کیا حضرت محمد صلعم نے ہمیں داعش سے خبردار کیا تھا؟

تحریر: کاشف چوہدری ، اشاعت:ہفٹنگٹن پوسٹ،یکم جولائی ۲۰۱۵

گزشتہ چند دنوں کے مختلف حملوں میں داعش نے تیونس کے ایک تفریحی مقام پر ۳۹ سیاح جبکہ کویت میں واقع ایک شیعہ مسجد میں قریباً ۳۰ نمازیوں کو ہلاک کر دیا۔یہ حملے داعش کی طرف سے اس اعلان کے بعد عمل میں آئے، جس میں اس نے اپنے ہمددر عسکریت پسندجنگجوؤں کو رمضان کے مہینے میں اپنے آپریشن کو وسعت دینے کو کہا تھا۔
داعش نے ہمیشہ ہر اس کو اپنی راہ سے ہٹانےکے لئے پختہ عزم کا اظہار کیا ہے جو اس کی بربریت اور نظریے سے اختلاف رکھتا ہے۔ داعش کے اراکین نے یزیدیوں اور عیسائیوں کو تو ذبح کیا لیکن ان کے متاثرین کی اکثریت اب بھی مسلمانوں پر مشتمل ہے جنہوں نے اس کی خلاف مزاحمت کی اور اس کی حاکمیت کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔یہاں تک کہ وہ سنی علما ٫ جنہوں نے اس کی بیعت کرنے سے انکار کیا اور وہ مسلمان عورتیں جنہوں نے اس کے نظریے سے اتفاق نہ کیا،ان کو بھی پھانسی دی گئی۔
یہ خصوصیت اسلام کے نام پر کام کرنے والے تمام دہشت گرد گروپوں میں دنیا بھر میں مشترک ہے۔طالبان کا نشانہ بننے والوں کی بڑی تعداد ، مثال کے طور پر،مسلمانوں کی ہی ہے۔سینکڑوں شیعہ صرف گزشتہ چند سالوں میں ہلاک ہو چکے ہیں۔اور میں نے پاکستان، انڈونیشیا، بنگلہ دیش،افغانستان اور یہاں تک کہ امریکہ میں بھی احمدیوں پر اسی طرح کے حملوں میں اپنے بہت سے قریبی دوستوں کو کھو دیا ہے۔
لہٰذا جب کچھ اسلام مخالف ناقدین ڈھٹائی سے ان جلادوں اور ظالموں کی کاروائیوں کو ہم مسلمانوں کے عقیدے سے منسوب کرتے ہیں تو ہم مجبوراً اسے ان کی بے حسی سمجھتے ہیں۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ مذہبی انتہاپسندی کی بنیاد اور حوصلہ افزائی مذہبی کتابوں کی غلط اور مسخ شدہ تشریحات ہیں جو ان بنیاد پرستوں اور انتہا پسندوں کی طرف سے کی جاتی ہیں۔
تاہم مسلمانوں کی بڑی تعداد جو ان بے بنیاد تشریحات کو رد کرتی ہے،ان پر بے ایمان یا ’’برائے نام‘‘ کے لیبل لگانا بددیانتی ہے۔
قرآن کا اگر ایمانداری سے مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے داعش جیسے تمام گروپ اسلام کے واضح اصولوں اور احکامات کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔مثلاً قرآن ایک ناحق انسان کےقتل کو پوری انسانیت کے قتل کے برابرقرار دیتا ہے(۵:۳۲) اور زمین پر ظلم اور انتشار پھیلانے کو قتل سے بھی بڑا گناہ بتاتا ہے(۲:۲۱۷)نیز امن ،انصاف اور انسانی حقوق پر زور دیتا ہے۔اور تو اور ضمیر کی آزادی میں برتری لے جاتے ہوئے ارتداد اور توہینِ مذہب یا شخصی توہین کی دنیاوی سزاکا بھی رد کرتا ہے۔
پیغمبر ِ اسلام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی روایات اور احادیث کے مطالعے سے معلوم ہوتا کہ انہوں نےہمیں اس دور کی مذہبی انتہا پسندی کے عروج سے متعلق حیران کن تفصیلات سے آگاہ کیا تھا۔
١٤٠٠ سال پہلے آپؐ نے پیشگوئی کی تھی کہ ایک ایسا زمانہ آنے والا ہے جب اسلام کا صرف نام اور قرآن کے صرف الفاظ باقی رہ جائیں گے ۔ اس دور کی مساجد بظاہر تو آباد ہونگی مگر ہدایت سے خالی ہونگی۔(مشکوٰۃ المصابیح )۔اس دور میں اسلام کی اصل روح کھو جائی گی اور دین کا زیادہ تر حصہ رسوم پر مشتمل ہو گا۔انہوں نے علما٫ کے کرپٹ ہونے اور فتنوں کا ذریعہ ہونے کی بھی پیشگوئی کی۔
یہ تمام باتیں کتنی سچائی کے ساتھ ان انتہا پسند علما٫ کے متعلق پوری ہوئی ہیں جو نفرت اور تفرقہ کی تبلیغ کرتے ہیں اور منبر کا غلط استعمال کرتے ہیں۔
آپؐ نے یہ بھی وضاحت کی کہ دہشت گرد گروپ ،جیسا کہ داعش، اسلامی عقیدے کو ہائی جیک کرنے کی کوشش کریں گے۔افراتفری اور فتنوں کے اس دور میں ،آپؐ کے مطابق، کم سن نوجوانوں پر مشتمل ایک ایسا گروہ اٹھے گا جو ناپختہ اور جاہلانہ سوچ کا حامل ہوگا۔وہ ظاہری طور پر خوبصورت الفاظ کا استعمال کریں گے لیکن عملاً بڑے سنگین جرائم کا ارتکاب کریں گے۔وہ عبادات میں اتنے مشغول نظر آئیں گے کہ مسلمانوں کی عبادات ان کے مقابلے میں معمولی نظر آئیں گی۔ وہ لوگ قرآن کی باتیں تو کریں گے لیکن حقیقت میں ان کا قرآن سے کوئی لینا دینا نہ ہو گا۔قرآن ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا یعنی وہ اس کے معارف اور مضامین کو سمجھ نہیں پائیں گے اور محض چند مخصوص حصے دہرایا کریں گے۔آپ نے مزید وضاحت کرتے ہوئے ان لوگوں کو بدترین مخلوق قرار دیا۔
اگر یہ خاکہ کافی نہیں تو کتاب الفتن میں آپؐ کے چوتھے خلیفہ حضرت علی ؓسے روایت ہے کہ آپؐ نے ان لوگوں کی شناخت کے بارے میں یہ فرمایا کہ ان کے لمبےاور گھنے بال ہوں گے اور وہ کالے جھنڈے اٹھائے ہوں گے۔ان کے دل لوہے کی طرح سخت اوربے رحم ہوں گے اور وہ ایک ریاست کے امام کے ساتھی ہو گے (اصحاب الدولہ)۔دلچسپ بات یہ ہے کہ داعش خود کو ریاست یا دولتِ اسلامیہ کہلاتی ہے۔یہ روایت مزید بیان کرتی ہے کہ یہ اپنے عہد کو توڑنے والے اور سچ نہ بولنے والے ہوں گے اور ان کے نام ان کے شہروں سے منسوب ہوں گے۔یہ جان کر داعش کے نام نہاد خلیفہ ، ابوبکر البغدادی کا نام ذہن میں آتا ہے۔
حضور ؐنے بڑے جلال اور دکھ سے ان شرپسندوں کی وضاحت کی اور مسلمانوں کو نصیحت کی کہ ان کے شر سے ہوشیار رہنا اور ان کا مقابلہ کرنا۔ آپؐ نے اعلان کیا کہ جو ان سے مقابلہ کرے گا ،وہ اللہ کی نظر میں ان سے بہتر ہو گا۔
اس اہم نکتے پر غور کریں: جب داعش اسلام کے نام پر قتل و غارت کرتی ہے یا قرآن پر عمل کرنے کا دعویٰ کرتی ہے یا رمضان جیسے مقدس مہینے کو دنیا بھر میں انتشار پھیلانے کے لئے استعمال کرتی ہے تو ہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ان دغابازوں سے واضح الفاظ میں خبردار کیا ہوا ہے اور گویا ہم پر ذمہ داری ڈالی ہے کہ ہم اس کا خاتمہ کریں۔
اس نکتے پر غور کرنے سے انکار کرنے والے صرف داعش، اس کے ساتھی اور ہمدرد اور اسلام مخالف عسکریت پسند ہیں جو دنیا کو یہ یقین دلانا چاہتے ہیں کہ داعش برحق ہے۔اس کے بر عکس ذہین لوگ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی الہامی حکمت دیکھتے ہوئے جہالت اور انتہا پسندی کے خلاف متحد رہتے ہیں۔

  • Pingback: Kashif N Chaudhry | Kashif Chaudhry United States WordPress Unknow Os ()

  • Khalid Hussain

    نبی بشیر بهی ہوتا ہے اور نذیر بھی. چونکہ محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ سلم نبیوں کے سردار اور خاتم الانبیاء ہیں اس لحاظ سے آپ صلعم نے جو پیشگوئیاں اپنی امت کی ترقی اور تنزلی کی کی ہیں وہ بھی اپنے اندر خاتمیت کا رنگ رکھتی ہیں. آجکل امت مسلمہ میں پیش آنے والے تمام برے بدنام کرنے والے واقعات کا ذکر انذاری پیشگوئیاں میں موجود ہیں جنہیں بندہ غور سے ڈھونڈنے تو اس کی حیرت کی انتہا ہوگی جب وہ پائے گا کہ درود و سلام ہوں ہمارے پیارے نبی کریم صلعم پر کہ کیسے ہمیں تقریباً 14 صدی پہلے سے ہی آگاہ کیا تها کہ ایسے ایسے لوگ بھی ہونگے اور اسلام کے نام پر تباہی اور دہشت پھیلائیں گے. احباب سے گزارش ہے کہ حضور اکرم صلعم کے انذاری پیشگوئیوں کے ساتھ ساتھ اپنی امت کے ان ہلاکتوں سے نجات پانے کے لئے جو تبشیری پیشگوئیاں بھی فرما گئے ہیں ان کا بهی بغور مطالعہ کرنا چاہیے. امت کو جہاں ڈرایا گیا ہے آیندہ پیش آنے والے دنوں سے وہیں خوشخبری والے پیشگوئیاں بهی آپ نے کی ہیں کہ ان سب کے باوجود کیسے اسلام کا اصل باقی رہے گا اور کیسے دوبارہ اسلام پھولے گا پهلے گا اور تمام ادیانِ باطلہ کے بالمقابل آخرکار غالب آئے گا.

  • Salam, Wah kya khoob likha hai 🙂

  • Ahmed

    Author, why don’t you write about how you(Ahmadi) are a Muslim according to you.

  • kaalchakra

    Didn’t the author publish this article in English somewhere?

    Ahmed, Prophet Mirza Ghulam Ahmad said so. Not only the author, but all of the Prophet Ghulam Ahmad’s followers.

  • داعش یقینا” اس دور کا ایک بڑا وحشی گروہ ھے۔ جس کا جلد از جلد قلع قمع بہت ضروری ھے۔ مجھے کاشف چوھدری کی نیت پر کوئی شک نہیں مگر ان کے اس بلاگ پر بہت سنجیدہ سوالات پیدا ھو جاتے ھیں۔ حسب معمول انہوں نے قرآن کو حقوق انسانی اور امن انسانی کا علمبردار ثابت کرنے کی کوشش میں کچھ آیات کی
    cherry picking
    کی ھے۔ یہ جانتے ھوئے بھی کہ قرآن میں ایسی آیات کی بھی کمی نہیں ھے جو مسلمانوں کو قتال فی سبیل اللہ پر اکساتی ھیں۔ اسی کے ساتھ کاشف کو شائید یہ علم بھی ھوگا کہ سیرتِ محمد اور احادیث کی کتب بھی جہاد کی فضیلت اور اس سے منسلک احکامات و روایات سے بھری پڑی ھیں۔ تاریخ اسلامی بڑی واضح ھے کہ اسلام کا حقیقی پھیلاو اس وقت شروع ھوا جب محمد نے ھجرت مدینہ کے بعد یکے بعد دیگرے ایک کے بعد دوسرے عرب قبیلے پر برہ راست حملے کرکے انہیں اپنی اطاعت پر مجبور نہیں کردیا۔ محمد کی شروع کی گئی بزور شمشیر پھیلاو کی یہ کوشش کامیابی کے ساتھ اگلے ھزار سال سے زائد جاری رھی۔ خود محمد نے اپنی گیارہ سالہ مدنی زندگی میں تیس سے زاید جنگیں کیں اور ان میں سے شاید غزوہِ خندق کے سوا کوئی بھی دفاعی نہیں تھی۔ اور ان جنگوں میں جو مثالیں قائم ھوئیں
    وہ ھی طالبان اور داعش جیسی جہادی تنظیموں کے لئے مشعل راہ کا کام کرتی ھیں۔۔

    کاشف کا اسلام کو امن اور حقوق انسانی کا چیمئین ثابت کرنے کا منتر اپنی جگہ لیکن وہ اسلامی مقدس کتب اور تاریخ سے خون کے دھبوں اور انسانی شرف کی پامالی کےداغوں پر سفیدی پھیرنے میں ناکام نظر آتا ھے۔ کاش کہ اسلام امن کامزھب ھوتا۔ لیکن بدقسمتی سے یہ نہیں ھے۔ اور کاشف دنیا کا بہترین میک اپ استمعال کر کے بھی اسے ملکہِ حسن نہیں بنا سکتا۔

    کاشف کا ٹارگٹ وہ مسلمان اور غیرمسلم تعلیم یافتہ لوگ ھیں جنہوں نے کبھی خود اسلامی تاریخ اور قرآن و حدیث کا مطالعہ نہیں کیا ھے۔ لیکن ھر اس مسلمان یا غیر مسلم ، جس نے ابتدائی اسلامی کتب کا مطالعہ کیا ھے ،کو کاشف کے دعوؤں کے کھوکھلےپن کا فورا” پتا چل جاتا ھے۔

    سب سے اھم بات جو مصنف گول کرجاتا ھے وہ یہ ھے کہ آخر داعش کی کونسی ایسی حرکت ھے ھے جو اسلامی روایات کے خلاف ھے۔ اگر داعش مزھبی اور جنگی بنیاد پر بنائے گئے قیدیوں کے
    گلے کاٹتی ھے تو کیا حضرت محمد اور انکے صحابہ نے ایسا نہیں کیا؟ اگر داعش ھم جنسوں کو بلندی سے گرا کر ماردیتی ھے تو کیا حضرت محمد نے ایسا نہیں کیا؟۔ کوڑے مارنا، ھاتھ کاٹنا، سنگساری، سویلین عورتوں کو لونڈیاں بنانا اور انکو ریپ کرنا یا بازار میں بیچنا، حتی کہ مزھبی بنیاد پر لوگوں کو زندہ جلانا یہ سب نعمتیں تو سنت محمدی اور سنت صحابہ ھیں۔ داعش کی وحشت کو کوئی زی شعور سپورٹ نہیں کرسکتا لیکن ایک بات طے ھے کہ انکی تمام وحشت کے پیچھے ایک نظریہ ھے
    (there is a method in their madness)
    اور وہ اپنے طریق پر ان روایات کو دھرا رھے ھیں جو احادیث اور ابتدائی اسلامی تاریخ کی کتب میں اگلی نسلوں کے لئے محفوظ کردی گئی ھیں۔ قرآن ، صحاح ستہ اور طبری، دارلفتن، مشکوة المصابیح جیسی کتب آج بھی تمام اسلامی دنیا میں شائع ھوتی ھیں اور تمام مسلمان اپنے ظرف کے مطابق ان سے رھنمائی لیتے ھیں۔

    مصنف کو شاید یہ علم ھوگا کہ کالا جھنڈا حضرت محمد اپنی جنگوں میں استمعال کیا کرتے تھے ۔ یہی وجہ ھے کہ
    غلبہ اسلام کی شدت سے خواھش رکھنے والے بہت سے جہادی گروہ ھر دور میں اپنے پیغمبر کی سنت میں سیاہ جھنڈے اسمعال کرتے رھے ھیں۔ کربلا میں امام حسین کا بھی پرچم بھی راوئیتی طور پر سیاہ تھا ، ھندوستان میں مشہور جہادی سید احمد بریلوی اور شاہ اسمعیل کا پرچم بھی سیاہ تھا، طالبان کا پرچم بھی سیاہ ھے حتی کہ پرامن جماعت احمدیہ کا پرچم لوائے احمدیت بھی سیاہ ھے۔ اب
    کیسے پتا چلے کہ یہ کونسے سیاہ جھنڈوں والوں کی بابت پیشگوئی ھورھی تھی؟

    لمبے بال رکھنا بھی سنت محمدی تصور ھوتا ھے۔ اور بہت سے راسخ مسلمان روائیتا” اسکی پیروی کرتے ھیں

    تارخ اسلام ھجرت کے پہلے سال سے لے کر آج تک کشت وخون سے بھری ھوئی ھے۔ ھر دور میں طالبان اور داعش کی طرح کے گروہ موجود رھے ھیں۔ اور ایسے گروہ پیدا ھوتے اور مرتے رھیں گے۔ کیا یہ محض اتفاق ھے کہ فلپائین ، سنکیانگ، چیچنیا، پاکستان، افغانستان، عراق، الجیریا، تیونس، لیبئیا، مصر، شام، فلسطین، صومالیہ، حتی کہ مغربی دنیا تک میں تشدد سے شریعت اور خلافت قائم کرنے کی جدوجہد میں ممصرف گروہ کھمبیوں کی طرح اگ رھے ھیں ۔ اسی کے ساتھ پچھلی ایک صدی میں ایسے منظم تبلیغی گروہ بھی شدت سے غلبہِ اسلام کی جدوجہد میں مصرف نظر آتے ھیں۔ گو کہ یہ گروہ پرامن ھیں لیکن انکا ھدف وھی ھے جو کہ شدت پسند تنظیموں کا ھے یعنی غلبہ اسلام۔ یہ گروہ اگتے رھیں گے جب تک کہ مسلمان بحثیت مجموعی اسلام کو ایک غیر سیاسی مزھب بنانے کے ساتھ ساتھ غلبہ اسلام کے خناس کا علاج کرنے کی سنجیدہ کوشش نہیں کرتے۔