کہا کہ زندگی رہنے، گزارنے یا جئے جانے کا نام نہیں ہے۔ یہ ایک “legal bond duty” ہے۔ میں اسی بات پہ کئی دنوں سے مستغرق تھا کہ سنا عبداللہ حسین اس دنیا میں نہیں رہے۔ جانے کیوں مجھے دکھ نہیں ہوا۔ شائد اس لئے کہ وہ اپنی “legal bond duty” پوری کر گئے ہیں۔ ادس نسلیں تو پڑھا جاتا رہے گا۔ عبداللہ کو تو موت آئی ہی نہیں۔
برطانوی راج، سماجی تغیر، مڈل کلاس جیسے موضوعات کو بہرحال خوبصورتی سے سمیٹا مگر ناول کی کراٖفٹ کو تاریخی تفاصیل کی نظر کر دیا۔ اداس نسلیں طبقاتی کشمکش کی داستان ہے اور نعیم بیگ برطانوی راج کے اندر نمو پاتی ہوئی مڈل کلاس کا نمائندہ۔ جو امتیاز کے لئے بازو بھی قربان کر دیتا ہے جنگ بھی لڑتا ہے اونچے گھرانے کی لڑکی بیاہ کے لاتا ہے۔ وکٹوریہ کراس کا اعزاز بھی سینے پہ چسپاں کرتا ہے مگر کبھی نیاز بیگ کی پولیس کے ہاتھوں بےعزتی کو فراموش نہیں کر سکتا اور نہ کبھی اشرافیہ کا حصہ بن سکا اور مارا بھی ایسے گیا کہ کسی کو پتا نہیں چلا۔
نعیم بیگ کسان کا بیٹا ہے اور روشن آغا کا داماد ہے۔ “Quest for Identity” ساری عمر اسے مضطرب رکھتی ہے۔ برِصغیر کے اند نمو پاتی ہوئی نو آبادیاتی روایات، معیشیت اور ثقافت کو مڈل کلاس کی اقدار کے خلاصے میں بیان کرنا شاید اس ناول کی سب سے پر کشش بات ہے۔
عبداللہ کی کہانی کی غیرجذباتیت نے مجھے حیران بھی کیا اور متحیر بھی۔ اور شائد یہ اداس نسلیں کی سب سے بڑی خصوصیت بھی ہے کہ تمام کردار ایک دوسرے سے غیر جذباتیت کے رشتے میں منسلک ہیں۔ نعیم نے عذرا کو چھوڑ دیا۔ روشن آغا اپنے کھوئے ہوئے وقار کی تلاش میں گریاں رخصت ہوئے۔ نعیم مارا گیا یا مر گیا۔ مسعود نے افسری میں خاندانی وقار ڈھونڈا، نجمی نے سکول پڑھایا اور علی اور بانو زندگی کی چکی میں جسموں کی گندم پیستے رہے۔
کہانی مری نہیں سو عبداللہ حسین بھی نہیں۔ اور عبداللہ کے بقول اداس نسلیں محبت کی کہانی ہے سو جب تک محبت زندہ ہے عبداللہ حسین بھی زندہ رہے گا۔
“تھوڑی دیر بعد چراغ کی بتی پھر بھڑکنے لگی اور اُن کے سیاہ مائل، بڑے بڑے، محنتی اور دیانتدار چہرے ایک ساتھ اُس کی طرف اُٹھ گئے بانو نے اُٹھ کر دوبارہ تیل ڈالا اور دھیمے لہجے میں اُسے کمال کے بارے میں بتانے لگی۔”
(راجہ قیصر احمد قائد اعظم یونیورسٹی میں پڑھاتے ہیں اور یہ تحریر عبداللہ حسین کی وفات پہ تحریر کی گئی)