یہ رات کھا گئی ایک ایک کر کے سارے چراغ!

تحریر: طاہر احمد بھٹی فرینکفرٹ- جرمنی

جن دنوں پروفیسر ڈاکٹر اصغر قادر قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد کے ڈین آف نیچرل سائینسز تھے تو راقم کو ان کا ایک طویل انٹرویو ریکارڈ کرنے کا موقع ملا۔ پروفیسر صاحب موصوف اور ان کے بھائی بشارت قادر صاحب کی شفیق طبع اور مہمان کی تواضع کے آداب اور رکھ رکھاو سے لا جواب ہو کر ایک فقرہ مجھ سے بے ساختہ سرزد ہوا کہ تہذیب اس خاندان میں مذہب کی حیثیت اختیار کر گئی ہے۔۔۔تو اس ملاقات میں موصوف نے ایک ایسی بات فرمائی جس کی پرتیں اب ایک دھائی سے کھلتی جا رہی ہیں۔

مزید پڑھیے:ارباب اختیار کے لئے کسوٹی

ڈاکٹر اصغر قادر صاحب کا کہنا تھا کہ پاکستان میں سائینس معرض خطر میں نہیں کیونکہ سائینس کے اصولوں اور قوانین سے انحراف فوری نتائج دے کر آپ کو خبردار کر دیتا ہےکہ بات یوں نہیں ہے مگر ہسٹری اور سوشل سائینس کے میدان میں مسائل ہوں گے کیوں کہ جب تاریخ مسخ کی جا رہی ہو یا سماجی اصولوں سے انحراف کیا جا رہا ہو تو اس کے اثرات دیر سے ظاہر ہوتے ہیں اور دیرپا زوال پر منتج ہوتے ہیں اس لئے اہلِ دانش کو اس طرف سنجیدگی سے توجہ کرنی چاہئے۔
بعد میں اہلِ دانش نے توجہ کی بھی۔ ڈاکٹر مبارک علی، ڈاکٹر پرویز ہود بھائی، قسم کی آوازیں سنائی دیں مگر دیر ہو چکی تھی، رات گہری ہوگئی تھی اور چراغ کم، نحیف اور بے آسرا ہوتے گئے اور ایک ایک کر کے یا بجھتے گئے یا رات کے ہمنوا ہوتے گئے اور اب عالم یہ کہ منظر بھوپالی کے یہ چار مصرعے ہمارے ترجمان لگ رہے ہیں۔

کدھر کو جائیں گے اہلِ سفر نہیں معلوم
وہ بد حواسی ہے اپنا ہی گھر نہیں معلوم
ہم اپنے گھر میں بھی بے خوف رہ نہیں سکتے
کہ ہم کو نیت دیوار و در نہیں معلوم

یہ تاریخ کا سبق اور سیاسیات کا اصول تھا کی ایک سوسائٹی میں دو پیمانے نہیں چل سکتے۔ ایک گروہ یا طبقے کو ظلم کا نشانہ بننے دیا گیا اور ریاست نے آنکھیں بند کیں تو سب کا تحفظ داو پہ لگے گا۔ عدم برداشت کو اگر ایک دفعہ ریاستی تائید ملی تو آئیندہ وہ خود اپنے بچے دے لے گی اور ریاست کو نہیں پوچھے گی۔بات زیادہ اکیڈیمک نہ رہے اور سب کے لئے ایک جیسی قابل فہم ہو سکے تو یوں سمجھ لیں کہ ایک شریر نے کسی مخصوص طبقے کی کار پنکچر کرنے کے لئے سڑک پر کیل پھینک دئے اور روکنے والوں نے روکا نہیں۔ اب وہی کیل ہیں جو سب کی کاروں کے ٹائر پھاڑ رہی ہیں حتیٰ کہ سرکاری اور فوجی گاڑیوں کے بھی۔ اور نظام ریاست کے بگڑنے کے ساتھ ساتھ کچھ اور نقصان بھی ہو رہے ہیں۔ عدم تحفظ ہی نہیں عدم اعتماد پیدا ہو رہا ہے اور سستی شہرت آگے آرہی ہے اور حقیقی دانش منہ چھپا رہی ہے اور سچ کے لئے آگے آنے سے اس لئے خائف ہے کے ریاست کی دیانت اور غیر جانبداری پہ سوال اٹھ رہے ہیں اور مادر وطن کی عملی تصویر ریاستی عملداری تذبذب کا شکار ہے-
پچھلے ایک ہفتے کے واقعات میں سے دو کا ذکر تو حسن نثار صاحب نے کر دیا اور تیسرے کا شائد کوئی نثار بھی نہیں کرے گا۔۔۔۔۔۔اور جب میں کروں گا تو وہی سمجھا جاونگا جو ہوں اور مجھے یہی بتایا جائے گا کہ۔۔۔ایہہ گل نئیں کرنی۔۔۔ایہہ برداشت نئیں ہوندی۔

مزید پڑھیے:اربابِ اختیار کے لئے کسوٹی: حصہ دوئم

پچاسی سالہ ووٹر کے کان اور ناک کاٹ دئے۔۔۔۔جب یہ عمل ہو رہا ہو گا تو اس کے سینے میں حب الوطنی کا جذبہ اور ریاست کے اختیارات پر اعتماد کس سطح پہ ہو گا اور یہ عدم برداشت اور فرعونیت غیر ریاستی عناصر میں کب آئی اور کہاں سے آئی؟
ڈسکے میں ایک میاں بیوی کو دن دیہاڑے کھمبے سے باندھ کے منہ کالا کیا ہوا ہے اور ایک گروہ یا دھڑا یہ کر کے بیٹھا ہے اور اس کو کسی کی پرواہ نہیں ہے۔

Duska
کئی سالوں سے قائم ہسٹاریکل ریسرچ انسٹیٹیوٹ کا ڈائریکٹر ہٹا دیا جاتا ہے اور کوئی وجہ نہیں بتائی جاتی اور ادارے میں کوئی ہلچل نہیں۔
ایک کمیونٹی کا اخبار جس کے سرورق پہ لکھا ہے کہ یہ صرف احمدیوں کے لئے ہے اس کا پرنٹر پبلشر راہ چلتے الزام لگا کر دھر لیا گیا اور الزام توہین مذہب کا ہے اب دونوں ہاتھ باندھے ہتھکڑی میں کھڑا ہے اور ریاست چپ۔۔۔کی کریئے جی۔ مذہبی پرچہ اے۔۔۔۔

IMG-20151211-WA0008

سپریم کے جسٹس کھوسہ کے ان ریمارکس کے بعد کیا کہنا باقی رہ جاتا ہے کہ
“مصیبت یہ ہے کہ جہاں مذہب کا نام آجاتا ہے وہاں قانون پس پشت ڈال دیا جاتا ہے۔۔!
پچاسی سالہ بک سیلر کتابیں بیچنے پہ اٹھا لیا اور رات کے اندھیرے میں مولوی(جو خود مطلوب ہیں) وہ ہائی ویز اور چورہوں پہ شکریے کے بینر لگا رہے ہیں اور قادیانیوں کی تحریف قرآن کو جلی حروف میں لکھ کر ۔۔۔۔۔۔کیا کرنا چاہ رہے ہیں۔؟

IMG-20151206-WA0018

IMG-20151206-WA0025

مجھے اور آپ کو پتہ ہے ایک ڈپٹی کمشنر کو نہیں پتہ۔۔اور ایک SSP کو خبر نہیں !
آپ کو ایک لٹمس ٹیسٹ دیتا ہوں ۔ آپ اس بینر پہ احمدیوں کی جگہ مولویوں کے نام الیاس چنیوٹی وغیرہ لکھ کے منجانب جماعت احمدیہ کر کے دیکھیں تو پندرہ منٹ میں پولیس اور ہر سطح کی انتظامیہ پہنچ جائے گی۔
تو یہ ہے وہ بے محل اور بدنیتی اور نا اہلی پر مبنی برداشت اور چشم پوشی جس نے عدم برداشت اور عدم تحفظ کے بچے دئے ہیں۔
سوال یہ ہے کہ کیا سرور اور سمیرا منہ کالا کروا کے اور جوتے کھاتے ہوئے اور بوڑھا ووٹر ناک کٹواتے ہوئے اور شکور بھائی تھانے میں بے عزتی کرواتے ہوئے اور طاھر مہدی سپریم کورٹ آف پاکستان کے جسٹس کے یہ ریمارکس سن کر واپس جیل جاتے ہوئے کسی بھی شریف کا شکریہ ادا کر رہے ہوں گے۔۔
جبکہ دوسری طرف چنیوٹ اور چناب نگر میں آویزاں شر انگیز بینرز نے آپریشن ضرب عضب کے بعد ایک ضرب المثل بن جانے والے فقرے کا اعتبار اور وقار بھی مجروح کر دیا ہے۔
کوتاہ قامتی، سستے پن اور انحطاط کا حال یہ کہ جو جملہ ایک باوقار سپہ سالار کے لئے

“شکریہ ۔۔۔۔راحیل شریف”

کے طور پر رائج ہوا تھا وہ ہمارے دیکھتے دیکھتے ہی۔۔

” شکریہ۔۔۔۔۔۔ذوالفقار گجر “

کی سطح تک اتر آیا ہے۔
سمیرا اور سرور کو منہ کالا کر کے کھمبے کے ساتھ باندھنے۔۔۔
بوڑھے ووٹر کے کان اور ناک کاٹنے ۔۔
طاہر مہدی کو اعلی ترین عدلیہ سے مایوس ہونے اور ۔۔۔۔۔۔۔
شکریہ راحیل شریف کو شکریہ ذوالفقار گجر ہونے سے روکنے کے لئے ریاست۔۔۔جی ہاں ریاست کو اپنی قدیمی، آئینی اور بین الاقوامی حیثیت کو واپس لے کر قائم کرنا پڑے گا اور یہ کام اگر اہلِ سیاست اور سول بیوروکریسی نے نہ کیا تو ۔۔۔پاکستان کو قومی سطح پر۔۔۔۔اور لمبے عرصے کے لئے۔۔۔۔۔؛
شکریہ راحیل شریف کہنا پڑے گا۔
ویسے یہ سارے افسران کوئی 24 کامن تو کوئی 28 کامن اور جیوڈیشل اکیڈمی آف پاکستان کے تربیت یافتگان کبھی غور تو کریں کہ اگر ۔۔۔۔ سیالکوٹ میں دو بھائیوں کو سر بازار ڈنڈوں سے مار دینے والے۔۔۔نشان عبرت بن جاتے اور ان کا کیفر کردار کو پہنچنا سیالکوٹ والوں نے دیکھ لیا ہوتا تو ڈسکے میں سرور اور سمیرا کے لئے لوگ قانون اپنے ہاتھ میں لیتے؟
اگر الیکشن اخلاقیات کی خلاف ورزی اور ن لیگی یا حکومتی طرفداری وفاقی اور صوبائی سطح پہ عام نہ ہوتی تو یونین کونسل لیول پہ ووٹر کی ناک کٹتی؟
اگر گورنر پنجاب کا باوردی ممتاز قادری مذہب کے نام پر قتل سے ولی اللہ نہ بنتا تو طاہر مہدی کی ضمانت لینے سے عدالت عالیہ تذبذب میں پڑتی؟
سب سوالوں کا جواب ہے۔۔۔نہیں۔۔کبھی نہیں۔۔۔بالکل نہیں۔
تو پھر شیکسپئیر کے مطابق۔۔

Physician..heal thyself!!!