اوریہ مقبول جان کے ملا عمر پر لکھے نوحے پر تبصرہ

تحریر: عثمان قاضی

orya

سبحان اللہ ایسے مرد مومن کا نثری نوحہ رقم کرنے کے لئے ایسا ہی مورخ چاہیے تھا۔ ہم پر تو یہ تعزیت نامے پڑھ کر رقت طاری ہو گئی اور ازمنہ وسطیٰ سے ملا عبدالقادر بدایونی اور جدید تر دور سے مرحوم گوئبلز کی یاد تازہ ہو گئی۔ شدید تاسف بھی ہوا کہ جس دور با برکات کا جنتی نقشہ اوریا صاحب نے کھینچا ہے، ہم بھی اسی دور میں افغانستان کی سرحد کے قریب ہی مقیم تھے مگر وائے کور چشمی کہ ان فیوض و تجلیات کی رمق بھر بھی ہمارے دیکھنے یا سننے میں نہ آئی۔ نظر آے تو بس وہ خانماں برباد افغان جو اوریا صاحب کے ممدوح کے ہاتھوں اپنی رہی سہی پونجی گنوانے کے بعد مہاجر کیمپوں میں آن بیٹھے تھے۔

ہاں! نا انصافی ہوگی اگر ہم ملا صاحب کے دو روحانی تصرفات کی داد نہ دیں۔ ان کی کشفی توجہ کے زیر اثر ہم نے مبینہ طور پر مدرسے کے طالبوں کو بہ آسانی جنگی جہاز اور ٹینک چلاتے دیکھا اور اس سے بڑھ کر فنا فی الشیخ کا مظہر کیا ہوگا، کہ ان پراسرار غازیوں میں سے بہت سے پشتو و فارسی سے نابلد البتہ پنجابی و اردو میں رواں پاے گئے۔ دوسرا معجزہ یہ ہوا کہ کوئٹہ سے مقامی نمبر ڈائل کیا جاتا تو گھنٹی قندہار میں بجتی۔

خیر یہ تو اس عالم ناسوت کے مظاہر ہیں جنہیں لاہوتی طائر چنداں اہمیت نہیں دیتے۔ یہ چمتکار دیکھیے کہ ملا صاحب کے دور کے آخری دو برس میں واقعی افیون سونے کے بھاؤ بھی دستیاب نہ تھی. مگر یہ کیا کہ ادھر نومبر دو ہزار ایک میں نیٹو نے افغانستان پر بمباری شروع کی اور ادھر بازار میں افیون کوڑیوں کے مول ہو گئی۔ بد باطن لوگ یہی کہتے پھریں گے کہ طالبان نے پوست کی فصلوں کو، کفران نعمت سے بچنے کی نیت سے تلف ہر گز نہیں کیا بلکہ ان کی پیداوار کو ذخیرہ کرتے رہے تاکہ سند رہے اور بوقت ضرورت کام آئے۔

ہم البتہ اوریا صاحب جیسے روشن ضمیروں کی پیروی میں اسے بھی نگاہ مرد مومن کے ادنیٰ تصرفات میں ایک گنیں گے. یہ ماننا پڑے گا کہ اوروں نے بھی ملا عمر نامی ہستی موہوم کے انتقال کی زائد المعیاد خبر سامنے آنے پر اپنے دردِ دل اور اپنے آقایان ولی نعمت کے حق نمک کے تقاضوں کو نباہنے کی کوشش کی مگر اوریا صاحب کے سامنے ان کی مثال چراغ اور سورج کی سی ہے۔ ناقدین بھلے بکتے رہیں کہ ملا عمر کے دور میں افغانستان کی پچاس فی صد آبادی یعنی خواتین بھیڑ بکری سے کم تر حیثیت کی حامل تھیں، اور بقیہ مردوں میں غیر پشتون خصوصا ازبک حضرات کا مقام ہندو معاشرے کی پست اقوام سے بھی فروتر تھا، جدید تعلیم کو شیطانی چرخہ سمجھا جاتا تھا، اللہ کے خود ساختہ شیر جہاں چاہتے منہ مارتے تھے وغیرہ، لیکن “حقائق” نام کی بے مایہ چیزیں کہاں اوریا صاحب کے حسن ظن کو متزلزل کر سکتی ہیں۔

حیرت اس امر پر ہے کہ اپنے عین بازو میں واقع ایسی جنت نظیر حکومت کے ہوتے ہوۓ اوریا صاحب کیونکر سامراج کی باقیات پر مشتمل پاکستانی افسر شاہی کے ظالمانہ نظام سے چمٹے رہے، وہاں جا کر بیعت کیوں نہیں ہو گئے؟ پاکستان میں ہی بیٹھ کر، ملا عمر کے صریح احکامات کے تحت ایجاد شیطانی کہلانے والے ٹی وی جیسے طاغوتی ڈبے پر پیش کرنے کے لئے عشقیہ ڈرامے کیوں لکھتے رہے؟ اور اس حرکت پر پشیمانی کے بجاے نہایت طمطراق سے ایوارڈ بھی وصول کرتے رہے. ہم آپ ایسا کوئی عامی ایسی حرکت کر بیٹھے تو منافق کا خطاب پائے مگر اوریا صاحب جیسے خضر صورت بزرگوں کی رمزیں یہی جانتے ہیں. اس موقع پر یہ وضاحت ضروری ہے کہ وہ جو خضر صورت بزرگ کے آنے پر نمازیوں کو اپنے جوتوں سے ہوشیار رہنے کا ذکر اردو شاعری میں آتا ہے، اس کی جانب دھیان کا جانا محض امرِ اتفاقی ہو گا۔

نوٹ: اس سے پہلے دنیا پاکستان میں شایع ہوا۔