اب کپتانی سٹیو سمتھ کو مل جانی چاہیے

تحریر: عمیر حسن

Smith
دانش ور لوگ کہتے ہیں نا کے ہر چیز اپنے وقت پر ہی اچھی لگتی ہے تب ہی آپ صحیح سمت پر گامزن رہ پاتے ہیں اور اسی میں آپ سمیت سب کی بھلائی ہوتی ہے۔ اسی بیش قیمت بات کو آگے بڑھاتے ہوئے اور آسٹریلیا کی انگلینڈ کے ہاتھوں چو تھے ٹیسٹ میں انتہائی پست پرفارمنس کو دیکھتے ہوئے میرا بھی یہی خیال ہے کے اب آسٹریلین کرکٹ ٹیم میں کپتانی کی ذمہ داریاں ما ئیکل کلارک سے لے کر نوجوان اور باصلاحیت بلے باز سٹیو سمتھ کو سونپ دینی چاہییں۔
مائیکل کلارک یوں تو بے حد عمدہ کرکٹر ہیں اور آسٹریلین ٹیم کی قیادت کافی عرصے سے اچھے انداز میں کرر رہے ہیں لیکن 2015 کی ایشیز سیریز کی شروعات سے ہی وہ کافی تھکے تھکے محسوس ہو رہے ہیں۔ اور اسی تھکان کی وجہ سے ان کی اپنی بیٹنگ پرفارمنس بھی بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔ مائیکل کلارک نے 2015کی ایشیز سیریز میں کھیلے گئے چار ٹیسٹ میچز کی سات اننگز میں اب تک صرف 104رنز بنائے ہیں جو  کہ کسی بھی بڑے بلے باز جس کی اوسط پچاس کے لگ بھگ ہو کے لیے کافی تشویش ناک بات ہے۔
جو لوگ کرکٹ کے شوقین اور اس کے اتار چڑھاؤ کو قریب سے دیکھتے ہیں وہ لوگ بھی اس بات کو خوب جانتے ہوں گے کہ آسٹریلیا کی ٹیم اپنے قائد کی راہنمائی میں کیسے یکجان ہو کر کھیلتی ہے۔ لیکن یہاں پر المیہ یہ ہے کہ ان کا وہی قائد جسے چند عرصہ پہلے ہر کوئی رول ماڈل کے طور پر لیتا تھا آج اپنی کوتاہیوں کا بے تکے انداز سے دفاع کر رہا ہے اور اسی دفاعی طرز عمل کو ٹیم کے اندر موجود کوئی بھی نہیں منظور کر رہا۔
اس تمام بدلتی ہوئی صورت حال کو دیکھتے ہوئے یہ بات سب سے اہم ہے کے اگر مائیکل کلارک کو آسٹریلین ٹیم کی کپتانی سے ہٹا دیا جاتا ہے تو یہ عمل کتنا کارگر ثابت ہو گا نہ صرف آسٹریلیا کی آئندہ ٹیسٹ پرفارمنس پر بلکہ مائیکل کلارک کی اپنی بلے بازی پر جو بری طرح ڈی ٹریک نظر آتی ہے۔
اگر دیکھا جائے تو کسی بھی قسم کی قیادت آپ کے لیے ایک بڑا چیلنج ہوتی ہے اور جو لوگ چیلنج کو قبول کر کے اپنی بھرپور صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر مسلسل محنت کرتے رہتے ہیں، وہ لوگ کامیابی حاصل کر لیتے ہیں دوسری جانب کچھ لوگ وقتی کامیابی کو ہو ہی سب کچھ سمجھ کر اپنی آفیت سمجھتے ہیں۔
ایسی نا گزیر حالت میں جب آسٹریلیا کافی بری طرح 2015 کی ایشیز سیریز ہارنے کے دہانے پر کھڑا ہے ا گر قیادت کی ذمہ داریاں سٹیو سمتھ کو سونپ دی جاتی ہیں تو یہ انتہائی درست فیصلہ ہو گا۔ کیونکہ سمتھ بھی اس بات کو باخوبی سمجھیں گے کہ انہیں یہ کپتانی کیوں اور کس لیے دی جا رہی ہے۔
سٹیو سمتھ کے کھیل کے اعداد و شمار بھی اس بات کی گواہی دیتے ہیں کے وہ کتنے منجھے ہوئے پر اعتماد کھلاڑی ہیں اور جو قیادت میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا پہلے ہی منوا چکے ہیں۔ آئی سی سی کی موجودہ ٹیسٹ بلے بازوں کی رینکنگ میں وہ ٹاپ پوزیشن پر ہیں۔ اس کے علاوہ 2014-2015 میں ہونے والی بارڈر-گواسکر ٹرافی میں بھی انہوں نے شاندار بیٹنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے سب سے زیادہ رنز بنائے۔
ان کے اسی مسلسل شاندار کھیل کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے حال ہی میں آسٹریلین کرکٹ کی جانب سے انہیں ایلن بارڈر میڈل سے نوازا گیا۔
ان تمام خوبیوں کے باوجود سٹیو سمتھ ایک نہایت تحمل مزاج کھلاڑی ہیں اور جذبات کو اپنے اوپر کبھی حاوی نہیں ہونے دیتے اسی لیے بہت سے لوگ اب انہیں آسٹریلیا کی قیادت کرتے ہوئے دیکھنا چاہتے ہیں۔
حالات جو بھی ہوں، آسٹریلین کرکٹ کو اب جلد فیصلہ کرنا ہے۔ کہیں یہ نہ ہو آسٹریلیا کی کرکٹ ٹیم مزید پستی کی جانب گرتی چلی جائے۔