بدلتا ہے رنگ خوشامدی ٹولہ کیسے کیسے

تحریر: عماد ظفر

Aleem

خوشامد کی کوئی نہ کوئی انتہا ضرور ہوتی ہے. لیکن ہمارے ہاں باقی تمام چیزوں کی طرح اس کی بھی کوئی انتہا نہیں. گزشتہ تحریروں میں سول ملٹری ریلیشنز کے بارے میں لکھنے کے بعد اس موضوع پر لکھنے کو ہرچند دل آمادہ نہیں تھا لیکن بین الاقوامی اخبار گارڈین میں فوج کی میڈیا پر سنسر شپ کی رپورٹ اور ایک انتہائی عجیب و غریب اور احمقانہ سیاسی ہتھکنڈا دیکھنے کے بعد جو کہ انتخابی مہم میں تشہیری پوسٹر پر راحیل شریف صاحب کی تصویر چسپاں کرنے کے حوالے سے ہے رہا نہ گیا چنانچہ اس پر بادل ناخواستہ ایک بار پھر تحریر کرنا ضروری ہو گیا.برطانوی اخبار گارڈین میں فوج کے میڈیا کو کنٹرول کرنے کے حوالے سے رپورٹ پڑھ کر حیرت بھی ہوئی اور تعجب بھی. گارڈین کی رپورٹ کے مطابق پاکستانی صحافیوں کو اور بالخصوص الیکٹرانک میڈیا سے وابستہ اینکرز کو فوج کے خلاف کسی بھی قسم کی تنقید کرنے سے روکا جا رہا ہے آور اس ضمن میں لائیو ٹاک شوز کے دوران ڈیلے ٹیکنالوجی کا بھی استعمال کیا جا رہا ہے تا کہ کسی بھی قسم کے ناپسندیدہ الفاظ کو حزف کیا جا سکے دوسری جانب صحافیوں اور اینکرز کو ایجنسیوں کی جانب سے بھی دھمکیاں دی جا رہی ہیں.کیونکہ رپورٹ میں پاکستانی صحافت کے سینیئر اور معزز ترین صحافیوں حامد میر اور عباس ناصر صاحب کا حوالہ دیا گیا ہے اور ان سے آرا بھی لی گئی ہیں تو اس بات میں بہرحال کچھ نہ کچھ وزن ضرور موجود ہے.البتہ زاتی طور پر خود پاکستان کے ممتاز ترین ٹی وی چینل سے وابستگی کے درمیان کم سے کم میں نے اسطرح کی کوئی سینسر شپ نہیں دیکھی جسکا زکر اس رپورٹ میں کیا گیا.رہی بات اس ٹیکنالوجی کی جو لائیو پروگرامزـمیں استعمال ہو رہی ہے جسے غالبا ریلے کا بھی نام دیا جاتا ہے اور جسکا مقصد لاہیو شو کی بہتری ہوتا ہے کہ میزبان کو ایک کشن مل سکے کہ اگر دوران پروگرام کوئی اخلاقیات سے گری ہوئی بات کر دے تو اس کو نشر ہونے سے روکا جا سکے اس ٹیکنالوجی کا استعمال عام طور پر پوری دنیا کے الیکٹرانک میڈیا میں ہوتا ہے اور اگر پاکستانی ٹی وی چینلز نے اب اس کو اپنایا ہے تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں. ایف ایم ہنڈرڈ کے پلیٹ فارم سے اس ٹیکنالوجی کو ٹاک شوز اور دیگر پروگرامز میں برس ہا برس سے استعمال کیا جا رہا ہے.لیکن اگر اب موجودہ صورتحال کے تناظر میں اس ٹیکنالوجی کو ٹی وی چینلز پر سنسر شپ کیلئے استعمال کیا جا رہا ہے تو یہ انتہائ غیر مناسب اقدام ہے.جنرل راحیل شریف صاحب کی مدت ملازمت ختم ہونے میں اب چند ماہ رہ گئے ہیں اور بہرحال جس طرح سے گزشتہ چند ماہ میں چند سیاسی مایوسی کا شکار جماعتوں بوٹ پالش کرنے کی عادت سے مجبور چند ٹی وی چینلز اینکرز تجزیہ کار اور مالکان اور خود آی ایس پی آر نے نے جو مہم شکریہ راحیل شریف اور انکے قصیدے پڑھنے کیلئے چلائی ہے اس سے شکوک و شبہات اور وسوسے ضرور پیدا ہوتے ہیں.عباس ناصر نے گارڈین سے بات کرتے ہوئے بھی اس منظم کمپین کی طرف اشارہ کیا تھا اور گزشتہ تلخ حقائق اور تجربات کی روشنی میں اسے خطرناک قرار دیا.اور بالکل درست فرمایا کہ اگر آپ صبح شام ایک انسان کو یہ کہتے رہیں کہ وہ عظیم ہے تو کچھ عرصے بعد وہ واقعی میں اپنے آپ کو ایک عظیم انسان سمجھنے لگتا ہے.اور بدقسمتی سے ہم بطور معاشرہ ویسے ہی شخصیت پرستی کے لاعلاج مرض میں مبتلا ہیں ایسے میں ان حضرات کی یہ آرا وزن اور عقلی استدلال رکھتی دکھائی دیتی ہیں. سیاسی رہنماوں کی تزلیل صبح شام ایسے کی جا رہی ہے جیسے پاکستان کی تمام نااہلی اور مسائل کے زمہ دار صرف وہی ہیں.میڈیا مالکان اور حوالدار اینکرز دن رات عوام کو یہ کہتے نہیں تھکتے کہ بس اب راحیل شریف ہی اس ملک کو بچا سکتے ہیں.اور کرٹکل تھنکنگ سے نابلد زیادہ تر تعداد اس کو سچ مان لیتی ہے کہ ہوش سنبھالنے سے بڑھاپے تک مزاجا اور اجتماعی طور پر یہ معاشرہ ایک ایسے مسیحا کی تلاش میں رہتا ہے جو آتے ہی پلک جھپکتے ان کے تمام مسائل جادو کی چھڑی سے ٹھیک کر دے گا جب معاشرے یا قوم کے زیادہ تر افراد ایسی سوچ کے حامل ہوں تو پھر اس طرح کی کمپیںز چلانا اور انہیں کامیاب بنانا بہت آسان ہو جاتا ہے. کامران خان جیسے سینیئر صحافی بھی ریٹنگز کے چکر اور مالکان کو خوش کرنے کیلئے جب نندی پور اور دیگر پراجیکٹس پر غَلط فگرز عوام کے سامنے رکھیں تو دال میں کچھ کالا ضرور محسوس ہوتا ہے.جناب کامران خان صاحب نے تو ایک پورا پروگرام اسـں موضوع پر بھی رکھا کہ جنرل راحیل شریف کی مدت ملازمت میں توسیع ملکی مفاد میں کیونکر ناگزیر ہے اور ایسے ایسے عجیب استدلال پیش کیے کہ حیرانی کے ساتھ پشیمانی بھی ہوئی اگر ان پر یہ پروگرام کرنے کیلیے کوئی دباو تھا تو انہیں بتانا چاہیے تھا.دیگر میزبان اور تجزیہ کاروں سے تو خیر کسی بھی قسم کی توقع فضول ہے. بہرحال میری زاتی رائے میں جنرل راحیل شریف نہ تو اس قسم کی سنسر شپ کا حکم دے سکتے ہیں اور نہ اپنی پروجیکشن کیلئے کوئی کمپین چلانا پسند کریں گے البتہ انہیں انکوائری ضرور کرنا چاہیئے کہ ان کی پی آر ٹیم اور اپنے ادارے میں سے کون کون اس میں ملوث ہے اور اس کے پیچھے کیا مقصد کارفرما ہے.رہی بات جنرل صاحب کی مدت ملازمت میں توسیع کی تو میاں نواز شریف خود بھی یہ چاہیں گے کہ راحیل شریف کی مدت ملازمت میں توسیع کر دی جائے. اس کی وجہ ایک تو ان کا دہشت گردی کے خلاف آپریشن میں مثبت کردار ہے اور دوسرا اعتماد کا رشتہ جو تحریک انصاف کے دھرنے کے دنوں میں قائم ہوا تھا.جب عمران خان صاحب اور قادری صاحب جی ایچ کیو جنرل صاحب سے ملنے گئے تھے اور نواز شریف کے استعفی کا مطالبہ کیا تھا تو جنرل صاحب نے واضح طور پر ان دونوں حضرات کو یہ بتا دیا تھا کہ وزیر اعظم سے استعفی لینا یا مانگنا ان کے اختیار میں نہیں.میاں صاحب کیونکہ اعتماد بہت کم کرتے ہیں ملٹری ایسٹیبلشمنٹ پر اس لئیے وہ راحیل شریف کو ایکسٹینشن دینا زیادہ مناسب خیال کریں گے بن نسبت کسی نئے جنرل پر اعتماد کرنے کے.لیکن بہرحال جنرل راحیل شریف اگر مدت ملازمت میں توسیع نہ لیں تو یہ ان کے اپنے حق میں انکے ادارے اور ایک اچھی روایت کیلئے بہت ضروری ہے.ان کا ریٹائرمنٹ لے لینا اس امر کی نشاندہی بھی ہو گا اور بہت سے افراد کیلئے سبق بھی کہ افراد نامتبادل نہیں ہوتے اور اگر ادارے مظبوط ہوں تو کسی بھی فرد واحد کے آنے جانے سے کوئی فرق نہیں پڑھتا.بہرحال یہ جنرل راحیل شریف کا اپنا زاتی فیصلہ پے سو جیسا ان کو مناسب لگے گا وہ کریں گے.لیکن انہیں اب میڈیا پر اپنا ایکسپوزر خود کم کرنے کی ضرورت ہے. اور ایسے تمام عناصر کی حوصلہ شکنی کی بھی ضرورت ہے جو دن رات پراپیگنڈہ کر کے نہ صرف سول ملٹری تعلقات میں بھی کشیدگی کا باعث بنتے ہیں بلکہ بین الاقوامی دنیا کو بھی ہم پر ہنسنے کا موقع فراہم کرتے ہیں.گارڈین اخبار کی حالیہ رپورٹ پر نہ صرف آی ایس پی آر کا رد عمل آنا چاہیئے بلکہ اس پر ایک انکوائری بھی ہونی چاہیئے کہ کیا واقعی میں سینسر شپ کی کوششیں کی جا رہی ہیں.اب آئیے دوسرے انتہائی مضحکہ خیز واقعے کی طرف لاہور کے حلقہ NA 122 میں تحریک انصاف کے رہنما نے قصیدہ گوئی اور خوشامدوں کے ریکارڈ توڑتے ہوئے انتخابی پوسٹرز پر راحیل شریف کی تصویر دے ڈالی.یہ بات سوشل میڈیا کے زریعے پوری دنیا میں پھیلی اور جگ ہنسائی کا باعث بنی.تحریک انصاف نے تو خیر شروع دن سے فوج کو سیاست میں گھسیٹنے کے تمام حربے استعمال کر لئیے لیکن یہ فعل انتہائی غیر مناسب اور گرا ہوا ہے.اقتدار کی لالچ اور حرص میں حکومت کو فوج کے ساتھ لڑوا کر نئے انتخابات کی راہ دیکھنے والوں کو کیسے سمجھایا جائے کہ اگر اس طرح کا کوئی اقدام ہو بھی جائے تو سب سے پہلے زیر عتاب اسی طرح کے لوگ اور جماعتیں آتی ہیں جو مارشل لا لانے کا سبب بنتی ہیں.بہرحال سب سے پہلے تو الیکشن کمیشن کو علیم خان سے جواب طلب کرنا چاہیئے کہ پوسٹر پر اپنے انتخابی نشان کے ساتھ ایک ادارے کے سربراہ کی تصویر لگا کر وہ کیا پیغام اور تاثر عوام اور ووٹرز کو دینا چاہتے ہیں. اس قدر اوچھا اور شرمناک قصیدہ گوئی کا عمل اس سے پہلے شاید ہی کسی اور سیاسی جماعت نے کیا ہو. پاور پالیٹیکس میں کوئی بھی چیز حتمی تو نہیں ہوتی اور بہرحال فوج کے سیاسی کردار سے کوئی زی شعور انکار بھی نہیں کر سکتا لیکن اب ضرورت اس امر کی ہے کہ دفاعی ایسٹیبلیشمنٹ اپنے آپ کو کم سے کم حکومتیں بنانے یا گرانے یا انہیں کمزور کرنے کے کسی کھیل کا حصہ نہ بنے.اور سیاستدان خوشامدی صحافی اور دانشوروں سمیت عام عوام کو بھی اب سمجھ آ جانا چاہیئے کہ ملکی یا معاشرتی مسائل کا حل یا انہیں درست کرنا کسی بھی آمر یا ایک شخص کے بس کی بات نہیں. ان مسائل کو حل کرنے کیلئے ہم سب کو اپنا اپنا حصہ ڈالنا ہو گا.جتنی محنت خوشامدی گروہ راحیل شریف کے قصیدے پڑھنے میں کرتا ہے اس کا آدھا فیصد بھی اگر حقیقی معنوں میں کچھ عملی کام کر کے دکھا دے تو بہت بہتری آ سکتی ہے.اور اگر گارڈین میں چھپنے والی سٹوری پر ایک انکوائری کمیٹی بٹھانے کے ساتھ ساتھ ڈی ایچ اے سے متعلق مالی کرپشن کی تحقیقات بھی سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق کروا لی جاییں تو یقینا عسکری اداروں کی قدرو منزلت میں اضافہ بھی ہو گا اور کسی بھی قسم کی خوشامدی مہم یا سنسر شپ کی ضرورت بھی پیش نہیں آئے گی.

  • yasserlatifhamdani

    جنرل راحیل شریف صاحب کی مدت ملازمت ختم ہونے میں اب چند ماہ رہ گئے ہیں

    Actually he retires in November 2016- so he has a little more than year to go.

  • kaalchakra

    “we are living under military dictatorship as I write.”

    No, Masadi, you are living under democratic martial law, an amazing system wherein politicians get all the blame and public contempt and the military gets all credit and public adulation. No military dictatorship could have been as good.

    Nawaz Sharif is already a stuffed doll. No prediction is needed for the poor man.

  • kaalchakra

    Masadi

    Pakkkistan, Amerikkka, and Blackkks aside, democratic martial law is a system that exists in Pakistan (Pakkkistan?) today – martial law is enforced from behind a DEMOCRATIC form and structure, DEMOCRATICALLY elected leaders exercise little control over the military, and the military both holds all important powers and actively manufactures popular consensus in its own favor.

    It is a peculiar system, like Islamic democracy.

  • kaalchakra

    Masadi, there are those who don’t put ‘democracy’ in “” when bad-mouthing democracy in Pakistan. Recognizing current Pakistani arrangement as democratic martial law recognizes its democratic form and the purpose of that form as the recipient of all popular blame and cover for military rule.

  • kaalchakra

    Sorry, Masadi. New arrangements require new ways of understanding them. What is lived as a circle but has the form of a square is simply a squared circle, no matter how little that appeals to purists. A martial law that retains the specific outer form of a democracy is not merely informal martial law, not simply democracy corrupted – it can be more gainfully understood as the new category of democratic martial law, with its specific, clear meaning of what it implies.

    IMO, that is the situation that Pakistan is currently facing, with all its paraphernalia of a ‘democracy’ intact, but functioning as it would under martial law. This introduces its own unique challenges for Pakistani people – hopefully, these challenges will be resolved to the best advantage of the latter.

  • imad

    Yes you are right he will retire in november 2015. Months are written symbolically.

  • kaalchakra

    Masadi, this is an unnecessary argument. The way Pakistani military has currently combined the skeletal body of democracy with the functioning and soul of military rule to destroy Pakistan’s the political class is, IMO, doubly hazardous for the health of democracy in Pakistan. This is a new strategy and form that can be only understood as the new governance category of DEMOCRATIC MARTIAL LAW – different from both diluted democracy and informal martial law.

    You don’t see it that way – that’s fine.

  • imad

    Dear masadi you have your opinion but in reality things are moving in positive dorections.we as a journalists pin point the weaknessess of our system but that doesnt mean that every thing is negative in this country.our society and system is evolvong and getting better day by day and no we are not living under any semi martoal law as i can write in newspapers can discuss in my talk shows regardong the wrong policies of defence establishment.democratic Govts are exploited by few individuals on the higher ranks of army but that is becoming socially and politically unacceptable day by day.within the army there is a strong consensus to decrease the involvement in politics.ofcoursr it will take some time but things are definately getting better.

  • kaalchakra

    “a square can be made into a circle but still stay a square (democratic military dictatorship)”

    Masadi, sometimes, one wonders who gave you a Ph.D. Even at low-ranked universities they normally maintain some standards.

    ——————————

    “i can write in newspapers can discuss in my talk shows regardong the wrong policies of defence establishment.democratic Govts are exploited by few individuals on the higher ranks of army but that is becoming socially and politically unacceptable day by day.within the army there is a strong consensus to decrease the involvement in politics”

    imad, you might know Pakistani army from the inside but outsiders cannot know what the consensus inside it is. Clearly, there is a new style of military governance – of keeping the democratic structure intact, but Pakistan’s political class is being systematically destroyed (much to the satisfaction of many). Perhaps that will be good for Pakistani democracy. Perhaps it won’t be. It is too early to know. As a novel experiment in Pakistani governance, this level of military engagement and control is rather new.

  • kaalchakra

    “I was quoting you and your claim that that a squared circle is still a circle. ”

    And that, Masadi, is why one genuinely wonders how anyone gave you a Ph.D. even at your university.

  • imad

    Dear masadi PM is little paranoid with the defence establishment and due to his bitter experiences is in a defensive mood secondly i did not say that military is out of the political scenario ,it is just they are learning and accepting the new realities though some hawkish elements in army are trying to creat discomfort between cival and military relations but they are not successful.PM is not helpless as the media try to portray niether do Army is dictating him.it is the style of the politics of NS where he try to portray himself a man haunted by mimitary establishment and so far with this style he has successfully been conquering eloctoral population in punjab.regarding censor ship i have never observed any kind of instructions from the army after dharna.

  • imad

    Dear kaalchakra yes this is a new experience and both the army and civilian leadership learning and recognizing the new realities of the modern age.i said earlier that democracy will evolve slowly and as per my experience and inside information there is no pressure on PM at all from army.

  • kaalchakra

    “there is no pressure on PM at all from army.”
    “regarding censor ship i have never observed any kind of instructions from the army after dharna.”

    imad, if you have inside information, then all those who might be concerned about the health of Pakistani democracy would hope you are right. As you know, rightly or wrongly, MQM is being gutted, ANP has been neutralized and is being threatened, PPP leadership is in Dubai, or facing jail, and even PMLN has begun to feel the heat. This is rather unusual, and Pakistani media – newspapers and talk shows – reflect a sombre mood about the role of political players right now.

  • imad

    Dear MQM played the cards well to its advantage and been successful in portrayong themselves a victim of state opressipn atleast infront of their voters, and NS was onboard on operation against them and to trial PPP on corruption charges.NS has his own style of politics as i eaelier mentioned.how ever there are many rankers in Army who do not like him but again as an institution they are not interested.regarding media well usually the saiths mean owners controll the programs and in south asia its all about selling sensation and perception of threats. what is bieng shown in media is usually for ratings and profits for example media has siccessfully created the perception in our country that india pak war is on the cards any time and india is doing every thing bad in pak. It gives them ratings a very simple law of controlling minds are creating and making the percepttions of fear of diff kinds .i.e.fear of enemy attacking the country.fear of army taking over,fear of civil leadership selling the country.how ever a judicial commision should be formed to investigate about the media censorship as mr hamid mir and Abbas nasir both are well respected and very senior journalists and if they can share it with Guardian they can surely share evidence in the commision as well.

  • imad

    No i am not sponsored by any one .you can see it as you wana see.zarb e azb is the evidence that establishment learnt from the mistakes thus eliminating terrorists.karachi operation was needed as the economic hub of pakistan was hostiled by mafias though it would have been better to use police rather then rangers and the ruling party started it not the army.yes dharna was sponsered by few generals but that did not work as there is zero tolerance for any martial law in the civil society.you can percoeve what ever you want to but try to .

  • tajender
  • imad

    You are just getting hyper if you want to win an argument you can but you cannot debate on any issue like this.i think i am well connected to civilian and military leadership due to my profession so dont need any more connections but thanks for your offer.before Zarb e Azb there were suicide bomb explosions every day and now atleast to a large scale they are finished.displaced persons are the responsibility of both military and civilians.chairman senate is trying to get his party pisition strong by political statements.

  • imad

    Thank you for showing your biased and illogical opinion without any rationality.the ground is all yours.keep living in hatred as living in hatred itself is a big punishment.so i really have sympathy for you and wosh you Get Well Soon.

  • kaalchakra

    Difference between democracy, martial law, and democratic martial law:

    http://www.dailymotion.com/video/x37df67_nasim-zehra-9-30-20th-september-2015_news

    why has Pakistan People’s Party leadership abandoned Pakistan and shifted en masse to Dubai?!

    At 15:00 Nasim Zehra raises that very pertinent point – lakhon logon ke dil ki baat –

    PPP’s Pir Mazahar Ul Haq tries to justify this abdication by citing the case of Benazir Bhutto. Benazir too functioned from Dubai during Musharraf’s military rule. But then others point out that the situation in Pakistan today is as different from that in Musharraf’s years as night is from day.

    Today there is no martial law. Today Pakistan’s democracy is functioning. A democratically elected PPP government itself rules over Sindh. Bilawal is trying to attack PMLN in Punjab! So there is no threat to PPP. In fact, Pir saheb is repeatedly asked if there is a threat, and he just can’t name any!

    What is lived but cannot be described – aaj ke halat.

  • kaalchakra

    Actually, in that video clip, Justice Tariq Mahmood is also interesting to listen to about That-Which-Exists-But-Cannot-Be-Named.

  • kaalchakra

    Dear Masadi, you That-Which-Cannot-Be-Named, I would advise you to watch that clip and hear about Pakistan’s existing democracy from Nasim Zehra, Shah Mehmood Qureshi of PTI, and Abdul Qayum of PMLN. Just because you can understand Islami Jamhooriat but can’ get your head around anything else doesn’t mean it doesn’t exist. Best.

  • kaalchakra

    “democracy and martial law are mutually exclusive”

    This is silly. If you can have democracy and Islam, why can’t you have democracy and martial law? You only have to know what true democracy and true martial law really are.

    There are people who understand these things. Hence these things exist. You making a racket PTH or lulu.com is neither here nor there.

  • kaalchakra

    Got it. Islam reflects community consciousness – as we see in Pakistan and other Islamic countries, while capitalism and Martial law do not. Is that right, Masadi?

  • Satyajit

    Got it. Islam reflects community consciousness – as we see in Pakistan and other Islamic countries, while capitalism and Martial law do not. Is that right, Masadi?

    This explain the secret of absence of Islam in economically developed societies and absence of economic, science , technological advancement in islamic societies. For most humane values and to advance consciousness one must move to islamic countries. And this fact is corroborated with current global migration and asylum seeking trend.

  • imad

    Dear masadi ur all qiestions are answered in my new writing piece regarding peshawar terrorism incident.have a look on that.