ارباب اختیار کے لئے کسوٹی

تحریر: طاہر احمد بھٹی، فرینکفرٹ۔ جرمنی

Qadiani

جب پشاور سکول واقعے کے بعد اوپر تلے میٹنگز کر کے NAP کا مژدہ سنایا گیا اور ایک یکسوئی اور یکجہتی کا سماں پیدا ہوتا نظر آیا تو میں نے تبادلۂ خیال اور نیک خواہشات کے رنگ میں اپنے ایک دوست کو پاکستان فون کیا اور ان اقدامات اور افواج اور حکومت کے ایک ہی مقصد کے حصول کے لئے گامزن ہونے پر کچھ زیادہ سرخوشی کا اظہار کیا تو موصوف نے میری بات کاٹ کے کہا کہ ٹھہرو جی۔۔۔میں آپ کو ایک کسوٹی دیتا ہوں۔ ان کی کسوٹی سے پہلے میں ان کا تعارف کروا دوں۔
موصوف اس وقت SSP تھے۔ قابل اور دیانتدار افسر ہیں۔ سنی العقیدہ مسلمان ہیں۔ اپنی تنخواہ پہ قانع لائف سٹائل رکھتے ہیں اور نماز روزہ کے پابند ہیں۔ نام لکھنا نا مناسب ہے مگر خدا کے فضل سے چاک و چوبند اور حاضر سروس ہیں۔ کہنے لگے۔۔”اگر تو دو کام موجودہ سسٹم نے کر لئے تو پاکستان اپنی ترقی و استحکام کی لائن پر چڑھ جائے گا۔
ایک یہ کہ ممتاز قادری کو اس کے جرم کی سزا مل گئی۔۔۔اور
دوسرا مولوی عزیز لال مسجد والے کو گرفتار کر کے اس کو اس کی اوقات میں لے آئیں ۔۔۔۔تو میں ان اقدامات پر کوئی مثبت امید لگا سکتا ہوں۔۔۔مگر ابھی نہیں۔
ان کی پہلی بات کی تائید اور تصدیق تو عدالتِ عظمی کے جج جسٹس کھوسہ کے فیصلے نے کر دی ہے۔۔۔ہر غیر متعصب صاحب ِعلم جانتا ہے۔۔اب آئیں دوسری بات کی طرف۔۔۔کیونکہ پھر مجھے ایک تیسری بات بھی کرنی ہے۔۔آپ قارئین سے ، حکومت ِوقت سے اور افواج پاکستان کے سپہ سالار سے!
دوسرا ایشو ہے مولوی عبدالعزیز کا۔۔۔
اس کی مسجد کی فائرنگ سے پہلا شھید کرنل رینک کا افسر۔۔۔محاذ پر نہیں ۔۔۔میلوڈی مارکیٹ اسلام آباد میں۔۔۔۔کوئی یہ جرات کرے اور پوچھے کہ مسجد اور مدرسہ قلعہ بند ہونے کے لئے ہوتے ہیں۔۔ ؟
آرمی کو ایٹمی طاقت اور تین گنا فوج والے ہمسائے سے خوف نہیں تو تم سے کیوں ہو گا۔۔۔۔مسئلہ کچھ اور ہے۔۔ اور وہ بتایا نہیں جاتا۔۔۔
ایک مولوی نہیں۔۔سارے کے سارے مل کر جو مانگ رہے ہیں وہ دیا نہیں جا سکتا۔۔ان کے مطالبات کا خلاصہ یہ فہرست ہے۔۔
اول۔۔۔یہ کہ شریعت اور اسلام نافذ کرنے کے لئے پاکستان کی جغرافیائی حدود درکار ہیں۔
دوئم۔۔۔یہ کہ طالبانی اور افغانی شریعت اور عربی رومال باندہے ہوئے داعش کو خوش آمدید کہنے والے جاہل اور ان پڑھ پاکستانی درکار ہیں جن کی تنگ نظری اور تعصب دنیا میں مثال ٹھہریں۔
سوئم۔۔۔یہ کہ سکول، کالج اور یونیورسٹی کا نصاب بھی آج والی شریعت کے مطابق ہو۔
چہارم۔۔۔۔یہ کہ ووٹ ہو یا نہ ہو لیکن سینٹ۔۔اسمبلی۔۔میونسپلیٹی اور افواج کے فیصلہ سازی کے عمل میں مولویوں کا ڈنکا بجتا ہو۔۔۔اور آرمی چیف جنرل ضیا الحق جیسا مومن ہو۔۔۔۔جس کو اسلام سے غرض ہو۔۔۔انسان اور انسانیت سے نہیں۔ اور اسلام وہ جو باہم متحارب علماء چودہویں صدی کے آج گھڑ کے دیں اور شرعی عدالتیں اس کی پشت پہ کھڑی ہوں۔
پنجم۔۔۔۔یہ کہ نیوٹرل۔ لبرل۔اپنے کام سے کام رکھنے والے اعلی دماغ جلا وطن کر دئے جائیں اور پاکستان کی تاریخ مسخ کر کے پیش کی جائے اور جو تاریخ دان یا سائینس دان آواز اٹھائے اسے یونیورسٹی کے لڑکوں سے گولی مروا دی جائے۔۔قائد اعظم یونیورسٹی عالمی سطح کا مدرسہ بن جائے اور اوریا مقبول جان اس کے سربراہ ہوں۔
اور اس سے بھی خطرناک ایجنڈا ابھی باقی ہے۔۔یعنی۔
جتنے سر ہیں ساز سے باہر، اس سے زیادہ ساز میں چپ۔۔!
تو جناب سادھاسا سوال ہے کہ آپ مولوی کے مطالبات مان سکتے ہیں کہ نہیں۔
اگر تو ماننے ہیں تو چوہدری نثار صاحب سے کہیں وہ اعلیٰ حضرت مولانا کو ایک تقریب میں یہ سارا روڈ میپ پیش کر دیں اور کھینچا تانی ختم ہو۔۔۔ہمارے اپنے علماء ، اپنے مدرسے اور اپنے محب وطن طلباء اور مولوی۔۔۔۔پھر مسئلہ کیا ہے؟؟
آپ کا ان کو یہ سب پیش نہ کرنا بتاتا ہے کہ آپ کو ان سب باتوں کا پتہ ہے جو میں نے بتائی ہیں مگر آپ اس حوالے سے عوام کو اعتماد میں لے کر سچ نہیں بتاتے۔۔۔اور ذلیل عام آدمی ہو رہا ہے۔۔پروفیسر ہود بھا ئی، بشارت قادر، وجاہت مسعود جیسوں کا دم گھٹتا ہے اور ملک کی اونر شپ عام پاکستانی کے لئے کمزور پڑتی جا رہی ہے۔۔۔۔مایوسی میں اضافہ ہو رہا ہے اور۔۔ آپ، سعد رفیق، عابد شیر علی، خورشید شاہ اور اسحق ڈار۔۔۔یہ شعور تو رکھتے ہیں ناں کہ پبلک اونر شپ ریاست کا سب سے اہم عنصر ہے۔۔!
اس لئے عوام کو ذلیل کروانے اور ہماری اونر شپ آف پاکستان کو زخمی کرنے کی بجائے آپ مولوی کو دو ٹوک جواب کیوں نہیں دیتے کہ۔۔۔
جاؤ۔۔ہم تمہارا مطالبہ نہیں مان سکتے اور آئیندہ تماشہ لگانے کی کوشش کی تو ریاست منہ توڑ جواب دے گی۔۔نماز پڑھائیں اور قرآن پڑھائیں۔۔۔۔فارن پالیسی اور داخلہ امور میں مت کودیں۔ چکری سے اٹک دور نہیں اور آپ کے ہمسائے میں شجاع خانزادہ جان دے کر اپنی عزت کو لازوال کر گئے ہیں۔۔ آپ اس طرح ہماری گردنوں کا سودا مولویوں اور خود کش بمباروں سے کر کے ھہارے دل میں اپنا احترام کیسے پیدا کر سکتے ہیں۔
اس لئے جناب۔۔۔اس دوغلے پن اور گو مگو سے باہر نکلیں اور ہمارے مفاد کا تحفظ کریں جو افواج پاکستان کے جوانوں کو شہید کہتے ہوئے فخر محسوس کرتے ہیں ۔۔۔ان کی شھادت کی صرف و نحو سے تاویلیں کرنے نہیں بیٹھ جاتے۔۔اور اگر یہ نہیں کر سکتے تو کھل کے کہیں کے ہم مولوی سے ڈرتے ہیں ۔۔۔اس پہ ہاتھ نہیں ڈال سکتے حالانکہ وہ اعلانیہ اینٹی سٹیٹ سرگرمیوں میں ملوث ہے۔۔ پھر یہ سارے گارڈ اور پروٹو کول چھوڑ دیں اور یہ کام کسی سر پھرے لبرل کو کرنے دیں۔۔۔آرمی کی باری تو بعد میں آئے گی۔ پاکستان کی پبلک میں ہی وہ لوگ ہیں جو اس طرح کا جواب دینے کا حوصلہ رکھتے ہیں اور ان کو وزارت بھی نہیں چاہئے۔
رہی بات آرمی کی ۔۔تو آپ بھی جانتے ہیں اور میں بھی کہ پاکستان آرمی صرف پاکستان کے مفاد اور حفاظت کو ہی سامنے رکھ سکتی ہے اس کا اور کوئی ایجنڈا نہیں۔۔۔۔مستحکم اور زندہ پاکستان ہی آرمی کے وجود کی ضمانت ہے اور آرمی چیف کل وقتی اور غیر مشروط ذمہ داری ہے یہ حالات خراب ہوں تو چند سالوں کے لئے دبئی، جدہ یا لندن نہیں جا سکتا اس لئے آپ کی سیاسی نا اہلی جب عدم استحکام کو چھونے لگے تو اس کو اپنا کردار ادا کرنا پڑتا ہے۔۔۔نہ چاہے ہوئے بھی!
سیاسی سیٹ اپ نے تو مالا کنڈ میں مولوی کورٹس کو قانونی حیثیت دے دی تھی۔۔۔یہ زیادہ پرانی بات نہیں ہے مگر آرمی کے لئے یہ موت زندگی کا سوال ہے کہ نوشہرہ چھاونی مولوی سمیع الحق اور کہوٹہ کا چارج آپ کو دے دیں۔۔۔۔اس لئے اپنا کردار ادا کریں اور آرمی کے ساتھ بیان بازی نہ کھیلا کریں۔
“ادارے آئینی حدود میں رہیں”
کس آئین نے ریاست کی اتھارٹی کو چیلنج کرنے والوں کو تحفظ فراہم کیا ہے؟؟
اب آئیں تیسری بات کی طرف۔
پچھلے دو دن سے جو تماشہ جہلم میں لگا ہوا ہے اس پر کوئی حقیقت پسندانہ بات بھی ہونی چاہئے۔۔ایک مولوی تقریر کرتا ہے اور جی ٹی روڈ چھ گھنٹے کے لئے بلاک۔۔ہزاروں کا مجمع۔۔۔گھر فیکٹری جلا دئے گئے ، عبادت گاہ جلا دی اور فوج امن و امان بحال کرنے آئی۔
پہلی بات۔۔۔۔کیا اسلام اور بانئ اسلام اور قرآن اس طرح کی ھہگامہ آرائی کی ایک بھی مثال پیش کرتے ہیں ؟ بالکل نہیں۔۔۔
صرف توہین قرآن کا الزام عوام اور مولوی کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت دیتا ہے۔۔۔؟ سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق۔۔۔ہر گز نہیں۔۔
تو کیا جو حرکت سرے سے غیر قانونی اور جو جلوس اپنی بد زبانی اور درندگی میں غیر انسانی ہو جائے وہ جلوس اور تحریک اسلامی کیسے ہو گیا اور ان کا مقصد روحانی کہاں سے ہوا؟
اور ایک قابل غور بات۔۔۔کہ جو جلوس غیرت ایمانی سے سر شار اور بے قابو ہو کے آیا۔۔۔وہ پولیس۔۔۔اے۔سی، اور ڈی۔پی۔او سے قابو نہیں ہو رہا کیوں کہ ایمان زد پہ ہے اور جان قربان کرنے کو تلا ہوا ہے وہ آرمی کے آتے ہی کیسے کنٹرول ہو گیا؟
دو وجوہات۔۔اول یہ کہ ڈی پی او کو پورا اختیار نہیں ہوتا اور اگر معاملہ بگڑ جائے تو اس کے کیرئیر کی قربانی دے کر ہوم سیکرٹری بچائے جاتے ہیں جبکہ کوئی کور کمانڈر کس افسر کے ساتھ یہ حرکت نہیں کرتا اور دوسرا یہ کہ آرمی اتھارٹی قائم کرنے کے لئے آتی ہے تذلیل کروانے اور تعصب کو بڑھانے کے لئے نہیں۔ اگر پولیس کے نیچے سے سیڑھی کھینچنے کا کلچر ختم ہو جائے تو فوج طلب کرنے کی ضرورت نہ رہے۔سول اور سیاسی انتظامیہ سادہ سی بات سمجھ لے کہ ہم بندر کے ہاتھ میں بندوق دیں گے تو پھر تحفظ جان و مال کی کوئی ضمانت نہیں۔
بات ذرا لمبی ہو گئی مگر ظلم اور ظلمت کی یہ رات بھی تو 128 سال پہ محیط ہے۔ ٹی وی چینلز کی ظالمانہ خموشی اور یکطرفہ پن تو خیر سمجھ میں آتا ہے کہ ابصار عالم پیمرا کے ہیڈ ہیں اور حامد میر جیسے جیالے نے جب وہ اوصاف کے ایڈیٹر تھے تو بڑی ڈھٹائی سے میرے پانچویں آرٹیکل کو روک کر کہا،۔۔” جا کے ربوے چھپوا لو۔۔کیوں ساڈے اخبار نوں اگ لوانی جے۔۔”
اب وہ سارا طبقہ بے باک اور بے لاگ میڈیا پہ مسلط ہے۔۔لیکن اخبار کے کچھ مہذب لکھاریوں کی محتاط گفتگو اور سوشل میڈیا کے تبصرے چند معروضات پیش کرنے کا تقاضہ کرتے ہیں۔ لیکن مضمون ایک نشست میں پڑھنے کے لحاظ سے طویل ہو جائے گا اور مذکورہ بالا ھہگامہ بھی دو روز ہی چلا ہے تو باقی حصہ اللہ نے توفیق دی تو کل۔۔۔۔تا کہ مزید حقائق بھی سامنے آ جائیں۔۔

  • Irfan Shah

    Best synopsis about the long prevailing criminal muteness and abdication of the state organs and intellectual dishonesty of media just to preserve their vested interests at the cost of state.

  • Sajawal

    I cannot agree more the way dilemmas we face have been presented. It is said that “hunters will always be victorious in a Lion hunt until the the Lions have historions of thier own”. We as a nation r still finding our national vision and one we r currently following is a not even close to what our Quaid intented, his vision has been hijacted and destorted the very elements which were against him and every sane person knows who they r. It was planned hijacking of this newly borned country. We blamed British for divide n rule policy but the opposers of British did same thing here n we r reeping what was sown decades ago. We as a nation r at verge of extinction from our own hands and r at incubator since our birth, when would we stop being dictated by some senseless idiots who knew nothing but to spread hatred for personal gains.
    Bhatti saab piche gal reh gae paray likhay jahilan di te oo te tusan zikar kar e dita aa ona da bus chale te ik prado len lae maa pio v vech k kha jaan.

  • Pingback: اربابِ اختیار کے لئے کسوٹی: حصہ دوئم | Pak Tea House United States WordPress Unknow Os ()

  • Pingback: یہ رات کھا گئی ایک ایک کر کے سارے چراغ! | Pak Tea House United States WordPress Unknow Os ()