Articles Comments

Pak Tea House » Islam, Islam for Peace, Opinion, Pak Tea House, Pakistan, Religion, USA » کیا پاکستان ایک انتہا پسند ٹرمپستان تو نہیں؟؟؟

کیا پاکستان ایک انتہا پسند ٹرمپستان تو نہیں؟؟؟

تحریر: کاشف چودہری، ترجمہ حارث راجہ

trump1
میں ایک پاکستانی نژاد شہری ہوں۔ امریکہ میں بڑھتے ہوئے اسلام فوبیا (عوام کو اسلام سے خوف زدہ کرنا) سے ہم پاکستانی اقلیتوں کے حقوق کے بارے میں اچانک بہت حساس ہو گئے ہیں۔ سوشل میڈیا پر میرے دوست مغرب سے یہ مطالبہ کرتے نظر آتے ہیں کہ انتہا پسندی سے متاثر شامی پناہ گزینوں کے لئے خاطر خواہ اقدام اٹھاۓ جایئں۔ اور انسانی یکجہتی کا مظاہرہ کیا جائے۔میرے دوست یہ بھی تنقید کرتے ہیں کہ مغربی میڈیا دوغلے پن کا مظاہرہ کرتے ہوۓ متاثرہ اور دکھ زدہ مسلمانوں کو اظہار بیان کا بھی کچھ خاص موقع نہیں دیتا۔
ہم میں سے کئی ایسے ہیں جنہوں نےجی اوپی (ریپبلکن پارٹی) کے حالیہ اسلام سے خوف زدہ کرنے والے بیانات پر بڑے غم و غصہ کا اظہار کیا ہے۔ اب تو کئی تجزیہ نگار ریپبلکن پارٹی کے ایک وسیع طبقے کے اسلام سے متنفر کرنے والے بیانات کو نازی جرمنی کے دور سے ملا نے لگے ہیں۔ یہ سارا غم و غصّہ اپنی جگہ پر درست ہے اور میں نے امریکہ میں بڑھتے ہوئے اسلا فوبیا کے بارے میں لکھا بھی بہت کچھ ہےمگر تعجب ہے کہ ہم پاکستانی ایک دور دراز ملک میں تو اقلیتوں کے حقوق کے بارے میں بڑے فکر مند نظر آتے ہیں مگر اپنے ہی ملک میں ان کے حقوق کا لحاظ نہیں کرتے۔
امریکی صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کی وہ ساری باتیں جو ہمیں بری لگتی ہیں کیا ہم وہی کچھ احمدیوں کے ساتھ پاکستان میں نہیں کر رہے؟
خصوصی پاسپورٹ:
ڈونل ٹرمپ کا کہنا ہے کہ مسلمانوں کے لئے خصوصی شناختی کارڈ ہونے چاہیے جو ان کی نشاند ہی کر سکیں۔ ناقدین نے اس پر جارحانہ تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ تو ایسا ہی ہے جیسے نازی جرمنی میں یہودیوں کو پیلا ستارہ لگا کر پھرنا پڑ تا تھا۔ یاد رہے کہ پچھلی چار دھائیوں سے پاکستان میں احمدیوں کو جاری شدہ پاسپورٹ پر ان کی شناخت لکھی جاتی ہے اور کوئی احمدی اپنے روحانی پیشوا کی تکذیب کئے بغیر عام مسلمانوں والا پاسپورٹ حاصل نہیں کر سکتا۔ اس نے جبراً احمدیوں کو ان کے معاشرتی حق سے محروم کر رکھا ہے۔

Qadiani2

گزشتہ ہفتے لاہور کے حفیظ سنٹر میں تاجروں کی جانب سے لگائے گئے بینر

ذرا سوچیں اگر ڈونلڈ ٹرمپ یہ کہے امریکہ میں کرسچن کہلانے کے لے عیسائی حضرا ت کو دوسروں کے مذہبی پیشواؤں کی  تکذیب تحریری طور پر کرنی ہو گی تو ہمیں کیسا لگے گا؟
مساجد بند کرنا:۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں یہ تجویز پیش کی ہے کہ مساجد پر پابندی ہونی چاہیے۔ ایک بار پھر اس پر اعتراض ہوا ہے کہ یہ امریکہ میں مذہبی آزادی کے بر خلاف ہے۔ بہت سے لوگوں کو شائد معلوم نہ ہو کہ ڈونل ٹرمپ کے محض جس خیال کا اظہار کیا ہے ہم تو پاکستان میں احمدی ‘عبادت گاہوں’ کے ساتھ بدستور چار دھائیو ں سے وہ عملاً کر رہے ہیں – پاکستان میں ریاست اور ملاں کی ملی بھگت سے احمدی ‘عبادت گاہوں’ کو بند کیا جاتا ہے، لوٹا جاتا ہے، نذرآتش کیا جاتا ہے اور جبراً ان پر قبضہ کیا جاتا ہے۔ ابھی دو ہفتے پہلے ایک مشتعل ہجوم نے جہلم میں احمدیوں کی ‘عبادت گاہ’ پر تشدد کیا اور قبضہ جما لیا۔ یاد رہے پاکستان کے قانون کے مطابق احمدی ‘عبادت گاہ’ کو ‘مسجد’نہیں کہا جاسکتا اس پر تین سال تک کی جیل کی سزا مل سکتی ہے۔
ہم ڈونلڈ ٹرمپ کو توفوراً تنقید کا نشانہ بناتے ہیں اور اس پر غم و غصّہ کا اظہار بھی کرتے ہیں مگر احمدیوں کے حق میں ہماری زبانیں گنگ ہیں۔
پناہ گزینوں سے تعصب:۔
بہت سے ریپبلکن لیڈروں نے خیال ظاہر کیا ہے کہ ہم شامی پناہ گزینوں پرخصوصاً مسلمانوں پر۔ اپنے دروازے بند رکھیں ہم سب نے اس پر کڑی تنقید کی ہے کہ یہ غیر انسانی مطالبہ ہے اور امریکی اقدار کے خلاف ہے لیکن ہم بھول جاتے ہیں کہ سینکڑوں احمدیوں کو مذہبی انتہا پسندی کی وجہ سے ملک چھوڑ کر کرچین، سری لنکا، تھائی لینڈ اورنیپال میں پناہ لینی پڑتی ہے۔ ہم مغربی حکومتوں سے تو پناہ گزینوں کو قبول کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں مگر یہ نہیں سوچتے کہ ہم نے اپنے ہی ملک کے شہریوں کو خود ظلم و جبر کا نشانہ بناکر ملک سے نکلنے پر مجبور کر دیتے ہیں۔ بہت سے ہزارہ کے شیعوں اور ہندوؤں نے بھی ملک انہی وجوہات کی بنا پر چھوڑا ہے۔
میڈیا کا متعصبانہ رویہ:۔
پیرس کےواقع کے بعد بہت سے پاکستانیوں نے اس بات کا شدت سے اظہار کیا  کہ میڈیا مسلمانوں کے بارے میں متعصب رویہ اختیار کرتا ہے۔ مگر ہم آسانی سے اس بات سے صرف نظر کر جاتے ہیں کہ ہمارا میڈیا اقلیتوں سے کیسا سلوک کرتا ہے۔ آپ نے کب کسی احمدی ترجمان کو ٹی وی پر دیکھا ہے؟  حتیٰ  کہ ٢٠١٠ میں جب سو کے قریب احمدیوں کا لاہور میں بہیمانہ قتل عام کیا گیا تب بھی جماعت احمدیہ کا مؤقف میڈیا نے سینسر کر دیا۔ اور ابھی جہلم کے واقع پر بھی احمدی ترجمان کو کسی بھی ٹی وی چینل پر آنے کا موقع نہیں دیا گیا۔ ہم مغربی میڈیا پر تو اعتراض کرتے ہیں مگراپنے ہاں ہونے والی نہ انصافی پر نظر نہیں کرتے۔
اجتماع پر پابندی:۔
امریکہ میں باقی مذاہب کے ماننے والوں کی طرح مسلمانوں کو بھی پر امن اجتماع کی اجازت ہے مگر احمدیوں کو پاکستان میں اپنے سالانہ اجتماع یعنی جلسہ سالانہ منعقد کرنے کی اجازت نہیں ہے۔
ووٹ کا حق:۔
امریکہ میں مسلمانوں کو ووٹ ڈالنے کا حق حاصل ہے بلکہ امریکہ میں تو کچھ مسلمان امریکی کانگرس کے ممبر بھی ہیں۔ پاکستان میں احمدیوں کو ووٹ ڈالنے میں بھی امتیازی سلوک کا سامنا ہے جس کی وجہ سے وہ حکومت یا سیاست میں حصّہ لینے سے محروم ہیں۔
تعلیمی و عملی میدان میں مواقع:۔
امریکہ میں کسی شہری کو مذہب کی بنیاد پر تعلیمی یا عملی میدان میں کسی رکاوٹ کا سامنا نہیں۔ پاکستان میں حالت مختلف ہیں۔ وہاں احمدیوں کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر یو ای ٹی لاہور میں باقائدہ ایک سرکاری شک ہے جس کے تحت احمدیوں کو بعض اسامیوں پر تعینات نہیں کیا جا سکتا۔ پنجاب میڈیکل کالج میں بھی ٢٠ طلباء کا احمدی ہونے کی بنیاد پر اخراج کیا گیا اور ایسے واقعات متعدد سرکاری و نجی تعلیمی اداروں میں واقع ہوچکے ہیں۔
شخصی آزادی:۔
امریکہ میں ہر فرد کو شخصی آزادی حاصل ہے۔ ہر شخص اپنی پہچان کے اظہار میں مکمّل طور پر آزاد ہے پاکستان میں آرڈیننس×× کے تحت احمدیوں کو اپنے آپ کو مسلمان کہنے پر تین سال کی قید ہو سکتی ہے۔
اعلی ترین سرکاری عہدے:۔
ہم صدارتی امیدوار بین کارسن کی اس تجویز پر تو برہم ہوتے ہیں کہ ایک مسلمان امریکہ کا صدر نہیں بن سکتا مگر ہمیں اس بات پر تشویش کیوں نہیں ہوتی کہ پاکستان میں کوئی اقلیتیں اس بات سے قطع نظر کے وہ ایک وفادار ٹیکس دینے والا شہری ہے، پاکستان کا وزیر اعظم یا صدر نہیں بن سکتا۔ اس حقیقت کے باوجود کہ قرارداد پاکستان کو تشکیل دینے والے قومی رہنما سر ظفر الله خان ایک احمدی تھے۔
مذہبی آزادی:۔
امریکہ میں بسنے والے مسلمانوں پر کوئی پابندی نہیں جبکہ پاکستان میں رہنے والے احمدیوں پر شدید مذہبی پابندیاں ہیں۔ انہیں کلمہ کہنے کی اجازت نہیں۔ سلام کہنے کی اجازت نہیں قرآن کی تلاوت کرنے کی اجازت نہیں۔ وہ اپنی ‘عبادت گاہوں’ کو مسجد کہنے کے حق سے محروم ہیں۔ ان میں سے کسی بھی فعل پر ان کو تین سال کی قید کی سزا سنائی جا سکتی ہے۔
سو میرے پاکستانی ساتھیو ! ہمیں جو کچھ بھی ڈونلڈ ٹرمپ کے بارے میں ناپسند ہے ہم وہ سب کچھ اور اس سے کہیں بڑھ کر پاکستانی احمدیوں کے ساتھ کر رہے ہیں۔ یہ کہاں کا انصاف ہے کہ ہم مغرب پر تو اسلام فوبیا سے متعلق کافی تنقید کریں اور اپنے ہاں احمدیوں کے خلاف سر عام بغض و عناد سے بھرپور متعصبانہ رویے سے صرف نظرکریں – یہ ہماری منافقت اور بد دیانتی نہیں تو اور کیا ہے ہم ڈونلڈ ٹرمپ کو تو برا کہتے ہیں مگر ہم تو خود ایک بہت بڑ ے سے ٹرمپستان میں رہ رہے ہیں!
اگلی بار جب ہم مغرب کے اقلیتوں سے سلوک پر تبصرہ کریں تو ہمیں پہلے اپنے گریبانوں میں جھانک لینا چاہیئے۔ آئیے ہم اپنی بے حسی کو خیر باد کہ کر ان اقلیتوں کے درد کو سمجھیں۔ آئیے ہم ان کے حقوق کے تحفظ کے لئے مل کر کھڑے ہوں۔ آئیے ہم دنیا کو دکھا دیں کہ ہم اس متعصبانہ روئیے کے خلاف ہیں۔ یہ پاکستان میں بسنے والی مسلمان اکثریت کی ذمہ داری ہے کہ وہ یکجا ہو کر مذہبی انتہا پسندی کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں اور وہ محاذ جو مذہبی انتہا پسندوں نے اپنے قبضے میں لے رکھا ہے ان سے چھین کر ایک ہم آہنگ اور روادار پاکستان کو تشکیل دیں۔
پاکستان زندہ باد!

______________

کاشف چودھری امریکہ میں پاکستانی نژاد ڈاکٹر ہیں اور وہ مذہبی اور انسانی حقوق کے موضوعات پر پاکستانی و امریکی اخبارات میں مضامین لکھتے ہیں اور ایک دن ایک ایسے پاکستان میں واپس آنے کی خواہش رکھتے ہیں جس میں سب برابر شہری ہوں۔

یہ  مضمون انگریزی میں یہاں پوسٹ ہوا تھا۔

Written by

Filed under: Islam, Islam for Peace, Opinion, Pak Tea House, Pakistan, Religion, USA · Tags: , , , , , , ,

  • shaw

    مسٹر نوباڈی جتنا تمہارا نام غیر ضروری اور ہلکا ہے اتنی ہی تمہاری رائے بھی۔ انگلش کے کامپلیکس میں مُبتلا تمہارے جیسے لوگ کبھی یہ دیکھ ہی نہیں پاتے کہ غُربت، تعلیم کی کمی، جنگیں، صحت اور عورتوں کے مسئلے مسائل صرف اور صرف اس لیے ہیں کہ ہر کوئی اک دوسرے کے حقوق غصب کرنے میں لگا ہوا ہے۔ جب تک آپ حقوق العباد غصب کرتے رہیں گے معاشرے میں ناانصافی، جنگیں اور بےامن و امانی رہے گی۔ اللہ تعالٰی نے حقوق العباد کا حُکم دیتے ہوئے مذہب، قومیت کی تفریق نہیں کی تھی یہ تو صرف آپ جیسے سچے اسلام کے پیروکاروں کی ایجاد کردہ تفریقات ہیں۔ دوسروں کی راہوں میں کانٹے بو کر آپ اپنے لیے پھولوں کی تمنا نہیں کر سکتے ہیں۔

  • Pingback: Trumpistan Update: Zaid Hamid’s Enemy Database | New Pakistan United States WordPress Unknow Os ()