جنید جمشید سے چند اہم سوالات

“یہ بلاگ پوسٹ اس سے پہل دنیا پاکستان میں پوسٹ ہوچکا ہے. پاک ٹی ہاؤس اسے اپنے قارئین کی دلچسپی اور موضوع کی اہمیت کے پیش نظر کراس پوسٹ کررہا ہے.”

تحریر: علی ارقم

JJ2

قرآن میں خواتین کا نام لے کر تذکرہ نہ کرنے کی جنید جمشید کی مجوّزہ تشریح ، اس حوالے سے شدید تنقید اور جْنید جمشید کی جوابی وضاحت کے بعد چند سوالات اْبھرتے ہیں، شاید جْنید جمشید یا اْن کا فین کلب اس کی وضاحت بھی کردے۔
سوال نمبر ۱: اللہ تعالٰی کی جانب سے قرآن میں سوائے حضرت مریم کے کسی عورت کا نام لے کرتذکرہ نہ کرنے کی جنید جمشید کی وضاحت کیا جنید جمشید کے اپنے ذہن کی اختراع ہے یا اس کے لئے وہ کوئی حدیث، کسی صحابی، تابعی یا تبع تابعی کی طرف سے قول یا کوئی تفسیری حوالہ پیش کر سکتے ہیں؟
سوال نمبر۲: اگر یہ جْنید جمشید کی اپنی ذہنی اختراع ہے تو کیا انہیں علم ہے کہ قرآن کی تشریح میں ایسی جسارت کو تفسیر بالرائے کہا جاتا ہے، کیا انہیں تفسیربالرائے پر تبلیغی نصاب کے مْصنّف مولانا زکریا صاحب کی مولانا مودودی پر شدید تنقید کا علم ہے؟ کیا علما حضرات جنید جمشید سے بازپْرس کریں گے؟
سوال نمبر۳:جْنید جمشید نے حضرت عائشہ کے حوالے سے غیر محتاط الفاظ پر معافی مانگتے ہوئے خود کو جاہل قرار دیا تھا، کیا کسی جاہل کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ قرآن کی تشریح کرے؟
سوال نمبر ۴: اگر جنید جمشید کے استنباط کو درْست تسلیم کرلیا جائے تو قرآن میں سوائے زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کے علاوہ کسی صحابی کا نام لے کر تذکرہ نہیں ، اس کی وہ کیا وضاحت کریں گے کیا وہ اپنے استنباط کا اطلاق یہاں بھی اسی اندازمیں کریں گے؟
سوال نمبر۵: اگر قرآن نے خواتین کا نام اس لئے نہیں لیا کہ ان برگزیدہ خواتین کا احترام مقصود تھا تو سورہ لہب میں ابولہب کا تو نام لے کر تذکرہ ہے پر اس کی بیوی کی طرف بھی وامراتہ کا اشارہ ہے، اس کی تفسیرمیں جنید جمشید کیا کہیں گے؟
سوال نمبر۶: اپنے اوپر تنقید کے جواب میں جْنید جمشید نے ہمیشہ کی طرح ایک بار پھر یہ یاد دلایا ہے کہ اْس نے میوزک کی دنیا صرف دین کی خاطر ترک کی ہے، بجا فرمایا لیکن کیا ایک غلط عمل یا دین کے معاملے میں تجاوز پر تنقید کے جواب میں یہ کہنا مْناسب ہے؟
سوال نمبر۷: حضرت موسٰی سے اللہ تعالی نے فرمایا کہ آپ لوگوں سے کہ دیں کہ میں اپنی نبوی ذمّہ داری کے عوض تم سے کسی اجر کا مْطالبہ نہیں کرتا تو کیا تبلیغی جماعت کا ایک رکن ہونے کے ناتے جنید جمشید کاٹی وی پر تبلیغی سرگرمیوں کا معاوضہ لینا جائز ہے؟
سوال نمبر۸: جْنید جمشید نے میوزک چھوڑکر دینی زندگی اختیار کی ، ایک عام مْبلّغ ہونے کے ناطے انہیں کبھی بھی ٹی وی شوز کی میزبانی کا موقع نہیں مل سکتا تھا کیا ٹی وی پہ آکر شوز کرنا ان کے میوزک کیریئر ہی کی بدولت نہیں ہے، کیا یہ اْسی کا ثمر نہیں ہے؟ کیا انہیں اس آمدنی کا نعم البدل میسر نہیں آگیا پھر بار بار میوزک چھوڑنے کا رونا کیوں؟
سوال نمبر۹: کیا جنید جمشید ٹی وی شوز کا خطیر معاوضہ وصول نہیں کرتے؟ اور کیا آج جنید جمشید موسیقی سے الگ ہوکر ٹی وی سے جتنا کما تے ہیں جنید کے ہم عصرگلوکار موسیقی سے اتنا کما پاتے ہیں
سوال نمبر۰۱: جنید جمشید کا کرتہ بزنس کیا تبلیغ کے ساتھ وابستگی سے متاثر ہوا ہے یا ان برسوں میں بڑھا ہے؟ کیا جنید جمشیدکاروبار کی ترقی میں تبلیغی جماعت سے وابستگی کا عنصر نظرانداز کریں گے؟ کیا وہ ایمان داری سے حالیہ برسوں میں اپنے مْنافع میں اضافے کے بارے میں آگاہ کریں گے؟
سوال نمبر۱۱: اگر جنید جمشید تبلیغی جماعت سے تا حال وابستہ ہیں تو کیا وہ اپنی تبلیغی سرگرمیوں میں تبلیغی جماعت کی ہدایات کا اتباع کرتے ہیں؟ تبلیغی جماعت کی ہدایات کے مْطابق غیر عالم مْبلّغ کو قرآنی عبارت نقل کرنے کی اجازت نہیں ، کیا تبلیغی جماعت کی اس ہدایت کا اطلاق جنید جمشید پر نہیں ہوتا؟
سوال نمبر ۱۲: کیا جنید جمشید سے تبلیغی جماعت اس حوالے سے بازپْرس کرے گی؟
سوال نمبر ۱۳: اگرجنید جمشید تبلیغی جماعت کی ہدایات پر عمل نہیں کرتے تو وہ تبلیغی جماعت سے لاتعلقی کا اعلان کیوں نہیں کرتے؟ کیا اْنہیں اپنی مقبولیت اور قبولیت میں فرق آنے کا خدشہ ہے؟

  • Whenever I think people can’t get more ‘stupidier’, this guy make me wrong. What a case study this idiot is.

  • Shams

    I won’t think he will ever be able to reply any of these questions but obviously you will have some abuses from his followers. That will surely reflect the status of “Imam” and their “Muqtadees”.