ہم انڈیا سے کھیلنے کے لیے کیوں مرے جا رہے ہیں

تحریر: عمیر حسن

Image source Internet
Image source Internet

حال ہی میں پی سی بی کے سابقہ ٹاپ آفیشل نجم سیٹھی کا بیان سامنے آیا جس میں ان کا کہنا تھا کہ وہ اب بھی انڈو۔پاک کرکٹ سیریز کے لیے پر اُمید ہیں۔یہ بات سمجھ سے بالا تر ہے کہ ہماری کرکٹ کی ٹاپ مینجمنٹ اس بات پر بضد کیوں ہے کہ ہماری کرکٹ کی بھلائی اسی میں ہے کہ ہم بھارت سے کرکٹ کے تعلقات دوبارہ استوار کریں، حالانکہ دوسری جانب (بھارت) سے ہمیں مسلسل لال جھنڈی دیکھنے کو مل رہی ہے کیونکہ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ کرکٹ سے زیادہ انہیں اپنی سکیورٹی عزیز ہے۔بات تو ان کی بھی ٹھیک ہے کہ کرکٹ تب ہی ممکن ہے جب ملک میں امن و امان ہو اور ہر کھلاڑی صرف اور صرف اپنے کھیل پر توجہ دے سکے۔
لیکن سوال یہ ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ ہمیشہ بھارت سے کھلینے کو اتنی اہمیت کیوں دیتا ہے جب کہ انہیں پتہ بھی ہے کہ بی سی سی آئی انہیں بہت بار اسی قسم کا ٹکاسا جواب دے چکا ہے۔
سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ پاکستان کو بھارت کا کرکٹ کی دنیا میں اثرو رسوخ کا اچھی طرح اندازہ ہے۔ بھارت نے آہستہ آہستہ آئی سی سی میں اپنے قدم مضبوط کیے ہیں جس کی بدولت اب وہ انتہائی اہم پوزیشن پر قابض ہو چکے ہیں۔دوسری جانب بھارت کے پاس مضبوط مالیت اداروں کا کرکٹ کے فروغ میں بھرپور حصہ لینا ہے۔ جس کی بدولت اب آئی سی سی کے سارے بڑے ایونٹس کو بھارت کی بڑی بڑی کمپنیاں سپانسر کرتی ہیں۔ اس سے نہ صرف بھارت کی اہمیت کو آئی سی سی تسلیم کرتی ہے اور نہ چاہتے ہوئے بھی بی سی سی آئی کی بہت سی باتوں کو من و آن قبول کرتا ہے۔
تیسری بات جو نہایت اہم ہے کہ پاکستان کی کرکٹ مینجمنٹ یہ چاہتی ہے کہ کسی طرح پاکستان کے کھلاڑیوں کو بھی آئی پی ایل میں کھیلنے کا موقع مل جائے۔ اور یہ موقعہ ملنا تب ہی ممکن ہے جب دونوں ملکوں میں دو طرفہ کرکٹ دوبارہ بحال ہو گی۔
آئی پی ایل ٹی ٹونٹی میں دنیائے کرکٹ کے تمام بڑے بڑے کھلاڑی حصہ لیتے ہیں جو کہ سیکھنے کے حوالے سے بہت ہی اچھی بات ہے۔ اس دوران تمام وہ کھلاڑی جو ویسے تو اپنے اپنے ملکوں کی نمائندگی کرتے ہیں، اکھٹے کسی اور ٹیم میں کھیلتے ہیں۔ اس طرح ہر کھلاڑی اپنا تجربہ دوسرے سے شیئر کرتا ہے۔ اپنی گیم کے ٹرکس دوسرے کو سمجھاتا ہے جس سے دوسرے کھلاڑی کے کھیل پر بہت اچھے اثرات پڑتے ہیں۔
آئی پی ایل میں حصہ لینے کے حوالے سے پاکستان کے سوئنگ کے سلطان وسیم اکرم تو بہت بڑے ترجمان ہیں۔ وہ یہ بات بہت بار کہہ بھی چکے ہیں کہ پاکستان کے کھلاڑیوں کے لیے آئی پی ایل میں کھیلنا بہت ضروری ہے کیونکہ وہ ایک بہت اچھا پلیٹ فارم ہے جو ہر کھلاڑی کو اپنی صلاحیتیں دکھانے کا بھرپور موقعہ فراہم کرتا ہے۔
میری رائے میں اوپر کی گئی ساری باتیں نہ صرف اہم ہیں بلکہ ایک طرح سے ہمارے لیے یہ ایک نیاء چیلنج بھی ہے۔ ہمیں نہ صرف ان سب باتوں پر غور کرنا چاہیے بلکہ بڑے تحمل سے ان سب باتوں کے متبادل بھی ڈھونڈنے چاہیں۔
ان حالات میں ہمیں کرنا یہ ہے کہ سب سے پہلے تو آئی سی سی میں اپنا اثرو رسوخ بڑھائیں۔ اس ضمن میں ایک بات تو بہت خوش آئند ہے کہ ہمارے ملک کے لیجنڈری بلے باز ظہیرعباس آج کل آئی سی سی میں پریزیڈنٹ کی حیثیت سے خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔ پی سی بی کو اب یہ بات یقینی بنانی چاہیے کہ ظہیر عباس پاکستان کا موقف آئی سی سی میں صحیح انداز سے پیش کریں۔
آئی سی سی میں کرکٹ کے حوالے سے بہت سے مسائل باقاعدگی کی بنیادوں پر زیر بحث رہتے ہیں۔ ان مسائل میں ہر کرکٹ کھیلنے والے ملک کا کرکٹ کا بجٹ اور کھیل کو فروغ دینے کے لیے مخصوص فنڈز کی صاف شفاف تقسیم زیادہ اہم ہیں۔ظہیرعباس کو کرنا یہ ہے کہ جہاں پاکستان کا جائز موقف نظر آئے، وہ اسے ا چھی طرح سنائیں، سمجھائیں اور آگے چیئرمین تک پہنچائیں۔ تاکہ جہاں تک ممکن ہو ہمارے ملک کی کرکٹ کو فائدہ ہو۔ایک اور پہلو بھی اہم ہو سکتا ہے جس میں ظہیر عباس کرکٹ کھیلنے والے ممالک سے اچھے تعلقات استوار کر کے پاکستان کی اہمیت کو اجاگر کر سکتے ہیں۔
اوپر بیان کیا گیا دوسرا مسئلہ جس میں بھارت کی آئی سی سی کے اندر مالیاتی حصہ داری پر بات کی گئی ہے کو بھی احسن طریقے سے نبٹا جا سکتا ہے۔پہلے مرحلے پر پی سی بی کو چاہیے کہ ملک کے بڑے بڑے اداروں اور کاروباری شخصیات سے ملاقاتیں کریں اور کسی طرح انہیں اس بات پر متفق کریں کہ انہیں آئی سی سی کے سالانہ ایونٹس میں بھی سرمایہ کاری کرنی چاہیے۔ بنیادی طورپر کسی بھی کھیل کو سپانسر کرنا در اصل اس کمپنی یا برانڈ کی سرمایہ کاری ہی ہوتی ہے۔ سپانسر کرنے والی کمپنی کا برانڈ نام اجاگر ہوتا ہے اور ساتھ ہی ساتھ اس کھیل کے فروغ میں بھی بڑہوتری آتی ہے۔
دوسرے مرحلے پر پی سی بی کو چاہیے کہ وہ ظہیرعباس کی توسط سے آئی سی سی میں اپنا موقف سامنے لائے کے وہ بھی انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کے ایونٹس کو سپانسر کرنا چاہتے ہیں۔ شروعات میں اگر دو تین کمپنیوں کو ہی موقعہ مل جاتا ہے تو یہ پی سی بی اور پاکستان کی کرکٹ کے لیے بہت مفید چیز ثابت ہو سکتی ہے۔
چلیں اب تیسری جانب آتے ہیں جس میں ہمارے کھلاڑی آئی پی ا یل میں نہیں کھیل پا رہے۔ اس بات سے ہم انکار نہیں کر رہے کہ آئی پی ا یل واقعی ہی بہت اچھا پلیٹ فارم ہے جس میں تمام کھلاڑیوں کا کھیل نکھر کر سامنے آتا ہے لیکن اگر حالات اس بات کی اجازت نہیں دے پا رہے اور بھارت نے جان بوجھ کر پاکستان کے کھلاڑیوں پر آئی پی ایل کے دروازے بند کر رکھے ہیں تو اس صورت میں ہمیں کرنا یہ ہے کہ اپنا ڈومیسٹک کرکٹ سرکٹ بہتر کریں اور اپنے ملک کے اندر چھوٹے چھوٹے ایونٹس کرا کر کھالاڑیوں کے کھیل کو اور پختہ کریں۔
ایسی پیچز تیار کی جائیں جو بلے بازوں اور باؤلرز دونوں کے لیے مفید ہوں تا کہ وہ مشکل حالات میں بھی اپنی صلاحیتوں کو منوا سکیں۔
آئی پی ایل نہ سہی لیکن بہت سے اور ممالک میں بھی آج کل ٹی ٹونٹی لیگزہو رہی ہیں۔ پی سی بی کو چاہیے کہ وہ اپنے کھلاڑیوں کو ان ممالک میں ہونے والی لیگز میں کھیلنے کے لیے ان کی بھرپور حوصلہ افزائی کریں۔
اس بات کی تو ساری دنیا شاہد ہے کہ ہمارے ملک میں ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں بس تھوڑی سی رہنمائی ہوتی رہے تو ہمارے کھلاڑی ہر میدان میں جیت کر آئیں۔حال ہی میں ختم ہونے والی کیئربین لیگ میں ہمارے ملک کے مایہ ناز وکٹ کیپر بیٹسمن کامران اکمل نے انتہائی عمدہ کارکردگی د کھائی جس کی بدولت ان کی ٹیم ٹرانیڈا اینڈ ٹوباگو ریڈ سٹیل پہلی سی پی ایل جیتنے میں کامیاب ہوئی۔ انہیں فائنل میں مین آف دی میچ کا ایوارڈ بھی ملا۔نہ صرف کیئربین لیگ، بلکہ پاکستان کے کھلاڑیوں نے سری لنکا، بنگلہ دیش، آسٹریلیا اور انگلینڈ میں ہونے والی ٹی ٹونٹی لیگ میں بھی ہمیشہ اچھی کارکردگی دکھائی ہے۔
بات صرف عزم کی ہے۔ پی سی بی اگر اب بھی صحیح سمت پر گامزن ہو جائے تو میرا یہ ایمان ہے کہ پاکستان کی کرکٹ ٹیم اب بھی اپنی کھوئی ہوئی ساکھ واپس لا سکتی ہے۔

  • saadhafiz

    http://www.dailytimes.com.pk/opinion/09-Aug-2015/failure-is-not-an-option

    Failure is not an option Saad Hafiz August 09, 2015

    Without external involvement, the stalemate in India-Pakistan relations is likely to continue indefinitely

    Hope is a precious commodity in the contentious relationship and endemic hostility between India and Pakistan. Both countries, bound by geography and a shared inheritance, seem unable to shake the baggage of history. The partition of India was based on the belief that Hindus and Muslims could not live together. In the six decades since this idea has transformed into two sovereign and independent states unable to live side by side. Despite the sorry record in bilateral relations, a rationale for dialogue was articulated by the distinguished Indian diplomat and politician late Vijaya Lakshmi Pandit, who once said: “The more we sweat in peace the less we bleed in war.”

    In both countries, political and institutional acceptance of a sustained peace process is difficult. Whenever there appears an opportunity for a thaw in bilateral relations, one or the other side decides that the risk of moving forward is too great. Sadly, but perhaps understandably, India has been more risk averse in recent times. Moreover, both states have exhibited inflexibility over the years, their respective positions bolstered by vested interests that include unyielding civil and defence establishments. Furthermore, the manipulation of popular opinion helps to ensure unremitting hostility between the two countries. India, with its growing global role, military and economic clout sees little advantage in dealing with Pakistan. On the other hand, Pakistan, India’s neighbour and nemesis, continues to seek parity with its adversary, which by every yardstick is an unrealistic proposition.

    Third-party engagement is deemed futile and hopeless, as India and Pakistan themselves display little desire for peace. The international community sees little upside in getting involved in resolving longstanding and seemingly intractable disputes. However, it makes little sense for the world to wait for some fundamental social or political changes to actively engage with India and Pakistan. In fact, a relationship exacerbated by fear, hatred and distrust, and a smouldering powder keg requires immediate attention. Peace between two nuclear-armed states, whose volatile borders are a constant flashpoint for major conflict, should be a pressing international issue.

    Without external involvement, the stalemate in India-Pakistan relations is likely to continue indefinitely. The small peace lobbies in both countries have to overcome significant negative perceptions such as: a) India has never reconciled to the creation of Pakistan and therefore wishes to destroy it, and b) Pakistan and its military brass in particular cannot be trusted to talk genuine peace. Only a third party can try to moderate Pakistan’s phobia about India, a nation perhaps seven times as populous and four times as large, with an army twice as big and governed by a Hindu nationalist party known for anti-Pakistan views. Similarly, realistically, only a third party is in a position to allay some of India’s fears about Pakistan, in particular Pakistan’s rapidly increasing nuclear weapons’ stockpile. It can apply pressure on the Pakistani military-intelligence establishment to end the use of anti-India militants as useful proxies. Only third parties can validate that there can be no outright winner in a battle between two nuclear-armed states.

    Despite the depressing outlook, there are some immediate initiatives that could improve the atmosphere, leading to a more meaningful and constructive dialogue. For instance, Pakistan must punish the plotters of the 2008 Mumbai terrorist attack. There is growing evidence this attack was orchestrated from Pakistan. This would signal a change of attitude towards India, which has long accused Pakistan of aiding and abetting cross-border terrorism. On its part, India can revive sporting ties between the two countries, starting with cricket. This soft gesture would confirm that India, despite harbouring serious doubts about Pakistan’s intentions, was above mixing sports and politics.

    These initiatives could lead to direct talks. There is simply no better way then talks to convey authoritative statements of position or to hear responses. If initial talks are fruitful, they can result in dialogue on more substantive subjects of mutual concern like more open and secure borders, demilitarisation and denuclearisation, governance, intolerance and education, gender and other related issues, globalisation, business and trade, cultural exchange and sports, and eventually Kashmir. Ultimately, both countries need to focus on the mutual challenges of poverty, hunger, illiteracy, water, health, shelter, education and unemployment, religious extremism and fundamentalism.

    With failure not an option, Prime Ministers Modi and Sharif should take the risks that most leaders shun. The way forward is demonstrating pragmatism and zeal in addressing issues, keeping in mind what long-term peace could mean for the people of the subcontinent. Much of the public in both countries are rightly sceptical because past peace efforts have yielded little of substance. Both governments will need to show results from their efforts. The initial priority in the talks can be regional conflict management, stopping cross-border attacks and creating better conditions for a permanent peace. One has to believe that seemingly intractable disputes can be resolved, or ameliorated, by patience, outside encouragement and, above all, a strategy that will address the many dimensions of the complex relationship between India and Pakistan.

  • saadhafiz

    http://www.sacbee.com/news/local/article30580746.html by Stephen Magagnini

    In Sacramento, consul general helps celebrate Pakistan’s Independence Day He pledges country’s efforts in terrorism fight

    Sacramento region home to about 80,000 South Asians with high education and income

    South Asian immigrants have some of the oldest roots in the region, arriving in late 1800s

    The Pakistani government has redoubled its efforts to “subdue and eradicate extremists of every caste, hue and shape” even as the threat of terrorism worldwide remains potent, said the country’s consul general Sunday while joining in the celebrations of Pakistan’s Independence Day at Cesar Chavez Plaza in Sacramento.

    Based in Los Angeles, Hamid Khan said his country has devoted considerable resources to fighting extremists, although that cooperation with the U.S. has stirred some resentment back home.

    “Terrorism is a global menace,” Khan said. “More than 176,000 members of the Pakistani army have been deployed in a focused, intelligence-based operation in what is known as the mountainous tribal areas along the Afghan border.”

    That strong message punctuated a day otherwise celebrating the region’s Pakistani community, which originated here more than half a century before Pakistan became a country.

    Khan called local Pakistanis “perhaps the oldest Pakistani community we have on the West Coast” and said “we are proud of what it does to honor its heritage.” South Asians have some of the deepest roots in the region, arriving from Punjab to farm and attend college here in the 1890s. On Sunday, a green-and-white Pakistani flag as well as the Stars and Stripes framed the stage.

    Event organizer Ras Siddiqui of the Pakistan Association of Sacramento said the oldest Pakistani organization in California originated in Sacramento, centered on the Muslim mosque on V Street downtown.

    Like others, Siddiqui said he feels the pride of Pakistan’s independence in his bones, with his great uncle Latif “Red” Bijnori having fought against colonial British rule.

    The uncle spent years in British prisons with Jawaharlal Nehru, who became India’s first prime minister, said Siddiqui, whose clan was divided by the partition that cleaved the territory into India and Pakistan. “The conservative side stayed in India, while the progressives, including my parents, moved to Karachi, Pakistan’s first capital,” he said.

    Sunday’s event came on the heels of Saturday’s India Day – themed “Unity in Diversity” – at the Red Lion Hotel Woodlake. Indians and Pakistanis have enjoyed great success here, with Californians born in India earning a median household income of $110,000 in 2013, and almost 80 percent of South Asian adults in California having at least a bachelor’s degree, according to the U.S. Census Bureau. About 60,000 Indians and more than 20,000 Pakistanis live in the Sacramento region.

    If anything, Sunday’s event served to break stereotypes about Muslim women. Sixteen-year-old Eehza Imran sported long, flowing blue locks, rather than the head scarves many women from the region wear.

    “My parents let me dye my hair,” said Imran, who came here when she was 3. “Most people don’t even know where Pakistan is – I have to show them.”

    She worked a clothing booth with the Iqbal sisters – Faizah, 21, and Rifet, 32 – and displayed multicolored bangles, embroidered purses and salwar kameez outfits.

    “Pakistan is not the religious fanatics who make the headlines,” said Siddiqui, who also helps run the online newspaper Pakistani Link. “Pakistani women go out and work in offices and fields.”

    Rashid Ahmed, 68, said he was a baby when his family left India by truck for Pakistan in 1947.

    “It’s a great feeling of joy to know the Pakistani experiment has survived.”

  • timely

    Pakistan’s fight against terrorism is a fake.
    Pakistanis target only those wayward terrorists who are not suited to pakistani islamofascist policies directed against non-muslims.

    Those muslim terrorists who co-operate with the rulers of Pakistan in killing and terrorizing non-muslims are protected by Pakistan.
    This is now a well-known fact all over the world.