کیا ٹویٹر مر چکا؟

تحریر: طاہر اکبر

twitter

عمومی طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ سوشل میڈیا کا سب سے بڑا فائدہ  عوام کو ہوا ہے، جنکواپنی آواز اٹھانے کا ایک میڈیم میسر آ گیا ہے۔ پاکستان کے کانٹکسٹ میں یہ چیز مزید دلچسپ اور درست ہے۔ ہم نے دیکھا ہے کہ عوام نے سیاست، سماجی معاملات اور اداروں کی پرفارمنس کے حوالے سے ٹویٹر کو ایک اچھے ٹول کے طور پر استعمال کیا اور اس سے کئی اچھے نتائج حاصل کئے۔
تاہم اس تصویر کا ایک دوسرا رخ بھی ہے اوراسکی بنیاد مکمل طور پر کاروباری اصولوں پر ہے۔ تقریبا تمام بڑے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سٹاک مارکیٹ پر لسٹ ہو کر پبلک کمپنیاں بن چکے۔ فیس بک، لنکڈ اِن اور ٹویٹرتینوں امریکہ  کے مقبول ترین سٹاکس ہیں کیونکہ انکی بنیاد ‘مستقبل کے مواقع’  یا ٖ Future Opportunities پر ہے۔  لسٹڈ کمپنیاں سال کی ہر سہہ ماہی کے بعد اپنی مکمل مالیاتی رپورٹ جاری کرتی ہیں جس میں عوام اور مارکیٹ کو بتایا جا تا ہے کہ اس نے کتنی گروتھ کی، کتنا قرضہ لیا، کتنے پیسے کمائے،سرمایہ کاروں میں کتنا منافع   تقسیم ہو گا اور کمپنی اگلے آنے والے وقت میں مالیاتی پرفارمنس کو کیسے دیکھتی ہے۔ ٹویٹر نے حال ہی میں اپنے مالیاتی نتائج کا اعلان کیا جِس کے مطابق اشتہاروں کی آمدنی سے لیکر صارفین کی بڑھوتری، اور انکی دِلچسپی۔۔ تمام اعشاریے منفی میں ہیں۔
اس تمہیدی گفتگو کا مقصد ٹویٹر کے حوالے سے چند خیالات کا اظہار کرنا ہے، جو نہ صرف ہمارے ہاں بلکہ بین الاقوامی ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل مارکیٹنگ کے شعبوں کے ماہرین کے درمیان زیرِ بحث ہے۔   اس  بحث کی کئی جہتیں ہیں اور ہر مکتبہء فکر اور شعبے کے لوگ اپنی مرضی کے مطابق اسکی تشریح کر رہے ہیں۔
–  اس وقت دنیا میں 32 کروڑ لوگ ٹویٹر کے صارف ہیں جن میں سے تقریبا 80 فیصد موبائل سے یہ سروس استعمال کرتے ہیں.
– ٹویٹر کی User growth یا صارفین کی تعداد میں اضافہ اتنی تیزی سے نہیں ہو رہا جتنا اسکے سرمایہ کار یا  تجزیہ نگار توقع رکھتے ہیں۔ صارفین کی گروتھ نہ ہونے کی وجہ سے اس پلیٹ فارم کو مالی طور پر فائدہ مند بنانا کافی مشکل ہو چکا۔ ایڈورٹائزنگ ایجنسیاں اور کاروباری افراد اس کو زیادہ استعمال نہیں کر رہے( اشتہار نہیں دے رہے)کہ یہاں  پر انکی سرمایہ کاری کا کوئی اچھا ریٹرن نہیں مِل رہا۔  جِن دوستوں نے اِس سہہ ماہی کی رپورٹ نہیں دیکھی، وہ یہاں دیکھ لیں۔ آمدنی بھی کم ہو گئی اور صارفین کی بڑھوتری بھی اتنی نہیں ہو رہی جتنا تجزیہ نگاروں کے خیال میں ہونی چاہئے۔
– ٹویٹر عمومی طور پر بورنگ ہو گیا ہے اور اِسکی وجہ سے جو لوگ ٹویٹر پر موجود ہیں وہ بھی پلیٹ فارم پر کم کم آتے ہیں۔ بہت بڑی تعداد بالکل چھوڑ چکی اور بہت حد تک لوگ اسکا استعمال کم کر چکے۔
–  جیسا کہ تمہید میں عرض کیا کہ سرمایہ کار کی سب سے بڑی  دلچپسی مستقبل کے مواقع پر ہوتی ہے کہ یہ برانڈ یا کمپنی مجھے مستقبل میں کیا  ریٹرن دے گی۔ ٹویٹر اس حوالے سے اپنے سرمایہ کاروں کو مطمئن کرنے میں خاصہ ناکام رہا ہے۔

اب آتے ہیں، اصل سوال کی طرف۔۔۔ ایسا کیوں ہے؟

پروفیشنلی، اِس کی کوئی ایک وجہ نہیں بلکہ بہت ساری وجوہات نظر آتی ہیں۔
1۔  سب سے بڑا عنصر ہے Competition  یا مسابقت اور اس معاملے میں ٹویٹر کافی کمزور رہا ہے۔ فیس بک نے گوگل پلس  اور ٹویٹر دونوں کو اپنے سامنے نہیں کھڑا ہونے دیا اور خود کو سب سے زیادہ پسندیدہ سوشل نیٹ ورک کے طور پر منوایا ہے۔  یہ بات صارفین اور سرمایہ کار دونوں کے حوالے سے درست ہے کیونکہ دونوں فیس بک سے خوش ہیں۔
2۔  فیس بک کی کامیابی اور ٹویٹر کی ناکامی کی ایک بڑی وجہ “innovation factor” بھی ہے۔ماضی میں فیس بک نے بہت سی نئی چیزیں متعارف کروائیں  جیسے میسجنگ ایپ، پولز، آرٹیکلز، اور نیوز۔۔ مگر ٹویٹر اس معاملے میں کافی سست رہا ہے۔ فیس بک کی  Instant Articles سروس در حقیقت ٹویٹر کا توڑ کرنے کیلئے ہی متعارف کروائی گئی تھی  کیونکہ ٹویٹر کی شناخت بطور News Source کافی مضبوط ہو چکی۔ حال ہی میں ٹویٹر نے پولز اور لائک جیسے فیچرز متعارف کروائے مگر انکا اچھا/برا اثر ابھی معلوم نہیں ہو سکا۔
3۔ تیسرا اہم فیکٹر User experience ہے۔  تقریبا تمام سوشل میڈیا سائٹس نے اپنے UI/UX میں تبدیلیاں متعارف کروائیں اور ان سے صارفین کی دلچسپی بڑھی، تاہم ٹویٹر کا  User experience آج بھی تقریبا پہلے دِن جیسا معلوم ہوتا ہے۔ حال ہی میں LinkedIn نے اپنا انٹرفیس تبدیل کیا تو اس پر لوگوں کی دلچسپی تقریبا 75 فیصد بڑھ گئی۔ وجہ؟؟
4۔ چوتھا اہم فیکٹر جسے ماہرینِ نفسیات اور Behavioral Scientist  زیادہ اہمیت دے رہے ہیں۔۔۔ وہ ہے گالم گلوچ۔ صرف پاکستان ہی نہیں، دنیا بھر میں ٹویٹر پر Harassment اور Trolling کی اتنی بہتات ہو چکی کہ سنجیدہ دماغ لوگ اب اِس سے دور بھاگتے ہیں۔  پاکستان میں ٹرولنگ  اور گالم گلوچ کی صورتحال  کیا ہے، اس کی وضاحت کی ضرورت نہیں۔  سیاسی ، مذہبی اور سماجی بحثوں میں لوگ دلائل کی بجائے گالم گلوچ کا آزادنہ استعمال کر کے سنجیدہ لوگوں کو اِس پلیٹ فارم سے دور کر رہے ہیں۔
5۔  پانچواں فیکٹر   Trends Setting کا ہے۔ ۔ کسی زمانے میں ٹویٹر ٹرینڈ کا مطلب ہوتا تھا کہ دنیا اس موضوع پر بات کر رہی ہے اور لوگ پھر اس پر اپنی رائے کا اظہار کرتے تھے۔ یہ چیز دراصل اس موضوع کی اہمیت کو اجاگر کرتی تھی، تاہم یہ چیز بھی Bots کی نذر ہو گئی۔ امریکہ کی 2012 والی صدارتی کمپین سے لیکر پاکستان کے 2013 والے انتخابات اور حال ہی میں بھارت میں ہونے والے  بہار کے انتخابات کو دیکھیں۔ مارکیٹنگ کمپنیوں اور سوشل میڈیا ٹیمز نے  Bots کی مدد سے   ٹویٹر پرٹرینڈز کا وہ حال کر دیا ہے کہ کوئی بھی صحیح الدماغ شخص پناہ مانگتا ہے ۔ اب اِس بات کی کوئی گارنٹی نہیں کہ اگر ایک مضمون ٹرینڈ کر رہا ہے تو واقعی عوام اس کے بارے میں بات کر رہے ہیں۔
مختصر بات یہ ہے کہ ٹیکنالوجی انڈسٹری میں جدت اور صارف کو بہتر تجربہ فراہم کئے بغیر کوئی بھی کمپنی   ترقی نہیں کر سکتی۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ ایک  اچھی ٹیکنالوجی کا برا استعمال اس پوری پروڈکٹ کی ناکامی کا باعث بن سکتا ہے۔  تاہم یہ کہنا قبل از وقت ہو گا کہ یہ سروس مکمل طور پر ناکام ہو جائے گی یا ہو چکی۔ کمپنی کے اعلیٰ عہدوں پر فائز افراد کی تبدیلیاں اور نئے چہروں کے سامنے آنے سے فی الوقت تو یہی تاثر دیا جا رہا ہے  کہ کمپنی اِس معاملے کو سنجیدگی سے دیکھ رہی ہے اورآنے والے دنوں میں کچھ نیا اور بہتر کرنا چاہ رہی ہے۔

یہ تحریر اس سے پہلے طاہر اکبر کے بلاگ میں پوسٹ ہوئی۔

____________________________________________________________________________________________________

Tahir Akbar is a digital marketing professional and blogger based in Lahore. He Tweets @tahirakbr