شجاع خانزادہ کی شہادت اور سوالیہ نشان

تحریر: عماد ظفر

shuja khanzada

دہشتگردی کے سانحات میں جان گنوانے والوں میں ایک اور شہید کا اضافہ ہو گیا۔ پنجاب کے ہوم منسٹر کرنل ریٹائرڈ شجاع خانزادہ کو ایک خودکش حملے میں ہلاک کر دیا گیا۔ یہ اندوہناک واقع اٹک کے قریب انکی رہاہش گاہ پر پیش آیا۔ مرحوم شجاع خانزادہ پنجاب سے دہشت گردوں کے خاتمے کیلیے انتہائی مستعدی اور دلیری سے کام کر رہے تھے۔ باخبر ذرایع کے مطابق چند ہفتے پہلے مارے جانے والے لشکر جھنگوی کے سربراہ ملک اسحاق کی مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاکت میں کرنل صاحب کا کلیدی کردار تھا اور انہوں نے اپنی جماعت کی اعلی قیادت کو اس بات پر آمادہ کیا تھا کہ پنجاب میں دہشت گردوں کا نیٹ ورک توڑنے کیلیے ملک اسحاق جیسے اور دہشت گردوں کو بھی اسی انجام سے دوچار کروایا جائے گا۔ اپنی پارٹی میں ساتھیوں کی مخالفت کے باوجود کرنل شجاع خانزادہ نے انتہائی دلیری سے ملک اسحاق اور اسکے ساتھیوں کا خاتمہ کیا دہشت گردوں پر ہاتھ ڈالا اور اسکے نتیجے میں جام شہادت نوش کیا۔

ملک اسحاق اور اسکے ساتھیوں کی ہلاکت کے بعد سیکیورٹی ایجنسیوں اور حکومتی وزرا نے بہت دعوے کیے تھے کہ لشکر جھنگوی کا نیٹ ورک اب توڑ دیا گیا ہے اور اب یہ مزہبی فرقہ پرست جماعت کسی قسم کی انتقامی کاروائی کی پوزیشن میں نہیں۔ لیکن اس اندوہناک سانحے نے ان تمام دعوؤں کی قلعی کھول دی اور ہمارے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی انٹیلیجنس صلاحیتوں اور کسی بھی دھمکی سے اجتناب برتنے کی صلاحیت پر بھی سوالیہ نشان کھڑے کر دیئے ہیں۔ ایک صوبائی وزیر داخلہ کی رہایش گاہ کو دن دھاڑے نشانہ بنانا اس امر کا ثبوت ہے کہ دہشت گردوں کا نیٹ ورک نہ صرف مکمل فعال ہے بلکہ یہ جب اور جہاں چاہیں کسی کو بھی نشانہ بنا سکتے ہیں۔

انٹیلیجنس اداروں اور پولیس کو ملک اسحاق کی موت کے بعد بہرحال اس قسم کی انتقامی اور جوابی کاروائی کیلیئے تیار رہنا چاہیے تھا۔ اس واقع سے دہشت گرد اور فرقہ پرست جماعتوں نے پھر پولیس انتظامیہ اور حکومت کو ایک خوف کی فضا میں ڈال دیا ہے۔ وہ ججز جو پہلے ہی ان دہشت گردوں کے مقدمات سنتے ہوے ڈرتے تھے اب مزید ہراساں ہو گئے ہیں پولیس مقامی سیاسی قیادتوں کے دباؤ کا شکار ایک بار پھر اب ان انتہا پسندوں پر ہاتھ ڈالتے گھبرائے گی۔

اس واقعہ کے محرکات کا جائزہ لیجیے تو ایک بات واضح ضرور ہوتی ہے کہ ہمارے پالیسی سازوں نے ماضی کی غلطیوں سے ابھی تک کچھ نہیں سیکھا۔ سٹریٹیجک اثاثوں کے نام پر من پسند انتہا پسندوں کو پالنے کی ریت ابھی تک جاری و ساری ہے اور دہشت گردوں کے خلاف کاروائی میں بھی سٹریٹیجک اثاثے سمجھ کر جن انتہا پسندوں کے خلاف کاروائی نہیں کی گئی تھی وہ تمام عناصر اب پھر سے ایک نئے رنگ میں سر اٹھانے لگے ہیں۔ دہایوں پر مبنی غلط پالیسیوں اور ان دہشت گردوں کو اثاثے سمجھنے کی غلطی نے ہمیں دہشت گردی کی آگ میں جھونک دیا اور آج تک اس پالیسی کے ثمرات ہم بھگت رہے ہیں اگر اب بھی ان تمام نقصانات کے بعد ہم یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ ہم اس وطن سے دہشت گردی اور انتہا پسندی صرف اسی صورت میں ختم کر سکتے ہیں جب ہم بلا تفریق اور بلا امتیاز ہر انتہا پسند کے خلاف کاروائی کریں گے.اگر سانپ پال کر ہم بار بار ان سے ڈسے جانے کے باوجود یہ سمجنے سے قاصر ہیں کہ سانپ کی فطرت میں ڈسنا ہے اور وہ ڈستے وقت اپنے یا غیروں میں تفریق نہیں کرتا تو یقینا ہم اپنی اصلاح کرنے سے قاصر رہیں گے اور دہشت گردی کا عفریت کسی نہ کسی طور ہمارے درمیان موجود رہے گا۔

کرنل صاحب کی شہادت نے بہت اہم اور حساس نوعیت کے سوالات سیاستدانوں، عسکری حلقوں اور ہم لوگوں کیلیے چھوڑے ہیں اور یہ واقع مزہبی فرقہ واریت پھیلانے والے مسلح گروہوں کی طاقت اور مضبوط نیٹورک کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ یہ مزہبی فرقہ واریت کا زہر ہمارے معاشرے میں ناسور کی طرح پھیل چکا ہے. لوگوں کی جہالت کم علمی یا عقیدے کی کمزوری کو انتہائی مہارت سے کیش کرنے والے پس پردہ با اثر افراد آج بھی نفرتوں اور دہشت کا یہ کاروبار سر عام کر رہے ہیں۔انکو مزید پشت پناہی کبھی تحریک طالبان سے مل جاتی ہے تو کبھی سعودی ایرانی پراکسی وار کی فنڈنگ سے۔

انتہا پسندوں سے ڈرتے نام نہاد سیاسی رہمناؤں سے تو خیر کوئی توقع کرنا وقت کے ضیاع کے علاوہ کچھ نہیں جو لوگ اپنے آپکو قوم کا رہنما کہتے ہوں اور خود دو دو ہزار پولیس کمانڈوز کی سیکیورٹی یا بلٹ پروف لینڈ کروزرز میں گھومتے ہوں ان سیاسی بونوں سے ہم کیا گلہ کریں کیا توقع باندھیں۔جو لوگ ملک اسحاق اور اکرم لاہوری جیسے لوگوں سے معزرتیں کرتے پھرتے ہوں اور جان کا تحفظ مانگتے ہوں ان سے کسی قسم کا گلہ بے جا ہے۔ لیکن عسکری حلقوں کے آپریشن ضرب عضب شروع کرنے کے بعد پنجاب میں کالعدم تنظیموں کے خلاف کاروائی نہ کرنا اور ان انتہا پسند جماعتوں کے قائدین کو ڈھیل دینا بھی سمجھ سے بالاتر ہے۔ اور عسکری حلقے نہ جانے کیوں اپنے ادارے کے اندر سے ان انتہا پسندوں کے معاونین اور انکے لیے نرم گوشہ رکھنے والوں کو کیوں انصاف کے کٹہرے میں نہیں لاتے۔کشمیر فتح کرنے کی خواہش میں حافظ سعید احمد اور احمد لدھیانوی جیسے نہ جانے کتنے انتہا پسندوں کو چھوٹ دی جاتی ہے اور وہ اپنے تعصب پر مبنی پراپیگنڈہ کے ذریعے نہ جانے کتنے شدت پسند ذہن اور تیار کر لیتے ہیں۔

پوری دنیا ہمارے خلاف سازش کر رہی ہے اس وہم اور نرگسیت میں ہم لاشعوری طور پر شدت پسند نسلیں تیار کیے ہی چلے جا رہے ہیں۔ عسکری حلقوں اور پالیسی سازوں کو سمجھ میں آ جانا چاہیے کہ دورِ جدید میں جنگیں ہتھیاروں کے بل بوتے پر نہیں بلکہ علم و ہنر اور معاشی محاذوں پر جیتی جاتی ہیں۔ امریکہ کو دنیا کی سپر پاور اس کے ہتھیاروں نے نہیں بلکہ اسکی مضبوط معیشت نے بنایا ہے جس میں کلیدی کردار امریکن فارچون ملٹی نیشنل کمپنیوں کا ہے اور اگر صرف ہتھیار ہی کسی ملک کی سلامتی بقا یا ترقی کے ضامن ہوتے تو متحدہ روس کبھی نہ ٹوٹنے پاتا اور آج بھی دنیا کی سپر پاور ہوتا۔

انتہا پسندی پر مبنی قصے کہانیاں اور جنگ کو ایک بہادری قرار دے کر عام ذہنوں میں پلنے والی شدت پسندانہ سوچ بھی ختم کرنی چاہیے۔ فاٹا میں جاری ضرب عضب جیسا آپریشن ملک کے دیگر حصوں اور خصوصا پنجاب میں بھی ہونا چاہیئے لیکن لوگوں کی بنیادی سوچ کو تبدیل کرنے اور شدت پسندی کی ہر قسم کی حوصلہ شکنی کے بعد۔ لشکر جھنگوی یا اور کوئی بھی ایسی تنظیم جو کسی بھی فرقے سے تعلق رکھتی ہو ان کے لیڈران کے خلاف بھرپور اور فیصلہ کن کاروائی ہونی چاہیے۔ ہمارے فیصلہ ساز اداروں کو اب یہ فیصلہ کرنا ہو گا کہ اتنی زیادہ سویلین اور فوجی شہادتوں کے بعد کیا ہم مزید اچھے اور برے عسکریت پسندوں والی پالیسی ترک نہیں کریں گے؟ کیا ہم اپنے تعلیمی نصاب اور لٹریچر سے نفرت اور تعصب پر مبنی مواد نکال باہر نہیں کریں گے؟ اور ہم کب ایک ایسی جامع حکمت عملی بنانے میں کامیاب ہو سکیں گے جسکے نتیجے میں اسطرح کے دلخراش واقعات ظہور پزیر نہ ہوں؟ سیاسی مصلحتوں کے تابع جمہوریت کا لبادہ اوڑھے سیاستدانوں کو بھی فیصلہ کرنا ہو گا کہ کب تک دوسرے ملکوں کی پراکسی جنگ کا حصہ بنے رہنا ہے اور آخر کب تمام سیاسی مصلحتوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ان عناصر کے خلاف رائے عامہ ہموار کرنی ہے؟

بلاشبہ پنجاب میں اور پورے ملک میں ان مزہبی شدت پسند تنظیموں کے لیئے ایک ہمدردی رکھنے والا طبقہ ابھی بھی موجود ہے لیکن رائے عامہ ہموار کرنے کی ذمہ داری سیاسی رہنماوں پر ہی عائد ہوتی ہے اور رہنما وہ ہوتا ہے جو پاپولسٹ اپروچ کے برعکس وقتی سیاسی فواید حاصل کرنے کے بجائے ملک و قوم کے آنے والے بہتر کل کیلئے ایک بہتر اور دلیرانہ فیصلہ کر سکتا ہو۔ ویسے بھی حکمرانی زندہ لوگوں پر بھی کی جاتی ہے نا کہ قبرستانوں پر۔ اگر لوگ زندہ رہیں گے تو اشرافیہ کے شوق حکمرانی بھی پورے ہوتے رہیں گے۔ حکمران جماعت کو ایک نظر اپنے پنجابکے رہنماوں پر بھی ڈالنے کی اشد ضرورت ہے جو ان تنظیموں کے ووٹ کیلئے ہر حد عبور کر جاتے ہیں۔ کرنل ریٹائرڈ شجاع خانزادہ نے تو سیاستدانوں اور قد آور مقتدر حلقوں کی لاج اپنے لہو کی قربانی دیکر رکھ لی لیکن یہ تمام سوالیہ نشان وہ پالیسی سازوں پر چھوڑ گئے ہیں کہ گھٹ گھٹ کر جینا ہے یا بلا خوف وخطر ایک مکمل امن والے معاشرے میں۔

فیصلہ اب سیاسی حلقوں اور مقتدر قوتوں کو کرنا ہے۔