زلزلے کے بعد کی ابتر صورتحال

تحریر: عماد ظفر

earthquake

ملک میں سوموار کی دوپہر شدید زلزلے نے ایک اضطرابی کیفیت پیدا کر دی ہے. ریکٹر سکیل پر زلزلے کی شدت 8.1 ریکارڈ کی گئی جو کہ اکتوبر 2005 کے ہولناک زلزلے سے بھی بہت زیادہ تھی. جس وقت یہ مضمون لکھا جا رہا ہے اس وقت تک ملک بھر میں ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد 200 کے لگ بھگ ہے اور ان میں اضافے کا بھی خدشہ ہے ابھی مالی نقصانات کا تخمینہ لگانا ممکن نہیں.

زلزلے پوری کائنات میں آتے ہیں اور ان کی سائنسی توجیہہ ہوتی ہے. جیولاجیکل تبدیلیوں کے باعث زمین کے نیچے موجود پلیٹوں کی نقل و حرکت سے زلزلے آتے ہیں اور یہ سلسلہ لاکھوں سال سے جاری ہے لیکن ہم لوگ اسے بھی خدا کی رضا سمجھ کر احتیاطی تدابیر اختیار کرنے سے گریز کرتے ہیں. ایسے سانحات کے فورا بعد الیکٹرانک اور سوشل میڈیا پر زلزلوں کو بد اعمالیوں اور کرپٹ حکمرانوں کے سر تھوپ کر عوام کو خوب چورن بیچا جاتا ہے. کوئی اب کیا منطق پیش کرے اور کیسے سمجھائے کہ ان سانحات میں جان گنوانے والے زیادہ تر کچے یا بوسیدہ مکانات میں بسنے والے غریب شہری ہوتے ہیں جن کا بداعمالیوں اور کرپشن سے کوئی واسطہ نہیں ہوتا. کولہے کی بیل کی طرح کام کرنے والے ان بیچاروں کے ہاں یقین کیجیئے لذت اور حسرت گناہ تک کا تصور بھی نہیں ہوتا اور اگر اس توجیہ کو مان لیا جائے تو پھر تو زلزلے سب سے پہلے یورپ یا امریکہ میں آنے چاہییں جہاں بقول انہی حضرات کے عریانی سب سے زیادہ ہے یا پھر مریخ اور چاند پر زلزلے آنے کی کیا توجیہ ہو سکتی ہے؟

جدید سائنس کو مزہب سے متصادم سمجھنے والے ایک مخصوص گروہ کی وجہ سے ہم ان آفات کو بھی رضائے الہٰی کے کھاتے میں ڈال کر مرنے والے افراد کو عزاب الہٰی کا شکار قرار دیکر ٹیکنالوجی سے منہ موڑے کب تک بیٹھے رہیں گے اور سانحات اور آفات کے بعد بھکاریوں کی طرح دوسرے ممالک سے امداد اور ریسکیو آپریشن کی بھیک مانگتے رہیں گے. ان سانحات میں مرنے والے غربا اور ان کے سوگوار خاندانوں کے لیئے شاید اس سے بڑھ کر اذیت اور نہیں ہو سکتی کہ ان سانحات کو مذہبی تعصب کا رنگ دے دیا جائے. زلزلے ہوں یا سیلاب ان آفات سے متاثر بیچارہ غریب آدمی ہوتا ہے . تمام علمائے اکرام کو اب جدید سائنسی تحقیق کی روشنی میں ان قدرتی آفات کے بارے میں بھی کوئی منطق اور دلیل والا فتوی جاری کر دینا چاہیئے تا کہ ایک غریب اور مفلس انسان کم سے کم ان حادثات اور آفات کا شکار ہونے کے بعد عزت کی موت تو مر سکے. زلزلے مذہبی تصورات کے یا کسی گناہ کی وجہ سے نہیں بلکہ جیولاجیکل تبدیلیوں کی وجہ سے آتے ہیں انہیں مذہب کی اور گناہ و ثواب کی عینک لگا کر ان آفات میں مرنے والے غربا کی توہین مت کیجئے.

ہمارے میڈیا پر بیٹھے اینکرز رپورٹرز اور تجزیہ نگاروں کو بھی ایسے سانحات اور آفات کی کوریج کیلئے تربیت کی اشد ضرورت ہے. جس بھونڈے انداز میں گلے پھاڑتے الیکٹرانک میڈیا پر بیٹھے یہ حضرات ریٹنگ کی دوڑ میں زلزلے کے بعد عوام کو مزید اضطراب اور بے چینی کا شکار کر رہے تھے اس سے لگتا تھا کہ جیسے بس وطن عزیز میں اب ہر آنے والے لمحے میں ایک نیا زلزلہ آئے گا.کیا ہی اچھا ہو کہ اگر ہمارا میڈیا مہذب اور ترقی یافتہ ممالک کے میڈیا سے ایسے سانحات کی رپورٹنگ اور کوریج کا گر سیکھ لے. بجائے عوام کی اضطرابی کیفیت کو دور کرنے کے تمام کے تمام ٹی وی چینلز ایسی وڈیوز دکھانے میں مصروف تھے کہ خدا کی پناہ. میڈیا کی غیر زمہ داری کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ تصاویر اور وڈیوز تک سوشل میڈیا کی ویب سایٹس سے اٹھا کر اپنے اپنے چینلز کے لوگو کے ساتھ دی جا رہی تھیں گویا کہ جیسے یہ کوئی خوشخبری تھی. معلوم یوں ہوتا تھا کہ منافع کی اس دوڑ میں اس سانحے کو بھی ایک ایونٹ بنا کر خوب جزباتی اور فلمی رنگ میں بیچا جا رہا ہے. رہی سہی کسرٹاک شو کے میزبانوں اور تجزیہ نگاروں نے پوری کر دی جو اپنے تجزیوں سے اس ہیجان خیزی میں اگر کوئی کمی رہ گئی تھی تو اسے بھی پوری کرنے میں مصروف تھے۔  ایسے حضرات جن کا جیالوجی اور سائینس سے دور دور کا بھی واسطہ نہیں وہ بھی ان امور پر ماہر بنے عوام کو ہر آنے والے لمحے میں ایک نئے زلزلے کی نوید سنانے میں مصروف تھے کبھی درختوں کی کٹائی اور ماحولیاتی آلودگی کو زلزلے کا باعث قرار دے دیتے کبھی گلیـشیرز کے پگھلنے کو مورد الزام ٹھہراتے یا پھر اپنی اپنی سیاسی وابستگیوں کے تابع مرکزی اور صوبائی حکومتوں کی زلزلے کے بعد ہونے والی امدادی کارواہیوں پر ہرزہ سرائی کرنے میں مصروف تھے. جس قدر خوف و ہراس میں ٹی وی چینلز کے ذریعے عوام کو مبتلا کیا جا رہا تھا وہ بیان کرنا بھی ممکن نہیں.

اسی طرح سول سوسائیٹی کا ایک مخصوص گروہ موم بتی مافیا جو کہ اکثر لبرلزم کا ماسک پہن کر کسی بھی حادثے یا سانحے پر موم بتیاں جلا کر سیلفیز لینے پہنچ جاتا ہے یا فائیو سٹار ہوٹلوں کے گرم کمروں میں ان غربا کے نام پر آئی ہوئی امداد یا چندے کی بٹوری ہوئی رقم سے سیمینارز منعقد کر کے خوب انسانیت دوستی کا پرچار کرتا نظر آتا ہے یہ طبقہ بھی اس آفت کے بعد سوشل اور الیکٹرانک میڈیا پر خوب سرگرم عمل نظر آیا.جذباتی سے سٹیٹس سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کیئے اور پھر ٹی وی سکرینوں پر آ کر بھی خوب آنسو بہائے اب خدا جانے کہ یہ غم کے آنسو تھے یا اس خوشی کے جو کہ انہیں اس سانحے سے متاثر ہونے والے افراد کی مدد کے نام پر ملنے والی رقم اور اس کے ہڑپ کر جانے سے حاصل ہونی تھی.

نیشنل ڈیزاسٹر مینیجمنٹ نامی سفید ہاتھی بھی کوئی کاکردگی دکھانے میں ناکام نظر آیا حتٰی کہ مرنے اور زخمی ہونے والوں کی تعداد جانچنے کے لئیے بھی صحافیوں کی رپورٹس کا مرہون منت نظر آیا. 2005 کے ہولناک زلزلے کے بعد بھی نہ تو اس ادارے نے آفات سے بچاو کی ہنگامی تدابیر پر کوئی خاص کام کیا اور نہ ہی ایسی آفات سے نمٹنے کیلئے لوگوں کو کوئی آگہی فراہم کی. کچھ یہی بے بسی ہمیں ERA کے ادارے کی بھی دیکھنے میں آئی سانحات اور آفات سے مکمل بچاو یقینا ناممکن ہے لیکن بہتر مینیجمنٹ اور پلاننگ کے ساتھ نہ صرف ان سے ہونے والے مالی و جانی نقصانات کو کم کیا جا سکتا ہے بلکہ عوام کو ان آفات سے نمٹنے کے لیئے تیار بھی کیا جا سکتا ہے. سکولوں کالجوں یونیورسٹیوں میں ان آفات سے بچاو اور نمٹنے کی تعلیم تو دی جا سکتی ہے .سیاستدانوں سے اس آفت کے نمٹنے کے حوالے سے یہی عرض ہے کہ اداروں کو مضبوط کیجیئے نہ کہ اپنی کرسی اور شخصیت کو اگر پاک فوج ہی ہر طرح کے ہنگامی حالات اور آفات سے نمٹنے کیلئے میدان میں ہو گی تو پھر جمہوریت اور سویلین اختیارات میں اضافے جیسی باتیں محض خواب ہی لگیں گی. ہم لوگ فالٹ رینج پر واقع ہیں اور مستقبل میں بھی زلزلوں کا سامنا کر سکتے ہیں تو کیوں نہ آج ہی سے اس آفت سے بچاو کیلئے حفاظتی تدابیر اور پلاننگ شروع کر دیں.