ناول ‘راجہ گدھ’ پر اجمل کمال کی رائے اور کچھ دلچسپ تبصرے

ملک عمید

Raja gidh

ajmal kamal
Ajmal Kamal

فیس بک گروپ “بزم” میں معروف ایڈیٹر اور ناشر اجمل کمال صاحب نے ایک ممبر کی فرمائش پر بانو قدسیہ کے مشہور ناول “راجہ گدھ” پر اپنی رائے پوسٹ کی۔ ان کی رائے اور کچھ دلچسپ تبصرے اس تبادلۂ خیالات کو جاری رکھنے کے لیے قارئین کی نظر کیے جا رہے ہیں۔

’’راجہ گدھ‘‘ جنرل ضیا کے دور کی منافقانہ اخلاقیات کی تبلیغ کے لیے لکھا گیا اسلامی اصلاحی ناول ہے، لیکن چونکہ موصوفہ کو گمان ہے کہ سائنس بھی ان پر وحی کی طرح اترتی ہے، اس لیے انھوں نے نام نہاد رزقِ حلال اور جینیاتی تغیر کا نہایت اوریجنل نظریہ ایجاد کر لیا۔ (اس سے پہلے وہ یہ نادر نظریہ بھی پیش کر چکی ہیں کہ مرد اور عورت دو الگ الگ species ہیں۔) یہ ناول ان پڑھنے والوں میں بہت مقبول ہوا جو اخلاقیات اور سائنس کے معاملے میں مصنفہ سے بھی زیادہ پیدل تھے۔ سلسلہ بوٹ چاٹیہ شہابیہ کی ایک ممتاز اور متواتر رکن ہونے کا اعزاز رکھتی ہیں، اور فیلڈمارشل ایوب خان کے دور میں اپنے ایک ناول کی ہیروئن کو فیلڈمارشل کی قدآدم تصویر کے سامنے حب الوطنی کے ٹسوے بہاتے بھی دکھلا چکی ہیں۔

مزید لکھتے ہیں؛

سی دورِ ظلمت میں کرنسی نوٹوں پر ’’رزق حلال عین عبادت ہے‘‘ کی عبارت لکھوائی گئی تاکہ جب ان نوٹوں کا لین دین رشوت وغیرہ کے سلسلے میں کیا جائے تو اس منتر کی برکت سے لینے والے کا ڈی این اے خراب ہونے سے محفوظ رہے۔

اس پر گروپ کے ممبر اور لکھاری جمیل خان صاحب نے تبصرہ کیا؛

سلسلہ بیوروکریسیہ، بوٹ چاٹیہ، شہابیہ، والمفتیہ والاشفاقیہ کے مربی و مشفی خودساختہ امیرالمؤمنین زیاں الحق کو عالمِ بالا میں ’’راجہ گدھ‘‘ کے لقب سے پکارا جاتا ہے۔

Mumtaz meher
Mumtaz Meher

سندھی ادب پر تنقیدی کتاب ‘وچار’ کے مصنف ممتاز مہر صاحب لکھتے ہیں؛

ادب میں منافقت اور لوگوں نے بھی کی مثلاّ اشفاق احمد، عطاالحق قاسمی، جمیل الدین عالی، اردو ڈائجسٹ میں لکھنے والے خود اردو ڈائجسٹ کے ایڈیٹر۔ اردو کا جنازہ نکلنے والے رئیس۔

اس پر اضافہ کرتے ہوئے اجمل کمال صاحب نے لکھا؛

جی بالکل۔ اور ان سب کے علاوہ پیر علی محمد راشدی بھی تھے، رشید احمد لاشاری بھی۔

ممتاز مہر صاحب نے اپنی بات پر اضافہ کرتے ہوئے کہا؛

ترقی پسند کہلانے والے مسلم شمیم اور مظہر جمیل نے جنرل پرویز مشرف کو ترقی پسند سمجھ کر سپورٹ کیا۔ اسی لابی نے اسی دور میں سوبھو گیانچندانی کو جنرل مشرف کے ہاتھوں پانچ لاکھ روپے کا ادبی انعام دلوایا، جب کہ سوبھو کا کوئی قابل ذکر ادبی کام نہیں تھا۔ اس لابی کے روح رواں سنگت کوئٹہ کے ایڈیٹر ڈاکٹر مری ہیں۔

اس پر ذولفقار علی ذلفی نے ان سے استفسار کیا
سر ازراہ کرم وضاحت کیجئے….کیا آپ یہ کہنا چارہے ہیں کہ ڈاکٹر شاہ محمد مری صاحب , جنرل مشرف کے حامی تھے اور ان کو ترقی پسند سمجھتے تھے؟؟؟

جواباً مہر صاحب نے کہا؛

شاہ محمد مری نے خود ‘سنگت’ میں لکھا کہ ہم نے (یعنی ادبیات کے بورڈ ممبرز نے) اکیڈمی ادبیات پاکستان کی طرف سے پانچ لاکھ پر مشتمل انعام کامریڈ سوبھو کو دلوایا۔ مسلم شمیم کی طرح وہ “پرویز مشرف حمایت تحریک” کے حمایتی نہیں تھے۔ وہ کوئٹہ میں رہتے ہیں، کراچی میں نہیں۔ مگر ‘سنگت’ میگزین سرکاری اشتہاروں سے محروم نہ پہلے تھا نہ اب ہے۔

Fehmida Riaz
Fehmida Riaz

معروف شاعرہ اور مصنف فہمیدہ ریاض صاحبہ نے ناول پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا؛

اچھا ادب کبھی بھی انسانیت کے مخالف نہیں ہوتا، جو انہوں نے لکھا وہ انسانیت مخالف خیالات کی حمایت کرتا تھا۔