ممتاز قادری کی سزائے موت عدلیہ کا جرات مندانہ فیصلہ

عماد ظفر

Mumtaz qadri

انصاف کسی بھی معاشرے کے پھلنے پھولنے اور بقا کا ضامن ہوتا ہے. بروقت آور فوری انصاف سماجی رویوں پر براہ راست اثر انداز ہوتا ہے جس معاشرے میں انصاف فوری اور سستا ملے اس معاشرے کا باہمی رویہ مثبت ہوتا ہے اور وہاں جرائم کی شرح بھی کم ہوتی ہے اس ضمن میں سکینڈی نیوین ممالک کی مثال دی جا سکتی ہے.

ہمارے ہاں انصاف بھی اشیائے صرف کی طرح مہنگا آور لوگوں کی پہنچ سے باہر دکھائی دیتا ہے. سپریم کورٹ آف پاکستان ایسے میں واحد ادارہ ہے جس نے جسٹس ریٹائرڈ افتخار چوہدری کے دور سے لوگوں کو انصاف فراہم کرنے میں قدرے بہتری سے کام کیا آور اس ضمن میں حال ہی میں ممتاز قادری کی سزائے موت کو برقرار رکھتے ہوئے جسٹس اصف کھوسہ صاحب نے انتہائی دلیر ریمارکس دیئے جس میں انہوں نے وضاحت کے ساتھ توہین اور توہین کے مروجہ قانون میں بنیادی فرق واضح کیا. وطن عزیز میں بسنے والے لوگ نبی کریم ﷺ سے بے انتہا محبت اور عقیدت رکھتے ہیں جو کہ فطری عمل ہے لیکن لوگوں کے ان پاکیزہ جزبات سے کھیلنے والوں کی بھی یہاں کوئی کمی نہیں .لوگوں کوتوہین رسالت یا توہین مذہب کے نام پر مشتعل کر کے اکثر اپنی ذاتی دشمنی یا کسی ذاتی ایجنڈے کی تکمیل ایک عام سی بات ہے۔

کوٹ رادھا کشن میں جلایا جانے والا مسیحی جوڑا ہو یا سابق گورنر پنجاب سلمان تاثیر کا دن دہہاڑے قتل ان جیسے سینکڑوں جرائم کو توہین کے نام پر نہ صرف ایک کارنامہ تصور کیا جاتا ہے بلکہ قاتلوں کو ہیرو کا درجہ بھی دلوا دیاجاتا ہے عام آدمی کے جـزبات مشتعل کر کے عدلیہ پر بھی دباو ڈالا جاتا ہے نتیجتاََ ماتحت عدلیہ کے ججز نہ صرف ایسے کیسز کی سماعت سے انکار کر دیتے ہیں بلکہ وکلا کی ایک بڑی تعداد بھی ملزم کا ساتھ دیتی ہے.ممتاز قادری ایک گارڈ تھا جس کی ذمہ داری سلمان تاثیر کی حفاظت تھی یہ فرض نبھانے کے لیئے اس کو سرکاری خزانے سے تنخواہ ادا کی جاتی تھی۔ ذرا خود سوچیئے کہ جو انسان اپنی بنیادی ذمہ داری یا فرض نہ پورا کر سکے وہ انسان ایک زمہ دار شہری یا انسان کیسے ہوتا ہے. محض ایک مولوی کی نفرت انگیز تقریر سن کر کسی کی جان لے لینے والا شخص سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیتوں کا مالک کیسے ہو سکتا ہے. لیکن بدقسمتی کہیئے کہ لوگوں کی لاعلمی تعلیم سے دوری اور عقیدت کو استعمال کر کے اس شخص کو بھی ہیرو کا درجہ دے دیا گیا.

سلمان تاثیر صاحب سے ہزار سطح پر اختلافات ہوں سکتے ہیں لیکن محض پاکستان میں ایک فوجی آمر کے بنائے ہوئے قانون پر تنقید کر کے وہ توہین رسالت جیسے سنگین جرم کے مرتکب کیسے هوئے عقل و فہم اس بات کو سمجھنے سے قاصر ہے۔ ہمارے ملک میں سینکڑوں عیسائی ہندو اور احمدی حضرات اس توہین کے قانون کی وجہ سے سلاخوں کے پپچھے موت سے بھی بدتر زندگی گزارنے پر مجبور ہیں. آپ کسی بھی فرقے یا مذہب سے تعلق رکھنے والے افراد کو موت کے گھاٹ اتار کر توہین کے اس قانون کی آڑ میں چھپ سکتے ہیں.

کوٹ رادھا کشن میں جلائے گئے مسیحی میاں بیوی کی تازہ مثال اس ضمن میں موجود ہے جہاں محض ذاتی دشمنی آور معمولی رقم کے تنازعے پر اس جوڑے کو زندہ آگ میں جھونک دیا گیا اور اس بربریت کو توہین کے پردے میں چھپا دیا گیا.. یہی واقعہ اگر امریکہ یا یورپ میں کسی مسلمان کے ساتھ پیش آتا تو ہم لوگوں نے اپنے ہی ملک میں کہرام برپا کر دینا تھا۔ جلسے جلوس گھیراؤ جلاو کر کے امریکہ مردہ باد کے نعرے لگا کر اپنی اپنی فرسٹریشن سرکاری و نجی املاک کو نقصان پہنچا کر نکالنی تھی اور اس کے بعد اپنے آپ کو اس جھوٹی تسلی سے مطمئن کرنا تھا کہ ہم تو عاشقان رسول ہیں.

جس شخصیت کے عاشقان ہونے کا ہم سب دعوی کرتے ہیں کیا کبھی اس کو یا اس کے پیغام کو سمجھنے کی کوشش بھی کی. منافع خوری سود خوری عیاری دھوکہ رشوت غرض یہ تمام عیب ہم میں موجود ہیں لیکن دین کو ہم محض یا تو اپنے فائدے یا پھر اپنی اپنی جھوٹی اناؤں کی تسکین کے کیلئے استعمال کرتے ہیں. مذہب کا کاروبار کرنے والے سفاک درندے محض چند روپوں کی خاطر وحشت اور بربریت کا یہ کھیل جاری و ساری رکھتے ہیں. آپ ان مزہبی بیوپاروں کے خوف و دہشت کا اندازہ اس بات سے بھی لگا سکتے ہیں کہ اکثر و بیشتر وہ ملزم جس پر توہین کا الزام ہوتا ہے اس کو اپنے دفاع کے لیئے وکیل ہی نہیں ملتا اور اگر مل بھی جائے تو جلد یا بدیر کیس سے دستبردار ہو جاتا ہے. ججز بھی ایسے کیسز کی سماعت سے اجتناب برتتے ہیں اور میڈیا کی مثال آپ کے سامنے یے جہاں قادری جیسے انسان کو ہیرو بنا کر پیش کر دیا جاتا ہے اور اکثر صحافی کچھ کہنے یا لکھنے کے بجائے خاموش رہنا پسند کرتے ہیں.

یہ دہشت اور خوف مزہب اور عقیدت کے نام پر معاشرے میں پھیلائی جاتی ہے. کیا آنحضرت صلی الیہ وسلم کی زندگی میں سے کوئی ایک واقعہ پیش کیا جا سکتا ہے جہاں انہوں نے ملزم کو سننے سے پہلے ہی کوئی فیصلہ سنا دیا ہو؟ یقینا اس کا جواب نفی میں ملے گا.جب انہوں نے اس طرح کی کوئی مثال قائم نہیں کی تو پھر دین کے ٹھیکیداروں کو یہ حق کس نے دیا کہ وہ جسے چاہیں اسے سزا سنا دیں. ہمارے وطن میں مذہب ایک کاروبار کی شکل اختیار کر چکا ہے اور اس سے حاصل ہونے والا پیسہ کسی بھی دیگر کاروبار سے نہ صرف کئی گنا زیادہ ہوتا ہے بلکہ انتہائی آسان بھی ہوتا ہے. ممتاز قادری جیسے نیم خواندہ اور فرسٹریشن کے ستائے ہوئے افراد کی اسـں معاشرے میں بہتات ہے اس لیئے مزہب کے سوداگروں کو اپنی دکان چمکانے کے لیئے وافر مقدار میں لوگ میسر ہوتے ہیں.

کیا ہی اچھا ہو کہ اگر وفاقی شرعی عدالت ایک مرتبہ اس قانون پر نظر ثانی کرے اور یہ ممکن بنائے کہ توہین کا جھوٹا الزام لگانے والے بھی اتنی ہی سنگین سزا کے مرتکب ہوں گے جتنا کہ توہین کے الزام میں سزا پانے والے . مغربی معاشروں میں ایک صدی پیشتر حضرت عیسی کی توہین کرنے پر کچھ ایسے ہی سزا دی جاتی تھی لیکن شعوری ترقی کرنے کے بعد فریڈم آف ایکسپریشن کا قانون پاس کیا گیا اور اس کے بعد وہاں سے توہین کے قانون کا ہی خاتمہ کر دیا گیا. ہم کیونکہ شعوری طور پر ویسے ہی مہذب دنیا سے کئی سو سال پہلے کے زمانے میں رہتے ہیں اس لیئے فریڈم اف ایکسپریشن جیسا قانون تو شاید نہ بنا سکیں لیکن ضیاالحق کے بنائے ہوئے قانون کو کم سے کم بہتر بنانے کی کوشش ضرور کر سکتے ہیں.

ایک ایسا معاشرہ جہاں پہلے ہی برداشت اور روداری کی کمی ہو اس معاشرے میں ایسے قوانین کبھی بھی کوئی مثبت اثرات مرتب نہیں کرتے .حکومت وقت اگر ایک مربوط پالیسی ملک میں بسنے والے دیگر تمام مذاہب اور فرقوں کو اس قانون کے غلط استعمال ہونے سے بچانے کے لیئے بھی بنا لے تو شاید بے حد قیمتی انسانی جانوں کا دفاع کیا جا سکتا ہے. اگر بچوں کو ابتدا ہی سے دوسرے عقائد کے لوگون کے ساتھ پیار محبت اور امن کے ساتھ رہنے کا درس دیا جائے تو یقینا آنے والی نسلوں کو ہم نفرت کی اس اندھی آگ سے بچا سکتے ہیں اور ہم سب کو یہ سمجھنے کی بے حد ضرورت ہے کہ ہر انسان اپنا عقیدہ یا مزہب سے ویسی ہی عقیدت رکھتا ہے جیسی عقیدت ہم سب اپنے مزہب یا عقیدے سے رکھتے ہیں.

کسی کی سنی سنائی باتوں میں آ کر مشتعل ہو کر اقلیتوں کو توہین کے نام پر ڈرانا دھمکانا یا قتل کرنا کم سے کم انسانی فعل نہیں ہو سکتا. اسی طرح ممتاز قادری جیسے گمراہ لوگون کو ہیرو سمجھنا بھی کم سے کم لاعلمی کی نشانی ہے جسے علم کی روشنی سے دور کیا جا سکتا ہے. سپریم کورٹ آف پاکستان بالخصوص جسٹس کھوسہ نے توہین کے قانون اور توہین میں فرق واضح کر کے اور ممتاز قادری کی سزائے موت برقرار رکھتے ہوئے اس پر دہشت گردی کی دفعات کو بھی دوبارہ لاگو کر کے بلاشبہ ایک احسن اور مناسب فیصلہ دیا ہے اور ایک نئے باب کا آغاز بھی کیا ہے امید غالب ہے کہ جلد ہی جیلوں میں اس قانون کے غلط استعمال کا شکار افراد کی سنوائی بھی جلد ہو جائے گی اور انہیں بھی کم سے کم صفائی پیش کرنے کا موقع ضرور دیا جائے گا