بسمہ مر گئی تو کیا بھٹو تو زندہ ہے نا

تحریر: عماد ظفر

bisma

بھٹو زندہ رہنا چاہیے بھلے ہی اس کو زندہ رکھنے کیلئے ہمیں ہزاروں جیتے جاگتے انسانوں کو موت کے گھاٹ اتارنا پڑے۔ دس ماہ کی ایک بچی نے کراچی کے سول اسپتال کے مین گیٹ پر دم توڑ دیا کیونکہ اس کو اسپتال کے اندر جانے کی اجازت نہیں تھی اندر اسپتال میں بلاول بھٹو اپنی والدہ بینظیر بھٹو کی یاد میں ایک وارڈ کا افتتاح کر رہے تھے لہذا عام عوام کیلئے سیکیورٹی کی بنا پر داخلہ ممنوع تھا حتی کہ ایمرجینسی کو بھی بند کر دیا گیا تھا۔ اس سے پہلے بسمہ ٹریفک میں بھی کافی دیر پھنسی رہی کیونکہ بلاول بھٹو وی آئی پی ہیں تو ان کی حفاظت کے پیش نظر سڑکوں کو بھی جگہ جگہ سے بند کر دیا گیا تھا۔
بسمہ کا باپ ٹریفک میں پھنسنے کے بعد پیدل اپنی بچی کو لے کر اسپتال کی جانب بھاگا لیکن مین دروازے پر پہنچ کر اسے بتایا گیا کہ اسپتال میں عوام کا داخلہ بند ہے ۔اس شیر خوار بچی بسمہ کی موت کیوں ہوئی یہ درست سوال نہیں۔ بلاول بھٹو زرداری نے پروٹوکول اتنا شاہانہ کیوں رکھا ہوا تھا یا ان سیاستدانوں کی سیکیورٹی کیلئے روٹ لگا کر سڑکیں کیوں جام کی جاتی ہیں یااسپتال کیوں بند کیئے جاتے ہیں سوال یہ بھی نہیں ہے۔ سوال یہ ہے کہ بسمہ کیوں ایسے موقع پر بیمار هوئی جب بادشاہ سلامت بلاول زرداری نے اس جگہ سے گزرنا تھا۔ بسمہ کو پتہ ہونا چاہیے تھا کہ بھٹو کا جانشین اور پیپلز پارٹی کا چیئرمین وہاں سے گزر رہا تھا آخر کو بھٹو نے سولی پر چڑھ کر اور بی بی نے گولی کھا کر بسمہ اور اس جیسی کروڑوں بچیوں اور بچوں پر ایک احسان عظیم کیا ہے اور اس احسان کے بدلے میں اب یہ تھوڑی سی قیمت تو چکانی پڑتی ہے۔ بسمہ کے باپ کو بھی یہ معلوم ہونا چاہیے تھا کہ سندھ بھٹو کا ہے اور اس کا نواسہ جب گھوم رہا ہو تو اپنے بچوں کو یوں اسپتال لے جانے کی کوشش کرنا انتہائی بھونڈی حرکت ہے بسمہ کو گھر پر خود ہی گلا گھونٹ کر مار دیتے۔ فضول میں سائیں کی سیاسی ساکھ کو نقصان پہنچایا اور سندھ گورنمنٹ کو نیند سے جگا کر میڈیا کو کنٹرول کرنے کی زحمت اور تکلیف بھی دی۔

عماد ظفر کی دیگر تحریرات:دہرا پن اور اس کے دائرے

مزید پڑھیے: سقوط ڈھاکہ کیا پایا کیا سیکھا؟

مزید پڑھیے:جہلم سانحہ: حیات وبال جاں نہ ہو
بسمہ کی ماں کو یہ کہنے کا حق کس نے دیا کہ غریب کی کوئی زندگی نہیں۔غریب کی زندگی بھٹو کے اور دیگر ملکی سیاسی خاندانوں اور جماعتوں کے اقتدار کو قائم و دائم رکھنے کیلئے ایک ایندھن کے طور پر بے حد ضروری ہے ویسے بھی غریب تو پیدا ہی اس لئے ہوتا ہے کہ ان بڑے بڑے رہنماوں کے حق میں جلسے جلوس کرے اور نعرے لگائے۔ بسمہ بھلے ہی شیرخوار بچی تھی لیکن اسے سمجھنا چاہیے تھا کہ بینظیر بھٹو کی یاد میں بننے والا وارڈ اس ملک کی ترقی و خوشحالی کے لیئے ناگزیر ہے اور بلاول جب خود اپنے دست مبارک سے اس اہم ترین قومی فریضے کی انجام دہی کر رہے ہیں تو بسمہ یا اس جیسی کروڑوں بچیوں کی زندگی کی کیا وقعت اور اہمیت۔
بسمہ کے والدین کو فریاد کرنے کا حق کس نے دیا اور اگر انہوں نے فریاد کر بھی دی تو کیا انہیں نثار کھوڑو کی بات سنائی نہیں دی کہ ہم بلاول بھٹو کی سیکیورٹی سخت کر رہے تھے اور اس میں ملکی مفاد شامل ہے اگر اس دوران کسی کی جان گئی ہے تو انہیں اور ان کی جماعت کو افسوس ہے۔ حد ہی کر دی بسمہ کے والدین نے ۔نثار کھوڑو نے جب آ کر افسوس کا اظہار کر دیاتو اور کیا چاہیے خود سائیں قائم علی شاہ نے بھی رنج کا اظہار کیا اور بلاول صاحب نے تو ٹویٹ تک کر ڈالی کہ وہ بہت اپ سیٹ ہیں اور اس معاملے کی انکوائری کروائیں گے۔ اب بسمہ کے والدین اور کیا چاہتے ہیں بلاول بھٹو کا موڈ بھی خراب اور طبیعت بھی ناساز ہو گئی بسمہ کی موت کا سن کر۔
رحمان ملک صاحب بھی تو رنجیدہ ہو گئے اور وی آئی پی پروٹوکول اور سیکیورٹی میں فرق سمجھاتے ہوئے ملکی آئین کے مطابق بلاول کی سیکیورٹی کو لازم قرار دیتے ہوئے افسوس تک کا اظہار بھی کر ڈالا۔ اگر یہ سب کم تھا تو جناب آصف علی زرداری کے اس واقعے کا نوٹس لینے کے بعد تو بسمہ کے والدین کو سکھ کا سانس لینا چاہیے تھا۔ بیٹی کا سوگ منانے کے بجائے جشن منانا چاہیے تھا کہ بھٹو کے خاندان سے لیکر اس کی جماعت تک سب افسردہ تھے۔ یہاں تک کہ دیگر سیاسی جماعتوں کے قائدین بھی جو کہ خود بھی پروٹوکول اور سیکیورٹی کے نام پر ملکی مفاد اور استحکام کیلئے پروٹوکول لیتے ہیں ان سب نے بھی بلاول بھٹو اور پیپلز پارٹی کو اس واقعے پر بہت برا بھلا کہا۔ سمجھ نہیں آرہی بسمہ کے والدین کو اور کیا چاہیے۔ ملکی میڈیا اور سوشل میڈیا پر بسمہ کی خبریں پیپلز پارٹی کی اعلی قیادت اور خود سائیں قائم علی شاہ کی مرحومہ بچی کے والد سے ملاقات کے بعد تو بسمہ کی ماں کے دل کو قرار آ جانا چاہیے اور بھٹو کے خاندان کی اپنے گھر میں تصاویر لگا کر ہر وقت ان تصاویر کے درشن کروانے چاہئیں۔
یہ غریب لوگ اور سفید پوش لوگ بھی بے حد جزباتی ہوتے ہیں فضول میں ایک بچی کے مرنے پر اتنا کہرام مچا رہے ہیں ملک میں سینکڑوں بچے بچیاں اور بیمار وی آئی پی شخصیات کے پروٹوکول اور سیکیورٹی کی وجہ سے پہلے بھی مر چکے ہیں۔ اور زندگی میں پریکٹیکل ہونا چاہیے بھلا بسمہ کے نام کے ساتھ کوئی بھٹو شریف خان یا الطاف کا نام تھا جو اس کے جانے سے ملک کو کوئی فرق پڑتا ہے۔ ملک تو تب رکتا ہے یا اس کا نقصان ہوتا ہے جب بھٹو نواز شریف الطاف حسین عمران خان جیسے لوگوں پر کوئی گزند آئے یا ان کے اہل خانہ کو کوئی نقصان پہنچے۔ بسمہ نے ویسے بھی جی کر کیا کر لینا تھا زیادہ سے زیادہ اچھی ڈاکٹر بن جاتی انجینیئر پائلٹ یا سی ایس ایس آفیسر بن جاتی بھلا اس سے ملک کو کیا فائدہ ہوتا۔ اور حد ہے میڈیا پر جو بسمہ کے حوالے سے سارا دن خبریں چلاتا رہا اور بینظیر بھٹو کی یاد میں قائم نئے وارڈ پر توجہ تک نہ دی۔عوام کو بتانا تو چاہیے تھا یہ ہے وہ وارڈ جہاں صرف ان خوش قسمتوں کا علاج ہو سکتا ہے جو اس وقت بیمار ہوں جب کوئی اہم شخصیت اسپتال کے دورے پر نہ ہو یا اس سے ملحقہ سڑک پر۔ اب اتنے بڑے احسان کے بعد بیمار ہونے والوں کو خود کچھ شرم کرتے ہوئے وقت اور حالات دیکھ کر بیمار ہونا چاہیے۔
عوام کو ذہن نشین کر لینا چاہیے کہ جب کوئی سیاسی رہنما یا اس کی اولادیں کہیں پر دورہ کریں کہیں سے گزریں تو اس وقت دم سادھ کر ان رہنماوں کو سلامیاں بھی پیش کریں۔آخر کو بلٹ پروف لینڈ کروزروں میں گھومتے یہ عوام کے خادم عام آدمی کی خدمت کیلئے ہی تو باہر نکلتے ہیں۔ اب عام آدمی کو سمجھنا چاہیے کہ ان اہم شخصیات کو خراش تک نہیں آنی چاہیے بھلے ہی ان کے بچے مر جائیں۔ عام آدمی کو بیوقوفی کی یہ سوچ بھی چھوڑ دینی چاہیے کہ قانون کا اطلاق قوم کے ان عظیم محسنوں اور رہنماؤں پر ہو سکتا ہے۔ زیادہ سے زیادہ کچھ دیر کو سپریم کورٹ کے معزز چیف جسٹس جوش میں آ کر ایک سوموٹو نوٹس لیں گے اور پھر لمبی چوڑی تاریخوں اور سماعتوں کے بعد ایس پی یا ڈی ایس پی رینک کے آفیسر کو برطرف کر کے یا معطل کر کے معاملہ نمٹا دیں گے۔ بھلا لیڈر بھی کسی قانون کی زد میں آ سکتے ہیں وہ بھی اس صورت میں جب مرنے والی ایک غریب بچی ہو؟
بسمہ کے والد کو چپ کر کے سائیں سے ملاقات کے بعد جو رقم امداد کے نام پر یا پھر منہ بند کرنے کے لئے ادا کی جائے رکھ لینی چاہیے۔ ویسے بھی میڈیا نے پورا دن خبر چلا کر ریٹنگز بڑھا لی ہیں۔پڑھے لکھے طبقے نے سارا دن فیس بک اور ٹویٹر پر جزباتی پیغامات اور سٹیٹس اپ لوڈ کر دیئے ہیں۔ہم جیسے لوگوں نے لکھ کر اپنا فرض ادا کر دیا ہے اب بسمہ کے والدین اور کیا چاہتے ہیں کہ ہم بسمہ کیلئے اور کیا کریں؟ کیا وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ہم سب باہر سڑکیں جام کر دیں گے اور اس بچی کے قاتلوں کو گرفتار کروائے بغیر چین سے نہیں بیٹھیں گے۔ یقینا وہ اتنے بیوقوف نہیں ہوں گے وہ جانتے ہوں گے اس معاشرتی قبرستان میں اپنے اپنے گھروں میں قید مردے کبھی بھی بسمہ کیلئے عملی میدان میں کچھ نہیں کریں گے اور اگلی بسمہ کے مرنے کا انتظار کریں گے۔ وہ یہ بھی جانتے ہوں گے کہ یہاں قانون غریب کیلئے فورا گردش میں آتا ہے لیکن امیر اور اہم شخصیات کی دفع اندھا بہرا اور لنگڑا ہو جاتا ہے۔ یہاں ایمان سے لیکر جزبات اور زندگی سے لے کر موت سب خریدا جاتا ہے۔ بس دام لگانے کی بات ہے۔ اس لیئے انہیں اپنے دل کو تسلی دینی چاہیے کہ بسمہ مر گئی تو کیا ہوا بھٹو تو زندہ ہے نا۔