پشاور دہشت گردی شریک جرم کون

تحریر: عماد ظفر

PAF

دہشت گردی کے ایک اور بھیانک اور لرزہ خیز واقعے نے کم و بیش 29 جانیں نگل لیں.پشاور کے علاقے بھڈ پیر میں پاک فضائیہ کے بیس کیمپ پر 13 دہشت گردوں نے حملہ کیا اور مڈبھیر میں خود تو ہلاک ہوئے ہی لیکن تیس کے قریب قیمتی انسانی جانوں کا بھی ضیاع کر گیے.باخبر ذرائع کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد کئی گنا زیادہ ہے.سانحے کے بعد عسکری و سول انتظامیہ فورا پشاور پینچی شہدا کے نماز جنازہ میں شرکت کی اور اس کے بعد وہی روایتی بے حسی اور سرد مہری کا مظاہرہ بلندو بانگ دعووں اور بیانات کی صورت میں شروع کر دیا گیا. جب کرنل ریٹائرڈ شجاع خانزادہ کو شہید کیا گیا تھا اس وقت بھی راقم نے دہشت گردوں کے منظم اور مربوط نیٹ ورک کی نشاندہی کی تھی.خیر دن دیہاڑے فضائیہ کے کیمپ کو نشانہ بنانہ اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ نہ تو دہشت گردوں کی کمر ٹوٹی ہے اور نہ ہی محض عسکری آپریشن کر کے ان کی کمر توڑی جا سکتی ہے.آپریشن اس وقت کامیاب ہوتے ہیں جب مسلح کاروائی تمام دہشتگردوں کے خلاف بلا تفریق کی جائے اور ساتھ ہی معاشرے میں عدم برداشت اور اسلحہ کلچر کے خلاف بھرپور آگاہی کی مہم بھی چلائی جائے. میں نہیں جانتا عسکری اور سول قیادتوں کو کیا امر مانع ہے جس کی وجہ سے وہ دہشت گردی کی تمام قسموں کو ختم کرنے کی کوشش نہیں کرتے.اور کتنے الفاظ لکھیں یا بولیں کتنے لوگوں کا لہو اور درکار ہے پالیسی سازوں کو؟ ایک مربوط پالیسی نہ بنانے کے پیچھے آخر کیا وجہ ہو سکتی ہے. ایک مدت ہو گئی سول اور ملٹری ایسٹیبلیشمنٹ کو رٹے رٹائے اعلانات اور بیانات داغتے ہوئے. دہشت گردوں کی کمر توڑ دی گئی انہیں کچل دیا گیا دشمن کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملا دیا گیا.اور ہر حملے کے بعد فورا بیانات کے زریعے کوشش کی جاتی ہے کہ حملوں میں بیرونی طاقتوں کے ملوث ہونے کا قوم کو یقین دلوا کر اپنی جان چھڑا لی جائے. مخصوص تجزیہ کار یہ ثابت کرنے میں کوئی کثر نہیں چھوڑتے کہ حملے میں بیرونی دہشت گردوں یا خفیہ ایجنسیوں کا ہاتھ ہے .اب یقین کیجیئے یہ سب تماشہ دیکھتے دیکھتے اعصاب جواب دیتے جا رہے ہیں.ان دہشت گردوں کے سہولت کاروں اور ہمدردوں کو اپنا اسٹریٹجک پارٹنر سمجھ کر آپ اپنے ہی لوگوں کی قربانی دینا بند کیجئے. کب تک اس حقیقت سے منہ موڑ کر نجانے کتنے اور واقعات کرواتے ہی رہیں گے.کیوں حافظ سعید مولانا لدھیانوی فیصل رضا عابدی زید حامد جیسے لوگوں کو سپورٹ کیا جاتا ہے .کیا آپ کو یہ سمجھنے کیلئے راکٹ ساہینس درکار ہے کہ میڈیا تعلیمی نصاب مدرسوں اور لٹریچر کے زریعے دیگر اقوام اور مذاہب کے خلاف نفرت کے بیچ بو کر کے آپ کبھی بھی امن کی فصلیں نہیں کاٹ سکتے.کیا آپ سب پالیسی ساز بینائی سے محروم ہیں جو مزہبی اور فرقہ پرست پرتشدد جماعتوں کے روزمرہ کی بنیاد پر پھیلائے ہوئے تعصب اور شدت پسندی کو نہیں دیکھ پاتے.کیا آپ پالیسی ساز یہ بھی سمجھ نہیں پاتے کہ تہذیبی نرگسیت اور حد سے زیادہ قوم پرستی شاہدولہ کے چوہے تیار کرتی ہے جو سوچنے سمجھنے کی صلاحیتوں سے نابلد اپنے آپ کو دنیا کا کل سمجھتے ہوئے ہر مسئلے کا حل بندوق کے زریعے ڈھونڈتے ہیں.کیا نصاب میں جھوٹ پر مبنی جنگی فتوحات کا زکر بہت ضروری ہے کیا بچوں کو یہ بتانا بہت ضروری ہے کہ ہمارے سوا پوری دنیا اخلاقی اور عقیدے کے اعتبار سے غلط ہے.کیا پاکستان میں بسنے والی دیگر تمام اقلیتوں اور عقائد سے نفرت کر کے ہی معاشرے میں ایک اچھا مسلمان کہلایا جا سکتا ہے.کیا فوجی آمروں اور جرنیلوں سمیت دفاعی ایسٹیبلیشمنٹ کی تمام غلط پالیسیوں کو من و عن تسلیم کرنے کا نام محب وطن پاکستانی ہے؟ انتہائی معذرت کے ساتھ عسکری حلقے جو بجٹ کا ایک اچھا خاصہ حصہ دفاع کے نام پر لینے کے علاوہ بین الاقوامی دنیا سے کولیشن سپورٹ فنڈ کے نام پر دہشت گردوں کے خلاف لڑنے کا بھی ٹھیک ٹھاک پیسہ لیتے ہیں ان کے پاس کیا اخلاقی جواز ہے دہاہیوں سے جاری غلط دفاعی پالیسی کے تسلسل کا.ان کے زیر سایہ کام کرنے والی ایجنسیاں اگر ان حملوں کی ابتدائی وارننگ بھی نہیں دے سکتیں تو کیا ان کا کام صرف ہم لوگوں کے فون ٹیپ کرنا اور مزہبی شدت پسندوں کے جلسے جلوس کا نظم و ضبط ہے.ڈی ایچ اے. فارمز ہاوسزـبنک مالیاتی ادارے دلیہ بنانے کی فیکٹریاں کھاد بنانے کے کارخانے غرض تمام شعبہ زندگی میں کاروباری ادارے چلانے والی عسکری قیادت جو کہ جنوبی ایشیا کی چند بڑی بزنس ایمپاہرز میں سے ایک شمار کی جاتی ہے ان سے سوال تو بنتا ہے کہ اگر آپ کو کاروبار ہی کرنا ہے تو ازراہ کرم کیجئیے لیکن ایک عام آدمی اور عام فوجی افسر کی زندگیاں تو پھر محض دنیا کو دکھانے کیلئے ایک آدھے دل سے لڑی جانے والی جنگ میں داو پر مت لگایئے. مولانا سمیع الحق مولانا عبدالعزیز حافظ سعید لدھیانوی فیصل عابدی زید حامد اکرم لاہوری اور نہ جانے کتنے ہی شدت پسند عسکری چھتری کے نیچے پلتے رہتے ہیں.ہم جیسے خوش فہم ہر بار یہ سمجھتے ہیں کہ اب ان شدت پسندوں کا بندوبست کر دیا جائے گا لیکن ہمیشہ مایوسی ہوتی ہے.یہ نام اور ان جیسے لاتعداد اور دیگر افراد معاشرے میں جہاد عدم برداشت اور تشدد کا کھلے عام پرچار کرتے ہیں لیکن مجال ہے جو کبھی ہماری نمبر ون ایجنسی یا افواج ان پر ہاتھ ڈالیں.مزہب کو عسکری اور سیاسی حلقوں نے ایک لونڈی بنا کر رکھا ہوا ہے جب اور جہاں جی چاہے اس کے نام پر جزبات کو ابھار کر کسی کے بھی خلاف استعمال کر لیتے ہیں.خدارا بس کیجیئے رحم کیجئے اس بے بس معاشرے پر جہاں زیادہ تر افراد پہلے ہی غربت کی چکی میں پستے محض اپنی بقا کی لڑائی لڑ رہے ہوں ان کی خالی آنکھوں اور بنجر زہنوں میں جھوٹے خواب اور بیرونی دشمن کا خیال پیدا کرنا اب تو ختم کیجئے.اقتدار کی ہوس میں مبتلا سیاستدان بھی نہ جانے کب تک اس ڈھٹائی اور بے حسی کا مظاہرہ کرتے ہی رہیں گے.شدت پسند جماعتوں اور ملاوں سے سیاستدانوں کے تعلقات اور انکی پشت پناہی کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں اور جب عسکری حلقے اپنی ناکامی چھپانے کیلئے زمہ داری بیرونی دشمن پر ڈالتے ہیں تو یہی سیاستدان اس پراپیگنڈے کو بار بار دھرانے میں کوئی کثر نہیں چھوڑتے رات کی تاریکی میں چھپ کر غیر ملکی سفیروں سے ملکر بین الاقوامی طاقتوں کو اپنی وفا داری کا یقین دلاتے یہ مکروہ لوگ جب الیکشنز اور پریس کانفنسزز میں انہی ممالک کے خلاف زبان استعمال کر کے معاشرے میں مزید فکری و زہنی اشتعال پھیلاتے ہیں تو سر شرم سے جھک جاتا ہے.ایک طبقہ ان دانشوروں اور صحافیوں پر بھی مبنی ہے جو ہمہ وقت مذہب اور دوسرے ممالک سے نفرت کا پرچار کرتے نظر آتے ہیں.جو محض چند روپوں کی خاطر دہشت گردی کی اس انڈسٹری کو پروان چڑھانے میں ایک اہم کردار ادا کرتے ہیں اور جو کافر کافر کے نعروں اور مارو مارو سے آگے نہ تو کچھ بول سکتے ہیں نہ لکھ سکتے ہیں.آپ سوچ رہے ہوں گے بات پشاور کے دہشت گردی کے سانحے سے شروع ہوئی اور کہاں آ گئی زرا ان تمام اداروں اور افراد کے کرداروں پر غور کیجئے آپ کو خود بخود سمجھ آ جائے گا کہ دہشت گردی اور انتہا پسندی کے لاتعداد واقعات میں انکا کتنا بڑا ہاتھ شامل ہے اور اگر یہ سب اپنی اپنی زمہ داریاں صیح طرح نبھاہیں تو ملک کے طول و عرض میں اس طرح کا ایک سانحہ بھی نہیں ہو سکتا.سرحد پر لڑتے جوان اور ان لاتعداد سانحات میں جام شہادت نوش کرنے والے افسران کی بہادری پر کوئی شک نہیں لیکن ان کی قربانیوں کو یہ تمام افراد اپنے اپنے فائدے کیلئے استعمال کرتے ہیں لہزا دہشت گردی اور شدت پسندی کسی نہ کسی شکل میں جاری و ساری رہتی ہے.یہ تمام وقعات بنیادی ڈھانچے میں تبدیلی عسکری و دفاعی پالیسیوں میں مکمل شفافیت اور نئے زاویے نیز عام افراد کے ماہنڈ سیٹ کو تبدیل کر کے روکے جا سکتے ہیں لیکن اس کے لیئے اس حقیقت کو تسلیم کرنا ہو گا کہ ہم نے قیام پاکستان سے لے کر آج تک نفرت تعصب نرگسیت قوم پرستی اور مزہب پرستی پر مبنی جتنی بھی پالیسیاں بناہیں وہ غلط تھیں.وگرنہ دوسری صورت میں ہم لوگ انہی سانحات کا نشانہ بنتے رہیں گے .اور بجائے دہشت گردوں اور ان سے ہمدردی رکھنے والوں کو نشانہ بنانے کے ان آوازوں کو چپ کروانے کی کوشش کی جائے گی جو ان پالیسیوں کو بدلنے کی بات کرتے ہیں اور یہ کوئی نئی بات بھی نہیں کیونکہ ایک اندھے گونگے اور بہرے معاشرے میں سماعت بینائی سوچ اور بولنے کی طاقت رکھنے کی قیمت تو بہرحال چکانی ہی پڑتی ہے.میں اس سانحے میں شہید ہونے والوں سے یہ نہیں کہوں گا کہ میں آپ کے دکھ میں برابر کا شریک ہوں کیوں کہ میں اگر اس دکھ میں برابر کا شریک ہوتا تو ان تمام نام نہاد سیاسی عسکری مزہبی اور سماجی ٹھیکیداروں کی نامنصفانہ پالیسیوں کے خلاف چپ کر کے سہم کر محض اپنی آور اپنے خاندان کی زندگی کی فکر میں مست نہ ہوتا.میں تو شاید چپ رہ کر شریک جرم ہوں ہو سکے تو آپ سب بھی اپنے اپنے گریبانوں میں جھانک کر دیکھیئے کہیں آپ سب بھی چپ رہ کر اس دہشت گردی کے سانحے اور اس جیسے لاتعداد واقعات کے شریک جرم تو نہیں