مذہب اسلام میں شدت پسندی پر اجمل کمال اور فہمیدہ ریاض کے درمیان دلچسپ مکالمہ

ملک عمید

فیس بک گروپ “بزم” میں معروف ایڈیٹر اور ناشر اجمل کمال صاحب نےمبارک حیدر صاحب کی معروف کتاب ‘تہذیبی نرگسیت’ کا دیباچہ کتاب کے لنک کے ساتھ پوسٹ کیا جس پر ان کے اور معروف شاعرہ اور دانشور فہمیدہ ریاض صاحبہ کے درمیان ایک دلچسپ مکالمہ شروع ہوگیا۔ پاک ٹی ہاؤس کے قارئین کی دلچسپی کے لیے اسے بلاگ کی شکل دی جا رہی ہے۔

Fehmida Riaz

فہمیدہ ریاض صاحبہ کہتی ہیں:

مسلمان کوئی قوم نہیں ہیں ۔۔۔ان سب کا صرف مذہب ایک ہے ۔بہت سارے ملکوں میں رہتے ہیں ۔ان کے اپنے طبقات ہیں ۔۔۔اگر کسی سے پوچھیں کہ کیا وہ دوسرے سے اچھا ہے ۔۔تو سب کو یہ یقین ہے کہ ہاں ۔۔۔ہندو بھی خود کو دوسروں سے بہتر سمجھتے ہیں ۔۔کھشتری بھی اپنے آپ کو دوسری ذاتوں سے بہتر گردانتے ہیں ۔۔ترک خود کو عرب سے بہت بہتر سمجھتے ہیں ۔۔

ہم ٩/١١سے لیکر اب تک کے وقت میں خود کو اسیر اگر نہ کریں تو بنگالیوں اور پنجابیوں میں جنگ ہوئی ۔۔۔اور بنگلہ دیش بنا  جبکہ دونوں مسلمان تھے ۔۔۔مغرب میں عرب ، ترک اور ایشیاَ اور افریقی نوجوانوں کومسلسل تذلیل آمیز نسلی برتری کا سامنا کرنا پڑتا رہا ہے ۔ ایسے میں مسلمان ہونا ان کو ایک قسم کی طاقت محسوس کراتا ہے ۔۔۔وہ ویسے بھی سابق کالونیوں سے گئے ہوئے لوگ ہیں ۔۔یہ مذہبی لہر جو ہمیں آج نظر آرہی ہے جو میرے خیال میں وقتی ہے اس سے کہیں ذیادہ مستحکم نسلی امتیاز ہے جو سفید فام لوگوں میں موجود ہے ۔۔وہ کسی طرح کسی سانولے یاسیاہ فام کو اپنے برابر سمجھنے پر آمادہ نہیں ہوتے ہیں ۔۔۔ کیونکہ کئ سو برس سے انہوں نے ، یا ان کے ایک طبقے نے باقی کی دنیا پر حکمرانی کی ہے ۔۔

اسلام میں برایئاں نکالنا ، اچھے دوستو ، ایک بچکانہ سی بات ہے ۔۔۔آپ کیا برائی نکالیں گے ان مذاہب میں جو ہزاروں برس پرانے ہیں ۔۔۔ان سب میں باتیں موجود ہیں جو دل و دماغ آج قبول نہیں کرتا ۔۔۔یہ وقت کے ساتھ خود ہی جاتی ہیں ۔۔۔نیزسفید فام لوگ خود ایک دوسرے سے اپنے آپ کو بر تر سمجھتے ہیں ،کسی فرینچ سے پوچھیں ۔۔کیا وہ خود کو سب سے اچھا نہیں سمجھتا ا ؟ اور جرمن ؟ اور انگریز ؟ سب نے ہی باری باری دنیا بھر پر قبضہ کرنے کی کوشش کی ۔۔مسلمانوں کی جو موجودہ بربریت کی وارداتیں ہیں یہ کبھی چل نہیں سکتی تھیں اگر ان میں اتنا پیسہ مغرب کی طرف سے نہ جھونکا جا تا ۔۔اور پھر عربوں کی طرف سے ۔۔۔یہ ایک نسلی جنگ ہے ایرانیوں کے خلاف ۔۔
ایسا میرا خیال ہے کہ جو باتیں غلط ہو رہی ہیں ان کی ہم مخالفت کریں ۔۔ان کو روکنے کی ہر ممکن کوشش کریں ۔۔لیکن تارکین وطن نوجوانوں میں صرف تنقید سے تو یہ رحجانات نہیں جائیں گے ۔۔۔شاید کچھ اور کہنا اور کرنا پڑے گا ۔۔۔مثلاََ ان کی خواتین کی تحریکیں ،ان کے آرٹ اور کلچرل سرگرمیوں کی حمایت ۔۔۔۔ یہ سب اس زہر کو کم کر سکتی ہیں جوجہادیت ان میں گھول رہی ہے۔
یہ زیادہ تر نچلے طبقے سے تعلق رکھتے ہیں ۔۔معاشی طور پر کمزور ہیں ۔۔ان کو کسی ایسی چیز کی ضرورت ہے کہ خود پر یہ بھی فخر کر سکیں ۔۔اورحان پامک کی ناول سنو میں ایک کتا ہے سیاہ سے رنگ کا جس رنگ کا کوٹ اس کہانی کا ہیرو پہنے رہتا ہے ۔۔۔مغرب کی نقل کرکے اور ان کے احکامات پر چل کر وہ ہیرو خود کو اس کتے ہی کی طرح محسوس کرتا ہے ۔۔یہ تارکین وطن نوجوانوں کے کرب کا اور طیش کا اچھا مرقع ہے ۔۔اس کے لیئے نیو سٹیٹسمین نے لکھا تھا کہ بڑی بڑی سیاسی تحریریں ہمیں موجودہ تصادم کے بارے میں اتنی صراحت سے نہیں بتاتیں جتنی یہ ناول ۔۔۔۔

ajmal kamal
اجمل کمال صاحب کا رد عمل
الباکستانی عذرخواہانہ لاجک:
(۱) مسلمانوں میں اگر کسی ایسی مستقل اور مہلک خرابی کی نشاندہی کی جائے جو کسی اور قوم میں کبھی رہی ہو یا آج کسی خفیف، کم مہلک صورت میں موجود ہو یا بعض حالات میں پیدا ہونے کا احتمال ہو تو بس، مسلمانوں کی ہلاکت خیزی کا جواز نکل آیا۔
(۲) اگر کوئی خرابی ایسی گنوائی جائے جو پوری دنیا میں صرف مسلمانوں میں پائی جاتی ہو (مثلاً فرض جہاد اور مرتدوں مشرکوں کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر قتل کرنا) تو یہ کہ بھئی، ہر قوم کو اپنی الگ خصوصیات رکھنے کا حق ہے۔ ہے کہ نہیں؟
(۳) جہادی (طالبان، سپاہ صحابہ وغیرہ وغیرہ) تو بیچارے معصوم ہیں اور صرف مغربی ملکوں کی ایجنٹی کرتے ہیں۔ انھیں کوئی کیوں کچھ کہے؟
(۴) تارک وطن مسلمانوں کو سیاسی پناہ، بیروزگاری الاؤنس، ورک پرمٹ، مستقل رہائش، شہریت، ووٹ کا حق، مدرسوں کے لیے سرکاری امداد دینے والے مغربی دراصل اندر سے نسل پرست ہیں، گویا مسلمانوں کی سب بدمعاشیاں جائز ہو گئیں۔ اب جب تک گورے اپنا دل نہیں بدلتے (اور شاید مذہب بھی) تب تک اگر داعش اور طالبان لوگوں کے گلے کاٹتے ہیں تو بھلا کسی کو کیا اعتراض ہے؟

اس پر فہمیدہ ریاض صاحبہ کہتی ہیں:
اتنے سارے اگر مگر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔جہاد فرض تو صرف اسلام نے کیا لیکن فرض کیئے بغیر دنیا کی سب قومیں لڑتی رہیں ۔۔۔۔اب بھی جنگ میں ملکوں میں عام بھرتی شروع ہوجاتی ہے جیسے ویتنام وار میں امریکہ میں ہونے لگی تھی ۔۔۔بیف کھانے کے شک پر کیا صرف مسلمان ہی کسی کو قتل کرتے ہیں ؟ مشرک اور مرتد تو رہتے ہی رہے ہیں مسلمانوں کے ساتھ ۔۔۔۔۔جیسا رومیلا تھاپر کہتیں ہیں کہ اگر ایسا ہی ہوتا تو انڈیا میں نہ آج اتنے ہندو نظر آتے اور نہ اس ایک ہزار برس میں ان کا آرٹ اور کلچر اتنی ترقی کرتا ۔۔۔ہر قوم کی علیحدہ خصوصیات رکھنے کا حق مسلمان معاشروں میں کئ جگہ نظر آتا ہے ۔۔مثلا ترکی میں ہی یہودیوں کو بلا کر رکھا گیا تھا اور عیسایئوں نے یہودیوں کو بری طرح قتل کیا ۔۔۔یہ صرف چند عشروں قبل کی بات ہے کہ امریکہ میں سیہ فام لوگوں کو گوروں کے ساتھ بیٹھنے تک کی اجازت نہیں تھی ۔۔۔۔۔۔قوموں کا کلچر اور خصوصیات ایک دوسرے سے مل بھی تو جاتی ہیں ۔۔ہماری شب برات کیا دیوالی ہی کا عکس نہیں ؟ اس موجودہ بحران کو ہم ایک ازلی کیفیئت کیسے سمجھ رہے ہیں؟

مزید کہتیں ہیں؛
تو آپ ان چیزوں کی مخالفت کریں گے ۔۔اگر یہاں کسی کے ساتھ ذیادتی ہو تو اس کی ۔۔۔نہ کہ یہ کہنا شروع کریں کہ یہ مذہب تو ہے ہی ایسا ۔۔۔اس کو ختم کریں ۔۔۔ اس طرح کی باتیں آر ایس ایس کرتی ہے ۔ مسلمانوں میں بھی ہر طرح کے طبقات بھی ہیں اور مدرسہ فکر بھی ۔۔۔اور ایک سے ایک اچھے ۔۔۔کسی سے کم نہیں
بات یہ ہے اجمل کہ مذہب کے بعض احکامات صرف اس وقت مخصوص گروہوں کو یاد آتے ہیں جب ان کو اپنا اقتدار مسلط کرنے کا خیال آئےیا سیلف ڈیفینس میں ۔۔نارمل حالات میں کسی کو جہاد یاد بھی نہیں آتا ۔۔۔۔۔اب بھی دیکھیئے سعودی شہزادے نے کہا ہے کہ میں تو ایران کے خلاف اسرائیل کا ساتھ دوں گا بلکہ دیا بھی ہے ۔۔۔تو جہادغائب ہوا ۔۔۔مسلمانوں کی تاریخ مذہب پر کہاں بنی ہے ۔۔گروہی جنگیں ہوئی ہیں ۔۔بر صغیر میں کئی سوصال مغلوں اور پٹھانوں میں سب سے زیادہ جنگیں ہوئیں جو شیعہ سنی تک نہیں تھیں۔

اجمل کمال صاحب کہتے ہیں:
الباکستانیوں کو خوش فہمی ہے کہارتقاء وقت گزرنے کے ساتھ یونہی خودبخود ہوتا چلا جائے گا جیسے سفارش پر سرکاری نوکری پانے والوں کو سال بہ سال ترقی ملتی جاتی ہے۔ ان کے خیال میں مغربی ملکوں کے لوگ یونہی ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہے اور تین سو برس پورے ہوتے ہی ایک صبح امن پسند، تعلیم یافتہ اور قانون کے پابند شہریوں کے طور پر بیدار ہوئےاور ہنسی خوشی رہنے لگے۔

اس پرفہمیدہ ریاض کہتی ہیں:
رونا پیٹنا اس بات کا ہے یہاں ایسے لوگوں کو ہمارے مقتدر طبقے نے ایسی چھوٹ دے رکھی ہے کہ وہ جب چاہے کبھی مزاروں کو اڑاتے ہیں کبھی چرچ کو اور کبھی خود ان کو ۔۔۔۔ایک ان کو مل گیا ہے اسلام کا نام ۔۔۔۔اس وجہ سے ان سے بیزار ہیں تمام شریف لوگ ۔۔۔اور تم اب بھی دیکھنا ۔۔۔یہ جو داعشی فوجیں روس سے لڑ رہی ہیں ابھی جہاز بھی گرا ہے تو امریکہ تو دلمیں اس سے کافی خوش ہے ۔۔یہ اس مرتی گرتی فورس کو پھر نہ زندہ کر دے دیکھیئے گا حالانکہ اب برطانیہ کے وزیر کہہ رہے ہیں کہ داعش کو ہم نے پیدا کردیا اور بڑا افسوس ہے ۔۔۔۔ان کے ہتھیاروں کی بکری ہوتی رہتی ہے ۔۔اس میں نہ اسلام ہے نہ ہندوازم ۔۔

اجمل کمال کہتے ہیں:
مقتدر طبقے بیچارے کیا کریں؟ جیسے امریکہ نے داعش کو پیدا کیا (اور اب آپ کی پیش گوئی کے مطابق قم باذنی کہہ کر دوبارہ پیدا کرنے والا ہے) اسی طرح اس نے طالبان، القاعدہ، سپاہ صحابہ وغیرہ کو بھی پیدا کیا۔ اب ان لاڈلوں کو قتل کرنے کے لیے اسکولوں کے بچے اور مزاروں پر جانے والے درکار ہیں تو اس میں اتنا رونے چلّانے کی کیا ضرورت ہے؟ آخر قتل عام تو ہمیشہ سے ہو رہے ہیں۔ ابھی کچھ عرصہ پہلے روانڈا میں اتنا بڑا قتل عام ہوا۔ تو ہم کیا ان سے ہیٹے ہیں کہ چھوٹے موٹے دھماکے اور قتل نہ سہہ سکیں؟
مزید کہتے ہیں
الباکستانی عذرخواہانہ لاجک (پارٹ ٹو)
(۱) مسلمان اگر خبیث حرکتیں کرتے ہیں تو اس میں اسلام کا کیا قصور ہے؟ کیا ان کا مذہب انھیں ایسا کرنے کو کہتا ہے؟
(۲) اگر مذہب مشرکوں مرتدوں کو قتل کرنے کو کہتا ہے تو کیا ہوا؟ آخر مسلمان اپنا اسی فیصد وقت تو دوسرے کاموں میں گزارتے رہے ہیں نا؟ پھر ان کا کیا قصور ہے؟

اس پر فہمیدہ ریاض صاحبہ کہتی ہیں:
امریکہ نے خواہ مخواہ عراق پر حملہ کر کے بالکل داعش کو پیدا کیا ۔۔۔یہ طالبان اور بن لادن ان کو بہت پیارا تھا ۔۔ٹائم میگزین کے سر ورق پر تصویریں چھاپتے تھے ۔۔ہماری فوج کو پیسے نظر آئے تو خوشی خوشی ساتھ چل پڑی اور آیا فلسفہ جہاد ۔۔۔ان کے جہاد کشمیر میں کوئی عرب مسلمان ملک کبھی شامل نہیں ہوا ۔۔کیا ان کا اسلام کوئی دوسرا تھا ؟ ان کا نیشنل انٹرسٹ نہیں تھا ۔۔۔۔
مزید کہتی ہیں؛
آپ کے اور میرے خاندان میں بھی مسلمان ہیں ۔۔۔تو کتنے مرشد مرتد انہوں نے مارے اب تک ؟ کوئی تو نظر آتا ہوگا ادھر ادھر ۔۔اس سے زیادہ تو ایم کیو ایم مجازی نے حقیقی مارے ہوں گے ۔۔کیا وہ اللہ اکبر کہتے تھے ؟ کوئی ضرورت ہی نہیں تھی ۔۔۔۔
اصلی اسلام کوئ ی نہیں ہے اور سب اسلام برابر ہیں ۔۔۔انڈیا مین کئی لوگ کہہ رہے ہیں کہ سرو دھرم سمبھو ۔۔اصلی ہندو ازم یہ نہیں ہے ۔۔۔۔۔اچھی بات اس امریکی ایرانی لڑکے ارسلان نے کہی تھی ۔۔مذہب وہ ہے جو آپ اسے بوقت ضرورت بنا لیں ۔۔۔۔

اجمل کمال صاحب جواباً کہتے ہیں:
پس ثابت ہوا کہ اسلام کے نام پر نہ مشرکوں مرتدوں کو مارا جاتا ہے نہ شیعوں، احمدیوں، ہزاروں، اسماعیلیوں کو، نہ داتا دربار اور عنداللہ شاہ غازی پر حاضری لگانے والوں کو۔ (اگر ایسی کچھ وارداتیں کچھ لوگ کرتے بھی ہیں تو بیس کروڑ میں سے صرف چند ہزار، باقی تو تالیاں بجاتے اور ان وارداتوں کی ذمہ داری امریکہ اور سویڈن پر ڈالنے کی خدمت سرانجام دیتے ہیں۔) تو پھر پریشانی کس بات کی ہے؟

جس پر فہمیدہ صاحبہ نے نے کہا:
باقی تالیاں نہیں بجاتے ہیں ۔۔۔بیزار ہیں ۔۔۔لیکن آپ اسے یہ کہہ کر کہ تمہارا مذہب ہی خراب ہے ان کے ساتھ اور بھی ذیادتی کر رہے ہیں ۔۔۔کسی کے بھی مذہب کو برا کہنا خود ایک بہت بری بات ہے ۔۔مذہب کوئی اپنے لیے منتخب نہیں کرتاکئی سو برس سے ۔۔وہ بس اس میں پیدا ہو جاتا ہے ۔۔اسی لیے شاید لوگ اتنے حساس ہوتے ہیں مذہب کے سلسلے میں ۔۔۔تو اسلام بھی کچھ لوگوں کا تو مذہب ہے نا ۔۔۔۔جو کچھ تم کہتے ہو وہ Hate Speech کے زمرے میں آتا ہے ۔ قتل کے خلاف آواز اٹھانا ایک بات ہے اور مذہب کی تضحیک اور توہین بالکل دوسری بات ہے اس کی یو این او کا چارٹر بھی اجازت نہیں دیتا۔

اجمل کمال کہتے ہیں:

الباکستانی عذرخواہانہ لاجک (پارٹ تھری)
مبصر: پاکستان کے چاروں صوبوں میں غیرت کے نام پر عورتوں پر نہ صرف پابندیاں لگائی جاتی ہیں بلکہ اگر ان پر ان پابندیوں کو توڑنے کا شبہ ہو جائے تو انھیں قتل کر دیا جاتا ہے۔ یہ سلسلہ غلط ہے، اسے رکنا چاہیے۔
الباکستانی: تمھیں اسلام سے کیا دشمنی ہے؟ تم اسے بدنام کرنے پر کیوں تلے ہوے ہو؟ تم جو کچھ کہہ رہے ہو وہ Hate Speech کے زمرے میں آتا ہے۔
مبصر: ارے! اسلام کا نام کس نے لیا؟ کیا اسلام حکم دیتا ہے کہ عورتوں کو پردہ کر کے گھر میں بیٹھنا چاہیے اور شادی وغیرہ کے معاملے میں ماں باپ کے حکم کی پابندی کرنی چاہیے؟
الباکستانی: تم مسلسل اسلام کو بدنام کیے جا رہے ہو۔ اگر ننانوے فیصد علما ایسا کہتے ہیں اور اسی فیصد مسلمان ان کی بات کو درست سمجھتے ہیں تو اس کا یہ مطلب کہاں سے ہو گیا کہ اس کی آڑ میں اسلام سے دشمنی نکالی جائے؟ کاروکاری کرنے والے اسلام کی نمائندگی نہیں کرتے۔
مبصر: میں بھی تو یہی کہہ رہا ہوں کہ ایسے جرائم کو روکا جانا چاہیے اور جو لوگ اسلام کا حوالہ دے کر ان کا جواز پیش کرتے ہیں ان کی حوصلہ شکنی ہونی چاہیے۔
الباکستانی: پھر وہی۔ ہرپھر کے مسلمانوں پر ہی کیوں اعتراض ہوتا ہے؟ تیرھویں صدی کے افریقہ میں بھی تو اس قسم کے واقعات ہوتے تھے۔ تم سے چند سو سال صبر نہیں ہوتا؟ بیٹھے رہو آرام سے، سب کچھ خودبخود ٹھیک ہو جائے گا۔ یورپ کو نہیں دیکھتے، چند سو سال میں کتنی ترقی کر گیا؟ تمھیں کس بات کی جلدی ہے؟ دراصل یہ سب اسلام دشمنی ہے، اور کچھ نہیں۔

فہمیدہ ریاض صاحبہ نے اختتامی تبصرے میں کہا:

اب ادھر ادھر کی ہانک رہے ہیں ۔۔بحث ہار چکے ہیں اب اجمل کو قتل کرنا مباح ہے۔ پہلے زمانے میں یہ بھلا قاعدہ بھی تھا کہ بحث میں ہارنے والوں کو قتل کیا جاتا تھا مناظروں میں سر پھٹول ہوتی تھی آخیر میں ۔۔ایک مباحثے کے بعد برہمنوں نے آٹھ ہزار جینیوں کو قتل کیا تھا۔

اس شگفتہ جملے کا جواب اجمل صاحب نے بھی اسی انداز میں دیا اور بحث ختم کردی:

ہاہاہا! مجھ جیسے معصوم کو قتل کر کے بھلا آپ کو کیا ملے گا؟ میں نے تو ابھی زندگی کی بہاریں بھی زیادہ نہیں دیکھیں۔  ویسے اگر آپ سے ہارنے والوں کو قتل کیا جانا شروع کر دیا گیا تو سروں کا ایک اونچا مینار بن جائے گا جسے لوگ فہمیدہ ٹاور کے نام سے رہتی دنیا تک یاد کیا کریں گے۔ مینارِ فہمیدہ بروزنِ مینارِ خمیدہ (جو اٹلی کے شہر پیسا میں ہے)۔

__________________________________________________________________

میں آخر میں صرف اس مکالمے کے اختتام کی جانب اپنے قارئین  کی توجہ مبذول کروانا چاہتا ہوں کہ کیسے انتہائی سنجیدہ بحث بھی آخر میں شگفتہ انداز میں ختم کی جاسکتی ہے نہ کہ سر پھٹول کر کے اپنے سچے ہونے پر منوایا جائے۔ تہذیب یافتہ بحث کی عمدہ مثال ہے یہ مکالمہ!

  • Dono ki Kuch Batain Theek hain .. but Samjh say yeh baaher hai k yeh loog anti Muslims hain yah sirf Such baat ker rhay hain ?

  • Malik Rashid

    پاکستان کے دو معروف دانشوروں کی گفتگو پڑھہ کر اچھا لگا۔ علم و فکر اور امن و انصاف کے حوالے سے مغربی ملکوں کی حالت بقیہ دنیا سے بہتر ہے اور اس صورتحال سے کھلے دل اور دماغ کے ساتھہ ہی سیکھا جا سکتا ہے۔ تعصب خواہ امریکہ کے خلاف ہو یا مذہب کے، ترسیلِ علم کی راہ میں رکاوٹ ضرور بنتا ہے۔

  • kaalchakra

    Kaash, humare progressive liberals bhi fehmida riaz sahiba jaise hote, romilla thapar, irfan habib, aur nehru jaise nahin.

  • Naushad Momin

    Nice….it is sad to say that when we become secular we forget our identity…..